لاک ڈاؤن کے کرشمے : ہم نکلے ویرانی بھدیہ سمجھنے

نوٹ : درج ذیل تصویر بھدیہ کی اسی سڑک کی تصویر ہے جسے منگرو خان نے بانس سے گھیر کر بند کیا تھا

, لاک ڈاؤن کے کرشمے : ہم نکلے ویرانی بھدیہ سمجھنے


لاک ڈاؤن کے کرشمے : ہم نکلے ویرانی بھدیہ سمجھنے


مضمون نگار : صدف اقبال

لاک ڈاون ہوئے کافی دن بیت چکے ہیں اور پوری دنیا اپنے اپنے گھروں میں قید ہوکر بیزار ہو چکی ہے ۔ بے چارے شادی شدہ مرد حضرات بیویوں کے خونی پنجوں میں دبے پھڑپھڑا رہے ہیں اور خودکشی کے مختلف طریقوں پہ غور کر رہے ہیں ۔


گاؤں کی خواتین بیحد پریشان ہیں ۔ بازار کاچکر چھوٹ چکا ہے ۔ دوکانداروں سے دس دس پانچ پانچ روپیہ کے لئے آنکھیں نکال نکال کر لڑنے کا لطف بھی جاتا رہا ۔ نئے نئے لباس سلوا کر پڑوسنوں کو جلانے کا موقع بھی نہیں مل رہا ہے ۔ عورتوں کی وہ تمام محفل ختم ہو چکی ہے جہاں بیٹھ کر تمام محلے کی چغلیاں کرکے ثواب کمایا جاتا تھا ۔ بے چاریاں کبھی دیگچی ڈھنڈھناتی ہیں کبھی برتن پٹختی ہیں جھنجھلا کر بچوں کو پیٹ دیتی ہیں اس سے بھی طبیعت نہیں بہلتی تو شوہر کو پھٹکارنے لگتی ہیں پھر بھی وہ پرانا لطف حاصل نہیں ہوتا تو بیلن اٹھا کر شوہروں کے سر پر دے مارتی ہیں ۔ اس سارے معاملے میں بے چارے غریب شوہروں کی حالت سب سے زیادہ خراب ہے ۔ جو مرد حضرات اب تک یہ سمجھتے تھے کہ جنت بیوی کے قدموں کے نیچے ہے وہ بھی اتنے دنوں میں بیوی کی شکل سے بے زار ہو چکے ہیں ۔ عارفین بھائی کی حالت پتہ نہیں کیسی ہے کیونکہ وہ سسرال میں ہیں اور بیوی کے چنگل میں ان کی منحنی سی جان پھنسی ہوئی ہے ۔


مجھے ان نوجوانوں پہ بیحد ترس آتا ہے جو ابھی نئے نئے عشق میں گرفتار ہوئے تھے اور محبوبہ کی گلیوں میں جاکر موٹر سائکل نچایا کرتے تھے ان کی ساری سرگرمیاں ماند پڑ چکی ہیں ۔ بس فون پہ ٹھنڈی ٹھنڈی آہ بھر آسمان کی طرف سر اٹھاتے ہیں اور شکایتی نگاہوں سے اللہ کی طرف دیکھتے ہیں ۔ ہمارےمولانا صاحب کی چوتھی پسلی (بیوی کو شوہر کی پسلی کہا گیا ہے )کے ملنے کی امید پر بھی اس لاک ڈاؤن نے پانی پھیر دیا ہے ۔ وہ بھی داڑھی پر ہاتھ پھیر پھیر کر صبر اور انتظار کرنے کی کوشش میں مصروف ہیں ۔ اور دعاگو ہیں کہ اللہ انہیں اس مرض سے بچائے اور زندہ رکھے تاکہ وہ اللہ کی نئی اور چوتھی رحمت گھر میں لا سکیں ۔ مولانا صاحب کے کئی ارمان ابھی تشنہ ہیں اس لئے انکا زندہ رہنا اور چوتھا نکاح بیحد ضروری ہے ۔


