کیا ہر کہانی افسانہ ہے؟

کیا ہر کہانی افسانہ ہے؟

اردو ادب نے قصہ بیان کرتی ہوئی تحاریر کو مختلف ہیتوں سے نوازا ہے۔ ان میں ناول، افسانہ، افسانچہ، مائیکروفکشن، داستان، کہانی اور بہت سی دیگر اصناف شامل ہیں۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کیا ہم کسی بھی کہانی کو افسانہ کہہ سکتے ہیں یا افسانہ کوئی خاص قسم کا قصہ ہوتا ہے؟ افسانہ آخر ہوتا کیا ہے؟

افسانی معاشرے کی جیتی جاگتی کہانی ہے جو ایک نشست میں پڑھی جاۓ جس کا شروع درمیان اور انجام تین حصے ہوتے ہیں شروع میں ایک بات ہوتی ہے درمیان میں اس کی تفصیل اور آخر میں ایک چونکا دینے والی بات جو کسی کی سوچ کو بدل دے یامستحکم کر دے یہ مصنف کا کمال ہے۔ (فریدہ گوہر)

افسانوں کا انجام مذکور نہیں ہوتا، قاری پر چھوڑ دیا جاتا ہے کہ وہ نتیجہ یا سبق خود نکالتا ہے۔ آخر پر سمجھنے کی کوشش کرتا ہے کہ مصنف کیا کہنا چاہتا ہے یا سمجھانا چاہتا ہے۔ اس کی بہترین مثال ہالی وڈ موویز ہیں۔ پوری مووی کے بعد بندہ سوچ میں پڑجاتا ہے کہ تھیم تھا کیا۔ سبق تھا کیا۔بعینہ یہی افسانے ہیں۔ (عمر بن حسین)

افسانے کے کچھ اجزا ہیں ان کا تحریر مین ہونا ہونا ضروری ہے ۔۔تب ہی افسانہ کہلاۓ گا۔۔ہر صنف کی کچھ فنی ٹیکنک ہوتی ہیں جس کے تحت ہی تحریر لکھی جاسکتی ہے ۔۔چاہے ڈرامہ ہو افسانہ ہو یا ناول یا دیگر اصناف ادب (ثریا صدیق)

قطع نظر اس سے کہ افسانے اور کہانی میں کیا فرق ہے، عام طور پر یہ دیکھا گیا ہے کہ افسانے کے میدان میں پختہ لوگ کہانی اور کہانی نویس کو کچھ اچھا نہیں سمجھتے، اپنے سے نیچے سمجھتے ہیں۔ اور مجھے یہ بات بہت بری لگتی ہے۔جس طرح ہر کہانی نویس افسانہ نہیں لکھ سکتا، اسی طرح ہر افسانہ نویس کہانی نہیں لکھ سکتا۔ اگر کسی کی ’کہانی‘ میں ادبی چاشنی یا ثقیل الفاظ، تشبیہات اور استعارات نہیں ہیں تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ اس کی کہانی میں جان ہے ہی نہیں، اور اصل کمال تو افسانے لکھنے میں ہے۔ (ساجدہ غلام محمد)

