کوئی ہوجائے نہ خاطر کبیدہ….

مضمون نگار : تنویر اشرف مالیگاؤں ۔ مہاراشٹر ۔ انڈیا

, کوئی ہوجائے نہ خاطر کبیدہ….

نمی باشد مخالف قول و فعل راستاں باہم
کہ گفتارِ قلم باشد ز رفتارِ قلم پیدا

(راست گویوں کے قول و فعل میں تضاد نہیں ہوتا ھے۔ کہ قلم کی بات قلم کی رفتار ہی سے پیدا ہوتی ھے۔)


گزشتہ دنوں شوشل میڈیا کے زریعے محترمہ ” صالحہ صدّیقی ” صاحبہ سے رابطہ اُن کے تحریر کردہ مضمون “اکسیویں صدی کی تانیثی شاعرہ ۔ ڈاکٹر صادقہ نواب سحر کے توسط سے ہوا۔ “صالحہ صدّیقی ” صاحبہ جامعہ ملیہ اسلامیہ ۔ دہلی کی ریسرچ اسکالر ہیں جان کر خوشی ہوئی باتوں ہی باتوں میں تذکرہ چھِڑا ان کے تحریر کردہ اچھوتے اور منفرد ڈرامے “علّامہ ” کا صدّیقی صاحبہ نے مجھے اُس ڈرامے کا دیدہ زیب سرِ ورق اور پیچھے کی جانب تحریر کردہ مشاہیرینِ ادب کے تاثرات روانہ کیئے پڑھ کر بڑی خوشی محسوس ہوئی۔ اور یہ شوق بھی بڑھا کہ میں کس طرح اس ڈرامے کو حاصل کرسکتا ہوں تاکہ اس کا مطالعہ کرسکوں…… اس خواہش پر محترمہ نے کرم فرمائی کی اور کچھ دنوں بعد اُن کا یہ ڈرامہ ہمیں بذریعۂ ڈاک موصول ہوا۔ پھر کیا تھا میں نے اسے پڑھنا شروع کیا اور پڑھتا ہی چلا گیا ڈرامہ پڑھتے جائیں اور صالحہ صدّیقی صاحبہ کی قلمی جنبش پر داد دیئے جائیں بس یہی ہوا دو قسطوں میں ڈرامہ پورا کیا۔ اور محترمہ صالحہ صدّیقی صاحبہ کی خواہش پر اپنے قلم کو جنبش دی کہ اس ڈرامے پر کچھ تحریر کرسکوں۔ اس سے قبل یہ بات بتاتا چلوں میں اردو ادب کا ادنٰی طالبِ علم ہوں اور صدّیقی صاحبہ جیسی مصنّفہ کی تصنیف پر اپنے تاثرات کو خوش بختی سمجھتے ہوئے اپنے ٹوٹے پھوٹے خیالات کو تحریر کررہا ہوں ۔ آئیے بات کریں اُن کے اس منفرد ڈرامے کی……


