لاہورشہرادب کا ایک نیا بین الاقوامی رومان

تحریر : رابعہ الرَباء
lafznamaweb@gmail.com

, لاہورشہرادب کا ایک نیا بین الاقوامی رومان

باغوں کا شہر، کالجوں کا شہر، رنگو ں کا شہر، ثقافتوں کا شہر،زندہ دلان ِ لاہور، یہ الفاظ وتراکیب اپنے پیچھے ایک مکمل اور بھر پور تاریخ رکھتے ہیں جنہیں سن کا ہم جوان ہو ئے۔کوئی تاریخ بے ثمر نہیں ہو تی۔ اور ثمر تاریخ کی غمازی سے منکر نہیں ہو سکتا۔ اور آخر کار یہ ثمر تاریخ کے اوراق کا ایک پروقار تمغہ سینے پہ سجائے مسکرایا۔ جب یونیسکو کی جانب سے شہر لاہور کو ’شہر دل کو”شہر ادب،، کا خطاب ملا۔


میر خسرو سے جو بات شروع ہو ئی تھی، بلھے شاہ جہاں یار منانے آ یا تھا، انگریزجہاں لارنس باغ بنا گیا، مغلوں نے جہا ں تعلیم کے نقاط پہ با ت کی، اور ماھو لال میں جہا ں شاہ حسین چھپ کر محبت کا وہ درس دیتا ہے۔ جو دنیاؤں تک کو اپنا اسیر جاں کر لیتا ہے۔


یہ شہر نہیں ہے ایک کیف ہے جو طاری ہو جائے تو ہو جائے۔ اسے ایک دن محبت کاخطاب ملنا ہی تھا۔ آج نہیں تو کل پاکستان نے یہ دن دیکھنا ہی تھا کہ، جو دنیا بھرمیں امن کی شناخت ہے، محبت کی پہچان ہے۔
سبز پاسپورٹ کے ساتھ دہشت کا ایک دھبہ جو وقت کے ساتھ لگ گیا تھا۔ اس شہر ادب کی وجہ سے لمحہ بھر میں وہ امن میں بد ل گیا ہے۔ لفظ ادب اپنے اندر جتنی وسعت رکھتا ہے، وہ ساری کی ساری وسعت اس شہر روماں میں موجود ہے۔ یہ عاشقوں کا شہر ہے بھلے وہ عاشق مجازی ہو ں یا حقیقی،اور عاشق ایسی نامراد شے ہے کہ اس کا نفرت سے کوئی واسطہ ہی نہیں ہوتا۔ محبت اور جنگ میں سب کچھ جائز ہو سکتا ہے۔ عشق میں صرف عشق ہی جائز رہ جاتا ہے۔


اس شہر کی بھی یہی تاثیر ہے۔ جو آنے والے کو اپنی گرفت میں لے لیتی ہے۔ عاشق بنا دیتی ہے۔ تاریخ گواہ ہے صدیو ں سے یہ شہر بہت سی حکومتو ں کا دارالخلافہ رہا۔اور جو شہر دارالحکومت رہا ہو۔وہاں ملازمت کی غرض سے لوگ نہیں آ تے بلکہ وہ ثقافتیں ہو تیں ہوتیں ہیں۔ نوکری تو ایک بہانہ ہوتا ہے، فطرت اس شہر پہ مہربان ہو تی ہے۔ اور اس شہر کو رنگوں سے بھر دیتی ہے۔


اسے شہر دل بھی کہتے ہیں۔ اور دلوں میں خدا بستا ہے، خدا محبت کی نشانی ہے،رحم کی ترجمانی ہے۔شہر دل میں ہی شہر ادب صدیو ں سے بسا ہو اہے۔ جس جدید نثرو نظم کی ہم آ ج بات کرتے ہیں۔ اس نے اسی دل کی زمین پہ جنم لیا۔جب آگرہ، دلی اور لکھنو میں سیاسی زلزلے آئے تو ادیبو ں نے اسی شہر کا رخ کیا۔ اکبر نے یہی کئی برس قیام کیا۔


تقسیم ہند کی تحریکوں کا مرکز یہی شہر بنا اور تقسیم ہند کے بعد جس ادب کا شہرہ تمام دنیا میں ہوا۔وہ ادب بھی اسی زمین پہ آنسو بہا رہا تھا۔ چند ادیبوں کے نام لینا تو بخل ہو جائے گا۔ اس زمین میں اتنے ادیبو ں کا خمیر ہے کہ کبھی آ کر ایک بار میانی صاحب قبرستان کی خاک چھان لیجئے
چپپ چپہ بوٹا بوٹا حال دل بتائے گا۔ جب قدم قدم پہ کوئی عاشق، کوئی ادیب نظر آئے گا۔
یہا ں کے میڈیکل کالجز بھی ڈاکٹرو ں کو ادیب بنا دیتے ہیں۔ جن میں کنگ ایڈورڈ میڈیکل کالج سر فہرست ہے۔ گورنمنٹ کالج کے سر پہ تو ادب کا تاج ہے، ادب ہی نہیں سائنس، ثقافت روایات کی امین یہ زمین، ایشن آکسفورڈ کے نام سے جانی پہچانی جاتی ہے۔ نیشنل کالج آ ف آرٹس سے تو پوری دنیا سے فنون لطیفہ کے طالب علم سیراب ہوکے جاتے ہیں۔


