افسانہ : کتے کا بچہّ

اختر سعید مدان

, افسانہ : کتے کا  بچہّ

یہ اُن دنوں کا ذکر ہے،جب میں بڑے بھائی کے ساتھ پنساری کی دُکان کیا کرتا تھا۔دُکان پر جڑی بوٹیوں کے علاوہ شربت شیرہ اور مربہ جات بھی فروخت ہوتے تھے۔گرمیوں میں مشروبات کی خاصی گاہکی ہوتی تھی۔مقامی لوگ سوڈے کی مہنگی بوتلیں خریدنے کی بجائے دیسی شربت سے پیاس بجھانے کو ترجیح دیتے تھے۔شربت میں جڑی بوٹیاں تو پوری مقدار میں نہ ہوتیں تھیں مگر ہم خالص چینی ضرور استعمال کرتے تھے۔شاید یہی وجہ ہے کہ عوام ہم سے شربت زیادہ خریدتے تھے۔
اس واقع کا تعلق اُن ایام سے ہے،جب رمضان شریف کا پورا مہینہ بھرپور گرمیوں میں آتا تھا۔گرمی کے دنوں میں یار لوگ کم ہی احترام رمضان کرتے تھے اور ہر مسلمان حسب توفیق ہی روزے رکھ کر اہل ایمان ہونے کا ثبوت دیتا تھا۔کھانے پینے والی دُکانوں پراکثر پردے تنے نظر آتے تھے۔خصوصاً لاری اڈّے اورریلوے اسٹیشن پر سحری کی اذان سے لے کر افطارتک پردہ نشینی کا خاص اہتمام ہوتا تھا۔
اس بار جو رمضان آیا تو ساتھ اسلام بھی لایا۔یعنی ملک میں ایسی حکومت برسراقتدار آئی جو اسلام کی نام لیوا ضرور تھی۔حکومت نے احترام ماہ صیام کے سلسلہ میں انتظامیہ کوسخت ہدایات جاری کی تھیں۔لوگ سرعام کھانا پینا بند ہو گئے تھے اور دُکانوں کے پردے بھی اتر گئے تھے۔تاہم اہل ایمان نے ایک درمیانی راہ نکالی تھی۔چلچلاتی دوپہر میں بازار پر سناٹا طاری ہو جاتا اور لوگ دُکان بڑھا کر سو رہتے یا گپیں لڑایا کرتے،لیکن دوپہر ڈھلتے ہی سبھی بیدار ہو جاتے۔بازار ایک انگڑائی لے کر جیسے جاگ اُٹھتا۔افطاری کے انتظام کے بہانے دُکان دار، دو بجے ہی برتن کھڑکانا شروع کر دیتے۔دُکانوں کے تھڑوں پر چھڑکاؤ ہو جاتا۔سموسوں کے تھال سج جاتے،دہی بھلے والی ریڑھیاں تیار ہو جاتیں،پان سگریٹوں والے کھوکھوں کے سامنے کرسیاں بچھا دی جاتیں۔گنڈیریوں والے خوانچے اپنی اپنی جگہ پر جم جاتے اور بازار میں سردتے کی آوازیں گونجنے لگتیں۔


میں بھی شربت کی چوکی دُکان کے آگے سجا دیتا۔تاہم اس وقت روزہ داروں کے بجائے روزہ خوروں کی گاہکی زیادہ ہوتی۔کچھ لوگ چیزیں خرید کر ادھر ادھر منہ دے کر کھا لیتے اور چند روزہ خور اشیاء خرید کر گھر لے جاتے۔افطار تک سبھی کی اچھی خاصی بکری ہو جاتی۔
ہماری یہ درمیانی راہ اسلام پسندوں کو ایک آنکھ نہ بھاتی تھی۔ وہ کھلی دُکانوں کو دیکھ کر کڑھتے ہوئے،منہ ہی منہ میں گالیاں دیتے ہوئے گزر جاتے۔دو ایک نے اعتراض بھی کیا جو ہم نے یہ کہہ کر مسترد کر دیا کہ افطاری کا اہتمام تو عین اسلام ہے!
