نالۂ شب گیر

مشرف عالم ذوقی کا ناول ’نالۂ شب گیر‘: مرد مخالف تانیثی رویے کی پہلی باقاعدہ آواز

مضمون نگار : رقیہ نبی

, نالۂ شب گیر

اردو ادب کی دنیا میں مشرف عالم ذوقی کا نام محتاج تعارف نہیں ہے۔وہ عرصہ دراز سے اردو ناول نگاری کے افق پر روشن ستاروں کی مانند ہنوز چمکتے نظر آ رہے ہیں۔ ابھی تک انہوں نے ایک درجن کے قریب ناول لکھے ہیں۔ ان کے ناولوں کی خاص بات یہ ہے کہ ان میں شامل بیشتر نسائی کردار کمزور اور مجہول ہونے کے بجائے مردوں کے شانہ بہ شانہ اور قدم سے قدم ملا کر چلنا جانتے ہیں۔
مرد مخالف تانیثی رویے کا جہاں تک سوال ہے تو یہ نظریہ ہمیں تانیثیت کی شاخ Redical Feminism کے ایک گروپ میں ملتا ہے۔یہ گروپ صرف خواتین ارکان پر مشتمل ہے۔مردوں کو اس گروپ میں شمولیت کی اجازت نہیں ہے۔اس گروپ کی خواتین اپنی دنیا میں مرد کی دخل اندازی پسند نہیں کرتیں۔ان کے مطابق وہ دنیا کا ہر کام مردوں کی دخل اندازی اور ان کے سہارے کے بنا بھی کر سکتی ہیں۔ اردو ناول کی بات کی جائے تو عصر حاضر میں کئی ناول نگاروں کے یہاں مرد مخالف تانیثی رویہ ملتا ہے۔ان ناول نگاروں میں ساجدہ زیدی اور شائستہ فاخری کے ساتھ ساتھ ممتاز فکشن نگار مشرف عالم ذوقی کا نام بھی بڑی اہمیت کا حامل ہے۔ان کے ناولوں میں ہمیں عورت پر پدرانہ معاشرے کا اتھاہ استحصال دیکھنے کو ملتا ہے اور اس استحصال کے بعد وہ صرف احتجاج ہی نہیں بلکہ صاف طور اس بات سے انکار کر تی ہوئی بھی دیکھی جا سکتی ہیں کہ انہیں مرد کے سہارے کی ضرورت ہے۔جس کی ایک بہترین مثال ذوقی کا ناول ’نالۂ شب گیر‘ ہے۔


’نالۂ شب گیر‘ مشرف عالم ذوقی کا تازہ ترین ناول ہے۔جو انہوں نے چھ ماہ میں تکمیل تک پہنچایا اور اس ناول کو تحریر کرنے کے لیے ذوقی نے لکھنؤ کی سر زمین کا انتخاب کیا ہے۔ مذکورہ ناول اردو ناول کے قاری کو اس وقت چونکا دیتا ہے جب وہ معاشرے کے استحصال کے بعد ایک عورت کی طرف سے پہلی بار انتہا درجے کا احتجاج دیکھتاہے۔ نالۂ شب گیر میں وہی عورت دیکھی جاسکتی ہے جو اپنی شرطوں کے مطابق زندگی جیتی ہے۔ بقولِ مشرف عالم ذوقی ان کی کہانیوں کی عورت کافی مضبوط اور اپنی شناخت کو قائم کرتی نظر آتی ہے اور یہاں بھی ہمیں ایک ایسی ہی عورت سے سابقہ پڑتا ہے۔
ناول ’نالۂ شب گیر‘ میں تخلیق کارنے دو عورتوں صوفیہ مشتاق اور ناہید ناز کے ذریعے سماج میں موجود ان دونو ں کرداروں سے مناسبت رکھنے والی عورتوں کا خاکہ پیش کیا ہے۔ صوفیہ ہندوستان کی وہی صدیوں پرانی عورت ہے جس پر خاندان والے ظلم ڈھاتے ہیں اور وہ صرف آنسو بہاتی ہوئی نظر آتی ہے۔ صوفیہ اور اس کے خاندان کا تعارف تخلیق کار نے یوں پیش کیا ہے:
”دہلی جمنا پار رہائشی علاقے میں ایک چھوٹی سی مڈل کلاس فیملی میں بڑی بہن ثریا مشتاق عمر 35سال، ثریا کے شوہر اشرف علی عمر 40سال، نادر مشتاق احمد ثریا کا بھائی عمر 30سال اور ہماری اس کہانی کی ہیروئن معاف کیجئے گا بڑھتی عمر کے احساس کے ساتھ ایک ڈری سہمی لڑکی ہماری کہانی کی ہیروئن کیسے ہو سکتی ہے۔ صوفیہ مشتاق عمر 25سال۔“
مشرف عالم ذوقی،نالۂ شب گیر،سن اشاعت:2015،ذوقی پبلکیشنز دہلی،ص 17


صوفیہ مشتاق جیسے مصنف نے ایک ڈری سہمی لڑکی کا خطاب دیا ہے، ماں باپ کے انتقال کے بعد اپنے بھائی کے سنگ بہن ثریا کے سسرال دہلی رہنے آتی ہے۔ جہاں اسے ہر وقت دوسروں پر خود کے بوجھ ہونے کا احساس چبھتا رہتا ہے۔ خود صوفیہ ہی نہیں، اس کی بہن ثریا اور بھائی نادر بھی اس کی وجہ سے پریشان رہتے ہیں۔نادر امریکہ جانا چاہتا ہے لیکن بہن کے لیے رشتہ نہیں مل رہا ہے۔ اس لیے اس کی خواہشات پوری نہیں ہوتی۔ صوفیہ جس کو ابھی تک کئی لڑکے دیکھنے آئے ہیں۔ کسی کو قد کچھ کم لگتا ہے تو کسی کو عمر زیادہ،یوں اس کی شادی اکثر ٹل جاتی ہے۔ بڑی مشکل سے ایک دن کسی رئیس زادے کا رشتہ آتا ہے،جو یہ شرط رکھتا ہے کہ ان دونو ں کو ایک دوسرے کو سمجھنے کے لیے ایک رات ساتھ گزارنی ہوگی۔ اپنے بھائی اور بہن پر بوجھ بنی صوفیہ اس شرط کو قبول کرتی ہے۔یہاں صوفیہکے شرط قبول کرنے پر تعجب ہوتا ہے کہ اتنی پارسا لڑکی جس نے کبھی کسی لڑکے کو دوست تک نہیں بنایا،جس نے کبھی کسی سے چیٹ کرنے کا ارادہ تک نہیں کیا،وہ اچانک اس شرط کو قبول کیسے کرسکتی ہے؟دراصل صوفیہ جس کرب سے گزر رہی ہوتی ہے، اسے گھر کے افراد نے کبھی سمجھنے کی کوشش نہیں کی تھی۔جس لڑکی کو اب تک پچیس لڑکے ناپسند کرکے جا چکے ہوں، جس کے بھائی بہن کے لیے وہ محض ایک بوجھ ہوں،اس حساس لڑکی کی تکلیفوں کا اندازہ لگانا مشکل ہے۔تاہم ان پریشانیوں کے باوجود بھی اس نے آج تک اپنی صورتحال سے تنگ آکر کوئی غیر شائستہ قدم نہیں اٹھایا اور آج وہ ایک انجان شخص کے ساتھ رات گزارنے کو راضی ہوتی ہے۔یہ اور بات ہے کہ اس کے رضامندی کے پیچھے کی وجہ بعد میں قاری کی سمجھ میں آتی ہے۔ صوفیہ اپنے بھائی بہن سے لڑکے کی شرط سن کر حامی تو بھر لیتی ہے لیکن اندر سے وہ ششدر ہوتی ہے کہ کس طرح ایک شریف، مہذب اور تعلیم یافتہ لڑکی سماج کے استحصال کا شکار ہوتی ہے اوربعد میں اس کے کمرے میں آئے اجنبی پر وہ جس طرح برس پڑتی ہے، وہ پورے پدرانہ معاشرے کے خلاف اُس کی طرف سے احتجاج اور طنزکی حیثیت رکھتا ہے۔ چنانچہ وہ طنزیہ لہجہ اختیار کرتی ہوئی اجنبی سے کہتی ہے:
”نظر جھکانے کی ضرورت نہیں۔ دیکھنے پر ٹیکس نہیں ہے اور تم تو کسی بازار میں نہیں، اچھے گھر میں آئے ہو… تمہارے لیے یہی بہت ہے کہ تم مرد ہو۔،اس لیے تمہارے اندر کا غرور بڑھا جا رہا ہے۔ پہلے تم نے جہیز کا سہارا لیا۔ رقم بڑھائی، رقم دوگنی سہ گنی کی اور پھر…. میرے گھر والوں نے سوچا تھا کہ یہ موم کی مورت تو برا ماں جائے گی مگر میں نے ہی آگے بڑھ کرکہا۔ بہت ہو گیا۔ آخری تماشا بھی کر ڈالو۔“
مشرف عالم ذوقی،نالۂ شب گیر،سن اشاعت:2015، ذوقی پبلکیشنز دہلی،ص 31


مندرجہ بالا اقتباس میں تخلیق کار نے ایک ڈری سہمی،کبھی نہ بولنے والی لڑکی کا سماج میں پل رہی بدعتوں کے خلاف بے باک طریقے سے اس کارد عمل پیش کیا ہے کہ کس طرح ایک مہذب اور باشعور لڑکی کو عجیب و غریب مراحل سے گزرنا پڑتا ہے اور پھر بے رحم وقت کے ہاتھوں مجبور ہر کے ان شریف زادیوں کو اپنی خاموشی کو توڑ کر اپنے اندر ایک ایسی لڑکی کو جنم دینا پڑتاہے، جو اخلاقی سطح سے نیچے اتر کر سماج کی طرف سے عورت کے ساتھ ہو رہی نا انصافیوں کو دیکھ کر احتجاج پر اتر آ تی ہے۔ صوفیہ کی کردار میں آئی اس تبدیلی کا ذمہ دار ہمارا معاشرہ ہے، جو نئی تہذیب کے چکر میں اتنا اندھا ہو چکا ہے کہ اپنی روایات کی پاسداری کرنے والی پارسا لڑکی نازیبا حرکات کرنے پر مجبور کر دی جاتی ہے۔
صوفیہ مشتاق جس کی کہانی ناول کے شروعاتی صفحات میں ایک بیچاری لڑکی کی صورت میں پیش کی گئی ہے، جس کے والدین کے انتقال کے بعد بہن کے گھر میں رہ کر اس نے کبھی اپنے گھر جیسے ماحول کو محسوس نہیں کیا، رفتہ رفتہ یہ ڈری سہمی لڑکی سب کی آنکھوں میں جب کانٹے کی طرح چبنے لگی تو اس نے ایک ایسا قدم اٹھایا جس کی توقع صوفیہ جیسی باشعور لڑکی سے قطعی بھی نہیں کی جاسکتی تھی۔ لیکن غور طلب بات ہے کہ صوفیہ کے اندر اس تبدیلی کا ذمہ دار آخر کون ہے؟
