لالی چودھری کے افسانے

لالی چودھری کے افسانے : تہذیبی انجذاب اور تانیثی شکست و فتح کا اظہاریہ

مضمون نگار : شہاب ظفر اعظمی

, لالی چودھری کے افسانے

لالی چودھری اردو افسانے کا بہت معروف یا نا گزیر نام تو نہیں ہے مگر یہ بھی سچ ہے کہ ان کا پہلا افسانوی مجموعہ ’’حد چاہئے سزا میں‘‘(۲۰۰۰ء)جس کے بھی ہاتھ میں پہنچاو ہ اس کی کہانیوں سے با آسانی صرف نظر نہیں کر سکا۔ شمیم حنفی نے اسے شک کے ساتھ شروع کیا اور حیرانی کے ایک گہرے احساس کے ساتھ ختم کیا، تو مغنی تبسم نے پڑھنے کے بعد انہیں اردو کا منفرد کہانی کا ر بتایا۔ اپنی سخت تنقید کے لئے معروف وارث علوی جیسے ناقد کے ہاتھوں میں مجموعہ پہنچا تو ان کے ذہن میںپھلجھڑیاںچھوٹنے لگیںاور ان کا پورا وجود چراغاںہوگیا تو شمس الرحمن فاروقی نے لالی چودھری کو افسانہ نویسی کی منزل سے کامیاب گزرنے والا سلیم الطبع فنکار قرار دیا۔ جب کہ کیول سوری ایک کہانیـــ’’گڈو‘‘ کی پرفکٹ تکنیک ،زبان اور محاورے پر خوشگوار اچنبھا اظہار کرتے ہوئے سوال کر بیٹھے کہ اب تک خاموش کیوں تھیں ؟گویا لالی چودھری کی کہانیوںنے اپنے زمانے کے صف اول کے نقادوںاور فنکاروںکو نہ صرف متوجہ کیا بلکہ ان کی فنکاری کا اعتراف کرنے پربھی مجبور کیا ہے۔


دراصل لالی چودھری کے افسانوں میںہمیں ایک نیا رنگ اور نئے ذائقے کا احساس ہوتا ہے۔ اس افسانے کا پس منظر انگلینڈ اور امریکہ ہے۔ اس کے کرداروہ پاکستانی یا ہندوستانی ہیں جو وہاں جا کر بس گئے ۔ وہ ذہین تعلیم یافتہ اور ترقی یافتہ ہیں۔ ان کے مسائل کا تعلق ایک اجنبی تہذیبی اور تمدنی فضا میں شناخت قائم کرنے ،اس سر زمین سے ہم آہنگ ہونے اور جدو جہد کے ذریعہ ایک نیا جہان پیدا کر نے کے عزائم سے ہے۔ اس میں بھی خصوصی طورپر ان کے مشاہدے کا محور اس ما حول میں خود کو ایڈجسٹ کر تی ہوئی عورت ہے۔ وہ امریکہ کی آزاد کھلی فضامیں تعلیم یافتہ، جرأت مند ،آزاد خیال اور اپنے پیروںپر کھڑی رہنے والی عورت کو پسند کرتی ہیں۔ لیکن امریکہ کی آزاد جنسی فضا پورنوگرافی اور ازدواج کے باہر جنسی تعلقات کو ان کا مشرقی ذہن قبول نہیں کرتا۔ لالی چودھری مغرب سے نا خوش نہیں لیکن اس کی جنسی افراتفری سے متنفر ہیں، اور مشرقی دانشمندی اور عقل عامہ کے ذریعہ اپنے کردار کو بکھرنے یا تباہ ہونے سے بچا لے جاتی ہیں۔ بقول پروفیسر شمیم حنفی’’ لالی چودھری کے شعور کی دو سطحیںاور جہتیں ایسی ہیںجو لگ بھگ ہر کہانی میں اپنے ہونے کا احساس دلاتی ہیں۔ یہ سطحیں عبارت ہیںایک تو موجودہ انسانی معاشرے میںعورت کے وجود کی معنویت سے، اس کی تقدیر اور گرد و پیش کی دنیا میں اپنی شراکت سے ، دوسرے عورت اور مرد کے روایتی رشتوںمیں مخفی اور متحرک ایسے سوالوں سے جن کی حیثیت دائمی ہیــ‘‘ (ص۱۴)کہانیاں شناخت ،حد چاہئے سزامیں ،شب گزیدہ سحر ، رسم من و تو ، ایک لفظ کہ کشتنی وغیرہ مرد اور عورت کے اختلافات، ان کے بگڑتے تعلقات کے بارے میںہیں جو با لآخر دونوں کی علاحدگی پر ختم ہوتی ہیں۔ ان کہانیوں کا نصب العین مرد کو صرف مورد الزم ٹھہرانا اور عورت کو بدبخت یا مجبور محض بتانا نہیں ہے۔ بلکہ عورت و مرد کے تعلقات کے بگاڑ کے نفسیاتی اسباب و محرکات کا گہرائی سے جائزہ لینا رہاہے۔ ان کہانیوں میں درد اور دکھ عورت کی تقدیر کی بجائے ایک دائم و قائم حیثیت کے طور پر بار پاتے ہیں، اس لئے یہ کہانیاں افراد کی بجائے انسانی اجتماع اور تہذیب کی کہانیاںبن جاتی ہیں۔