ایک روز کسی نے پولیس کو اطلاع کر دی یا شاید حکومت نے خود ہی انتظامیہ کی گوشمالی کی تھی۔ہم حسب معمول دوپہر ڈھلے دُکانداری میں مصروف تھے کہ دفعتہ پولیس کی پوری جماعت نے بازار پر چھاپہ مارا۔ کچھ دکان دار افراتفری میں بھاگ نکلے جبکہ چند بد بخت پولیس کے ہتھے چڑھ گئے۔اُن تیرہ بختوں میں میں بھی شامل تھا۔میں بھی فرار ہو جاتا،مگر شومئی قسمت ایک ہٹا کٹا سپاہی میرے اُٹھتے اُٹھتے ہی سر پر آن پہنچااور آتے ہی میری گردن دبوچ لی۔
میں لجاجت سے گڑ گڑایا۔”حوالدار صاحب ……!مجھے چھوڑ دو،میری بات تو سنو!“
سپاہی نے مجھ پر اپنی گرفت مضبوط کی اور خوشی سے چہکا۔”بھاگنا چاہتا ہے ……! بچو پر بھاگ کر کہاں جائے گا……! تجھے نہیں معلوم اسلام آ گیا ہے ملک میں ……!“
”مگر جی میں نے جرم کیا کیا ہے ……؟“میں نیچے سے کراہا۔
”رمضان شریف کے مہینے میں روزہ خوروں کی خدمت کرتے ہو اور پھر پوچھتے ہو میں نے کیا کیا ہے!“وہ ہانپنے لگا تھا۔
”مگر حوالدار جی ہم تو افطاری کا انتظام کر رہے تھے۔“میں نے عذر تراشا۔
”بچو ……تین بجے افطاری ……بھلا تمہیں نہیں پتہ روزہ کس وقت افطار ہوتا ہے……؟اب سے پورے چار،پانچ گھنٹے بعد……!“
اس سے بحث فضول تھی۔میں نے اِدھر اُدھربازار میں نظر دوڑائی۔میرے علاوہ کافی مجرم پولیس نے گھیرے ہوئے تھے۔معلوم ہوتا تھا پولیس نے کافی منصوبہ بندی سے بازار پرچھاپہ مار اتھااور اُنہوں نے ہمیں رنگے ہاتھوں پکڑنے کا پورا انتظام کر رکھا تھا۔دُکان داروں کے علاوہ گاہک مجرموں کو بھی دھر لیا گیا تھا۔
میرا بڑا بھائی نماز ظہر کے لیے مسجد میں گیا ہوا تھا، ورنہ وہ بھی موقع واردات سے میرے ساتھ ہی گرفتار ہو جاتا۔میں نے اپنے ہمسائے منیاری والے کو دُکان کا خیال رکھنے کا کہا اور پولیس کے ساتھ چل پڑا۔


پولیس مجرموں کو تھانے لے جانے کے لئے ویگن بھی ساتھ لائی تھی جو اس وقت مین سڑک پر کھڑی تھی۔ہمیں دیکھنے کے لئے سارا قصبہ اُمڈ آیا تھا۔بچے،بوڑھے اور جوان راہ گیر بڑی دل چسپی سے ہمیں دیکھ رہے تھے۔اُن میں سے کئی اشارے کرکے ہنس رہے تھے۔مجھے اور تو یاد نہیں البتہ مقامی مسجد کے پیش امام خضاب لگی اپنی نورانی داڑھی میں انگلیوں سے خلال کرتے ہوئے طنزاً مسکرا رہے تھے۔
پکڑے جانے والے ویگن میں سوار ہونے سے ہچکچا رہے تھے۔بعض گھاگ لوگوں کا خیال تھا کہ پولیس یہیں پر اپنا ”ضابطہ“ پوا کر کے چھوڑ دے۔مگر تھانے دار بہت سخت تھا۔وہ ہمیں دیکھ کر دھاڑا ”چلتے ہو یا میں سب کے سامنے چھترول کروں تمہاری……!“ایک لمحہ رک کر اس نے ایک شان دار گالی سے اسلامی حکومت کے وقار میں اضافہ کیا اور ایک مجرم کو دھموکا رسید کر کے چلایا۔”حرام خورو……تمہیں نہیں معلوم ملک میں اسلامی نظام نافذ ہو گیا ہے۔“