محلے کی کچھ عورتیں ایسی ہیں جنہیں گھر گھر کی بلی کہنا زیادہ مناسب ہوگا ۔ خدا جانے اس قید نے ان عورتوں کا کیا حال کیا ہے ۔ حسینہ ( پھل دوکان عالو کی ماں )کے پیروں کی سوجن گھر میں بیٹھے بیٹھے بیحد بڑھ گئی ہے ۔ داکٹر سومیر نے آدھی رات میں آکر پاؤں کی سوجن کا معائنہ کیا اور صاف لفظوں میں کہا کہ دوا سے یہ سوجن جانے والی نہیں ہے اس کا واحد علاج یہ ہے کہ حسینہ روز اپنے گھر کے آنگن کے ساڑھے سات سو بار چکر لگائے سوجن اتر جائے گی ۔ خدا جانے اس مشکل وقت میں جمنی اور شبراتن زندہ ہوتیں تو ان پہ کیا گذرتی ۔
گاؤں کے بزرگ حضرات کا گھر سے نکل کر بلا وجہ چکر کاٹنا بند ہو چکا ہے ۔ خبر ملی ہے کہ حافظ رضوان صاحب جن کا دو بار روز کانٹے پہ جائے بغیر کھانا ہضم نہیں ہوتا تھا بد ہضمی کا شکار ہیں اور کھٹی ڈکاریں لے رہے ہیں کسی کسی وقت کواڑ سے گردن نکال کر کچھ ہوا پانی لینے کو کوشش ضرور کرتے ہیں مگر منو بھائی کی گھورتی نگاہوں سے ڈر کر فورا گردن اندر کر لیتے ہیں ۔ تنگ آکر منو بھائی نے ان کے کمرے کے دروازے پر ایک تالا جڑ دیا ہے ۔اب حافظ صاحب یہ غور کر رہے ہیں کھڑکی کی گرل کاٹ کر کیسے باہر نکلا جائے ۔ اس کام کے لئے وہ ایک زنگ آلود جیبی چاقو پہ چپکے چپکے دھار لگا رہے ہیں ۔


ایک دن اچانک خبر ملی کہ شکور خان کا نواسہ آصف بیمار ہے اور ممکن ہے وہ کرونا پازیٹیو ہو ۔ ہ تو شکر ہے میاں آصف کرونا نگیٹیو نکلے اور لوگوں نے راحت کی سانس لی ۔ یہ خبر پھیلتے ہی چاروں طرف ہڑکمپ مچ گیا گھروں میں دبکے ہوئے لوگ پلنگ کے نیچے گھسنے یا کونوں کھدروں میں چھپنے کی کوشش کرنے لگے ۔ سودے سلف کی دوکانوں پہ رش لگ گیا تاکہ سامان خرید کر اسٹور کیا جا سکے ۔ ایسے میں دوکانداروں نے موقع غنیمت جانا اور چاول کی بوریوں کے دام بڑھا دئے ۔ دوکان دار شاہد نے تو راتوں رات دیڑھ سو روپیہ ایک بورے کا دام بڑھایا اور تصور میں خود کو کڑوڑپتی بنتے دیکھا ۔ میری بہن کے سسرالیوں نے تو حد ہی کر دی ہے کئی ٹرک اناج منگا کر اسٹور کر لیا ہے اور با وثوق ذرائع سے خبر ملی ہے کہ گھر میں چلنے پھرنے کی جگہ نہیں ہے ۔ گھر کے مرد ہوں یا خواتین بوریوں پہ بندروں کی طرح اچھل اچھل کر بڑی مشکل سے گھر کے کام انجام دے رہے ہیں ۔ سونا ،جاگنا، اٹھنا، بیٹھنا بھی بوریوں پہ ہے ۔ ہم یہ جاننے میں ناکام رہے کہ کیا واش روم میں بھی بوریوں کو اسٹور کیا گیا ہے ۔ اگر وہاں بھی اناج کے بورے بھرے ہیں تو بڑی فکر کی بات ہے۔ کسی کو اس بابت جانکاری ہو تو براہ مہربانی مجھے صحیع رپورٹ عطا کرے ۔