اس مجموعے کی ٹائٹل کہانی ’’حدچاہئے سزامیں‘‘ کو ہی دیکھیے ۔مغرب کی جنسی انار کی کی بھینٹ نہ جانے کتنے ازدواجی رشتے چڑھ چکے ہیں۔ اس افسانے میں بھی ایک رشتہ امریکی کلچر کے اسی چکاچوند کا شکار ہوتا ہے۔ ثاقب اور بیلا جو پاکستان سے شادی کرنے کے بعد لاس انجلس آئے تھے ،خوش تھے لیکن بیٹی کی پیدائش کے بعد گھر کا سارا ما حول بدل گیا۔ بیٹی حرا درد شکم کی وجہ سے ہر وقت روتی رہتی ہے۔ رات میں اس کے رونے سے کئی بار نیند اچٹ جاتی ہے۔ بیلا کی پوری توجہ بیٹی کی طرف ہوتی ہے۔ اور ثاقب گھر کے ماحول سے گھبرا کر باہر پناہ ڈھونڈنے لگتا ہے۔ وہ سوچتا ہے کہ یہ سر زمین جو Funاور ایڈونچر کا آشیانہ ہے ،اس کا لطف اس کے کنوارے دوست خوب خوب اٹھا رہے ہیں۔ اس نے تو شادی کے بندھن میںبندھ کر اپنے پر کتر لئے ہیں۔ چنانچہ وہ بڑی بے رحمی سے بیلا کو ٹھکرا دیتا ہے اور ایک ہزار ڈالر خط کے ساتھ چھوڑ کر چپکے سے غائب ہوجاتا ہے۔ بیلا نے چار سال تک دو دو جاب کئے ، بیٹی کو پالا اور بزنس میں ڈگری حاصل کی۔ ایک دن اچانک ثاقب واپس پہنچ جاتا ہے اور اپنے کئے پر شرمندہ ہوکر معافی مانگتا ہے۔ مگر بیلا اسے ٹکا سا جواب دے دیتی ہے کہ وہ ا س کو دیکھنا بھی نہیں چاہتی اور یہ کہ حرا کو میں نے بچپن ہی میں بتا دیا ہے کہ اس باپ ایک حادثے کا شکار ہو کر مر گیا۔ یہ کہہ کر وہ اسے باہر چھوڑ کر گھر میںآجاتی ہے۔ ثاقب ہائوس کیپر کے ہاتھ ایک چٹھی بھیجتا ہے جس پر غالب کا یہ شعر لکھا تھا۔ حد چاہئے سزا میں عقوبت کے واسطے آخر گناہ گار ہوں کافر نہیں ہوں میں بیلا نے اسی کاغذ کی پشت پر جواب میں یہ شعر لکھا دل میں ذوق وصل و یاد یار تک باقی نہیں آگ اس گھر میں لگی ایسی کہ جوتھا جل گیا ثاقب کارڈرائیو کر کے واپس چلا جاتا ہے ،شاید ہمیشہ کے لئے۔ کہانی یہاں ختم ہوجانی چاہئے مگر مصنفہ نے ایک جملہ اورلکھا ہے جو انجام کو زیادہ معنی خیز بنا دیتا ہے۔ ’’ اس وقت سے اس سوچ میںغلطاںپیچاں میں اپنے آپ کو ملامت کر رہی ہوں کہ اپنے جواب کے ساتھ اس کے ہزار ڈالر بمع سود درسود اسے واپس کیوں نہ کئے۔ ‘‘