سلیم آغا قزلباش نے افسانہ اور کہانی کے باہمی فرق کے تعلق سے ایک عمدہ مضمون تحریر کیا ہے جس میں انھوں نے کہانی اور افسانے کے درمیان تفریق کی ہے۔ اس بحث میں نکلنے والی با توں اور اپنے ذہن میں ابھرنے والے خیالات کو اگر نکات کی شکل میں پیش کروں تو انھیں اس طرح مرتب کیا جا سکتا ہے :۔کہانی میں معروضی پن جبکہ افسانہ میں موضوعیت کا پلڑا بھاری ہوتا ہے۔۔کہانی میں پیش کردہ واقعات میں فقط منطقی رشتہ ہوتا ہے جب کہ افسانہ کی بنت میں شامل واقعات کا باہمی رشتہ نفسیاتی نوعیت کا ہوتا ہے۔۔کہانی افسانے کے لیے کچا مواد (Raw Material) ہے۔۔افسانہ کہانی کی مختلف کڑیوں کی حاصل جمع سے ’’کچھ زیادہ ‘‘ہوتا ہے اور یہ زیادہ ہونا ہی افسانے کا امتیازی وصف ہے۔۔کہانی میں واقعات کو اہمیت حاصل ہوتی ہے اور کردار صرف واقعات کو منطقی انجام تک پہچانے کا ایک وسیلہ یا ذریعہ بنتا ہے، جب کہ افسانہ میں اس کردار کو تفوق حاصل ہوتا ہے جس پر واقعہ یا حادثہ گزرا ہو۔۔افسانہ میں افسانہ نگار کا نقطۂ نظر، افسانہ کے تار و پود میں غیر مرئی طور پر سرایت کر جاتا ہے اس کے مقابلے میں کہانی میں نقطۂ نظر تقریباً مفقود ہوتا ہے۔ اس میں فقط مجرد صورت حال معروضی انداز میں نمایاں ہوتی ہے۔۔کہانی میں کردار کے ’’اعمال ‘‘پر زیادہ زور صرف کیا جاتا ہے جبکہ افسانہ میں کردار کے ذہنی واقعات (Mental Event) کا اظہار ہوتا ہے۔یعنی کردار کی (باطنی کشاکش) افسانہ میں نمایاں کی جاتی ہے جبکہ کہانی میں کردار کی خارجی زندگی، عمل اور رد عمل کا اظہار موجود ہوتا ہے۔۔افسانے میں فکر کا پہلو جبکہ کہانی میں عمل کا پہلو حاوی ہوتا ہے (ثریا صدیق)

کہانی اور افسانہ میں جو عمومی فرق بیان کیے جاتے ہیں ان میں یہ کہ کہانی کسی واقعہ یا قصہ کو من و عن ’ کہہ جانے ‘ یا بیان کر دینے کا نام ہے اور افسانہ اس کہانی میں شامل ہو کر، اس کے کرداروں کے باطن میں جھانک کر، نفس مضمون کے پیچھے کارفرما عوامل تک کو ٹٹولنے یا کم از کم ان کی نشاندہی کا نام ہے۔اس کے علاوہ کہانی میں عموماً مکالمے نہیں ہوتے۔کہانی زیادہ تر سیدھی ہوتی ہے اور افسانہ گچھے دار ہوتا ہے۔ تمام نثری اصناف ادب، ناول، ڈرامہ یا افسانہ، سب ہی میں کہانیاں ہیں۔ تاہم تکنیک کے اعتبار سے سب جدا جدا ہیں۔ ناول اور ڈرامہ طویل اور جامع کہانی ہیں جن میں ایک سے زائد موضوعات ساتھ ساتھ چلتے ہیں۔ جبکہ افسانہ کسی ایک پہلو یا واقعہ کو بیان کرتا ہے، جس میں حقیقت تو نہیں ہوتی لیکن حقیقت کا رنگ موجود ہوتا ہے۔افسانہ بنیادی طور پر کہانی ہونے کے باوجود تکنیک کے اصول و قواعد کے اعتبار سے کہانی سے مختلف ہے۔ افسانہ میں موضوع کی اکائی اس کی امتیازی اور انفرادی خصوصیت ہے۔اس میں واضح طور پر کسی ایک چیز کی ترجمانی اور مصوری ہوتی ہے۔ ایک کردار، ایک واقعہ، ایک ذہنی کیفیت، ایک جذبہ، ایک مقصد، مختصر یہ کہ افسانے میں جو کچھ بھی ہو، ایک ہو۔ کہانی میں بیانیہ تیز ہوتا ہے اور افسانہ میں علت و معلول کی وجہ سے، جزئیات کے استعمال اور تہہ داری کی وجہ سے بیانیہ تھوڑا سست ہوتا ہے۔افسانہ اور کہانی دو مختلف چیزیں ہیں۔دونوں میں بیانیہ کا بہت فرق ہے۔ افسانہ بنیادی طور پر یکجان ہوتا ہے، کہانی کے لیے یہ شرط نہیں۔ اس کا کوئی ایک مرکزی مدعا نہیں ہوتا۔قصہ کا بیانیہ کہانی کے لیے کفایت کرتا ہے۔ جبکہ افسانے کے بیانیے کی اپنی ضروریات ہیں۔ کہانی سینہ در سینہ، نسل در نسل منتقل ہوتی ہے مگر ہر اگلا سنانے والا پچھلے سنانے والے سے فنگر پرنٹ کی طرح اپنی چھاپ چھوڑتا چلا جاتا ہے، ہر ایک ورژن دوسرے سے کچھ مختلف ہوتا ہے مگر کردار اور مغز وہی رہتا ہے۔افسانہ پرنٹ میڈیم کے آنے سے معرض وجود میں آیا، اس لیے برسوں پہلے کا متن ہر جگہ یکساں ہو گا اور صدیوں بعد بھی مستند نسخہ وہی رہے گا۔ (ثریا صدیق)

