کیا مرد عورتوں سے افضل ہیں؟

کالم نگار : اعزاز کیانی

, کیا مرد عورتوں سے افضل ہیں؟

مرد عورتوں کے سرپرست ہیں، بوجہ اس کے کہ اللہ نے ایک کو دوسرے پر فضیلت بخشی ہے اور بوجہ اس کے کہ انہوں نے اپنے مال خرچ کیے.(نساء ,34)
کسی گھر کا مالی انتظام کس طور چلنا ہے اس کی عملاً دو ممکنہ صورتیں ہو سکتی ہیں.
اول یہ کہ تمام مالی معاملات فریقین میں تقسیم ہوں اور ان کے مابین باہم اشتراکیت ہو, یعنی مرد و عورت باہم شراکت کی بنیاد پر گھر کےمالی اخراجات اٹھائیں.
دوم یہ کہ کسی ایک فریق یعنی مرد یا عورت پر ہی ساری مالی ذمہ داری ڈال دی جائے.
یہ دونوں صورتیں عملاً ممکن ہیں اور ان میں سے کوئی بھی اختیار کی جا سکتی ہے.
اسلام نے دوسری صورت کو اختیار کیا ہے, اسلام میں کسب و کفالت کی بنیادی ذمے داری مرد پر عائد کی گئی ہے اور امور خانہ داری کی ذمہ داری عورت پر ڈالی ہے.
مرد چونکہ اپنی فطرت و تخلیق میں عورت سے جسمانی اعتبار سے قوی ہے چنانچہ قوت و محنت کی تمام ذمہ دارمرد پر عائد کی گئی ہے.


مرد کی قوت و محن کا قطعاً یہ مطلب نہیں کہ کسب و ملازمت عورت پر حرام کر دی گئی بلکہ یہ کہ وہ اس سے بری کر دی گئی ہے اسی طرح امور خانہ داری اور اولاد کی نگہداشت مرد پر حرام نہیں کئے گئے بلکہ وہ بھی اسی طرح ان سے بری کیا گیا ہے. امور خانہ داری اور دیگر امور میں معاونت کوئی ننگ و عار نہیں ہے بلکہ محمد , رسول اللہ کا معمول یہ تھا کہ آپ گھر کے کام کاج میں اپنی ازواج کا ہاتھ بٹاتے تھے.
مذہب کے معاملے میں ہمارا بنیادی مسئلہ یہ ہے کہ ہم جب بھی مرد و عورت کے مسئلے کو زیر بحث لاتے ہیں تو مرد و عورت کو باہم مسابقت کی نظر سے دیکھتے ہیں اور مرد و زن کو ایک دوسرے کے مقابل رکھ کر جائزہ لیتے ہیں. میرے نزدیک یہ زوایہ فکر و نظر بنیادی طور پر درست نہیں ہے.
میاں بیوی کا رشتہ نہ مسابقت کا رشتہ ہے اور نہ رقابت کا رشتہ ہے بلکہ یہ رشتہ باہمی اشتراک , تعاون اور محبت کا رشتہ ہے اور اس کو اسی نظر سے دیکھنا چاہئیے اور یہی اس رشتے کی بنیاد ہے. اسلام نے بھی میاں بیوی کے مابین رشتے کی یہی نوعیت بیان کی ہے.
اللہ تعالیٰ مومنین کےمتعلق فرماتا ہے
مومن مرد و عورتیں ایک دوسرے کے معاون ہیں ( سورہ توبہ, 17) اور میں بیوی بدرجہ اولیٰ معاون و مددگار ہیں.


میاں بیوی کےمتعلق مذکورہ بالا غلط زوایہ نظر و فکر کا نتیجہ یہ نکلا ہے ہم نے ذمے داریوں کی بنیاد پر انسان کی درجہ بندی شروع کردی ہے. ایک خود ساختہ معیار قائم کیا ہے جس کے تحت گھر کے اندر کے کام کاج یعنی امور خانہ داری کو شرف انسانیت سے متصادم اور نیچے تصور کر دیا ہے اور گھر سے باہر کے کام کو عظمت و بڑائی کا معیار مان لیا ہے . میرے نزدیک اصولی طور پر اور عقلی و منطقی طور پر یہ خود ساختہ پیمانہ بھی درست نہیں ہے.
مندرجہ بالا اصولی وضاحت کے علاوہ اگر خالص دینیاتی نگاہ سے دیکھا جائے تو
لفظ قوام کے لغات میں مختلف معانی ہیں , مثلاً حفاظت, نگران, محاقطت, تولیت وغیرہ کے ہیں.
سورہ نساء کی مذکوہ آیت مرد و عورت کے ابدی مقامات کا تعین نہیں ہو رہا ہے بلکہ ایک رشتہ یعنی میاں بیوی کا رشتہ اور خاندان کی تنظیم زیر بحث ہے.
سید ابو اعلیٰ المودودی اس آیت کی تفسیر میں لکھتے ہیں کہ یہ فصیلت بمعنی شرف, کرامت اور عزت نہیں ہے جیسا کہ عام اردو خواں سمجھے گا.
مولانا امین احسن اصلاحی تدبر قران میں اس آیت کی تفسیر میں لکھتے ہیں:
یہ امر ملحوظ رہے کہ یہاں کلی فصیلت مراد نہیں بلکہ وہ فصیلت جو مرد کو قوامیت کی بنیاد پر حاصل ہے ( مفہوم).
****
اپنی تحریر اس میل پہ ارسال کریں
lafznamaweb@gmail.com

شیئر کریں

کمنٹ کریں