ہم چپکے ہوکر خاموشی سے ویگن میں سوار ہو گئے کیونکہ تھانیدار کے رویّے سے لگ رہا تھا وہ ہمیں معاف کرنے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتا۔ویگن میں گنجائش سے زیادہ لوگ سوار تھے جبکہ تھانے دار اگلی سیٹ پر بیٹھ گیا تھا۔پولیس اہلکار دُکانوں سے ثبوت بھی اُٹھا لائے تھے۔یعنی دہی بھلے کی پراتیں،سموسوں کے تھال،کھجوروں کی پیٹیاں،پھلوں کے ٹوکرے،گنڈیریوں کے لفافے اور مٹھائی کی رکابیاں وغیرہ ……تھانے دار نے پولیس کے اُن اہل کاروں کو کسی دوسری بس یا ویگن میں تھانے پہنچنے کی ہدایت کی اور ڈرائیور کو جلدی ویگن چلانے کا حکم دیا۔
ویگن ابھی چند قدم چلی ہو گی کہ رک گئی۔روکنے والا ایک مضافاتی گاؤں کا چودھری تھا۔تھانے دار ویگن سے اتر کر بڑے تپاک اور گرم جوشی سے چودھری سے بغل گیر ہو گیا۔حال چال دریافت کرنے کے بعد وہ آپس میں گفت گو کرنے لگے۔اُن کی بات چیت طویل ہو گئی۔گرمی کی وجہ ہمارا برا حال تھا۔ویگن میں گنجائش سے زیادہ لوگ ہونے کی وجہ سے حبس اور گھٹن بڑھ گئی تھی۔ہم پسینے سے شرابور ہو گئے۔خدا خدا کرکے تھانیدار نے اثبات میں سر ہلایا اور ویگن کے اندر منہ کر کے کرخت لہجے میں پوچھا۔”تم میں سے جاوید اور اشرف کون ہے؟“
نشاندہی کے بعد اگلا حکم جاری کیا۔”تم دونوں باہر آجاؤ……!!“
ہمیں جاوید اور اشرف کی قسمت پر بہت رشک آیا جن کی سفارش آ گئی تھی۔جاوید اور اشرف کے اترنے کے بعد ایس ایچ او دوبارہ ویگن میں سوار ہوا اورڈ رائیور سے بولا۔”جلدی چلو ……کسی اور کتے کے بچے کی سفارش نہ آ جائے۔“
ویگن ایک جھٹکے دوبارہ آگے بڑھ گئی۔اُن دنوں ہمارے قصبے میں پولیس اسٹیشن نہیں تھا۔ہمارا متعلقہ پولیس اسٹیشن کوئی بارہ پندرہ کلو میٹر دور تھا۔راستے بھر کسی نے کوئی بات نہیں کی۔اس کی ایک وجہ تو یہ تھی کہ سب کچھ ناگہانی ہوا تھا۔دوئم یہ کہ تھانے دارکے بارے میں شنید تھا کہ بڑا کڑوا اور ہتھ چھٹ ہے۔بڑے چھوٹے کا کوئی لحاظ نہیں کرتا۔
کوئی پندرہ بیس منٹ بعد ہم تھانے پہنچ گئے۔ویگن کو پورے اہتمام کے ساتھ تھانے کا بڑا پھاٹک کھول کر اندر لے جایا گیااور تھانے دار نے گاڑی سے اتر کر اپنی پتلون ٹھیک کرتے ہوئے کھردری زبان میں کہا۔”کُتّے کے بچو ……!ذرا جلدی اترو……ہری اپ!“
ہم ایک دوسرے پر گرتے پڑتے جلدی جلدی ویگن سے اتر آئے۔کڑی دھوپ میں ہماری لائنیں بنوائیں گئیں اور ویگن کو پولیس اسٹیشن کی چار دیواری سے باہر بھیج دیا گیا۔تھانے دار نے سبھی کو گھور کر دیکھا اور کچھ کہے بنا تھانے کے وسط میں بنے گول کمرے میں چلا گیا۔