صوفیہ کے کردار کے ذریعے تخلیق کار نے عورت پر ہو رہے استحصال کی اس نوعیت کو پیش کیا ہے جہاں شریف گھرانے کی لڑکیوں کے شادی نہ ہونے کے سبب وہ ذہنی پریشانیوں میں مبتلا ہو جاتی ہے اور اسی سبب سے اس کے دل و دماغ پر جو کچھ گزرتی ہے، اس کا خلاصہ ناول نگار نے صوفیہ کی نفسیات میں اتر کر سامنے لایا ہے۔جو آخر پر شادی ہونے کے بعد بھی ذہنی مریضہ بن جاتی ہے۔ناول نگار کا کہنا ہے کہ صوفیہ جیسی لڑکیاں بہ ظاہر کسی کے سامنے اپنے غموں اور پریشانیوں کا اظہار نہیں کرتی لیکن وہ اپنے اندر جس تلاطم کو محسوس کرتی ہے،اس کو کوئی سمجھ نہیں پاتا اور اسی تلاطم کو ناول کی قرأت کے دوران قاری صوفیہ کے کردار کے اندر محسوس کرتاہے۔ دوسری طرف ناول کی ہیروئن ناہید ناز کا کردار ہے جس سے ہمارا سابقہ ناول کے دوسرے باب’آتشِ گل‘ میں پڑتا ہے اس کی شروعاتی گفتگو سے ہی اس کے مضبوط اور بے باک ہونے کا اندازہ ہوجاتا ہے۔جب راوی اس کے شوہر کمال یوسف سے اس کا تعارف دیتے ہوئے تھوڑا چونکتا ہے کہ یہ ناہید ناز ہے تو ناہید راوی کے چونکنے پر کہتی ہے:
”ناہید یوسف کہتی یا ناہید کمال تبھی آپ تسلیم کرتے کہ ہم میں کوئی رشتہ بھی ہے…. میری اپنی شناخت ہے…اس دنیا میں ایک لڑکی اپنی شناخت اور آزادی کے ساتھ کیو ں نہیں جی سکتی؟
کمال سے شادی کرنے کا مطلب یہ تو نہیں ہے کہ میری شناخت کمال کی محتاج ہے۔ میری اپنی آئیڈنٹی ہے،کمال کی اپنی آئیڈنٹی۔ ایک گھر میں دو لوگوں کواپنی اپنی ائیڈنٹی اور اپنی اپنی پرائیویسی کے ساتھ زندگی گزارنے کا حق ہونا چاہیے۔“
،ص40


ناہید کی ابتدائی بحث ہی سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ وہ صوفیہ سے قدرے مختلف کردار ہے۔ وہ عورت کے اپنی شناخت برقرار رکھنے کے حق میں بحثیں کرتی ہے۔ شادی کے بعد اکثر اوقات لڑکی اپنے نام کے ساتھ اپنے شوہر کا نام جوڑتی ہے، جسے ناہید جیسی لڑکی کو سخت اعتراض ہے اور وہ اس اعتراض کا اظہار ہر موقعے پر جرأت مندی سے کرتی ہے۔ وہ مرد اور عورت دونوں کی الگ الگ شناخت کے حق میں اپنے خیالات کا اظہار بڑی بے باکی سے کرتی ہے۔یہاں تک کہ جب وہ کمال سے شادی کرتی ہے تو شادی سے پہلے ہی اس کے آگے یہی شرط رکھتی ہے کہ وہ اپنی عادتیں نہیں بدلے گی۔ و ہ بدستور صبح اسی وقت اٹھے گی جس وقت وہ شادی سے پہلے اٹھا کرتی تھی، وہ شادی کے بعد بھی دو لوگ ہوں گے، جن کی اپنی ایک الگ دنیا اور پہچان ہوگی۔غرض ناہید نئے زمانے کی اس جدید خیالات کی مالک لڑکی کا کردار ہے،جو شادی کے بعد شوہر کی خوشی میں اپنی خوشی تلاش نہیں کرتی، شوہر جس حال میں رکھے گا عورت کو اف بھی نہیں کرنی چاہیے کیوں کہ شوہر مجازی خدا ہوتا ہے وغیرہ جیسی باتوں پر ناہید ایمان نہیں رکھتی۔ وہ چاہتی ہے کہ سماج میں اب تبدیلی لائی جائے اور مرد کو احساس دلایا جائے اور سمجھایا جائے کہ اس کی خوشی ہماری ذات میں پوشیدہ ہے۔ناہید کے کردار میں جس آگ کو ہم روشن دیکھتے ہے وہی آگ صوفیہ کے یہاں بالکل ہی سرد پڑ چکی دکھائی دیتی ہے۔ ناہید خواتین کے تحفظ اور ان کے حقوق کے لیے اکثر اوقات بحثوں میں شرکت بھی کرتی رہتی ہے۔ وہ اپنے چھ ماہ کے بچے ’باشا‘ کو ننیتال سے اپنے ہمراہ دہلی انڈیا گیٹ ’جویتی گینگ ریپ‘ کے احتجاج میں شامل ہوتی ہے اور کئی دن اور راتیں اس احتجاج میں گزارتی ہے۔ راوی جو بار بار ناہید کی حقیقت جاننے کے لیے اس کی زندگی کے اندر جانکنے کے لیے کوشاں رہتا ہے، بار بار ناہید کے جوابات سن کر حیران اور دھنگ رہ جاتا ہے۔جویتی گینگ ریپ کے احتجاج میں اُس کے اندر کی نفرت اور غصہ کبھی کبھی گالیوں اور قدرے غیر شائستہ الفاظ کی صورت میں باہر آتا دکھائی دیتا ہے۔اور اس کے غصے کو دیکھتے ہوئے جب راوی اس سے پوچھتا ہے کہ کیا اس کے ساتھ ایسا کوئی واقعہ پیش آیا ہے تو وہ بے باکی سے جواباً کہتی ہے:
”کیا دنیامیں کوئی لڑکی ان حادثوں سے محفوظ بھی ہے؟ کسی لڑکی کا نام بتا دیجیے۔‘وہ ہنس رہی تھی۔’جب سے دنیا بنی ہے۔ایسی کوئی لڑکی بنی ہی نہیں۔ لڑکیاں پیدا ہوتے ہی شہد کی طرح ایک جسم لے کر آجاتی ہیں اور سب سے پہلے اپنے ہی گھر میں میٹھے جسم پر چبھتی اور ڈستی ہوئی آنکھوں سے خوفزدہ ہوجاتی ہیں۔ جو عورت اس سچ سے انکار کرتی ہے وہ جھوٹ بولتی ہے…. مرد اپنی فطرت بدل ہی نہیں سکتا….آپ نے ابھی سوال کیا،کیا ایسا حادثہ کبھی میرے ساتھ بھی ہوا ہے۔ہاں ہوا ہے۔نہ ہوا ہوتا تب بھی میں اس احتجاج میں ضرور شامل ہوتی۔“
ص 42


مندرجہ بالا اقتباس میں ناہید ناز ہر اس عورت کی نمائندہ بن کر ابھرتی ہے، جو کسی نہ کسی طرح سماج میں استحصال کا شکار ضرور ہوتی ہے۔ ناہید کا کہنا ہے کہ کیا کوئی لڑکی ان حادثات سے محفوظ ہے،قابل توجہ ہے اور دوسری غور طلب بات یہ ہے کہ سب سے پہلے اپنے ہی گھر میں اس کے جسم پر نظریں گھاڑی جاتی ہے۔ گرچہ ناہید کے منہ سے نکلی ہوئی یہ باتیں وہ ہر لڑکی کے ساتھ پیش آ رہے حادثات میں گنواتی ہے۔ تاہم اس کی باتوں سے کچھ حد تک اس کے اپنے ماضی کے تلخ تجربات بھی شامل معلوم ہوتے ہیں۔ وہ آفس میں اپنے ساتھ پیش آئے حادثے کا ذکر تو کرتی ہے لیکن اپنے ہی گھر میں اس پر جو قیامت ٹوٹ پڑی تھی، اس کا خلاصہ وہ بہت بعد میں کرتی ہے اور مرد ذات سے اس کی شدید نفرت اور ناراضگی کی وجہ اسی وقت قاری کی سمجھ میں آ جاتی ہے۔
ناول میں ناہید کی شخصیت میں جو باغی پن جنم لیتا ہوا دکھائی دیتا ہے،اس کے اندر مردوں سے شدید قسم کی جو نفرت پیدا ہوتی ہے۔ اس کے پیچھے وہی ظلم کار فرما ہے۔ جس کے بارے میں سننے کے بعد قاری بھی سکتے میں آ جاتا ہے۔دراصل ناہید جونا گڑھ سے تعلق رکھتی ہے۔ والد پرہیزگار، پانچ وقت کے نمازی، پرانے اقدار کے پاسدار اور پردے کے سخت پابند تھے۔ عورتوں کے کہیں آنے جانے پر پابندی ضرور تھی لیکن ناہیدکے دادا نے گھر پر رشتہ داروں کا ایک ہجوم پال رکھا ہوتا ہے۔ جیسے اجومامو، گبرودادا، چینوچاچا، سمان بھائی، تختے والے عمران چاچا، ابوچاچا، امتیاز بھائی وغیرہ۔ ناہید اور اس کی تینوں بہنیں اس حویلی نما گھر کے مردوں کی ہوس کا شکار، پیدا ہونے کے وقت ہی سے بنتی آ رہی ہیں۔ بچپن ہی سے ناہید کے ساتھ گھر کا ہر فرد جنسی استحصال کرتا ہے۔ وہ کمسن ہے،لہذا جو کچھ اس کے ساتھ ہو کیا رہا ہے،اس کا اسے علم نہیں۔ البتہ اس استحصال سے گزرنے کے د وران اسے جس درد کا احساس ہوتا ہے، وہ اپنے دبوچنے والے ہر مرد سے چیخ چیخ کر درد کا ذکر کرتی ہے اور جب اس کی ماں کو معلوم ہوتا ہے تو وہ بھی مردوں کے ڈر کے مارے خاموشی اختیار کرلیتی ہے۔ ناہید کی دو بہنیں ان ہی مردوں کی درندگی کا شکار ہونے کے بعد اپنے والد کی عمر والے مردوں اور بہت غریب جگہ بیاہ دی جاتی ہے۔ جہاں دونوں کی موت واقع ہوتی ہے۔ جوں جوں ناہید کی عمر بڑھتی گئی، اس کی سمجھ میں سب چیزیں آنے لگی۔ اب وہ اپنے ساتھ ہوئی ایسی ہر ایک حرکت کا منہ توڑ جواب دینے لگتی ہے۔ ایک دفعہ امتیاز بھائی کو لات مار کر اور دوسری دفعہ گھرآئے قرآن پڑھانے والے مولوی پر برس کر۔ لیکن جب ایک دن نکہت یعنی ناہید کی چچازاد بہن ان ہی مردوں کی ہوس کا نشانہ بننے کے بعد حاملہ ہو جاتی ہے تو اس کو زہر دے کر مار دیا جاتا ہے۔ جس کے بعد ناہید میں غیر معمولی تبدیلی واقع ہوتی ہے۔ وہ نکہت کے لئے جس بے باکی سے احتجاج کرتی ہے۔ اسی کو دیکھ کہ ناہید کی ماں کے اندر کی سوئی ہوئی مضبوط عورت بھی باہر آتی ہے اور ان سبھی دوردراز کے رشتہ داروں کو اپنے گھرسے فوراً نکلنے کا حکم دیتی ہے۔ ناہید نکہت کے پراسرار قتل کے بعد پہلی بار حویلی کے مردوں کے سامنے احتجاج بھرے لہجے میں سب مردوں سے چیخ چیخ کر سوال کرتی ہے کہ میری نکہت کوکس نے مارا؟ اور جب اس کے چیخنے پر ابو چاچا اس کو بے غیرت کہتے ہیں۔ تو وہ جواباً کہتی ہے:
”بے غیرت…آج کسی نے کچھ کہاتو میں تو کہہ رہی ہوں اتنا برا ہوگا کہ کبھی نہیں ہوگا۔ بے غیرت۔ ارے کس نے کہا بے غیرت…. اس گھر کے مردوں کو غیرت سے واسطہ بھی ہے؟ کس غیرت کی باتیں کرتے ہیں یہ لوگ؟ ارے اس گھر کی لڑکیاں تو پیدا ہوتے ہی ان مردوں کے سائز تک سے واقف ہو جاتی ہیں…یہ ابوچاچا، گبرودادا۔ یہاں مرد اپنے گھر میں شکار کرتے ہیں۔ مرغیاں، بکریاں اور میمنے تک ان شریف مردوں کے سائز سے واقف ہیں….نکہت بے غیرت نہیں ہے۔ آپ لوگ لڑکیوں کو پیدا ہونے سے پہلے ہی جوان کردیتے اور مار دیتے
ہیں۔ اسے بڑھنے کہاں دیتے ہو….آپ کی شرافت ان بوسیدہ دیواروں کے ذرے ذرے میں چھپی ہوئی ہے۔“
ص 97


مندرجہ بالا اقتباس ناول میں ناہید عرف ندو کی طرف سے پہلے با ضابطہ احتجاج کادرجہ رکھتا ہے۔ اس سماج اوران اپنوں سے،جو اسے پردے کی پابندی میں رہنے کی تلقین کرتے رہے اور اسی پردے میں نہ صرف ناہید یا نکہت کو بے پردہ کیا گیا بلکہ بقول ناہید کی ماں کے اس خاندان کی ہر لڑکی اور عورت ان کی درندگی کا شکار ہوتی رہی ہے۔ اس طرح نکہت کی موت نہ صرف ناہید کو جرأت بخشتی ہے بلکہ کبھی اپنے لب نہ کھولنے والی اس کی ماں مہر سلطانہ بھی ایک نئی عورت میں تبدیل ہو جاتی ہے۔ یہ احساس انہیں شدت سے رنجیدہ کرتا ہے کہ کاش پہلے اس ظلم کے خلاف آواز بلند کی ہوتی تو نکہت اس طرح نہیں مرتی۔ اس حادثے کے بعد ناہید کی بغاوت اور دلیری کا یہ عالم تھا کہ جن اندھیرے کمروں میں اسے بچپن میں دبوچا جا رہا تھا۔ وہاں عظیم بھائی کے بلانے پر چلی جاتی ہے۔ لیکن وہاں جا کر جب اس پر حملہ ہوتا ہے تو وہ ایک ڈنڈا ہاتھ میں لے کر عظیم پر اس طرح حملہ کرتی ہے کہ وہ خون میں لت پت ہو کر بے ہوش ہو جاتا ہے اور یہی حادثہ ناہید کو گھر چھوڑنے پر مجبور کردیتا ہے۔
ظاہر سی بات ہے کہ جس لڑکی نے پیدا ہونے سے جوانی تک ایسے دہشت بھرے ماحول اور درندوں کی اذیتیں برداشت کی ہوں، اپنے خاندان کی کئی لڑکیوں کو خودکشی کرتے یا پھر زبردستی ان کو مار ڈالتے دیکھا ہو۔ اس کے لاشعور میں پدرانہ سماج کے تئیں کہیں نہ کہیں بے انتہا نفرت ضرور چھپی ہو گی اور جب وہ نفرت اپنا اظہار چاہتی ہے، تو سامنے کمال یوسف ہوتا ہے۔ ناہید سماج میں عورت کے ساتھ ہورہے استحصال کا بدلہ اکیلے کمال سے لینے لگتی ہے۔ وہ کبھی کبھار ایسی عجیب وغریب حرکتیں کرتی رہتی ہیں۔ جن کو دیکھتے ہوئے کئی مقامات پر اس کے دماغی مریضہ ہونے کا بھی شبہ ہو جاتا ہے۔ لیکن اگلے ہی پل جب اس کی داستان سے قاری واقف ہوتا ہے تو اس کے مرد مخالف رویے کے پیچھے کی وجہ سے بھی واقف ہوتا ہے۔
ناہید کے کردار میں ہمیں مغرب کی شدت پسند تاثیثیت اور خاص کر مرد مخالف تانیثیت کے نقوش دکھائی دیتے ہیں۔ ناہید اردو ناول کا غالباً پہلا ایسا کردار ہے۔ جو مرد کو وہ بس کرتے ہوئے دیکھنے کی خواہاں ہے۔ جو سماجی دستور کے مطابق عورت کا شیوہ ہے۔ وہ بڑی آسانی سے اپنے شوہر کمال سے کہتی ہے کہ تم نوکری سے استعفیٰ دو، گھر کو سنبھالو۔ اس کے ذہن میں یہی بات گردش کر رہی ہوتی ہے کہ اکثر میاں بیوی جو دونوں ملازمت کر رہے ہوتے ہیں، تو ملازمت چھوڑنے کا صلح مشورہ مرد دیتا ہے اور عورت کو اپنی نوکری چھوڑنی پڑھتی ہے۔ مرد کے اسی تسلط کو ناہید ختم کرنا چاہتی ہے۔ وہ کہتی ہے کہ کھانا عورت ہی کیوں بنائے، بچے کی دیکھ بھال عورت ہی کیوں کرے، گھر کی صاف صفائی وغیرہ عورت ہی کیوں کرے۔اس کے مطابق زمانہ اب بدل رہا ہے اور اب مرد کو وہ سبھی کام کرنے پڑیں گے،جو اس نے عورت سے منسوب کر دئے ہیں۔ ناہید کے خیالات ذیل میں دئے اقتباس کے ذریعے ملاحظہ کیجئے:
”میں باہر سے آؤں اور تم گھر سنبھالو…دونوں خدا کی مخلوق۔ ایک مرد اور ایک عورت۔ لیکن تم لوگوں نے کیا بنا دیا عورت کو، تمہاری حکومت کے دن ختم ہونے کو آگئے ہیں اور اسی لیے میں سوچ رہی تھی کہ تم سے کہوں نوکری سے استعفیٰ دے دو… میں چاہتی ہوں تم گھر سنبھالو، گھر کی چادریں ٹھیک کرو، باشا کو دیکھو۔“
ص58


ناہید کا ماننا ہے کہ اب اس کا بیٹا بڑا ہونے لگا ہے تو اسے باپ کی توجہ کی زیادہ ضرورت ہے اور اس کا شوہرکھانا بھی اس سے قدرے لذیذ پکا سکتا ہے۔ جبھی تو بڑے بڑے ہوٹلوں کے شف مرد ہوتے ہیں۔ وہ مکمل طورپر کمال سے وہی سب کروانے کی خواہش مند ہے۔ جو کام سماج میں عورت کے ذریعے تکمیل پاتے ہیں اور مردوں کی طرح جب کبھی وہ بہت خوش ہو گئی تو کمال کو شاپنگ لے جانا چاہتی ہے۔ اسے اپنے یعنی ناہید کے بھروسے پر اور اس کی ہی رہنمائی میں جینے کو کہتی ہے۔ فلم دکھانے لے جانا، شادی بیاہ کے موقعوں پر کمال کو نئے نئے کپڑے دلانا، اپنے عزیزو اقارب اور دوستوں سے متعارف کرانا، وغیرہ غرض وہ تمام چیزیں جو مرد کرتا ہے ناہید وہ خود کرنا چاہتی ہے اور اپنے ذریعے تکمیل پا رہے سبھی کام شوہر سے کرانا چاہتی ہے۔ غالباً وہ سماج کو پدرسری کے بجائے مادرسری سماج بنانا چاہتی ہے۔ جہاں صرف اور صرف عورت کا تسلط ہو۔
ناول میں ناہید اتنی جارحانہ دکھائی دیتی ہے کہ عورتوں جیسے کپڑے مردوں کو اور مردوں جیسے کپڑے عورتوں کو زیب تن کرانے کی کوشش میں اپنی لال ساڑھی اور بلاؤز شوہر کو پہننے کے لیے دیتی ہے اور کہتی ہے کہ مجھے مردوں کو عورتوں کے روپ میں دیکھنے کی تسلی کرنی ہے۔ اس طرح ہم دیکھتے ہیں کہ ناہید نے انتقام کے لئے اپنے ہی شوہر کے وجود کا سہارا لیا اور اپنی ازدواجی زندگی کو جہنم بنا دیا۔ ناہید کی ان حرکتوں سے کمال بھی بڑی اذیت سے گزرتا رہتا ہے۔ کئی بار اس کے اندر سے اپنا ہی ضمیر اسے کوستا رہتا ہے کہ برداشت کے تمام مراحل پار کرنے کے بعد وہ اندر سے خالی ہوچکا ہے۔ اس کی مردانگی کہیں دم توڑ رہی ہے۔ وہ ایک انسان کا
سایہ بن کے رہ گیا ہے، جو ناہید کی مرضی کے حساب سے حرکت کرتاہے۔ اس سے بار بار اپنا ضمیر اپنے اندر سے کوستا رہتا ہے کہ اپنی زندگی کو صحیح سمت دو۔ لیکن کمال ہر طوفان کو خاموشی سے سہتا رہتا ہے کیونکہ اس کا کہنا ہے کہ عورت کے ساتھ صدیوں سے کیے گیے ناروا سلوک اور استحصال کے بدلے آج کی عورت نے انتقام کا ذریعہ اسے بنایا ہے تو کیا غلط کیا ہے۔ چناچہ وہ کہتا ہے:
”….اور میں کس بات سے انکار کروں، ناہید ناز کا عمل غلط ہو سکتا ہے، مگر اس کی باتوں میں دم ہے۔ یہاں صدیوں کی قید عورت ہے۔جس کا مردوں نے ہر سطح پر استحصال کیا ہے اور آج صدیوں کے ظلم سہنے کے بعد وہ عورت ناہید ناز کے روپ میں سانس لے رہی ہے تو وہ مجرم کیسے ہے؟ غلط یہ ہے کہ مردوں کا یہ انتقام اکیلے مجھ سے لیا جا رہا ہے۔ یعنی ایک ایسے مرد سے جو لڑنا بھول چکا ہے۔“
–ص 72
کمال کے ذریعے تخلیق کار نے عورت پر ہو رہے صدیوں کے ظلم کا اعتراف تو کیا ہے لیکن وہ ناہید کی بغاوت سے جب اپنی مردانگی کو ٹھیس پہنچتا محسوس کرتا ہے تو ناہید سے رشتہ ختم کرنے کا ارادہ بھی کر لیتا ہے۔یہاں کمال کے اس فیصلے سے قاری کو مایوسی ہوتی ہے کیونکہ وہ ناہید کی بغاوت کی وجوہات سے کسی حدتک واقف تھا اور اگر وہ ناہید کی رہنمائی کرتا تو ضرور اس کی یہ جرأت،طاقت،ذہانت اور بے باکی ایک تعمیری موڑلے سکتی تھی۔
نالۂ شب گیر میں ناہید کی شدت پسندی کا ایک واقعہ یہاں اس وقت کا درج کیا جارہا ہے جب اس کی شادی کے لئے رشتہ آتا ہے۔ اورگھر آئی لڑکے کی ماں جب اس کے تعلیمی سفر کا ذکر سنتی ہے تو مزید پڑھنے کے بجائے اس کے لیے گھر داری،چولہا چوکی وغیرہ کے کاموں کا سیکھنا لازمی قرار دیتی ہے تو بنا اپنے بڑوں کا لحاظ کیے ناہید کہتی ہے:
”تب تو آپ نے اپنے بیٹے کو یہ سب سکھایا ہوگا‘…
’کیا‘….