کہانی میں عورت کی جو بپتا ہے وہ کوئی نئی نہیں۔ ہندو پاک میں لاکھوں مطلقہ یا بیوہ عورتیںہیں جو کسی طرح محنت مشقت کر کے اپنے بچوں کی پرورش کر رہی ہیں۔ مگر ان کی کہانیاں تانیثیت یا فیمنزم کی کہانیاں اس لئے نہیں کہلاتیں کہ ان کی کہانیوں میں مظلومیت اور بدنصیبی کے واردات حاوی ہوتے ہیں۔ جب کہ بیلا چوںکہ پڑھی لکھی ہے اس لئے نہ صرف ترقی کرتی ہے ، اونچا مقام پاتی ہے بلکہ شعور ذات کی حامل بھی ہے جو مردانہ پندار ، برتری، اور آقائیت کے خلاف مستحکم طور پر خود کو کھڑی کرتی ہے۔ یہی وصف افسانے کو تانیثی افسانہ بناتا ہے۔


عورت مرد کی علاحدگی پر ایک کہانی ’’شب گزیدہ سحر ‘‘ بھی ہے جس میںقصور وار عورت کو بتایا گیا ہے ،جواپنی شادی شدہ زندگی کو سنبھال نہ سکی ۔ یہاں مرد کا کردار ایک وجیہ ، سمجھدار اور شفیق شوہر کا ہے۔ عائشہ نے اپنی پسند سے ریاض سے شادی کی تھی، حالانکہ وہ اس سے عمر میںبہت بڑا تھا۔ شادی کے بعد تین سال بڑی خوشگوار زندگی رہی۔ بیٹا حارث پیدا ہوا۔ عائشہ نے جاب شروع کیا۔ اُسے دفتر کے کام کے ساتھ ساتھ گھر کا کام نپٹانا ہوتا۔ کام کی زیادتی کی وجہ سے وہ اعصابی تھکن میں مبتلا ہوگئی اور چڑچڑا پن اس کے مزاج میںداخل ہوگیا۔ وہ ریاض کی محبت بھری باتوںکا جواب بھی تلخی سے دیتی۔ ایک دن ریاض نے رکھائی سے پوچھا کہ ’’تمہارا مزاج اتنا اکھڑا اور بگڑا کیوںہوتا ہے۔ ‘‘ اس نے جواب دیا۔ ’’ بات دراصل یہ ہے کہ دو اجنبی ایک بچے کے ساتھ ایک گھر میں رہ رہے ہیں۔ ‘‘ عائشہ کے چڑچڑانے اور بد مزاج ہوجانے کے بعد میاںبیوی کے جھگڑوںمیں زبان کا دیسی پن نہیںہے بلکہ تعلیم یافتہ مہاجرین کی زبان کے لشکارے اور کم لفظوںمیںبات کو ختم کر کے خموشی اختیار کر نے کے انداز ہیں۔ بہر حال معاملہ عدالت اور طلاق پر پہنچتا ہے ۔ ریاض عائشہ کو سمجھاتاہے کہ وہ علاحدگی اختیار کرتے ہوئے اپنے بیٹے حارث کی زندگی کی بنیاد کھوکھلی نہ کرو ۔ہمارے بچوںپر تو پہلے ہی یہاں اے بی سی ڈی (امریکی بورن کنفیوزڈ دیسی)کا لیبل لگا ہوا ہے۔ مگر عائشہ پر کوئی اثر نہیںہوتا۔ ان گھریلو حالات کا حارث کے ذہن پر برا اثر پڑتا ہے اوروہ ڈرگس کا عادی ہوجاتا ہے۔ اسکول سے اس کے خلاف شکایتیںآنے لگیں۔ عائشہ اسے سدھار نہ سکی۔ سائیکیا ٹرسٹ نے تشخیص کی کہ اسے اپنی زندگی میں باپ کے رول کی شدید ضرورت ہے۔ مجبور ہو کر وہ ریاض کی مدد طلب کرتی ہے اور ریاض حارث کو اپنے پاس بلا لیتا ہے۔ عائشہ سوچتی ہے کہ رشتے اور تعلق کبھی ختم نہیںہوتے اور جب مرد اور عورت مل کر بچے تخلیق کرتے ہیں تو حقیقت میں ان کی مکمل طور پر کبھی علاحدگی نہیںہو سکتی۔


