ماہر کون؟

ماہر کون
ماہر کون

تحریر: وہارا امباکر

“ہم کسی کی بات پر یقین کرنے کے لئے پہلے یہ دیکھتے ہیں کہ جو شخص بات کر رہا ہے، وہ کون ہے”۔ کیا ایسا کرنا ٹھیک ہے؟ نظریہ علم کے روایتی مکتبہ فکر سے ہٹ کر ایلون گولڈمین یہ کہتے ہیں کہ “ہاں، یہ درست ہے۔ کیونکہ کسی معاملے پر میں اگر شواہد کا خود تنقیدی جائزہ نہیں لے سکتا تب مجھے اس بارے میں اس معاملے کے ماہر کی رائے پر بھروسہ کرنا پڑے گا اور اس کی رائے میری رائے سے بہتر ہو گی۔ اصل بات یہ ہے کہ آپ کا ماہر کون ہے”۔
ماہر کو چنا کیسے جائے؟ گولڈمین اس بارے میں پانچ نکات دیتے ہیں۔
۱۔ دلائل کا جائزہ، جو ماہر کے ہوں اور اس کے مخالف کے ہوں
۲۔ دوسرے ماہرین کا ان پر اتفاق
۳۔ کسی آزادانہ ذریعے سے مہارت کی تصدیق
۴۔ ماہر کے ذاتی تعصبات کا علم
۵۔ ماہر کا سابقہ ریکارڈ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔


ان میں سے پہلے معیار کا ہم خود اندازہ کسی حد تک لگا سکتے ہیں۔ اگر کسی کے دلائل بے تکے یا بے وزن ہیں تو کچھ پتا لگ جاتا ہے۔ لیکن صرف یہ کافی نہیں۔ مثلاً، ایک سیاستدان زیادہ سے زیادہ پبلک پالیسی کے بارے میں جانتا ہے۔ اس کی اصل مہارت اس میں ہوتی ہے کہ وہ ہمیں اس بات پر قائل کر لے کہ وہ اپنے مخالف سے بہتر طریقے سے امورِ حکومت چلانے کا اہل ہے۔ عام لوگ خارجہ امور، معیشت، قانون وغیرہ کے بارے میں اتنی واقفیت نہیں رکھتے کہ اس سیاستدان کی ان امور پر رائے کا تجزیہ کر سکیں۔ دوسرا یہ کہ لفاظی کا فن اس کی کمزوریاں چھپا لیتا ہے۔ اچھا سیاستدان (خواہ جتنا بھی دعویٰ کر لے) معیشت کے بارے میں ہم سے زیادہ بہتر نہیں جانتا۔ اس پر طرہ یہ کہ اچھا سیاستدان مختلف سامعین کے آگے مختلف قسم کی باتیں کرتا ہے۔ ہمارے لئے یہ تجزیہ مشکل ہو جاتا ہے۔ اسی طرح ایک اچھا چرب زبان، اصل دنیا سے کٹے ہوئے پروفیسر سے زیادہ بہتر طریقے سے لوگوں کو قائل کر سکتا ہے۔


یہ وجہ ہے کہ پہلا نکتہ کسی حد تک تو راہنمائی کر سکتا ہے لیکن ہر جگہ پر نہیں۔
دوسرا نکتہ ماہرین کے اتفاق کا بتاتا ہے۔ اگر کئی مکینک بتا رہے ہیں کہ میری گاڑی کا کاربوریٹر خراب ہے تو امکان ہے کہ خراب ہو گا۔ ماہرین کا اتفاق غلط چیز پر بھی ہو سکتا ہے۔ اگرچہ تاریخ میں اس کے برعکس مثالیں بھی ہیں، جیسا کہ گلیلیو درست تھے اور باقی اطالوی آسٹرونومر غلط تھے۔ وقت نے انہیں درست ثابت کر دیا۔ لیکن ماہرین کے اتفاق سے اچھی راہنمائی لی جا سکتی ہے۔