ڈرامے کے پیچھے والے حصّے پر تحریر کردہ ماہرینِ ادب کے تاثرات سے ہمیں یہ بات پتہ چلی کہ علّامہ اقبال کی حیات و خدمات خصوصًا اُن کی نجی زندگی کے نشیب و فراز کو سامنے رکھتے ہوئے تحقیقی طور پر یہ پہلا ڈرامہ جسے صالحہ صدّیقی صاحبہ نے تحریر کیا ہے اور اس کی مقبولیت اس بات سے واضح ہوتی ہیکہ بہت ہی مختصر وقفے میں اس کتاب کی دوسری بار اشاعت 2016 میں عمل میں آئی۔ لائقِ مبارک باد ہیں محترمہ صالحہ صدّیقی صاحبہ اس نوعیت سے بھی اور اس اعتبار سے بھی کہ آج اردو ادب کے بیشتر طلباء اور مصنّفین علاّمہ اقبال پر مضامین و مقالات تو تحریر کررھے ہیں۔۔ لیکن ان کی نجی زندگی کے نشیب و فراز کو لیکر بناکسی رکاوٹ کے قلم رواں دواں چلنا اور ایک بہترین منفرد ڈرامے کا وجود ہونا اور اس ڈرامے کی مصنّفہ ہونا کسی اعزاز سے کم نہیں
…..
ڈرامے کے متعلّق کچھ معروضات جو مجھے ایسے محسوس ہوئے جس سے ڈرامے کا کچھ حصّہ کنفیوژن (تذبذب) کا شکار ہوسکتا ھے……
ڈاکٹر اقبال کی پہلی بیوی کریم بی جب غصّے سے اپنے میکے چلی جاتی ہے تب علّامہ کے دوست شیخ گلاب الدّین وکیل جو موچی دروازے کے ایک اونچے کشمیری خاندان کی لڑکی سردار بیگم کا رشتہ لاتے ہیں جو وہیں ملکۂ وکٹوریہ گرلز اسکول میں پڑھتی تھی۔ کچھ دیر سوچنے کے بعد علّامہ اقبال اس رشتے کیلئے راضی ہوجاتے ہیں یہاں تک کہ علّامہ اقبال اور سردار بیگم کا نکاح بھی ہوجاتا ہے لیکن رخصتی نہیں ہوتی کچھ دنوں بعد گمنام خط جو (جلیل اور اسکے چار بدمعاش ساتھیوں نے سردار بیگم کو بدنام کرنے کیلئے)

علّامہ اقبال کو بھیجے تھے اس خط سے علّامہ اقبال بڑی کشمکش میں مبتلاء ہوگئے اور پھر گلاب الدین وکیل اور دانش کے زریعے اس خط کی تحقیق کی بات کرتے ہیں لیکن اس کے آگے کے ڈرامے میں ان دونوں کا کہیں کوئی مکالمہ نہیں ہے پھر علّامہ اقبال ان گمنام خطوں پر یقین کرتے ہوئے بے چین رہنے لگتے ہیں اور اسی بے چینی کے ایّام میں ان کے دوست بشیر حیدر کی ان کے مکان پر آمد ہوتی ہے اور وہ علّامہ اقبال کے گھریلو حالات جاننے کے بعد ایک تیسرے رشتے کی پیش کش کرتے ہیں اور علّامہ اقبال کو اس تیسرے رشتے کیلئے بھی راضی کرلیتے ہیں ( یہاں یہ بات قابلِ غور ہیکہ علاّمہ اقبال کے ایک بھی ساتھی نے گھریلو معاملات میں صلح صفائی کی بات نہیں کی بلکہ اُن لوگوں نے براہِ راست دوسرے اور تیسرے رشتے کی
پیشکش کی ہے)

