مدد چاہتی ہے یہ حوا کی بیٹی

مضمون نگار : ڈاکٹر کہکشاں عرفان

, مدد چاہتی ہے یہ حوا کی بیٹی

حوا کون ہے؟ دنیا کی پہلی عورت حوا ہے ہم سب حوا کی بیٹیاں ہیں ۔اور دنیا کا پہلا انسان آدم ہے جو نسل انسانی کا پہلا وجود ہے جسے اللہ تبارک تعالی نے مٹی سے پیدا کیا پھر اس میں روح ڈالی فرشتوں سے سجدہ کرایا ۔اس کو اشرف المخلوقات بنایا مگر حوا کو اللہ نے مٹی سے نہیں بنایا۔ اللہ رب العزت نے حضرت آدم کی بائیں پسلی سے حوا کی تخلیق کی ۔سوال یہ ہے کہ اللہ اور اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم تو ہر چیز کو دائیں جانب سے شروع کرنے کا حکم دیتے ہیں مگر حوا بائیں پسلی سے کیوں تخلیق کی گئ؟ دلیل یہ ہے کہ بائیں جانب انسان کا دل ہوتا ہے اور حوا دل کے قریب سے پیدا کی گئ۔تاکہ حوا آدم کے دل کے قریب رہے۔ مگر یہ بھی سچ ہے کہ ایک ہی انسان مٹی سے بنایا گیا اور ایک ہی عورت بائیں پسلی سے تخلیق ہوئ ۔اس کے بعد کا ہر انسان خواہ وہ بیٹا ہو یا بیٹی مرد کے نطفے سے ماں کی کوکھ میں نو ماہ رہ کر پیدا ہوا ۔آج کا ہر انسان خواہ مرد ہو یا عورت دونوں گوشت اور ہڈیوں سے بنے ہیں دونوں انسانوں کی رگوں میں ایک ہی رنگ کا خون بہتا ہے۔دنیا کی کسی سائنس نے یہ نہیں بتایا کہ مرد کا خون سرخ ہوتا ہے اور عورت کا کسی اور رنگ کا ۔انسان کی ولادت میں خواہ وہ بیٹی ہو یا بیٹا ماں کے درد کیفیت ایک سی ہوتی ہے۔ پھر بیٹیوں کے ساتھ نا انصافیاں کیوں ہوتی ہیں ؟ بچپن سے ہی اس کے کانوں میں پرایا دھن ، پرائ امانت، آنگن کی چڑیا جیسے الفاظ انڈیلے جاتے ہیں تاکہ غلطی سے بھی وہ ماں باپ کے گھر کو اپنا گھر نہ سمجھ بیٹھے۔ کبھی اسے وہ خود اعتمادی نہیں دی جاتی جو بیٹوں کو د ی جاتی ہے۔ماں باپ اول روز سے بیٹی اور بیٹے میں فرق کرنا شروع کر دیتے ہیں ۔ خواہ وہ خوراک ہو یا لباس ، تعلیم کا زیور دلانے کے بجاے سونے چاندی کے زیورات کی فکر میں گھلے جاتے ہیں۔اور یہاں بھی غیر مساوی رویہ اپنا تے ہیں بیٹوں کے حصے وزنی زیورات اور بیٹیوں کے حصے میں ہلکے زیورات جو سسرال میں بیٹیوں کو ان کے ما ئکہ کے ہلکے زیورات کی طرح ہلکا کر دیتے ہیں ۔وراثت کا مظبوط سہارا دینے کے بجاے لاکھوں کا جہیز دیتے ہیں ۔اگر لڑکی نے غلطی سے بھی وراثت میں اپنا حصہ ما نگ لیا تو صرف بھائ بھابھی ہی ناراض نہیں ہوتے اس بیٹی کو جنم دینے والے ماں باپ بھی ناراض ہو جاتے ہیں کوئ خود سر کہتا ہے، کوئ خود غرض کہتا ہے، کوئ لالچی کہتا ہے۔مگر کبھی اس بیٹی کے اندر جھانک کر نہیں دیکھتے جس کی زندگی کو سماج نے دو حصوں میں بانٹ کر اس کے وجود کے ٹکڑے کر دئے ۔۔