دراصل بچے پیدا ہونے کے بعد رشتے مزید مستحکم اور پیچیدہ ہوجاتے ہیں۔ طلاق اور علاحدگی سے معاملات سلجھتے نہیں ۔عائشہ کے پاس پہلے سکون کی کمی تھی مگر طلاق کے بعد وہ سکون بھی کھو دیتی ہے اور بچے کو بھی۔ اعصاب شکنی اور ڈپریشن تو ابھی بھی موجود ہے۔ ان معنوںمیں’شب گزیدہ سحر‘ انسانی رشتوں کی پر پیچ کہانی تو ہے ہی فیمنزم کی شکست کی کہانی بھی ہے۔ لالی چودھری کا تانیثیت کے تعلق سے اپنا ایک نقطۂ نظر ہے۔ مرد کی بے وفائیوںاور عورت کی طرف نابرابری کے سلوک وہ پسند نہیںکرتیں، لیکن انہیںاحساس ہے کہ امریکہ جیسے کھلے اور آزاد معاشرے میں بھی مرد کے خلاف بغاوت میں خسارے میںتو عورت ہی ہے۔ تو عورت کیا کرے۔ معاملہ فہمی اور مصالحت سے کام لے۔ لیکن اس سمجھوتے کو سماج تانیثی رویے کی شکست قرار دے گا،جو نہ لالی چودھری کو پسند ہے اور نہ کسی تعلیم یافتہ مہذب عورت کو—لال چودھری کے اکثر و بیشتر افسانے فتح و شکست کے اسی پیچیدہ تانے بانے سے بنے گئے ہیں۔ اس سلسلے میں صرف ایک اور افسانہ’’ اک لفظ کہ کشتنی‘‘ کا ذکر میں کرنا چاہوں گا، جس کی ہیروئین کنول اچانک اپنے شوہر کے آفس پہنچ جاتی ہے تو دیکھتی ہے کہ شاہد اپنی سکریٹری کے ساتھ اختلاط میں مشغول ہے۔ اس سے پہلے بھی وہ اسے ایسی حالت میںدیکھ کر پھٹکار چکی تھی۔ وہ عدالت جا کر طلاق حاصل کرتی ہے تو ساری برادری میں اس کی حیثیت اچھوت سی ہوگئی۔ اس کی ایک شناسا عورت کے شوہر کا ہارٹ اٹیک سے انتقال ہوا تو سب کی ہمدردیاں بیوہ عورت کے ساتھ ہوگئیں۔ اور اس نے دو سال بعددوسری شادی بھی کر لی۔ کنول کو احساس ہوتاہے کہ بیوہ عورت کے ساتھ لوگوںکی ہمدردیاںہوتی ہیں جب کہ طلاق شدہ عورت کے ساتھ نہیں۔ اُنہیںدنوں کنول کا تبادلہ لاس اینجلس ہوجاتا ہے تو وہاں وہ خود کو بیوہ ہی ظاہر کرتی ہے حالانکہ اس کا ضمیر اسے ملامت کرتا رہتا ہے۔


لاس اینجلس میں کنول کا حسن چمک اٹھتا ہے۔ ایک پارٹی میں جب وہ دیسی عورتوںکے لہنگے غرارے اور بھاری بھرکم سوٹ کے بر خلاف بلیوڈینم کی اسکرٹ اور کچی ململ کامیکسیکن اسٹایل بلائوز پہن کر پہنچتی ہے تو نو جوان آصف کنول پر مر مٹتا ہے۔ کنول بھی اس کے عشق میںگرفتار ہوجاتی ہے۔ عمر کے فرق کی وجہ سے وہ کشمکش کا شکار ضرور ہے، مگرامریکہ میں شادی بیاہ ،طلاق، عشق بازی اور جنسی نعروں لئے عمر کی قید نہیںہوتی اور نہ اس ماحول میں بہت رکاوٹیںآتی ہیں۔ لہذا کنول کا بھی اپنے عشق پر کچھ زور نہیںچلتا۔ لال چودھری اس کی کیفیت بیان کرتے ہوئے لکھتی ہیں۔ ’’آصف کو دیکھتے ہی نہ جانے اسے کیا ہوجاتا وہ موم بتی کی طرح پگھلنے لگتی اگر بتی کی طرح مہکنے لگتی۔ وہ جہاں موجود ہوتا اپنی طلسمی نگاہوں کے انتر منتر سے وہ سارے فالتو سال ایک ایک کرکے غائب کر دیتا اور وہ پھر سے اکیس سال کی ہوجاتی۔‘‘