پہلی بار ہم نے ایک دوسرے کو بغور دیکھااور بے ساختہ ہمارے لبوں پر مسکرا ہٹ آ گئی۔ہم کوئی اٹھارہ بیس لوگ تھے۔ ہم میں کئی ایسے بھی تھے جو کھانے پینے والی اشیاء کی دُکانیں نہیں کرتے تھے،معلوم ہوا کہ وہ شریک ملزم تھے،یعنی وہ کھا پی رہے تھے۔
چند لمحوں کے تناؤ کے بعد ہم آپس میں ہلکی پھلکی گفت گو کرنے لگے۔ہر کوئی دوسرے کو سرزنش کر رہا تھاکہ یہ سب اُس کی وجہ سے ہوا ہے۔کسی نے کسی کو دیکھ کر دُکان کھولی تھی تو کسی نے کسی کو دیکھ کر ریڑھی لگائی تھی۔ابھی ہم یہ باتیں کر ہی رہے تھے کہ پولیس اہلکار سموسوں کے تھال، پکوڑورں کی سینیاں،دہی بھلے کی پراتیں،کھجوروں کی پیٹیاں،سوڈے کی بوتلوں کے کریٹ،دودھ کے پتیلے،دہی کے کونڈے اور شربت کی بوتلیں اُٹھا کر لے آئے اور ہمارے ”کرتوت“ہمارے سامنے رکھ دیئے۔
٭٭٭


دیر ہو گئی،دھوپ میں کھڑے کھڑے ہماری ٹانگیں جواب دے گئیں۔ہمارے لباس پسینے میں شرابور ہو گئے۔بالآخر فضل دین حلوائی نے جرأت کی اور بولا۔”یار تھانے دارصاحب کی منت کرتے ہیں کہ ہمیں چھاؤں میں تو بیٹھنے کی اجازت دے دے،ہم نے کونسا قتل کیا ہے!“
کسی دوسرے نے فضل دین حلوائی کی ہم نوائی نہیں کی۔کوئی اس کا ساتھ دینے کے لئے تیار نہ ہوا تو وہ خود اکیلا ہی تھانے دار کے کمرے میں چلا گیا۔ایک لمحے کے لئے فضل دین کی بھنبھناتی ہوئی آواز سنائی دی۔دوسرے ہی لمحے ایک زناٹے دار تھپڑ کی صدا تھانے کی چاردیواری میں گونجی۔ساتھ ہی مغلظ گالیوں کی بوچھاڑ نے ماحول کو مکدر کر دیا۔
فضل دین حلوائی نڈھال قدموں اور ستے ہوئے چہرے کے ساتھ باہر آ گیا۔اس کے جبڑے بھنچے ہوئے تھے۔اس کی حالت دیکھ کر دوسروں کو جیسے سانپ سونگھ گیا۔چار ایک لمحوں کے بعد تھانے دار ہمراہ اے ایس آئی اور دو سپاہی باہر آگیا۔
وہ آتے ہی طیش میں دھاڑا۔”تو تمہیں چھاؤں میں بٹھاؤں ……تم مہمان ہو ناں ……پہلی بار تھانے آئے ہو۔یہ تھانہ ہے،خالہ جی کا واڑا نہیں ہے۔“
تھانے دار نے حکومت کے بازو اور پولیس کے نازک حصے کا ذکر کرتے ہوئے کہا۔”……حکومت نے حکم دیا ہے کہ روزہ خوروں کو فوراً گرفتار کرلو……جو بھی رمضان کا احترام نہ کرے اس کو پکڑ لو اور تم نے تماشا بنایا ہوا ہے ماں کے خصمو……!تمہیں ذرا بھی شرم نہیں آتی!“