پیدائش سے لیکر شادی تک جو بھی عمر ہو اٹھارہ، انیس، بیس،بائیس یا تیس وہ ماں باپ کے پاس پرایا دھن پرائ امانت بن کر رہتی ہے۔اور پھر ایک دن سنت رسول کو نبھاتے ہوے ماں باپ وہ پرائ امانت اس مالک کو یہ کہہ کر سونپ دی جاتی ہے کہ اب یہ آپ کی ذمہ داری ہوئ اور ساتھ میں ڈھیر سارا سود بھی جہیز کی صورت میں ادا کرتے ہیں ۔ورنہ بیٹی کی شادی نہیں ہوگی مانگ باپ کے سینے پر مونگ دلتی رہے گی ۔ ماں باپ ہر لمحہ خوف زدہ رہتے ہیں کہ میری بیٹی کہیں میرے گھر نہ آجاے ۔اس لئے ہمیشہ ایک ہی نصیحت اب تمہارا جینا اور مرنا تمہارے شوہر کے ساتھ ہے۔ ناراض ہو کر کبھی نہ آنا، ہر ظلم برداشت برداشت کر لینا مگر واپس نہ آنا۔ ماں باپ ہمہ وقت اس خوف میں جیتے ہیں کہ میرے بعد میری بیٹیوں کا کیا ہوگا؟بھای بھابھی جانے کیسا سلوک کریں ؟ اس لئے شوہر کیسا بھی ہو بوڑھا ہو، جوان ہو ،امیر ہو یا غریب شریف ہو جواری ، عیاش ہو یا بدمعاش اس کے ساتھ رہو وہ گالیاں بھی دے مذاق سمجھ نظر انداز کر دو۔اس کی مار کو محبت سمجھ لو۔ اس کے گھرکو اپنا گھر سمجھو ، مر جاؤ مگر اس کی دہلیز پار نہ کرو۔۔مگر جب ماں ماں باپ اپنی جائداد سے وراثت نہیں دیتے۔ تو شوہر کیسے دے دے گا بھلا ۔عورت کا وجود صرف اور صرف جنس کی بھوک مٹانے اور خدمت کرنے کے لئے رہ گیا ہے۔

کوئ کبھی یہ سوچتا ہی نہیں عورت کی بھی کوئ خواہش ہوتی ہے۔اس کے اندر بھی دل ہے اور بھی دھڑکتا ہے ۔اس کے اندر بھی احساسات و جذبات کا ایک صحرا ہے جسے محبت اور چاہت کی بارش کی ضرورت ہے۔ ۔اس کے پاس بھی سوچنے اور سمجھنے کی صلاحیت ہے۔مگر ہاے رے حوا کی بیٹی تیری ایک اجازت سے ایک شخص تجھے اپنی زندگی میں شریک کرتا ہے ۔بیوی کا درجہ دیتا ہے۔اور مہر کی ایک رسم ادا کرتا ہے۔مگر بڑی مزے کی بات یہ ہے کہ زیادہ تر مرد حضرات مہر کی وہ چھوٹی سی رقم جو پانچ سو پانچ سو اکیاون روپئے سے لیکر پانچ لاکھ تک بھی ہوتی ہے۔پہلی ہی رات معاف کرا لیتا ہے۔مہر ادا کئے بغیر اپنا حق استعمال کرنا شروع کر دیتے ہیں ۔اور لوگ سمجھتے ہیں کہ مہر تو طلاق کے وقت ادا کی جاتی ہے ۔بیوی کی تو حیثیت نہیں کہ وہ مہر کا مطالبہ کر سکے جس نے کیا اس سے بری عورت کوئ نہیں مرد کی انا کا مسئلہ بن جاتی ہے یہ مہر کی رقم۔ کیسا نظام ہے؟۔اسی مہر اور شوہری حق کی وجہ سے بیٹے کو 1/2 اور بیٹی کو 1/4 کا حصہ دار بنایا ہے اللہ نے۔ کیونکہ اسے سسرال میں حق ملے گا ۔مگر کس کو ملتا ہے؟ ۔نہ شوہر مہر دیتا ہے نہ گھر عورت کا تو کوئ گھر ہی نہیں ہوتا ہے۔وہ گھڑی کے پینڈولیم کی طرح کبھی مائکہ کبھی سسرال میں ڈولتی رہتی ہے۔ساری زندگی سسرال کے لوگوں اور شوہر پھر بچوں کی خدمتیں انجام دیتی ہے۔مگر گھر کی مالکن بن کر نہیں صرف ایک بغیر تنخواہ کی کئر ٹیکر بن کر صرف معاشرے میں عزت کی زندگی جینے کے لئے۔اور ایک محفوظ پناہ گاہ کے لئے۔عورت جب تک خاموش رہتی بیوقوف بنی رہتی وہ خو ش نصیب رہتی ہے۔کیونکہ ” اکثر لا علمی بھی خوش بختی کی دلیل بن جاتی ہے ۔ہم عورتیں جب مردوں کے معاملات میں اپنی آنکھیں اور کان کھلا چھوڑ دیتی ہیں تو اپنے ہی ہاتھوں بد بختی کا شکار ہو جاتی ہیں ۔عورت کی اپنی کوئ زندگی زندگی ہوتی۔شادی سے پہلے اس کی لگام ماں باپ کے ہاتھوں میں ہوتی ہے اور شادی کے بعد شوہر کے ہاتھوں میں ۔”


