میں اکثر یہ سوچتی ہوں

دل کے اوراق پہ لکھی ایک ذہنی ڈائیر ی :قسط 4

لاہور The city of coloures and culture

تحریر : رابعہ الرباء

, میں اکثر یہ سوچتی ہوں

عجب رنگین شہر ہے ،ساری دنیا کو دیوانہ بنا رکھا۔
گویا “سنگ ہر شخص نے ہاتھوں میں اٹھا رکھا ہے”مگر یہ بہت بعد سمجھ آتا ہے۔
کیونکہ یہ سنگ باری جب شروع ہوتی یے تو محسوس ہی نہیں ہوتا کہ شہر کا کرم ہے ،لگتا جیسے شخصی کجی کی کوئی لہہ لگ گئی ہے۔
ہمیں بھی یہ بات اب سمجھ آءی بلکہ کہیے کہ بتائی گئی جیسے سمجھائی گئی کہ “لگ دی لاہور دی اے۔۔۔”
جب ہم یہاں اتفاق سے پیدا ہو جائیں ۔پل بڑھ جائیں تو اس رنگینی میں لگتا ہی نہیں کہ دنیا کسی اماوس کی رات کی تاریخ بھی رکھتی ہے۔ ہم اتنے عادی ہو چکے ہوتے ہیں کہ ہمارے لئے یہ بات اہمیت نہیں رکھتی ۔مگر دوسروں کے لئے کتنی اہم ہو جاتی ہے۔
یہ دھواں اٹھنے سے خبر ہوتی ہے۔
اجی
سنا ہے کبھی لاہورکا فیشن بمبی فلم تک جاتا تھا۔
مگر یہ فیشن پرستوں کے سینوں پہ مونگ ۔۔۔۔۔۔ والی بات ہے۔
مگر اسے بھی قبل کی بات ہے جب کسی کو یار منانے ننگے پیری گھنگرو باندھے لاہور آنا پڑتا تھا۔ نا صرف یار رام ہوتا تھا عاشق پہ رنگ بھی چڑھ جاتا تھا۔
اور معشوق اگر ولی ہو تو ولایت تحفے میں دے دیتا ہے۔
یہ کمال بھی لاہور کا ہے۔


ہائے
کہنے والے کہتے ہیں
گناہ گاروں اور ولیوں کا شہر ہے”
صدقے
جان من یہ ولی مجھے لگتا اپنے عشق میں گناہ گاروں کو بھی رنگ دیں گے۔ اور سنگ لے جائیں ۔ کیونکہ “جنے لور نہی تکیا جمیا ای نہیں “(جس نے لاہور نہیں دیکھا پیدا نہیں ہوا)۔لاہور بندے کو بے فیض نہیں لوٹاتا۔ یہاں سے کوئی فیض جاری ہے۔ اور مسلسل جاری ہے۔ کہ بے فیضا بھی ایک بار ضرور غسل کی تمنا رکھتا ہے۔
جوں جوں تاریخ پڑھتے گئے لاہور گھومتے گئے ۔ لگا لاہور تو اپنے اندر ایک دنیا سمیٹے ہوئے ہے۔
جس دنیا پہ اک دنیا عاشق ہے۔ اور عشق کا فیض جاری ہے۔
انسان بہت بے بس مخلوق ہے۔بس نفرت کرتے ہوئے اسے لگتا ہے وہ بہت ہی طاقت ور ہے ورنہ عشق تو بتا دیتا ہے تو خاک کے سوا کچھ بھی نہیں ۔
یہ فیض سارے لاہور کے ہی ہیں ۔جہاں ایک بے بس مخلوق پیدا ہو گئی تھی ۔
اس پہ لاہور کا رنگ نہ چڑھتا یہ ممکن ہی کیسے تھا۔جو عشق و رنگوں کی عاشق بھی اور باپ سے خیر لے کے بھی آءی ہو۔
“اس مست ملنگ لڑکی سے مجھے عشق ہے”بینا بخاری تیرے عشق کے قربان کہ جو میرے ہم روح سے جا ملا ہے۔