اے ایس آئی نے اشارہ کیا توایک سپاہی تھانے دار کے لئے اندر سے کرسی اُٹھا لایا۔تھانے دار کرسی کو دیکھ کر بپھر گیا۔”سرور تم مجھے کرسی دیتے ہو……میں بڑا ستایا ہوا ہوں۔ابھی اے سی کا فون آیا ہے کہ فوراً چالان کرو،سفارشیں سفورشیں آنے سے پہلے پہلے رپٹ درج کر لو……مم میں ان کا خون پی جاؤں گا۔اُوے ظفرے ذرا لا ناں اندر سے لتر ……پہلے ذرا ان کی خاطر تواضع تو کریں۔“
ظفر مڑا تھا کہ دفعتہ فون کی گھنٹی بج اٹھی۔تھانے دار تلملا گیا۔فون کی طرف اشارہ کر کے بولا۔”دیکھا دیکھا ……پھر اے سی ہو گا۔“وہ پاؤ ں پٹختا ہوا ٹیلی فون سننے چلا گیا۔اے ایس آئی مبہم سی مسکراہٹ کے ساتھ ہر ایک کو غور سے دیکھنے لگا۔مجھ پر نظر پڑتے ہی ٹھٹک سا گیا۔اس کے اس طرح گھورنے پر میرے جسم میں ایک سرد لہر دوڑ گئی۔


”ذرا ادھر آؤ ناں ……!“وہ مجھ سے مخاطب ہوا۔
”میں ……جی……مم!“میں نے ادھر ادھر دیکھ کر استفسار کیا۔
”ہاں ……کیا نام ہے تمہارا؟“
”جی ……سعید!“میں نے مختصراًکہا
”کوئی اور بھی نام ہے تمہاراکہ بس یہی ہے!تم اخباروں میں بھی لکھتے ہو؟“
مجھے کچھ ڈھارس بندھی……اُن دنوں میں اخبارات میں میرے کبھی کبھار اکادکا مزاحیہ کالم شائع ہو تے تھے۔میں نے قدرے اعتماد سے کہا۔”جی میرا نام اختر سعید مدان ہے۔“
اے ایس آئی نے مسکرا کر اپنی چھوٹی چھوٹی مونچھوں کو تاؤ دیااور معنی خیز لہجے میں بولا۔”تھانے شاید پہلی بار آئے ہو!پولیس کی بڑی مٹی پلید کرتے ہو……بچُو آج قابو آئے ہو ناں ……!!“
اسی اثناء میں تھانے دار باہر آ گیا۔ حیرت انگیز طور پر اس کا موڈ خوشگوار تھا۔اے ایس آئی نے اُسے کرسی پیش کی اور میری طرف اشارہ کر کے بولا۔”بٹ صاحب……یہ لڑکا پولیس کے بارے میں بہت لطیفے گھڑتا ہے ……ذرا اس کی عمر دیکھیں بٹ جی اور کرتوت دیکھیں!“
”اچھا……!“تھانے دار نے حیرت سے میری طرف دیکھااور دھیما سا مسکرایا۔”آج پھر اصلی لطیفے ہی ہوں گے۔“
دو ایک پل توقف کے بعد تھانے دار نے قطار میں کھڑے لوگوں سے پوچھا۔”تم میں عظیم کون ہے؟“
دہی بھلے کی ریڑھی لگانے والا عظیم ایک قدم آگے بڑھا اور سینے پر ہاتھ رکھ کر بولا۔”جی میرا نام عظیم ہے۔“
”رائے اللہ وسایا تمہارا کیا لگتا ہے؟“
”ہم اُس کے گاؤں کے ہیں جی۔“
”تمہارے ساتھ اور کون ہے؟“
اُس نے تین آدمیوں کی طرف اشارہ کیا،جو اس کے گاہک تھے۔تھانے دار نے اُن کو گہری نظروں سے دیکھا اور پیار بھری سرزنش کی۔”اُلو کے پٹھو……اب اگر دوبارہ تم نے اس وقت دہی بھلے بازار میں کھائے یا بیچے تو مجھ سے بُرا کوئی نہ ہو گا،چلو دفع ہو جاؤ۔“
چاروں نے بے یقینی انداز میں ایک دوسرے کو دیکھا اور چپ چاپ تھانے سے باہر نکل گئے۔
”ہاں بھئی……!“ان کے جاتے ہی تھانے دار ہماری طرف متوجہ ہوا۔”تم میں سے سموسے کس کے ہیں؟“