’یہی خانہ داری، سلائی، کڑھائی‘
’کیوں؟‘
’کیونکہ میں یہ سب نہیں جانتی۔ اللہ کا دیا ہوا یہاں بھی سب کچھ ہے۔ آپ کا بیٹا آرام سے رہے گا۔ ماشاء اللہ اتنا پڑھ گیا ہے تو اسے کسی کام کی کیا ضرورت ہے۔ میں ہوں نا۔“
–ص 58
غرض ناول میں جگہ جگہ دکھایا جا سکتا ہے کہ ناہید وہ سبھی چیزیں مردوں سے منسلک کرنا چاہتی ہے جو عورتوں سے جوڑی گئی ہیں۔ اس کے مطابق عورت کو ذمہ داریوں کے بوجھ تلے مردوں کے بنائے ہوئے سماج نے دبا رکھا ہے کیونکہ انہیں ڈر ہے کہ عورت کہیں ان سے بازی نہ لے جائے۔ مرد و زن میں سبھی کام برابر بانٹ دینے سے ان کاپدرانہ دبدبہ اور تسلط خطرے میں پڑسکتا ہے۔ لہذا یہ ہر جگہ عورت ہی سے قربانیاں چاہتے ہیں۔ ناہید ناز کے مطابق زمانہ بدل رہا ہے اور اب عورت پر پدرانہ تسلط قائم رہنا ممکن نہیں ہے۔
ناہید شادی کے بعد اپنے شوہر کی ہر حرکت سے واقف ہوتی ہے۔ بہ ظاہر وہ دکھاتی تو نہیں ہے۔ لیکن لاجو (کام کرنے والی)کے ساتھ وقتی تعلقات بڑھانا اور پھر صوفیہ کے لئے بھی نرم گوشہ رکھناو غیرہ جیسی کمال کی کئی حرکات کی خبر ناہید کو ہوتی ہے۔ جس کے بعد وہ اس حقیقت کو تسلیم کرتی ہے کہ مرد کبھی کسی ایک کا ہوکے نہیں رہ سکتا۔ اس طرح اس کے احتجاج میں مزید بغاوت آجاتی ہے اور کمال کے ایک دوست نے ناہید کو جو لغت مرتب کرنے کا پروجیکٹ دیا تھا، جس میں اس نے وہ سبھی نازیبہ الفاظ جو عورتوں سے منسوب تھے، مردوں سے منسوب کر ڈالے۔ جیسے طوائف کے معنی ناچنے والا مرد، فاحشہ کے معنی بدکار مرد، کلنکنی بدذات مرد وغیرہ۔ پبلشر جب لغت دیکھنے کے بعد اپنے کیبن سے دونوں میاں بیوی کو بے عزت کر کے نکل جانے کو کہتا ہے تو ناہید اس حادثے کا قصور وار کمال ہی کو مانتی ہوئی جھگڑے پر اتر آتی ہے۔ ناہید کا ماننا ہے کہ اس رشتے میں مرد وہ خود ہے۔کمال کو ہمیشہ وہی کرنا چاہیے جس کی توقعہ ایک عورت سے کی جاتی رہی ہے لیکن کمال ناہید کے برتاؤ کو دیکھ کر چیخ کر کہتا ہے کہ میں مرد تھا،مرد ہوں اور مرد ہی رہوں گا۔وہ مزید کہتا ہے کہ اگر وہ مرد نہ ہوتا تو ناہید کا جکاؤ اس کی طرف ہر گز نہیں ہوتااور نا ہی وہ اس سے شادی کرتی۔کمال کی ان باتوں کو سن کر ناہید اپنا آپا کھو بیٹھتی ہے۔ گھر میں کمال کو سوتا دیکھ کر وہ ایک ایسا قدم اٹھاتی ہے کہ کمال کی روح تک کانپ اٹھتی ہے۔ اقتباس ملاحظہ کیجیے:
”کمال کو احساس ہوتا ہے۔ پاؤں کی انگلیوں کے پاس حرکت ہوئی ہے…… دو ہاتھ اُس کے پاؤں کے پاس سر سرا رہے تھے…… اور اچانک اُسے احساس ہوا…… وہ بے لباس ہے۔ پائجامہ اتر چکا ہے اور کوئی انسانی جسم اُس کے ننگے پاؤں کے پاس جھکا ہوا اُسے غور سے دیکھ رہا ہے…..وہ زور سے چلایا…… اور ہر بڑا کر اٹھ بیٹھا۔ اور پھٹی پھٹی آنکھوں سے ناہید کو دیکھنے لگا۔ کمال کو اچانک صبح میں بولے گئے ناہید کے لفظوں کی یاد آگئی—’مردانگی‘ کہتے ہو ئے وہ ٹھہر گئی…..کمال اچھل کر پشت پر آگیا اور اس نے ناہید کے ہاتھوں میں چھپے ہوئے چاقو کے پھل کو دیکھ لیا۔ اُس نے تیز چیخ ماری۔ لباس کا جائزہ لیا— کچھ دیر پہلے چاقو کا پھل لیے ناہید اُس کے جانگھوں کے درمیان جھکی ہوئی تھی۔ صبح گفتگو کے درمیان وہ مردانگی کے الفاظ پر آکر ٹھہر گئی تھی— اور پھر کمرے سے باہر جاتے ہوئے اس نے کہا تھا— دیکھ لوں گی؟ تو کیا آدھی رات، ہاتھ میں چاقو لیے وہ اس کی مردانگی کا خاتمہ کرنے آئی تھی؟“
–ص160


یہاں پر ناہید ناز کا انتقامی جذبہ انتہا کو پہنچتا ہوا معلوم ہوتا ہے اور اس انتقام کی آگ میں جھلس رہی ناہید بغاوت کی منزلوں کو پار کرتی ہوئی آخر پر اپنے ہی شوہر کی مردانگی کو ختم کرنے کی کوشش کرتی ہے۔کمال اپنی بیوی کی اس حرکت کو دیکھ کر عجیب قسم کی الجھن اور کشمکش میں پڑ جاتاہے۔ناہید کی ہر ضد اور احتجاج کو اس نے قبول کیا تھا لیکن جب اسے ناہید کے نہایت عجیب اور ڈراونے ارادے صاف صاف دکھنے لگتے ہیں تو اس پر ہاتھ اٹھاتا ہے اور کمال کی اس حرکت کو دیکھتے ہوئے باغی ناہید اسے چوہا کہتی ہوئی کمرے سے باہر نکل جاتی ہے۔بقول مصنف ناہید کا کمال کو چوہا کہنا دراصل مرد اساس معاشرے کی عورت ذات کے تئیں اب تک کی تمام حماقتوں کے رد عمل میں ایک ایسا یک لفظی بھرپور تبصرہ ہے کہ اس سے بھیانک تبصرہ شاید کوئی دوسرا نہیں ہو سکتا تھا۔اس واقعے کے بعد ناہید معمول پر آنے کے بجائے ایک اور عجیب و غریب حرکت کرنے لگتی ہے۔اب وہ چوہوں کو گھر سے نکالنے کے لیے ایک مخصوص چوہے دانی لے آتی ہے اور کمال سے مسکررتی ہوئی کہتی ہے کہ:
”جو کام پہلے نہیں ہوا،وہ بعد میں بھی ہو سکتا ہے…اب دیکھنا چوہا مرے گا۔“
–ص163
کمال ناہید کے ان الفاظ کا مطلب سمجھنے سے قاصر تھا کہ وہ کسے پکڑنا اور مارنا چاہتی ہے لیکن راوی کو یہ سمجھنے میں ذرا دیر نہیں لگتی کہ باغی ناہید مرد ذات کو طنزاً چوہا کہتی ہوئی اپنے گھر کوان چوہوں سے وہ پاک کرنا چاہتی تھی اور اس کے ساتھ رہ رہا اس کا شوہر بھی ایک چوہا ہی تھا،جسے رات کے دس بجے وہ ہاتھ میں لوہے کا بڑا سا ڈنڈا لیے گھر سے نکال دیتی ہے۔اس طرح کما ل کو اپنے ہی گھر سے نکال دینے کے بعد ناہید گھر اور اپنے بچے کو ہمیشہ کے لیے چھوڑ دیتی ہوئی اپنی ایک الگ دنیا بسا لیتی ہے اور جاتے وقت چوہے بلی کی بنائی ہوئی تصویر چھوڑ جاتی ہے،جس میں چوہے کو بلی کے پیٹ کے اندر دکھایا گیا ہے۔گو کہ ناہید نے ایک غراتی بلی کی طرح جدید ٹکنالوجی کی اس دنیا میں اپنے تشخص کو برقرار رکھنے کی ایک کامیاب کوشش کی ہے۔
ناہید نے کمال کے دوست’نرمل اساس‘ کے کہنے پر جو ڈکشنری مرتب کی تھی،اس کی اشاعت کے سلسلے میں وہ غیر ملکی لٹریری ایجنٹ سے رابطہ کرتی ہے اور آخرکار لندن کے رائیل پبلشنگ ہاؤس سے اس لغت پر مزید کام کرنے کی ہدایت ملتی ہے۔ تین مہینوں تک مسلسل اس لغت پر کام کرنے کے بعد اسے رائیل پبلشنگ ہاؤس کی طرف سے دو کروڑ کا چک اوررہنے کے لیے ایک شاندار بنگلہ دیا جاتا ہے۔ واضح رہے جس ادارے کے ساتھ ناہید ناز جڑ جاتی ہے وہ لندن کی ان خواتین کا ادارہ ہے۔ جس میں مردوں کے لیے کوئی جگہ نہیں۔ ناہید بھی ایک ایسی ہی دنیا بسا لیتی ہے جس میں مرد کا دخل وہ قبول نہیں کرتی۔ وہ اردو ناول کی پہلی ایسی خاتون کردار ہے جس کے مرد مخالف تانیثی رویے کو تخلیق کا ر نے باقاعدہ طور پرتانیثیت کی اس شاخ سے جوڑا ہے،جو مرد مخالف تصور رکھتی ہے۔ ہر چند کہ ناہید کے ساتھ پیش آئے حادثات کسی طور صحیح نہیں تھے۔ لیکن آخر پر وہ جس سوچ اور نظریے کو لے کر آتی ہے، وہ کہاں تک صحیح ہے۔ اس کا فیصلہ کر پانا ہنوز دشوار معلوم ہوتا ہے۔ سراج احمد انصاری ناہید کے کردار کے تعلق سے لکھتے ہیں:
”…اور ناہید کو ایک ایسی لڑکی کے کردار میں پیش کیا جس کی آنے والے وقتوں میں تمنا کی جارہی ہے۔ اس کہانی کا محور دراصل ایک بغاوت ہے۔ جو صدیوں سے عورت کے ضمیر کو کچوٹتی
رہی ہے۔ عورت کا مقام اس کی حیثیت جس بدلاؤ کی متمنی تھی ذوقی نے نالۂ شب گیرکے ذریعے بہترین خاکہ پیش کیا ہے اور ناہید ناز کو ایک ایسے معاشرے کا حکمران بنایا ہے جس میں کمزور عورتوں اور مردوں کا دخل نہیں۔ ایک ایسا معاشرہ جس کی حاکم عورت ہے۔ جہاں کے قوانین عورتوں نے ہی بنائے، جن کے الفاظ، جن کی لغت پر بھی عورتوں کی حکمرانی ہے۔ ناہید ناز کی اس تحریک کا پس منظر جوناگڑھ کی حویلی ہے جس نے اسے یہاں تک آنے پر مجبور کیا۔ جہاں پہنچنے کے بعد اب وہ خوش ہے۔“
ڈاکٹرسراج احمد انصاری،نالہ شب گیر:عورت کی حقیقت دور حاضر میں، ماہنامہ سب رس۔ نومبر 2015،شمارہ 11۔ ص 31
الغرض مذکورہ ناول کے تانیثی مطالعے کے بعدہم وثوق سے کہہ سکتے ہیں کہ اردو ناول کی دنیا میں جب کبھی بھی مغرب کے مرد مخالف تانیثی مکتب کا ذکر چھیڑا جائے گا، مشرف عالم ذوقی اس کے بنیاد گزار تصور کیے جائیں گے۔ انہوں نے ’نالۂ شب گیر‘ میں جس مرد مخالف تانیثی رویے کو سماج کے سامنے لایا ہے وہ مشرق بالخصوص اردو ناول کے لئے نئی بات ضرور ہے لیکن مغرب میں اس کی شروعات بہت پہلے ہو چکی ہے اور جدید اردو ناول میں ممتاز فکشن نگار مشرف عالم ذوقی نے باقاعدہ طور پر تانیثیت کے اس مکتب کے اثرات قبول کرتی ہوئی ایک مشرقی عورت کو دکھایا ہے جو اردو ناول میں ایک نئے اور منفرد تجربے کی حیثیت رکھتا ہے۔
****
اپنی تحریر اس میل پہ ارسال کریں
lafznamaweb@gmail.com

شیئر کریں
نام : مشرف عالم ذوقی پیدائش : 24/ مارچ 1963 وطن : آرہ (بہار) والد کا نام : مشکور عالم بصیری والدہ کا نام : سکینہ خاتون شریکِ حیات : تبسم فاطمہ اولاد : عکاشہ عالم

کمنٹ کریں