آصف کا جذبہ محبت کنول سے بھی زیادہ شدید تھاکیوں کہ کنول کی طرح آصف کے دل میںشکوک و شبہات اور بدگمانیاں نہیںتھیں۔ کنول تو اس کے لئے ڈریم گرل تھی۔ لیکن جیسے ہی کنول اپنی اصل حقیقت بیان کرتی ہے کہ وہ بیوہ نہیں طلاق شدہ ہے ، آصف کاعشق ہوا ہوجاتا ہے۔ وہ کہتا ہے ’’ بیوگی اور بات ہے کہ قضائے الہٰی ہے۔ اس میںتقدس ہے، پاکیزگی ہے ، بے بسی اور بے چارگی ہے۔ لیکن طلاق اتنا غلیظ ،مکروہ اور گھنائونا لفظ ہے کہ اس سے عورت کی نسوانیت داغدار اور مجروح ہوتی ہے۔


میںابھی تم سے شادی نہیںکر سکتا۔ ‘‘ افسانے کا عنوان اب واضح ہو جاتا ہے کنول کے لئے ایک لفظ کہ کشتنی ہے۔ اوروہ لفظ ہے’’ طلاق شدہ‘‘۔ مشرقی مزاج کا یہ اثر ہے کہ امریکہ جیسے آزاد مغربی ما حول میںبھی طلاق عورت کے لئے نجات کا باعث نہیںبنتی۔ نا خوشگوار شادی تکلیف دہ یا نا خوشگوار ہوسکتی ہے، لیکن اس سے نجات پاکر زندگی کو خوشگوار بنانا اتنا بھی آسان نہیں،جتنا ہم سمجھ لیتے ہیں۔ ’’ایک لفظ کہ کشتنی‘‘لالی چودھری کے فن کارانہ اظہار کی بھی عمدہ مثال ہے۔ طلاق اور علاحدگی کے موضوعات پر ’شناخت‘ اور’رسمِ من و ‘تو بھی اسی قسم کی عمدہ کہانیاںہیں۔ مگر لالی چودھری نے خود کو اسی موضوع تک محدود نہیں رکھا ہے۔ ان کی پہلی کہانی ’زنجیر‘ عورتوںکے سلسلے میں مذہب کے نام پر ہونے والے ظلم اور معاشرے کی فرسودہ روایتوںکے خلاف احتجاج درج کرتی ہے، تو ’’گڈو ‘‘جاگیردارانہ نظام کے جبر اور امیر و غریب کے درمیان بڑھتے خلیج پر غم و غصے کا خوبصورت اظہاریہ ہے۔ ’’ تعویذ جاں ‘‘ کا موضوع چائیلڈ لیبر اور غربت ہے تو ’’وقت سفر ‘‘کینسر کے موذی مرض میں مبتلا ایک عورت کے کرب اور ذہنی کیفیات کا پر اثر رزمیہ ہے۔ ’’ خواب راستے عذاب منزل‘‘ کالج کی دوشوخ طرح دار حسین سہیلیوںکی کہانی ہے جو مدت مدید کے بعد امریکہ کے ایک شہر میں مل جاتی ہیں،اور پرانی یادوں کو تازہ کرتے ہوئے اپنی محرومیوں کو ہنسی مذاق میںخوبصورتی کے ساتھ چھپا لیتی ہیں،توآخری کہانی ’’ نقش فریادی‘‘ امریکی معاشرے ، جنسی بے راہ روی اورتہذیبی زوال کے ساتھ ساتھ اس راہ پر چلنے والوںکے درد ناک انجام کی تصویر کشی کر تی ہے۔ مختلف موضوعات پر ان کہانیوں کا تنوع نہ صرف رنگا رنگی کا احساس پیدا کرتا ہے بلکہ لالی چودھری کی ژرف نگاہی ، قوت مشاہدہ اور امریکی تہذیب و تمدن کے بدلتے رنگوںپر ان کی گرفت کا ثبوت بھی فراہم کرتا ہے۔ ان افسانوں میں مغرب میںسکونت پذیر افراد کی زندگی سے متعلق مسائل ،فرد کی محرومیاں ، محبت کا استحصال اور وہاں کے تہذیبی و انسانی رویوں کی توجہ کا مرکز بنایا گیا ہے۔ مگر اس سے بھی انکار ممکن نہیںکہ ان میںعورت کو مر کزی حیثیت حاصل ہے اور مصنفہ کی بنیادی کوشش عورتوںکے حالات و کوائف اور امریکہ و انگلینڈ کے بدلتے سماجی اور تہذیبی ما حول میں زندگی بسرکرنے کی ان کی جدوجہد کی عکاسی ہے۔ان کے افسانوں میںعورت کے مختلف روپ ابھر کر سامنے آئے ہیں۔ مگر اکثر روپ بلند ہمتی اور بلند حوصلگی کے ساتھ درد کی ڈور سے بندھی ہوئی عورتوں اور آنسوئوںکے حجاب میںلپٹی ہوئی خواتین کے داخلی اور خارجی منظرنامے کو اجاگر کرتے ہیں۔