تیسرا نکتہ مہارت کے آزادانہ شواہد کا ہے۔ مثلاً، اگر کسی کے پاس اچھی یونیورسٹی کی ڈگری ہے تو امکان ہے کہ اسے اس شعبے کے بارے میں کچھ پتا ہو گا۔ یہ بھی اچھا معیار ہے لیکن ایسا ہونا لازمی نہیں۔ ہمیں کئی اچھی یونیورسٹیوں سے فارغ التحصیل پی ایچ ڈی بھی ملتے ہیں جن کی انفارمیشن غلط ہوتی ہے۔


چوتھے میں وہ ماہر کے تعصبات کا ذکر کرتے ہیں۔ اور یہاں پر توازن کی ضرورت ہے۔ میں کسی کے جائز نکتہ نظر کو متعصب صرف اس وجہ سے نہیں کہہ سکتا کہ وہ مجھے پسند نہیں۔ صرف یہ کہ مجھے اس بارے میں محتاط رہنے کی ضرورت ہے۔ خاص طور پر اس وقت جب ماہر کے تعصبات وہی ہوں جو میرے اپنے ہیں۔


پانچویں میں نکتہ سابقہ ریکارڈ کا ہے۔ اگر ایک مکینک کامیابی سے نقائص کی شناخت اور مرمت کرتا رہا ہے تو گاڑی میں مسئلے کے معاملے میں اس کی رائے کا وزن زیادہ ہے۔ (اگرچہ لازم نہیں کہ وہ درست ہو)۔ اس کا یہ مطلب نہیں کہ کینسر پر تحقیق میں کامیابی کا ریکارڈ کسی کی معیشت کے بارے اچھی رائے کی گارنٹی ہو گا۔ اس کا مطلب اس کی کینسر کے بارے میں رائے سے ہو گا۔ اس سے باہر یہ زیادہ سے زیادہ اس کی ذہانت کا بتائے گا۔ (ذہانت اور مہارت الگ خاصیتیں ہیں)۔
گولڈمین کے یہ پانچوں نکات راہنمائی کر سکتے ہیں۔ لیکن فول پروف نہیں۔
اور ہمارا مقصد بھی صرف دستیاب شواہد کے مطابق بہترین رائے تک پہنچنی کی کوشش ہی تو ہوتی ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔


اس کا عملی استعمال ہم ایک مثال کے ذریعے دیکھ لیتے ہیں۔ ہمارے پاس دو ماہرین ہیں۔ ایک طرف براون یونیورسٹی کے بائیولوجسٹ کینیتھ ملر ہیں جبکہ دوسری طرف لیہائی کے بائیوکیمسٹ مائیکل بیہے۔ دونوں کی ارتقائی بائیولوجی کے بارے میں آراء متضاد ہیں۔ کینیتھ ملر ایولیوشنری بائیولوجسٹ ہیں، جبکہ مائیکل بیہے کری ایشنسٹ ہیں۔ کس پر اعتبار کیا جائے؟ چونکہ ہم ماہر نہیں تو اس پر راہنمائی لینے کیلئے گولڈمین کا پیمانہ استعمال کرنے کی کوشش کر لیتے ہیں۔


پہلا راونڈ: دلائل کا جائزہ


میری اپنی رائے اس بارے میں غیرجانبدار نہیں، اس لئے ہم اس کو نظرانداز کر دیتے ہیں۔ دونوں اس موضوع پر کتابیں لکھ چکے ہیں اور دونوں اس بارے میں 2005 میں عدالت میں پیش ہوئے جس میں استدعا کی گئی تھی کہ انٹلیجنٹ ڈیزائن کو نصاب میں پڑھایا جائے۔ مقدمے میں جج بھی کنزرویٹو تھے۔ انہوں نے دلائل کا جائزہ لیتے ہوئے کینتھ ملر کے حق میں فیصلہ دیا۔ اس وجہ سے ہم کہہ سکتے ہیں کہ دلائل کے تجزیے کی بنیاد پر سکور ملر کے حق میں 1-0 ہو گیا۔