جیسے ہی مودی نے ٹی وی پہ لاک ڈاؤن کا اعلان کیا منگرو بھائی نے پردھان منتری کے حکم کو بجا لانے میں سب سے زیادہ پھرتی دکھائی اور بجلی کی تیزی سے اپنے گھر کی طرف جانے والی سڑک کو ہی بانس سے گھیر کر لاک کرکے لاک ڈاؤن پہ عمل کیا ساتھ ایک تختی پہ چند نصیحت لکھ کر بانس میں ٹانگ بھی دیا اور اطمیان سے مسکراتے ہوئے گھر میں بیٹھ رہے۔ انہیں کامل یقین ہے کہ اس کار ہائے نمایاں پہ پردھان منتری انہیں ضرور کوئی ایوارڈ سے نوازیں گے اور پوری دنیا میں ان کے نام اور کام کی دھوم ہوگی۔
اب جب کہ سڑکیں سنسان ہو چکی ہیں اور ہر سمت ہو کا عالم ہے ۔ گاڑیاں چلنی بند ہے اور ہر جگہ کتے لوٹ رہے ہیں ۔ ایسے میں نیاز اینڈ بردرز کی پوری فوج بے روزگار ہو چکی ہے ۔ سب ہاتھ پہ ہاتھ دھرے حسرت بھری نگاہوں سے سنسان سڑکوں کو دیکھتے ہیں اور آہ بھرتے ہیں ۔ ہاں چھوٹو خان نے دماغ چلایا اور اپنے آٹو کو کسانوں کے گھر کی طرف دوڑایا ۔ روز سبزی لاتے ہیں اور چار گنا دام پہ بیچتے ہیں ۔ سبزی آدھا کلو مانگنے پہ دو کلو تھما جاتے ہیں اور پیسے بناتے ہیں ۔
وہیں میرے بھائی صاحب شانی میاں کے لئے مانو عید ہو گئی ہے ۔ پھدک پھدک کر گھر سے باہر نکلتے ہیں باغیچے میں یاروں کے ساتھ چونچ لڑاتے ہیں پھر پھدک کر گھر کے اندر حاضر ہو جاتے ہیں ان کی اس حرکت سے اماں جان کا بلڈ پریشر ہائی ہو چکا ہے ۔ اماں مین گیٹ میں ہلکی کی جھری پیدا کرکے چیل کی نگاہوں سے دیکھتی رہتی ہیں کہ محلے کا کون کون آدمی باہر نکل رہا ہے ۔ کون کون ان کے اکلوتے نور نظر سے مل رہا ہے۔ کہیں کوئی محبت سے چور ہوکر ان کے لخت جگر کو اپنے کلیجے سے تو نہیں لگا رہا ہے ۔ ان کی تشویش اس وقت کئی گنا بڑھ گئی جب انہوں نے رشید خان کو کئی بار سڑکوں پر سٹر پٹر کرکے آتے جاتے دیکھا ۔ رشید خان کا بیٹا ساجد شانی میاں کا لنگوٹیا یار ہے ۔ اماں نے بیٹے کو نصیحت کی کہ ساجد کو کہو اپنے ابا سے دور رہے ۔ شانی میاں نے ساجد کو تنبیہہ کی کہ ابا سے دور رہیو ، ساجد نے شانی میاں کو یہ یقین دلا کر بھرپور تسلی کرا دی ہے کہ اسے اپنے ابا میں سٹے سال ہونے کو آیا ہے ۔