“مست ملنگ”
بس اتنی سے تعریف تھی اپنی ۔ جس کو پر اسراریت میں اس شہر کے رنگوں نے سجا رکھاہے
جس کی مجھے خود جو خبر نہیں ۔مگر جیو سنگ سازوں ، جگ جگ جیو کہ مجھے تم سب نے مل کر ،مجھی سے ملا دیا۔ اور بتا دیا کہ لاہور لاہور ہے۔
سو اب میں میں نہیں ہوں ،لاہور ہو گءی ہوں۔
کیونکہ تم مجھے لاہور دیکھ رہے ہو۔
میری مستی میری ملنگی شاہ جمال کے دربار پہ بجتے ڈھول کے سنگ ، اس میں گھنگھرو باندھے دھمال کے ڈالتی شہر لاہور کی سنہری شاموں اور حسین راتوں میں سفر کرتی ہے۔
مجھے لاہور کر دینے والوں، میں تمہارے احسان نہیں بھول سکتی ۔ کیونکہ تنہائی وہ حسین سفر ہے جو بندے کو خود سے ملا دیکھی ہے اور جب بندہ اپنے پہ عاشق ہو جاتا ہے کسی کا نہیں رہتا۔
سو لاہور ،لاہورکے عشق میں لاہور ہے۔


میرے ظالم زمانے والو۔۔۔
یہ تم نے کیا کیا۔ جب بندہ خود سے مل جاتا ہے تو تخلیق کی فصلیں دوسروں کی آب یاری کرنے لگتی ہیں۔ محبت کا فیض جاری ہو جاتا ہے تنہائی شہنائی بن جاتی ہے۔
اپنی شہنائی ہی تو تمہیں نہیں بھاتی۔ اور شادیانےتمہیں رلاتے ہیں ۔
زندگی میں ایسےبھی موڑ آتے ہیں۔
” اسی راہ پہ اسی موڑ پر،، بھید کھلنے لگتے ہیں ۔ گل کھلنے لگتے ہیں۔ اور سب راز فاش ہو جاتے ہیں ۔
مگر مست ملنگ لڑکی،پتھر کی نہیں ہو سکتی تھی ،کہ اس نے پانی کی دعاءیں مانگی ہوءیں تھیں ،سو نہیں ہوئی۔ورنہ یہ پتھر ٹوٹ کر تمہیں پہ لگتا کہ فطرت نے راز فاش کر دیئے تھے ۔
یہ بھی لاہور کا فیض ہے۔ شکر کرو یہ لاہور کی ہے، ہوتی جو کہیں اور کی تو، تم جیسی ہی ہوتی۔


اور محاورے ناچنے لگتے”اینٹ کا جواب پتھر سے”۔
مگر نہیں ایسا نہیں ہے۔ لاہور بے فیض نہیں لوٹاتا۔اور جو پیدا ہوا ہو پلا بڑھا ہو فیض پایا ہو،تو وہ اس فیض کے چشموں کا کیا کرے گا؟
چشمہ ہے اسے بہنا ہے بہتا رہے گا۔جسے فیض ملنا ہے، ملتا رہے گا ۔جیسے پتھر ہونا ہے۔پانی اس پہ سے بہت نرمی سے اپنا رستہ بناتے گزر جائے گا۔
اور مست ملنگ لڑکی آپ کے اس احساس کے سامنے آخر کار فقط اتنا کہے گی “لگ دی ہی نہیں ،ہے وی لاہور دی اے”(لگتی ہی نہیں ہے بھی لاہور کی)۔
“یہ جو لفظ ”لاہور“ ہے ، ایک اسمِ اعظم ہے۔ یہ ہر در کھول دیتا ہے۔
آپ دِلی میں ہوں ، ٹمبکٹو میں یا برزبین میں جونہی آپ دیسی شکل کے بندے کو ”لاہور“ کہتے ہیں تو وہ پگھل جاتا ہے ، دشمن دوست ہو جاتا ہے اور آنکھوں میں نمی آنے لگتی ھے۔ برصغیر کا کوئی بھی شہر اپنے نام میں ایسا سامری پن نہیں رکھتا۔
میں نے بڑے بڑے متکبر سرداروں اور متعصب ہندوؤں کو لاہور کے نام پر موم ہوتے اور آبدیدہ ہوتے دیکھا ہے۔”


رانجھا رانجھا کر دی نی میں آپے رانجھا ہوءی۔
مجھے اس عشق میں سب نے مل کر گرفتار کیا ہے تو اب حوصلہ بھی رکھیں کہ عشق و مشق چھپائے نہیں چھتے۔
کسی کا کیا دلفریب شعر ہے
علاج عشق جو پوچھا طبیب سے
دھیمے لہجے میں بولا،لاہور جایا کرو

شیئر کریں
1 Comment
  1. Avatar

    صدقے لاہور والے تہ لہورن دے

    Reply

کمنٹ کریں