ان نکات سے مزید آگے بڑھیے تو تفریق کی کئی اور صورتیں بنتی ہیں۔ افسانہ زندگی کی حقیقت کو قریب سے دیکھنے پر مجبور کرتا ہے جبکہ کہانی صرف ایک احساس کا نام ہے۔کہانی در اصل جو کچھ ہو رہا ہوتا ہے وہی ہے یا پھر جیسا مصنف چاہتا ہے کہانی ویسی ہوتی ہے۔مطلب سچی یا جھوٹی۔پر افسانہ نہ ہی سچ ہوتا ہے اور نہ جھوٹ، یہ ایک مرر امیج( Image Mirror ) یعنی شبیہ ہوتا ہے۔ افسانے کا مطلب یا مقصد pleasure ہرگز نہیں ہے، کسی کہانی میں جزئیات نگاری بے سبب بھی آ سکتی ہے مگر افسانے میں ہر صوت، ہر لفظ، ہر شے کی حصہ داری ہوتی ہے۔ یعنی جو بھی شے متعارف کرائی جائے اس کا جواز( Justification) پلاٹ میں موجود ہونا چاہیے۔وجہ اور نتیجہ کا جو ایک فطری عمل ہے کہانی میں اکثر نہیں پایا جاتا۔ انسان پیچھے مڑ کر دیکھنے پر پتھر ہو جاتا ہے۔ عمرو عیار کی زنبیل میں سے پوری دنیا برآمد ہو سکتی ہے مگر افسانے میں ایسا نہیں ہو سکتا (ثریا صدیق)

کہانی میں تسلسل سے واقعات، ایک ابتدا اور اختتام ہونا ضروری ہے۔ جب کہ افسانے میں تخیلات کا غلبہ ہوتا ہے۔ ایک افسانہ صرف ایک منظر یا ایک سچویشن پر بھی مبنی ہو سکتا ہے لیکن کہانی اس کی اجازت نہیں دیتی۔ کہانی میں آپ کو منطق سے چلنا ہے۔ کہانی کا، اس کے کرداروں کا انجام دکھانا ہے۔ افسانے میں مربوط کہانی ہو بھی سکتی ہے اور نہیں بھی۔ عموماً فلسفیانہ قسم کے افسانوں میں کوٸی کہانی نہیں پاٸی جاتی۔۔بس فلسفہ بگھارا جاتا ہے۔ (گل ِ رعنا صدیقی)

تکنیک کے اعتبار سے کہانی کا بیانیہ سادہ ہوتا ہے اور انجام کے اعتبار سے ایک مکمل تحریر ہوتی ہے۔ جبکہ افسانہ تخیل کو تشبیہات و استعارات کا جامہ پہنانے کو کہتے ہیں۔ افسانے کا اختتام بھی مبہم ہوتا ہے اور اکثر انجام قاری کے اوپر چھوڑ دیا جاتا ہے۔عام الفاظ میں کہہ سکتے ہیں کہ کسی کہانی میں اگر ہوا چل رہی ہوگی تو افسانے میں وہی ہوا بادِ صبا کے جھونکوں کی مثل ہوگی۔ ایک ہوا چلنے کی ہی منظر نگاری سو دو سو الفاظ میں ہوگی۔ (انا بنت ِ نسیم)

شیئر کریں
مدیر
مصنف: مدیر
لفظ نامہ ڈاٹ کام کی اداریہ ٹیم کے مدیران کی جانب سے

کمنٹ کریں