موجودہ شہر دل و شہر ادب کو ہم تین ثقافتی و جغرافیائی حصوں میں آسانی سے تقسیم کر سکتے ہے۔
پہلا حصہ وہی بارہ دروازوں کے اندر بسا ہوا لاہور۔ جس کی ثقافت صدیو ں کے بعد بھی جوں کی تو ں موجود ہے۔ مگر وہ وہیں بارہ درروازوں کے اندر ہی اپنے رنگ بکھیرتی ہے۔ یہا ں بہت سی مشہور اور دیدہ زینب حویلیاں اور مساجد ہیں۔ جن میں سے کچھ تاریخی عمارتو ں پہ سرکار کا کرم ہوا اور ان کی ناصرف مرمت اور آرائش کا کام کیا گیا بلکہ ان کو ایک سیاحتی مرکز کے طور پہ بھی محفوظ کیا گیا۔ آس پاس کی عمارتوں کو خرید کر یہا ں ثقافت کی ترقی و ترویج کے لئے ہالز بنا دئیے گئے۔ جہا ں راتو ں کو بازار بند ہو جانے کے بعد قوالی نائٹ یا لوک موسیقی کے پرو گرامز کا انعقاد کروایا جاتا ہے۔ اور باہر بازارو ں میں روایتی کھانو ں کے ڈھابے اور ریڑھی والے بھی دکھائی دیتے ہیں۔ یہا ں سٹیل کے چمک دار برتن استعمال کئے جاتے ہیں۔


یہا ں موجود شاہی محلے کو فودسٹریٹ میں بدل دیا گیا ہے۔ ایک فوڈ سٹریٹ گوال منڈی اورپرانی انار کلی میں بھی بنائی گئی ہیں۔ یہا ں کی پرانی عمارتوں کو سیاحتی بنیادوں پہ استوار کیا گیا ہے۔ اسے اندرون شہر کہتے ہیں۔ جہاں سے ادب کے ایک بڑے ذخیرے کی بنیاد پڑی۔ یہا ں آج بھی بزرگ گلیو ں میں بیٹھ کر راتوں کو ہیر گاتے مل جاتے ہیں۔


دوسرا بڑاثقافتی مرکز مزنگ سے ماڈل ٹاون تک ہے۔ جس میں گلبرگ، مسلم ٹاون، گارڈن ٹاؤن، اچھرہ، شاد مان،سمن آباد شامل ہیں۔ ان میں سے مسلم ٹاؤن، گارڈن ٹاون کا کچھ حصہ اور ماڈل ٹاؤن تقسیم ہند سے قبل کے علاقے ہیں۔ اور تقیسم ہند کے بعد یہ اہم علمی و ثقافتی مرکز رہے۔ یہا ں فنون لطیفہ سے تعلق رکھنے والے اہم اور معتبر لوگ رہائش پذیر رہے۔ جن میں سے بہت سے ورثہ کو پاکستان نیشنل کونسل آف آرٹس نے محفوظ کر کے انہیں سیاحتی مرکز بنا دیا ہے۔ انہیں میں شاکر علی میوزیم،چغتائی آرٹ گیلری، نئیر علی دادا آرٹ گیلری اور کیفے شامل ہیں۔ ادب سرائے سے بالی وڈ تک کے بیشتر ستارے یہی جگماتے رہے۔
تیسرا حصہ موجودہ ڈی ایچ اے ہے۔ جہا ں اب کے ادیب اور فنکار آہستہ آ ہستہ ہجرت کر رہے ہیں۔ یہا ں ادیبوں نے ایک نئی دنیا بسائی ہوئی ہے۔


پاک ٹی ہاؤس آ ج بھی انار کلی کے سامنے اور مال روڈ کے درمیان ادیبوں کی من پسند جگہ ہے۔گلبرگ کا کافی ہاؤس آ ج بھی ادیبوں سے مسکراتا ہے۔ نئیر علی دادا آرٹ گیلری میں بھی ادیب کثرت سے دکھائی دیتے ہیں۔ حلقہ ارباب ذوق تقسیم در تقسیم ہو کر بھی کام کر رہا ہے۔ انجمن ترقی پسند مصنفین کی سر گرمیا ں بھی جاری ہیں۔ ادبی رسائل کے ساتھ ساتھ اب اس شہر اد ب سے آن لائن ادبی رسائل کا آ غاز بھی ہو چکا ہے۔ آ ج بھی ادیبوں کے گھر، گھر نہیں ڈیرے ہیں۔


لاہور سکول آ ف تھاٹ کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ یہ اپنی زمین کے ساتھ جڑا ہو اہے۔ اس کی جڑیں بہت مضبوط اور گہری ہیں۔ اور کسی بھی ادب کی سب کی بڑی خوبی یہی ہوتی ہے کہ وہ آ فاقی ہوتے ہوئے بھی اپنی زمین کی شناخت ہو تا ہے۔ اس کے ادب سے ہم اس کے تاریخ اور جغرافیہ کو سمجھ سکتے ہیں۔


اور لاہور کو تو دنیا کے ان تمام ادبی شہرو ں کی طرح یہاہمیت بھی حاصل ہے کہ ادبی شہر ہو نے سے قبل وہ ادب کا حصہ بنا۔ بے شمار افسانوں، ناولوں، غزلوں نظموں میں لاہور اپنے رومان کی وجہ سے جانا پہچانا جاتا ہے۔ نئے لاہو ر کے نئے رومان میں میٹروبس، اوریج ٹرین، ٹوریزم بسیز، رنگیلا رکشہ، کشادہ سگنل فری سڑکیں اور نئے باغات کی نئی کہانی بھی ادب میں امن کے پیامبر بن کر اپنی ایک نئی شناخت بنے گی۔
اورہم ادب سے امن کے سفیر بنیں گے

شیئر کریں

کمنٹ کریں