ادھر میرے والد صاحب لاک ڈان پہ پوری طرح عمل پیرا ہیں اور موقع کا پورا فائدہ اٹھا کر بستر کے نیچے بھی قدم دھرنے سے انکاری ہیں ۔ یہاں تک کہ ڈائننگ ٹیبل تک بھی آنا گوارا نہیں کرتے ہیں ۔ اماں کبھی کبھی غصہ ہو جاتیں ہیں تو کہتے ہیں بھئی تم سمجھتی نہیں ہو ہمیں لاک ڈاؤن پہ پوری طرح عمل کرنا چاہئے ورنہ جان کو خطرہ ہے ۔ زندگی اور موت کا معاملہ ہے
نوشی میاں بھی گاؤں میں ہیں اور کرکٹ نہیں کھیل رہے ہیں جس کی وجہ سے ان کی طبیعت نہیں لگ رہی ہے ۔ کچھ نقاہت بھی محسوس ہو رہی ہے ۔ چستی پھرتی بھی غائب ہے ۔ کل انہوں نے اپنے والد صاحب کے ہاتھ میں یہ کہ کر بال تھما دیا کہ ذرا بال پھینکئے دو چار بار بیٹ گھما لوں تو طبیعت فریش ہو جائے گی ۔ نوشی کے ابا نے بالنگ تو کی مگر گیند کے بجائے جوتوں سے ۔ نوشی کی والدہ کل سے آٹھ بار بیٹے کی سینکائی کر چکی ہیں ۔ بھدیہ کے تمام لڑکوں کی اڈے بازیاں ختم ہو چکی ہیں ۔ نیر بھائی ، مشکور بھائی ، انتخاب بھائی بےکاری اور بوریت کی آخری منزل پر پہنچ کر مکھیاں مارنے کا کمپٹیشن شروع کر چکے ہیں اور شام میں مکھیوں کی گنتی ایمانداری کے ساتھ ہوتی ہے کہ کس نے ان بھر میں کتنی مکھی ماری ۔ جیتنے والا اس دن کا مکھی مار ونر کا خطاب حاصل کرتا ہے ۔ سنا ہے ان کے مشغلے سے متاثر ہوکر کاشف میاں اور دوسرے لڑکے آپس میں مچھر مارنے کا کمپٹیشن شروع کرنے والے ہیں ۔
دلشاد خان کو ان دنوں کوئی کام نہیں ہے تو وہ اپنی چھت پر کچی اینٹ بنا کر سکھا رہے ہیں تاکہ لاک ڈاؤن ختم ہو تو نیا بھٹہ لگا سکیں ۔ وہ اس بات پہ بیحد خوش ہیں کہ لاک ڈان کا وہ صحیع استعمال کر رہے ہیں اور مذدوروں کو دینے والے پیسے بچا رہے ہیں ۔ ان کا ٹارگٹ ایک مہینے میں ایک لا کھ اینٹ بنا کر سکھا لینے کا ہے ۔