مشہور و معروف فکشن نگار شائستہ فاخری نے کہا ہے۔” عورت نامکمل خوابوں کی ایک گٹھریہے۔ایسے خواب جن کا تصور ہی حسن و جمالیات کا دریا بہا دیتا ہے۔زندگی کو سیراب کردیتا ہے۔خزاں میں بہار کا سماں باندھ دیتا ہے۔اور اس جہاں کی مکمل تصویر کی تشکیل کر تا ہے۔” سچ ہی کہا ہے ساحر لدھیانوی نے ۔ لوگ عورت کو فقط جسم سمجھ لیتے ہیں
روح بھی ہوتی ہے اس میں یہ کہاں مانتے ہیں
آج حوا کی بیٹی اپنا شرعی حق مانگ رہی ہے اسے ماں باپ کی انصاف پسند محبت و شفقت چاہئے اسے جہیز کی لعنت کے ساتھ رخصت نہ کریں ورثے کی دولت کے سے مضبوط سائبان دیں ۔اسے تعلیم کیے زیور سے آراستہ کریں اور اس کی راے کو بھی اہمیت دیں ۔اس کو بے زبان جانور نہ سمجھیں انسان سمجھیں تو معاشرے میں جو بے سکونی ہے رشتوں کی جو ٹوٹ پھوٹ ہے خانہ جنگی اور گھریلو تشد د کو لگام دیں اور پنی بیٹیوں کو نہ شبنم جیسی قاتلہ بننے پر مجبور کریں نہ عائشہ جیسی بننے پر مجبور کریں ۔بیٹی کسی بھی مذہب کی ہو نہ تو وہ دیوی ہوتی ہے نہ مورت نہ کوئ شو پیس جو صرف پوجا جاے یا سجایا جاے ۔عورت جب تک خاموش تھی وہ وفا شعار، فرماں بردار بیٹی اور بیوی کہلاتی ہے ۔جب تک سب کے ظلم سہتی ہے صبردار کہلاتی ہے جب ظلم کے خلاف آواز بلند کرتی ہے تو تیز ترار کہلانے لگتی ہے ۔جب مارنے والے کا ہاتھ پکڑ لیتی ہے یا صرف جواب دے دیتی ہے تو زبان دراز اور مرد مار کہلاتی ہے ۔گھر کے اندر رشتے کی پاس داری کرتے ہوئے شوہر کی ہر جائز نا جائز عادتوں پر پردہ ڈالتی ہے ۔اس کے معاشقے کو برداشت کرتی ہے اس کے بچپن سے لے کر جوانی تک حالیہ اور سابقہ تمام دوست و رشتے داروں اور محبوبہ کے ساتھ حسن سلوک کرتی ہے خندہ پیشانی سے پیش آتی ہے تو بہت سیدھی شریف اور عزت دار عورت کہلاتی ہے اور اگر بدلے میں عورت بھی اپنے سابقہ دوست اور رشتے داروں سے ملنے لگتی ہے باتیں کر نے لگتی ہے یا پھر کوئ دوست بنا لیتی ہے تو محرم نامحرم کا مسئلہ کھڑا ہو جاتا ہے عورت بد کردار کہلاتی ہے۔آج گھر کے سکوں اور معاشرے کے سدھار کے لئے ضروری ہے ہر انسان اپنے آپ کو درست کر نا شروع کردے معاشرہ خود بخود سدھر جاے گا۔میں نے محسوس کیا ہے جن گھروں میں شوہر منافقت نہیں کرتے اور اپنے رشتوں کا تقدس قائم رکھتے ہیں ان کے گھر میں کوئ بے سکونی نہیں ہوتی ان کی بیویاں بھی باحیا اور وفا شعار ہو تی ہیں ۔وہ بھی پرسکون ہوتی ہیں ۔

