لاہور کا لال کھوہ۔۔اصل حقیقت کیا ہے

مضمون نگار : محمد جاوید انور

, لاہور کا لال کھوہ۔۔اصل حقیقت کیا ہے

لاہور سے باہر رہنے والے لال کھوہ یعنی لال کنواں کو صرف اس کی باداموں والی برفی کی وجہ سے جانتے ہیں کہ جس طرح لاہور کی خلیفہ کی نان ختائ مشہور ہے اسی طرح لال کھوۂ کے رفیق کی باداموں والی برفی کی دھوم ہے۔ یہ کہنے میں حرج نہیں وہ لاہوری ہو ہی نہیں سکتا جس نے لال کھوہ کی مٹھائی اور منہ میں گُھل جانے والی برفی نہ کھائی ہو۔ لیکن یہ لال کھوہ دراصل ہے کیا؟


لاہورکے موچی گیٹ میں داخل تو دائیں جانب لال رنگ کا ایک مزار نما چبوترا نظر آتا ہے۔ جومبینہ طورپر مائی بیری پیر کا ہے۔ بظاہریوں دکھائی دیتا ہے یہ مسلمانوں کا کوئی مذہبی مقام ہو۔ ایک کروڑ سے زائد آبادی کے شہرمیں غالباً چند لوگ ہی ایسے ہونگے جوموچی گیٹ میں موجود اس مشہور زمانہ لال کھوہ سے سے جُڑی ایسی کہانی کے بارے میں جانتے جواب ماضی کا حصہ بن چکی ہے۔


مقامی لوگ کہتے ہیں 1975ءتک یہاں کنواں موجود تھا اور عقیدت مند یہاں سے پانی بطور تبرک لے کر جاتے تھے۔ لال کھوہ کی وجہ ایک یہ بھی ہے کہ لوگوں کی ایک بڑی تعداد اپنی عقیدت کا اظہار کرنے کیلئے اس کنویں کے ساتھ موجود بیری پرسرخ دھاگے باندھاکرتی تھیں اور مٹی کے دیئے جلایا کرتی تھیں تاکہ ان کی منت پوری ہو جائے۔
لیکن حقیقت یہ ہے کہ یہ مقام سکھوں کیلئے انتہائی مقدس اہمیت کا حامل ہے۔


یہ تاریخی لال کھوہ موچی دروازے کے اندر واقع ہے ۔یہ تاریخی کنواں عہد جہانگیر ی کے وزیر خزانہ چندو مِل (چندو لال) کی حویلی میں واقع تھا ۔جوکہ اس مقام پر واقع تھی ۔سکھ مذب کے پانچویں گُرو ارجن دیو جی کا چندو مِل سے ذاتی تنازعہ ہو گیا ۔جسکے باعث چندو مل نے جہانگیر کو گُرو کے خلاف اکسایا۔حتی کہ جہانگیر نے چندوُمل کے کہنے پر گُرو جی کو گرفتار کروا کے اسکے حوالے کر دیا ۔اوراس نے گُرو مہاراج کو اپنی حویلی کی ایک کوٹھڑی میں قید کر لیا جہاں یہ کنواں واقع تھا ۔اس کنواں کو گُرو ارجن پانی پینے کواور نہانے کے لئے استعمال کرتے تھے ۔گُرو نے اپنی باقی ماندہ زندگی اس حویلی میں گزاری اور سخت سزاؤں میں مبتلا رہے ۔ اس وقت ان کی مدد کیلئے حضرت میاں میر رحمتہ اللہ علیہ آگے بڑھے جو ان کی رہائی کیلئے ہر جمعرات کو دعا کیا کرتے۔


یہ بھی ایک دلچسپ روایت ہے حضرت میاں میر رحمتہ علیہ قریبی دکان سے برفی خریدتے اور اسے کپڑے میں لپیٹ کر گروارجن دیو جی کے قید خانے میں پھینک دیتے۔گروارجن دیو جی شہنشاہ غضب سے نہ بچ سکے اور ان کودریائے راوی کے کنارے شہید کردیا گیا۔کہا جاتا ہے کہ جب گرو ارجن دیو جی کوزنجیروں میں قید لاہور کے شاہی قلعہ لے جایا جارہا تھا تو مقامی مسلمان واقعہ کربلا کو یاد کرتے رہے اورآنسو بہاتے رہے۔وقت بیت گیا سکھ کنویں پر اظہارعقیدت کیلئے آتے جن میں کچھ قریبی دکان سے برفی خریدتے اور غریبوں میں بانٹ دیتے۔ یہ روایت اب بھی برقرارہے۔


ایک روایت کے مطابق چندومل کی سخت سزاؤں کے باعث گُرو جی کا انتقال ہوا ۔جبکہ انکی راکھ راوی میں بہائی گئی ۔جبکہ دوسری روایت کے مطابق گُرو ارجن دیو نے آخری بار راوی میں نہانے کی اجازت مانگی اور نہانے کے لئے ڈبکی لگائی اور پھر واپس نہیں ابھرے ۔اسی جگہ پر بعد ازاں مہاراجہ رنجیت سنگھ نے یادگاری طور پر گُردواری تعمیر کروایا ۔جبکہ بعد ازاں چھٹے گُرو نے اپنے باپ کا بدلہ لینے کے لیئے سیاسی طریقے سے چندو مل پر غلبہ پایا تو اسکے ناک میں نکیل ڈال کر اس جگہ لایاگیا اور قتل کیا گیا ۔یہ جگہ پہلے چھوٹی تھی جسے بعد ازاں سکھوں نے اردگرد کے مکان خرید کر اسکی عمارت بنائی ۔1927 ء سے 1947 ء تک اسکا انتظام پربندھ شرمنی کمیٹی کے پاس تھا اب اسکا انتظام محکمہ اوقاف کے پاس ہے ۔اب یہ ایک پختہ کمرہ ہے ۔جسکا سائز اندازاً 8×10 ہو گا ۔جسکو سرخ رنگ کیا ہوا ہے ۔جبکہ باہر لال کھوہ کے نام کا کتبہ لکھا ہے ۔جس کی تعمیر نو 1977 ء میں مستری جاوید چینوٹی نے ضیاء الدین بٹ کی معاونت سے کروائی تھی ۔اب اسکی دیواروں پر اللہ ،نبی پاک کے نام اورآیات لکھی ہوئی ہیں۔


کچھ دہائیوں قبل مسلمان کنویں پر آکر دیئے جلاتے اور منت مانگا کرتے تھے۔ اس سے ملحقہ بیری کا درخت تقدس کا حامل رہا ہے جس کے بارے میں یہ خیال کیا جاتا ہے کہ دوران قید گرو ارجن دیو جی اس کنویں کا پانی پیتے اور اس بیری کا پھل کھا کر اپنی قید کے دن پورے کرتے رہے۔
زمانہ گزرگیا اور لوگ لال کھوہ کا درد ناک ماضی بھول گئے اب یہ علاقے اپنی لذیذ مٹھائیوں کے باعث دنیا بھر میں مشہور ہے
بشکریہ
اردوناولز
والڈ سٹی آف لاہور اتھارٹی

شیئر کریں

کمنٹ کریں