جیسا کہ میںنے پہلے بھی کہا کہ لالی چودھری کے اکثر افسانوںکا پس منظر مغرب ہے۔ ایک دو افسانوں سے قطع نظر ان میں امریکی شہر ، قصبے ، مضافات ، مکانات ، موسم، اور فضائیں ہیں۔ ان کے یہاں امریکی روزمرہ، دیسی لوگوںکی اپنی انگریزی اردو کا مکسچر ، نرسری رائم ، پاپ گیتوں اور تک بندی کے اشعار کا استعمال ہے۔ اشارے کنایے میں امریکی گھروںکی بناوٹ ،بیڈ روم ، ڈرائنگ روم، کچن ، پورٹیکو اور گارڈن کی فضا بندی لالی چودھری کی افسانہ نگاری کی امتیازی صفت ہے۔ وہ باتوںباتوں میںامریکہ میںمقیم دیسی لوگوں کے طرز فکر ہی نہیںطرز رہائش ، طرز لباس اور طرز گفتگو تک کو ہدف تنقید بنا ڈالتی ہیں۔ مثلاً’’ایک لفظ کہ کشتنی‘‘کا وہ منظر دیکھئے جب کنول سمن کے یہاں پارٹی میں جاتی ہے ’’ سب عورتیں مہنگے غرارے،بھاری کام والے سوٹ اور جھل مل کرتی ساڑیوں اور زیوروں میں لدی دیکھ کر کنول کو ’’کوے کالے کالے کیا دہلی کیا دہرا دون‘‘ کاشعر یاد آگیاکہ ایر پورٹ سے لے کر پارک میں پارٹی تک دیسی عورتیں کبھی موقع محل کی مناسبت سے ڈریس اپ نہیںہوتیں، باربے کیو پارٹی کے بجائے شادی بیاہ کی پارٹی لگ رہی تھی۔‘‘
لالی چودھری ایسے بیانوںکے ذریعہ نہ صرف شخصیتوںکے تضاد بلکہ کپڑوں کے فرق کے ذریعہ ذوق سلیم اور تہذیبی رویوں کے فرق کو بھی اجاگر کرتی ہیں۔ اسی طرح جب کنول عمر کے فرق کی وجہ سے کشمکش میںمبتلا رہتی ہے تو یہ سوچ سوچ کر لرز جاتی ہے کہ ’’ لوگ کہیںگے کہ بڈھی زن زلیخا نام، تین بچوںکی ماں کے لچھن ذرا دیکھو ۔ بیٹی شادی کی عمر کو پہنچ رہی ہے اور یہ خود عشق فرما رہی ہے۔ محبت کر نے کی بھی ایک عمر ہوتی ہے۔ یہ عمر تو اعتکاف میںبیٹھنے کی تھی ۔عمرہ اور ارض مقدس کی زیارتوں کی تھی۔ ‘‘
یہاں بھی تہذیبی فرق کو ملاحظہ کیجئے۔ عمر اور لڑکی کے جوان ہونے کی بات عام سی ہے۔ لیکن اعتکاف اورعمرے کاتذکرہ امریکی لوگوںمیں زیادہ ہے۔ کیوںکہ دیار غیر میںجا کر مسلمان زیادہ مسلمان ہوجاتے ہیں اوراقتصادی خوشحالی انہیں ارض مقدس کی زیارتوں کا بار بار مو قع دیتی رہتی ہے ۔گو کہ یہ بیانیہ کا عام طریقہ ہے، لیکن ایک نئی اور اجنبی تہذیب میں پیدا ہونے والے تضادات یا فرق کو بیان کرنے کے لئے باریک بیں مشاہدے کی ضرورت ہوتی ہے۔لالی چودھری اِس قوت مشاہدہ کا ثبوت بار بار دیتی ہیں۔
لالی چودھری کے فن پر غور کیا جائے تو سب سے پہلے یہ احساس ہوتا ہے کہ مصنفہ قصہ گوئی کے آرٹ سے پوری طرح واقف ہیں۔ اس کااعتراف خود لالی چودھری نے بڑی خوبصورتی سے کیا ہے۔