چلیئے بھئی یہاں تک تو ٹھیک تیسری بیوی مختار بیگم دلہن بن کر گھر آجاتی ہیں زندگی خوش حالی سے گزر رہی تھی اسی بیچ آنے والا ایک خط پھر کسی نئے موڑ کی خبر دیتا ہے اور یہ خط آتا ہے علّامہ اقبال کی دوسری بیوی سردار بیگم کی طرف سے وہ خط میں لکھتی ہیں کہ اگر “آپ نے ان بہتانوں پر یقین کرلیا جو مجھ پر لگائے گئے ہیں میرا نکاح آپ کے ساتھ ہوچکا ہے اور اب میں دوسرے نکاح کا تصور بھی نہیں کرسکتی میں اسی حالت میں پوری زندگی بسر کرونگی اور قیامت کے روز آپ کے دامن گیر ہوں گی” اقبال اس خط کو پڑھ کر کرسی پر دھم سے گِر جاتے ہیں اور کچھ دیر بعد اپنے آپ کو سنبھالتے ہوئے علی بخش کو آواز دے کر خوشخبری سناتے ہیں کہ آپ پوچھتے تھے نا رخصتی کب ہوگی؟ چلیئے رخصتی کا وقت ہوگیا ہے اس طرح علّامہ کی دوسری بیوی سردار بیگم بھی گھر میں قدم رکھتی ہیں۔ آگے چل
کر علامہ اقبال کی پہلی بیوی کریم بی کو بھی اپنی غلطی کا احساس ہوتا ہے اور وہ خان بہادر کے زریعے اس گھر میں واپس آتی ہیں۔ المختصر یہ کہ علّامہ اقبال کی تینوں بیویاں ایک ہی گھر میں واپس آجاتی ہیں لیکن ڈرامے میں ایسا کوئی مکالمہ شامل نہیں جس سے یہ پتہ چلے کہ علّامہ اقبال نے ان تینوں بیگمات کا ایک دوسرے سے کوئی تعارف کروایا ہو۔ اور نہ ہی ایسا کوئی مکالمہ شامل ہیں جسمیں علّامہ اقبال کی بیویوں کی آپس میں کوئی تکرار ہو یا ایک دوسرے سے کوئی گِلہ شکوہ ہو جبکہ صنفِ نازک کا فطری جذبہ ہے وہ اپنے شوہر کے ساتھ کسی عورت کو دیکھنا تک گوارا نہیں کرتی۔ اور یہاں تو تینوں بڑی خوش مزاجی سے رہ رہے ہیں۔
یہ حصّہ توجہ طلب ہے یہاں اُن کی بیویوں کے درمیان تھوڑی مزاحیہ اور طنزیہ تکرار ضروی تھی تاکہ ڈرامہ اور دلکش ہوسکے۔۔۔

دوسری ایک چیز جو مجھے مطالعے کے دوران دکھائی دی وہ یہ کہ علّامہ اقبال جیسے عظیم شاعر جن کی نظموں ، غزلوں ، اور اشعار کی تعداد ہزاروں میں ہے آپ نے چنندہ ہی اشعار کا ذکر کیا ہے علّامہ اقبال کے کچھ اور شاعرانہ انداز کا ذکرہ ہوجاتا تو بہت بہتر تھا۔ لیکن جن اشعار کا انتخاب آپ نے اس ڈرامے کیلئے کیا ہے وہ بھی قابلِ مبارک باد ہے اس میں کچھ اشعار علّامہ اقبال کی حب الوطنی پر مل جاتے ہیں کچھ اشعار ان کی تصوفانہ اور قلندرانہ زندگی کی عکاسی کرتے ہیں مثلًا :
گیسوئے تاب دار کو ، اور بھی تاب دار کر
ہوش و خرد شکار کر ، قلب و نظر شکار کر
عشق بھی ہو حجاب میں ، حسن بھی ہو حجاب میں
یا تو خود آشکار ہو ، یا مجھے آشکار کر !
انسان اور خدا کا تعلق اتنا گہرا ہوتا ہے کہ مزاج کی اس تبدیلی کیلئے تمہید کی ضرورت نہیں نہ ہی اظہارِ عشق کرنے سے پہلے اپنی پچھلی لاف پر معذرت پیش کرنا لازم ھے۔۔۔ علامہ اقبال کے ایسے اشعار کی تشریح کیجائے تو کئی صفحات درکار ہیں ایسے جامع اور میعاری اشعار کا انتخاب بہت خوب……