ہماارے پڑوسی خورشید خان کے گھر میں تو غضب ہوا پچاس ساٹھ مہمان لاک ڈاؤن کے دو دن پہلے ان کے یہاں پہنچے تھے اور اب سب ان کے گھر میں لاک ہوکرمستقل ممبر بن چکے ہیں ۔ ہزاروں روپئے کی سبزی روز کھا جاتے ہیں ۔ میزبان کی حالت پتلی ہے اور بجٹ فیل ہو چکا ہے ۔ اب گھر کےافراد غور یہ کر رہے ہیں کہ مہمانوں سے چندہ کیسے وصولا جائے ۔
محلے کے لوگ اچانک بڑے مذہبی ہو گئے ہیں اور مسجد میں نماز پڑھنے کے لئے پریشان ہیں ۔ کچھ پرجوش حضرات نے تو جھگڑا کر لیا کہ مسجد کا دروازہ کھولا جائے انہیں مسجد میں نماز پڑھنے کی شدید خواہش ہے ۔ بڑی مشکل سے انہیں سمجھا گیا ہے ۔ اس بات کو لے کر ماحول میں کشیدگی ہے ۔ سنا ہے ایک صاحب نے موقع غنیمت جان کر مولانا صاحب کو تنہائی میں سبق یہ پڑھایا ہے کہ ایک بار میں چار آدمی کو نمازپڑھنے کی اجازت دیجئے اور فی نماز کچھ فیس باندھ دیجئے اس طرح ہم دونوں کا بھلا ہو جائے گا ۔ اس مشورے پر شد و مد کے ساتھ غور و فکر کیا جا رہا ہے ۔ ان صاحب کی فہم و فراست پہ مجھے یقین ہے کہ وہ نا مساعد حالات میں بھی کمائی کا کوئی راستہ ضرور نکال لے گا ۔
ہاشم خان کے بیٹا نانہو بہن کی شادی میں عمان سے لاک ڈاؤن سے چند دن پہلے بھدیہ پہنچے ۔ پولیس کو جیسے ہی یہ خبر ہوئی جیپ بھر کر گھر پہ تفتیش کرنے پہنچی ۔ نانہو بھائی نے گھر کی کھڑکی سے جھانکا ۔ پولیس نے انہیں دیکھا اور جلدی سے کہا اندر ہی رہئے باہر مت نکلئے ہم سمجھ گئے کہ آپ گھر میں ہیں کل تھانے پہ آ جائیے گا ہلیتھ کی جانچ کرنی ہے ۔ نانہو بھائی دوسرے دن تھانے پہ پہنچے ۔ پولیس نے انہیں تھانے کے گیٹ سے دس فٹ دور رکھا ۔ ایک لمبے ڈنڈے سے گھما گھما کر صحت کی جانچ کی کچھ دشمنوں نے یہ بھی خبر اڑائی ہے کہ دو چار ڈنڈے تشریف پہ جمائے بھی گئے ہیں ۔ مگر نانہو بھائی اس بات کی سختی سے تردید کرتے ہیں ۔ پولیس نے صحت کی جانچ کرنے کے بعد کہا تھانے کی لمبی چوڑی باؤنڈری کے چار چکر لگاؤ ۔ نانہو بھائی نے بڑی مشکل سے اپنی پرانی کھانسی کو روکے رکھا اور ہانپتے کانپتے چار چکر کسی طرح پورا کیا ۔ پولیس نے انہیں صحت مند سمجھ کر جانے تو دیا ہے مگر وہ مارے خوف کے ابھی تک اناج کے ڈرم میں دبکے ہوئے ہیں کہ کہیں پولیس پھر نہ آجائے اور دو چار ڈنڈے لگا کرتھانے کے گرد چکر لگانے کا حکم نہ دے دے ۔


میرے پیروں میں بھی ہمیشہ چکر بندھا رہتا ہے اور پروگرام کے سلسلے میں شہر در شہر گھومتی رہتی ہوں ۔ آج جو پیروں کی طرف بغور دیکھا تو سوجن نظر آئی ۔ روح اندر تک کانپ گئی ۔ جلدی سے اپنے ڈرایور کو فون کیا اور دوا لانے سوبھ گئی ۔ دوا دوکان پہ ایک لڑکی کھڑی بے تحاشہ ہنس رہی تھی ۔ مجھے حیرت ہوئی کہ ایسے نامناسب ماحول میں جب رونے کو جی چاہتاہے تو یہ لڑکی ہنس کیوں رہی ہے ۔ پوچھنے پہ اس نے کہا دیکھئے ناں مسلمانوں پہ پابندی تھی کہ یہ مت کھاؤ وہ مت کھاؤ ہمارے منہ پہ تالا لگانے چلے تھے کیسا اللہ میاں نے انہی کے منہ پر چڈی پہنا دی ہے ۔ یہ کہ کر وہ پھر کھی کھی کرکے ہنسنے لگی اور میں ماسک کی اس نئی تشبیہہ پر اپنا سر دھننے لگی ۔
اے میرے گاؤں کے لوگوں صبر کرو کہ صبر کے علاوہ کوئی چارہ نہیں ہے یہ وقت بھی کسی طرح گذر ہی جائے گا ۔ میری دلی ہمدردی آپ لوگوں کے ساتھ ہے ۔
****
اپنی تحریر اس میل پہ ارسال کریں
lafznamaweb@gmail.com

شیئر کریں
صدف اقبال بہار، انڈیا سے تعلق رکھنے والی معروف شاعرہ اور افسانہ نگار ہیں۔

کمنٹ کریں