’’ میراچھوٹا بچAZIEجس کے ذکر کے بغیر میری تسبیح روز و شب نامکمل ہے کہ دوسال کی عمر میںمیری قصہ گوئی کا اتنا معترف تھا کہ No body can tell a story like you momکہتے ہوئے وہ کسی اور سے کہانی نہیںسنتا تھا ‘‘
چنانچہ لالی چودھری کے قصوںکی زبان ، ہیئت، بنت، اور اسلوب بیان میںکسی قسم کے تکلف ، آئورد اور تصنع کا شائبہ بھی نہیںہوتا۔ ہر کہانی اپنے آغاز کا سرا اپنے ساتھ لاتی ہے اور اپنی منطق کی تعمیر خود کرتی جاتی ہے۔ مصنفہ کاارادہ، منشا یا موقف کہانی میںاس طرح گھل مل جاتے ہیں کہ انہیں الگ کر کے دیکھنے کا کوئی جواز ہی نہیں بنتا۔ وہ ایک نیچرل قصہ گوہیں اس لئے اِس رمز سے واقف ہیں کہ کہانی کہیںسے بھی شروع کی جاسکتی ہے۔ آغاز ،و سط اور انجام کی حد بندی ان کے لئے قطعاً بے معنی ہے۔ مثلاً ’’نقش فریادی‘‘ کو دیکھئے جس کا آغاز کہانی کے انجام سے ہوتا ہے۔ جب کہ ’’خواب راستے عذاب منزل‘‘ یا ’’ سوئچ ‘‘کا آغاز اس کی ابتدا سے ہوتا ہے اور ’’ شناخت ‘‘ کا وسط سے ۔ کہانی جہاںسے بھی شروع ہو لالی چودھری کا رویہ صر ف یہ ہوتا ہے کہ جتنا فطری اس کا آغاز ہے اس کا انجام بھی اتنا ہی فطری ہو۔ بیجا طوالت اور غیر ضروری اختصار سے احترازبھی ان کی کہانیوں کو روانی
،Compactenessاور شدت تاثیر سے متصف کرتا ہے۔
لالی چودھری کی زبان شستہ، رواں اور غیر مصنوعی ہے۔ مغربی معاشرت اور مغرب زدہ کرداروں کی اکثریت ہے ،اس لئے اردو الفاظ کے ساتھ کثرت سے انگریزی الفاظ ، محاورے ، یا فقرے استعمال کرتی ہیں۔ مشرقی ماحول میں پر ور دہ قاری کو اردو متبادل ہوتے ہوئے انگریزی الفاظ کا کثرت سے استعمال گراںگزر سکتا ہے مگر غور کیا جائے زیادہ تر جگہوںپر ایسا محسوس ہوتا ہے کہ مصنفہ کے مافی الضمیر یا کردار کے مکالمے کے لئے انگریزی الفاظ یا فقرے نا گزیر ہوگئے ہیں۔ مثلاً یہ جملے دیکھئے۔