جلیل جیسے بدمعاش کے مُنہ سے ایسے اشعار اچھے نہیں لگتے
؎ زاہد شراب پینے دے مسجد میں بیٹھ کر
یا وہ جگہ بتا دے جہاں پر خدا نہ ہو
دوسری بات یہ کہ آپ نے اس شعر کا ذکر جو ڈرامے میں کیا ھے اگر نہ کرتیں تو اچھا ہوتا کیونکہ یہ شعر علّامہ اقبال کی طرف سے منسوب کیا جاتا ھے لیکن یہ شعر علّامہ اقبال کا نہیں ہے کہیں کوئی ناقص العقل یہ نا
کہے کہ اس شعر کا تذکرہ علّامہ اقبال کی زندگی پر مبنی ڈرامے میں پیش کیا گیا ہے اس لیئے یہ شعر علامہ اقبال ہی کا ہے۔
مضمون زیادہ طول نہ پکڑے اختتامیہ کی طرف جاتے ہوئے ایک چھوٹی سی بات اور عرض کردوں کہ کتاب میں بہت ساری غلطیاں “ہے ” اور ” ہیں ” کی ہیں اس پر تھوڑی نظر ثانی فرمالیں۔۔۔
بندۂ ناچیز کے ان ٹوٹے پھوٹے الفاظ سے آپ کا متفّق ہونا ضروری نہیں…..
کوئی ہوجائے نہ خاطر کبیدہ
بڑا نازک تعلّق ہے دلوں کا
ایک مرتبہ پھر مبارک باد دیتے ہوئے مرحوم عبداللہ ھلال مالیگ کے اس منظوم خراج کیساتھ اپنی تحریر کو سمیٹتا ہوں؎
عروجِ علم کا زینہ تمہیں مبارک ہو
ہر ایک خواب سنہرا تمہیں مبارک ہو
ادب شناس رہو زندگی کی راہوں پر
لطیف و نرم سا لہجہ تمہیں مبارک ہو
یقین و عزم کی منزل پہ کامیاب رہو
یقین و عزم سے جینا تمہیں مبارک ہو

شیئر کریں
ڈاکٹر صالحہ صدیقی کی پیدائش اعظم گڑھ یو۔پی کی ہے یہ الہٰ آباد میں مقیم ہیں ۔ابتدائی تعلیم مدرستہ البنات،منگراواں،اعظم گڑھ میں حاصل کی انہوں نےپی ۔ایچ۔ڈی کی ڈگری جامعہ ملیہ اسلامیہ نئی دہلی (موضوع : علامہ اقبال کی اردو شاعری میں ڈرامائی عناصر:نگراں وجیہ الدین شہپر رسول )سے حاصل کی ۔ مرتب کئی کتابیں مرتب کی ہیں جن میں اردو ادب میں تانیثیت کی مختلف جہتیں ، ضیائے اردو ’’ضیاء ؔ فتح آبادی ‘‘ ،نیاز نامہ ’’نیاز جیراج پوری :حیات و جہات قابل ذکر ہیں ۔ تصنیفات : علامہ اقبال کی زندگی پر مبنی ڈراما ’’ علامہ ‘‘ تراجم (اردو سے ہندی ) :’’ضیاء فتح آبادی کا افسانوی مجموعہ ‘‘ سورج ڈوب گیاکا (2017)میں ہندی ترجمہ ڈراما ’’علامہ ‘‘ کا ہندی ترجمہ (2017)میں کیا۔ زیر اشاعت : مضامین کا مجموعہ ’’دیداور‘‘مضامین کا مجموعہ ’’نوشتہ‘‘ ، کہانیوں کا مجموعہ ’’حکایات صالحہ ‘‘ بچوں کی کہانیوں کا مجموعہ۔ تحقیقی کام ’’منظوم ڈراما ‘‘، نظموں کا مجموعہ ’’خامہ‘‘ ، خواتین مضامین کا مجموعہ اعزازات و انعامات :اتر پردیش اردو اکیڈمی ایوارڈ 2015’’ڈراما علامہ پہلے ایڈیشن کے لیے،ریاستی سطحی ’’اردو خدمت گار ایوارڈ 2015‘‘احمد نگر ،ضلع اردو ساہتیہ پریشد وہفت روزہ مخدوم ،سنگم نیر۔ ( اردو ادب میں تانیثیت کی مختلف جہتیں کے لیے )،لپ کیئر فاؤنڈیشن کی جانب سے ’’جہانگیری اردو لٹریری ایوارڈ ‘‘ 2015(ڈراما علامہ کے لیے )،اتر پردیش اردو اکادمی انعام ’’نیاز نامہ ‘‘ کے لیے،نوجوان قلمکار اقبال ایوارڈانہیں ان کے سوشل ورک کے لیے ہندستان کی کئی این جی اونے انھیں اعزاز ات سے نوازا ہے۔
1 Comment
  1. Avatar

    Bhut shukriya

    Reply

کمنٹ کریں