”جی میرے ہیں۔“اقبال سموسے والے نے ہاتھ کھڑا کر کے کہا۔
”ذرا لاؤ ناں سموسے۔“تھانے دار نے پاس کھڑے کانسٹیبل کو حکم دیا۔
سموسوں والا تھال تھانے دار کے پاس رکھ دیا گیا۔تھانے دار نے تھال میں سے ایک سموسہ اُٹھایا اور اپنے سامنے والے دانتوں سے کتر کر دھیرے دھیرے کھانے لگا،بولا۔”بھئی سموسے تو تم اچھے بناتے ہو۔کتنے کا بیچتے ہو؟“
”جی دو روپے کا……!“اقبال نے جواب دیا۔
”دو روپے کا……بڑا مہنگا بیچتے ہو۔“تھانے دار نے ایک سموسہ کھانے کے بعد دوسرا اُٹھا لیا تھا۔غالباً تھانے دار نے پاس کھڑے ماتحت عملے کو بھی اشارہ کیا تھا۔دونوں سپاہی اور اے ایس آئی بھی سموسے اُٹھا کر کھانے لگے تھے۔ اُن کے سموسے مرکنے کی آواز چند لمحے سنائی دیتی رہی۔تھانے دار نے تیسرا سموسہ اُٹھایا اور بولا۔”یار کوئی چٹنی نہیں ہے ساتھ؟“
ایک کانسٹیبل نے اِدھر اَدھر نظر دالی اور دہی کا کونڈا اُٹھا لایا۔”بٹ جی یہ دہی ہے۔“
تھانے دار نے دہی کا کونڈا پاس رکھ لیا اور دہی کی بالائی لگا لگا کر سموسہ کھانے لگا۔
”کیا نام ہے تمہارا؟“
”محمد اقبال ……!“اقبال سموسہ فروش نے اپنا نام ادب سے بتایا۔
”اقبال ……تمہیں پتہ نہیں کہ رمضان شریف ہے آج کل ……اور اِن دنوں مسلمان روزے رکھتے ہیں۔“
”جی افطارکے لئے ہی سموسے بناتا ہوں۔“
”یہ افطاری کا وقت ہے؟“تھانے دار نے پلیٹ منگوائی اور دہی بھلے چکھنے لگا۔سموسوں کا تھال پولیس اسٹیشن کے باقی عملے کے لئے اندر بھجوا دیا گیا۔تھانے دار اوردیگر عملے نے خوب سیر ہو کر چیزیں کھائیں۔پھر تھانے دارٹھنڈا پانی منگوایا۔ گلاس کے باہر لگی پانی کی ٹھنڈی بوندوں کو دیکھ کر مجھے شدت کی پیاس محسوس ہوئی۔تھانے دار نے لمبی ڈکار لے کر پینٹ کی بیلٹ ڈھیلی کر لی اور بولا۔”اب تم خود ہی اپنی سزا بتا دو!“
تھانے دار کے خوش گوار موڈ کو دیکھ کر فقیر حسین بولا۔”سر جی! میں تو نہ کھانے میں اور نہ پینے میں ……میں یونہی بازار سے گزر رہا تھا کہ آپ نے پکڑ لیا۔“
”یونہی پکڑ لیا!“تھانے دار نے تیوری چڑھا کر کہا۔
”ہاں جی میں تو سبزی،دال لینے جا رہا تھا……آپ کو خوامخواہ غلطی لگ گئی۔“فقیر حسین نے دلیل دی۔
”غلطی لگ گئی،تو کیا میں اندھاہوں؟ مجھے نظر نہیں آتاکہ کوئی کیا کر رہا ہے!“تھانے دار کا پارہ چڑھنے لگا تھا۔
”مم……میں نے یہ کب کہا ہے کہ آپ اندھے ہیں۔“فقیر حسین نے حجت کی۔
”اور کیا کہا ہے……!تمہیں کسی بڑے سے بات کرنے کی تمیز نہیں ہے!“
”سر جی آپ تو خوامخواہ ……“
تھانے دار بڑی پھرتی سے اُٹھا اور ایک زناٹے دار تھپڑ فقیر حسین کے گال پر رسید کیا۔فقیر حسین کی زبان یقیناًدانتوں تلے آگئی ہو گی۔پھر تھانے دار کو جیسے دورہ سا پڑ گیا۔اس نے فقیر کو ٹھڈوں، گھونسوں اور کاتوں پر رکھ لیا۔