’’ مجھے DepressاورMoody دیکھ کر اس نے کئی بار وجہ پوچھنے کی کوشش کی۔ لیکن میں نے بڑی بے دردی سے Mind your own buisinessکہتے ہوئے اس کا بڑھا ہوا ہاتھ جھٹک دیا۔ ‘‘(شناخت)
’’ کوئی دعا اور تمنا پوری نہ ہوئی اور میں اپنے worthless ہونے کا احساس لئے 10th گریڈ تک پہنچ گیا۔ ‘‘(شناخت)
’’ اسے کہتے ہیں Love at the first sightان کی شادی پر یوں کی کہانی Happily lived after
جیسی تھی۔ ‘‘(سرگوشی)
’’اسے اپنےImperfect ہونے کاشدید احساس ہوا۔‘‘(شب گزیدہ سحر)
’’یوںلگا جیسے ا س کی زندگی بالکل Shamble ہو کر رہ گئی ہو۔ ‘‘ (شب گزیدہ سحر)
ان جملوں میںانگریزی الفاظ کا استعمال اس روانی کے ساتھ ہوا ہے کہ الفاظ نہ صرف مو قع کی ضرورت ثابت ہوئے ہیں بلکہ مغرب و مشرق کی امتزاجی فضاکا کااظہاریہ بھی بن گئے ہیں۔ دراصل لالی چودھری اردو ادب میں مغربی تہذیب کی سفیر بھی ہیںاور نکتہ چیںبھی۔ ان کے افسانوں میں تہذیبی انجذاب ہے ،لیکن اسی حد تک جسے مشرقی ذہن قبول کر سکے۔ وہ نہ فکری سطح پر فرد کے انحطاط ، جنسی بے راہ روی اور اخلاقی زوال کو قبول کر سکتی ہیں اور نہ اسلوبی سطح پر زبان کو انگریزی زدہ کر کے اسے شناخت سے محروم کر نے کی قائل ہیں۔ زبان تہذیب اور فکرکی آزادی کی وہ اسی وقت تک قائل ہیں جب تک وہ ناگوار اخلاقی انحطاط کا شکار نہ ہوئی ہو۔ یہی وصف لالی چودھری کے فن کو بقا ان کی قصہ گوئی کو دوام اور ان کے نام کو عظمت بخشتا ہے۔
۔۔۔۔۔۔

شیئر کریں
ڈاکٹر شہاب ظفر اعظمی بھارت میں اردو فکشن کی تنقید کا ایک سنجیدہ اور معتبر نام ہے۔ان کی پیدائش یکم اپریل ۱۹۷۲ء کو گیا (بہار) میں ایک عالم دین مولانا عبدالبر اعظمی کے گھر میں ہوئی۔انہوں نے ابتدائی تعلیم والد گرامی سے ہی حاصل کی ،اس کے بعد مگدھ یونیورسٹی ،جامعہ ملیہ اسلامیہ اور جواہر لال نہرو یونیورسٹی نئی دہلی سے اعلیٰ تعلیم حاصل کی ۔جون ۲۰۰۳ء میں ان کا تقرر شعبٔہ اردو ،پٹنہ یونیورسٹی میں ہوا،جہاں ابھی وہ بحیثیت اسسٹنٹ پروفیسرتدریسی خدمات انجام دے رہے ہیں۔ان کے مضامین ملک و بیرون ملک کے موقر رسائل و جرائد میں شایع ہوتے رہے ہیں اور ادب کے سنجیدہ قارئین کے درمیان توجہ اور انہماک سے پڑھے جاتے رہے ہیں۔ان کی اب تک چھ کتابیں (۱)ضیائے اشرفیہ،۱۹۹۰ء(۲)اسلام کا معاشرتی نظام،۱۹۹۲ء(اردو کے نثری اسالیب،۱۹۹۹ء(۴)فرات،مطالعہ ومحاسبہ،۲۰۰۴ء(۵)اردو ناول کے اسالیب،۲۰۰۶ء(۶)اور جہان فکشن،۲۰۰۸ء شایع ہو چکی ہیں۔ان میں اردو ناول کے اسالیب اور جہان فکشن کو خاصی مقبولیت حاصل ہوئی ،بالخصوص اردو ناول کے اسالیب کو اترپردیش اردو اکادمی اور بہار اردو اکادمی سے اول انعامات سے او ر جہان فکشن کو بہار اردو اکادمی کے اول انعام سے نوازا گیا۔پروفیسر وہاب اشرفی نے ’’تاریخ ادب اردو‘‘ میں اول الذکر کتاب کا خصوصی تذکرہ کرتے ہوئے یہاں تک لکھا کہ ’’کم ازکم میری نگاہ سے ایسا تحقیقی اور تنقیدی کام نہیں گذرا۔یہ تحقیقی و تنقیدی اعتبار سے نئے جہات سے مملوہے‘‘۔ڈاکٹر اعظمی اردو کی قومی اور بین الاقوامی مجلسوں ،سیمیناروں اور جلسوں میں شرکت کرکے بھی اپنی شناخت قائم کر چکے ہیں۔

کمنٹ کریں