کوشش پہ اشعار


کوشش بھی کر امید بھی رکھ راستہ بھی چن
پھر اس کے بعد تھوڑا مقدر تلاش کر
ندا فاضلی

آخری کوشش بھی کرکے دیکھتے ہیں
پھر اسی در سے گزر کے دیکھتے ہیں
منیش شکلا

شعلہ ہوں بھڑکنے کی گزارش نہیں کرتا
سچ منہ سے نکل جاتا ہے ،کوشش نہیں کرتا
مظفر وارثی

وہ کونسا عقدہ ہے جو وا ہو نہیں سکتا
ہمت کرے انساں تو کیا ہو نہیں سکتا

شوق برہنہ پا چلتا تھا اور رستے پتھریلے تھے​
گھستے گھستے گھس گئے آخر کنکر جو نوکیلے تھے​
غلام محمد قاصر

حلقہ کیے بیٹھے رہو اِک شمع کو یارو
کچھ روشنی باقی تو ہے، ہر چند کہ کم ہے
فیض احمد فیض

‘اور تھوڑا سا بکھرجاؤں ، یہی ٹھانی ہے
زندگی! میں نے ابھی ہار کہاں مانی ہے
حسنین عاقبؔ

اس خرابے کی تاریخ کچھ بھی سہی، رات ڈھلنی تو ہے رُت بدلنی تو ہے​
خیمہء خاک سے روشنی کی سواری نکلنی تو ہے رُت بدلنی تو ہے​
​کیا ہوا جو ہوائیں نہیں مہرباں، اک تغیّر پہ آباد ہے یہ جہاں​
بزم آغاز ہونے سے پہلے یہاں، شمع جلنی تو ہے رُت بدلنی تو ہے​
​سلیم کوثر​

شیئر کریں
مدیر
مصنف: مدیر
لفظ نامہ ڈاٹ کام کی اداریہ ٹیم کے مدیران کی جانب سے

کمنٹ کریں