تھوڑی دیر میں تھانے دار ہانپنے لگا تھا۔کچھ تو اس جسم بھی فربہی مائل تھا اور کچھ وہ ایک لمحے میں مشتعل ہو جاتا تھا۔فقیر حسین کو اچھا بھلا پیٹنے کے باوجود اس کا غصہ ٹھنڈا نہیں ہو رہا تھا۔اس نے اپنے ماتحت عملے کو چھتر لانے کا کہا ……کانسٹیبل چھتر لے آیا تو اس نے نیا فرمان جاری کیا کہ بار ی باری سب کو دس دس لتر لگائے جائیں ۔
سب سے پہلے اقبال سموسے والے کو پکڑ کر الٹا لٹا دیا گیا۔


اقبال نے دو لتر منہ سے کوئی آواز نکالے بنا سہہ لیے،تیسرے چھتر پر اس کے منہ سے چیخ نکل گئی۔چوتھے اور پانچویں چھتر پر اس کی چیخیں بلند ترہو گئیں۔ساتویں اور آٹھویں لتر اس کی آواز گھٹ سی گئی۔نویں چھتر پر جب اس کے منہ سے کوئی آواز نہ نکلی اور جسم نے کو ردعمل نہ دیا تو تھانے دار نے چھترول کرنے والے کو روک دیااور کرسی چھوڑ کر اقبال کے بال مٹھی میں جکڑ کر سر اوپر اُٹھایااور اقبال کی نیم وا آنکھوں کو دیکھ کر تمسخر سے بولا۔”ایک تو شریف آدمیوں میں ذرا بھی ہمت نہیں ہوتی۔“پھر اے ایس آئی سے مخاطب ہوا۔”اوے سرور……اس کے منہ پر پانی کے چھینٹے مارو……اُوے!“
سرور نے پاس پڑے ٹھنڈے پانی کے جگ سے گلاس بھرا اور اقبال کے منہ پر چھینٹے دیئے۔تھوڑی دیر بعد اقبال نے آنکھیں کھول دیں۔اُسے اُٹھا کر بٹھا دیا گیا۔تھانے دار نے ہلکا سا قہقہہ لگایا اور بولا۔”اُوے تو تو مرنے لگ گیا تھا……ذرا جان شان بنا کُتّے کے بچے……اور سرور تھوڑا ٹھنڈا پانی پلا اُوے اِسے……کہیں مُدّا ہی نہ پڑ جائے ہم پر ……!!“
اے ایس آئی سرور نے پانی کا گلاس اقبال کے لبوں سے لگا چاہا تو اقبال نے پانی پرے ہٹا دیا،مریل سی آواز میں بولا۔”نن……نہیں میرا روزہ ٹوٹ جائے گا۔“
”روزہ……“تھانے دار نے حیرت سے اقبال کو دیکھا،پھر اس طرح ہنسا جیسے کسی نے اُسے لطیفہ سنا دیا ہو۔اُس نے ہنسی کے دوران میں پوچھا۔”تت تو……کتے کے بچے تو روزے کے وقت سموسے کیوں لگاتا ہے؟“
کتے کے بچے نے احتجاجی نگاہوں سے تھانے دار کو دیکھا اور لرزتی ہو ئی آواز میں ٹاؤں ٹاؤں کرنے لگا۔”میرا توروزہ ہے پر ……میری بوڑھی گندی ماں ……اور میرے تین حرامی بچے ابھی روزہ نہیں رکھ سکتے جی!“
……اور پھر جانے کیا ہوا۔معاً کُتے کا بچہ خاموش لبوں سے زار زار روتا چلا گیا……
*****
اپنی تحریر اس میل پہ ارسال کریں
lafznamaweb@gmail.com

شیئر کریں
1 Comment
  1. Avatar

    لاجواب افسانہ اور بہترین پیش کش ۔تمام کو مبارکباد

    Reply

کمنٹ کریں