کیا جہیز سنت ہے?

تحریر : اعزاز کیانی

, کیا جہیز سنت ہے?

اس وقت سوشل میڈیا پر جہیز کا مسئلہ زیر بحث ہے. میں اگرچہ سابقہ تحریر میں جہیز کی بابت وضاحت کر چکا ہوں لیکن ہنوز کچھ سوالات جواب طلب ہیں. میرے نزدیک اولاً ہمیں شادی یا نکاح کی بابت اصولی اور بنیادی بات کو سمجھ لینا چاہئیے.
اسلام کی سماجی زندگی میں نکاح یا شادی کوئی تہوار نہیں ہے بلکہ شادی یا نکاح ایک معمولی اجتماع ہے, اس اجتماع میں مرد و عورت قبول و ایجاب کریں گے , حق مہر ادا کیا جائے گا اور اس موقع پر چند اعزا کی ایک دعوت طعام دی جائے گی.


مذکورہ بالا امور کے سوال کوئی چیز نہ شرط نکاح ہے اور نہ جزو نکاح ہے بلکہ ان امور کے سوا ہر ہر چیز اصافی ہے. خواہ جہیز ہو , زیور ہو ,بارات ہو, مہندی ہو یا نکاح خوانی کا معاوضہ وغیرہ ہو یا دیگر رسوام ہوں. یہ تمام اضافی امور ہمیشہ مقامی تمدن کے تابع ہوتی ہیں.
جہیز کے متعلق عموماً جو روایات پیش کی جاتی ہیں ان میں پہلی روایت وہ ہے جس میں بی بی خدیجہ کی جانب سے اپنی ایک بیٹی کو ایک ہار دینے کا ثبوت ملتا ہے. میرے نزدیک اس ہار کی نوعیت ایک ماں کی جانب سے بیٹی کو دیا جانے والا تحفے کی سی ہے اور یہ بالکل ایسے ہی ہے جیسے کہ آج کل بھی ایسے مواقع پر تحائف دیے جاتے ہیں.
دوسری روایت میں حضور پاک کی جانب سے حضرت فاطمہ کو رخصتی کے موقع پر کچھ اشیاء ضرورت کا دیا جانا مذکور ہے.


اس حدیث میں امام احمد نے اپنی مسند میں عربی متن میں “جہز” کا لفظ استعمال کیا ہے اور جہیز کے نام سے باب باندھا ہے
اسی حدیث پر امام نسائی نے “والدین کی جانب سے رخصتی پر دیے جانا والے سامان” کا باب باندھا ہے
تیسری روایت حضرت علی سے متعلق ہے کہ رخصتی کے موقع پر رسول اللہ نے آپ سے استفسار کیا کہ فاطمہ کو کچھ دینے کے لیے ہے? تو علی رضی اللہ نے نفی میں جواب دیا, تو آپ رسول اللہ نے خطیمی زرہ کی بابت استفسار کیا تو حضرت علی نے اس ذرہ کی موجودگی کا اقرار کیا, اس اقرار کے جواب میں آپ رسول نے حضرت علی کو ہدایت دی کہ وہی دے دو.


اس حدیث پر کتب احادیث میں جو باب باندھے گئے ہیں وہ حسب ذیل مفاہیم کے ہیں
شب زفاف کو تحفے کابیان
اور ایک دوسری جگہ حق مہر کا باب باندھا گیا ہے
اس روایت کی بابت دو مختلف آراء پائی جاتی ہیں ایک رائے یہ ہے کہ حضرت محمد صلی نے حضرت فاطمہ کو جو سامان موقع رخصتی پر دیا تھا وہ دراصل اسی ذرہ کو فروخت کرکے حاصل ہونے والی رقم سے خریدا گیا تھا اور یہ رقم بھی دراصل مہر کہ رقم تھی.
دوسری رائے کے مطابق یہ دونوں الگ الگ واقعات ہیں اور دونوں روایات متعلقہ واقعات کو بیان کرتی ہیں.
اگر تو یہ سامان فی الواقع رقم مہر سے خریدا گیا تھا تو جہیز کا سنت و غیر سنت کونا خارج از بحث ہے لیکن اگر یہ دونوں روایات الگ الگ اور مستقل روایات ہیں تو فطرۃ یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ


کیا جہیز بھی سنت?
ہمارے ہاں عموماً رسول اللہ کے ہر فعل, ہر قول اور تقریر کو سنت و حدیث سمجھا جاتا ہے لہذا رائج تصور حدیث و سنت یا لغوی مفہوم میں اس کو سنت کہا جا سکتا ہے یعنی یہ رسول اللہ کا ایک فعل تھا.
سنت کے تعین کے بارے میں دوسرا نقطہ نظر یہ ہے کہ سنت دراصل کچھ متعین امور ہیں جو ہر عہد میں اور ہر نبی کے ہاں موجود رہے ہیں. سنت کے تصور کے ماتحت یقیناً جہیز مطلق سنت نہیں بلکہ روایات میں ایک امر واقع بیان ہے.
اب دوسرا سوال پیدا ہوتا ہے کہ اگر یہ سنت ہے تو اس سنت کی نوعیت کیا ہے?
میرے نزدیک اگر یہ سنت ہے تو یہ تاکیدی سنت نہیں ہے بلکہ رسول اللہ کا ایک فعل ہے نہ کے ضروریات دین میں سے ہے, یعنی یہ ایسی سنت نہیں جس پر عہد صحابہ و بعد کے ادوار میں تواتر سے عمل رہا ہو , نہ اس سنت کی خود رسول اللہ نے عام تاکید و تلقین کی ہے بلکہ واقع یہ ہے کہ جہیز کی مطلق کوئی تاکید نہیں کی گئی ہے بلکہ اس برعکس مہر اور ولیمے کی کثرت سے تاکید کی گئی ہے.


چنانچہ میرے نزدیک اگر کوئی شخص اتباع رسول میں کوئی چیز شادی کے موقع پر اپنی مرضی و آزادی سے دینا چاہتا ہے تو وہ یقیناً دے سکتا ہے اور اسپر کوئی تحدید نہیں لگائی جا سکتی اور اگر کوئی شخص اسکی استطاعت نہیں رکھتا تو وہ کسی سنت کی خلاف ورزی کا مرتکب نہیں ہوگا. لیکن ایک معاشرے میں جب یہ مطالبہ بن جائے یا با قاعدہ مانگا جائے یا جزو نکاح بن جائے یا استحصال عام کا سبب بن جائے تو میرے نزدیک ریاست قانون سازی کر کے اس پر پابندی لگا سکتی ہے.

شیئر کریں

کمنٹ کریں