آج کی عورت پہلے کی طرح صابر نہیں ہے وہ ظلم کا بدلہ ظلم بلکہ انتقام کی حد تک جا پہنچی ہے ۔اس جارحیت اور انتقام کو انصاف اور محبت سے ختم کیا جا سکتا ہے نفرت اور تشدد سے نہیں چاہے وہ عائشہ ہو یا رادھا جیوتی ہو یا آشا آج معاشرہ وحشیانہ پن اور حیوانیت کی جانب تیزی بڑھ رہا ہے۔کبھی کوئ لڑکی مجموعی عصمت دری کا شکار ہوتی ہے کبھی اوجھا اور پاکھنڈی ملا ؤں اور تانترک بناؤں کی بھینٹ چڑھا دی جاتی ہے کسی کوکھ پنڈت سے ہم بستری کرا کر شدھ کرائ جاتی ہے کبھی معصوم عورت کو بے اولاد کے جرم میں اس کے نازک حصوں کو داغا اور جلایا جاتا ہے اور آواز دبانے کے لئے منھ میں کپڑا ٹھونس دیا جا تا ہے۔ دلی کا نر بھیا کیس پوری دنیا نے دیکھا اور سنا پانچ مردوں نے درندگی کی ساری حدیں پار کردیں ۔حیدرآباد کی ڈاکٹر جیوتی کے ساتھ چند اوباش لڑکوں نے جو کیا وہ ظلم بھلا ۓ جانے کے قابل ہے۔؟ اجتماعی عصمت در ی کے بعد زندہ جلا دینا یہ انسان حیوانیت اور درندگی کی کس حد پر پہنچ گیا ہے۔ ہاتھرس کی بیٹی، اناؤ کی بیٹیوں کے ساتھ ظلم کی ننگی داستان ننھی ننھی بچیوں کے ساتھ زنا کیا یہ کسی مہذب معاشرے کی پہچان ہے؟یہ سب تو چند مثالیں ہیں ۔ ظلم اور تشدد اور استحصال کی فہرست بہت طویل ہے اب بس بھی کردیں دنیا اکیلے مردوں سے آباد نہیں ہو گی ۔اگر عورت نے قسم کھا لی کہ وہ آپ کا گھر نہیں بسائےگی۔تو آپ کے باغات آپ کے محلات سب ویراں ہوجائیں گے ۔خدا کے واسطے دل کے قریب رکھیں پیروں کی جوتی نہ بنائیں ۔دونوں ایک دو سر ے کی تکمیل کا باعث ہیں ۔اور دونوں ایک دوسرے کے بغیر نامکمل بھی پھر تکمیلیت کا سہرا صرف آپ کے سر پر کیوں سجا یا جا تا ہے۔؟ آج اگر عورت انتقام اور بےباکی کی طرف گامزن ہے تو اس کے ذمہ دار ہمارے معاشرے کے وہ مہذب لوگ ہیں جو عورت کو اپنی مرضی سے سانس بھی نہیں لینے دیتے ۔نہ اسے انسان سمجھتے ہیں ۔اب تو بس کردیں ایسے غیر مہذب سماج میں ذہنی بیمار ہی تو پیدا ہونگے اور گناہ کا گراف بڑھے گا اگر دین پر صحیح طریقے عمل نہیں ہوگا اعتدال کا راستہ بہترین راستہ ہوتا ہے اے دنیا کے مہذب لوگوں اب حوا کی بیٹی کو مہر کے چند روپئے نہیں تحفظ کی چھت چاہئے اپنا گھر چاہیئے اپنا شرعی اور قانونی حق چاہئے۔،
مدد چاہتی ہے یہ حوا کی بیٹی
یشودا کی ہم جنس رادھا کی بیٹی
پیمبر کی امت ، زلیخا کی بیٹی
*****
اپنی تحریر اس میل پہ ارسال کریں
lafznamaweb@gmail.com

شیئر کریں
1 Comment

کمنٹ کریں