دوسرا راونڈ: دوسرے ماہرین کی رائے


اگرچہ بیہے کو اپنے حق میں چند بائیولوجسٹ مل سکتے ہیں لیکن پروفیشنل بائیولوجسٹ میں سے بہت بھاری اکثریت کری ایشنزم کو رد کرتی ہے۔ اگرچہ یہ نکتہ خود میں کافی نہیں لیکن ہمارے اس مقابلے کیلئے سکور ملر کے حق میں 2-0 ہے۔


تیسرا راونڈ: آزادانہ رائے سے مہارت کی تصدیق


ملر اور بیہے دونوں پی ایچ ڈی ہیں۔ دونوں سائنسی جرائد میں اپنے اپنے شعبوں (بائیوکیمسٹری اور خلیاتی بائیولوجی) میں پئیر ریویوڈ مضامین شائع کروا چکے ہیں۔ یہاں برابر کا مقابلہ ہے۔ مقابلہ اب 3-1 ہے۔


چوتھا راونڈ: تعصبات کیا ہیں؟


یہ دلچسپ ہے۔ ایک طرف سے سائنس مخالف اور دوسری طرف سے مذہب مخالف، دونوں گروہ آپ کو یہ یقین دلوانے کی کوشش کریں گے کہ ارتقا کی حمایت یا مخالفت کا تعلق مذہب سے ہے۔ اسلئے ہم ان دونوں ماہرین کے مذہبی تعصبات کا جائزہ لیتے ہیں۔ بیہے اور ملر دونوں کٹر کیتھولک کرسچن ہیں۔ (ارتقائی بائیولوجی میں کام کرنے والے سائنسدانوں میں مسلمان، کرسچن، ہندو، لامذہب سمیت ہر کسی کا ہونا کئی بار دہرائے جانے والی منترا کے خلاف جاتا ہے کہ ارتقائی بائیولوجی کوئی مذہب مخالف ایجنڈا ہے۔ اگرچہ ایسے سائنسدان بھی ہیں جو بیک وقت کری ایشنزم اور مذہب کے مخالف ہیں۔ لیکن یہ دونوں معاملات خود میں الگ ہیں)۔ یہاں پر مقابلہ برابر رہا اور سکور 4-2 ہے۔


پانچواں راونڈ: سابقہ ریکارڈ کیسا ہے؟


یہاں پر میرا خیال ہے کہ ملر جیت جاتے ہیں۔ یہ تو درست ہے کہ بیہے کے کئی بہت اچھے پیپر ہیں لیکن ان میں سے کسی کا بھی تعلق ارتقائی بائیولوجی سے نہیں۔ جبکہ ملر اگرچہ سیل بائیولوجسٹ ہیں لیکن ان کی لکھی کتابیں جنرل اور ایولیوشنری بائیولوجی میں پڑھائی جاتی ہیں۔ زیرِ بحث معاملے میں سابقہ ریکارڈ دیکھا جائے تو ملر کو برتری حاصل ہے۔ میچ کا سکور 5-2 رہا۔

ظاہر ہے کہ اس چھوٹی سی مشق سے ہم نتیجہ یہ نہیں نکالتے کہ اس بنیاد پر طے ہو گیا کہ کینیتھ ملر یقینی طور پر درست ہیں اور بیہے غلط ہیں۔ نہ ہی اس معیار کو کسی وسیع بحث کو سادہ طریقے سے ریڈیوس کرنے کا طریقہ سمجھنا چاہیے۔ لیکن ایک پیچیدہ معاملے میں، جس کے تکنیکی معاملات کو ہم زیادہ نہ سمجھتے ہوں، یہ ذہن بنانے میں راہنمائی کر سکتا ہے۔ ٹی وی پر جاری کسی مباحثے میں ماہرین کے دعووں پر اس طریقے سے تجزیہ کر کے راہنمائی لے سکتے ہیں۔ اس سے آپ کم از کم یہ سمجھ سکیں گے کہ کسی چیز کو قبول یا رد کرنے کے لئے آپ کی اپنی وجوہات کیا ہیں۔


اب تک کچھ واضح ہو چکا ہو گا کہ کچھ لوگوں کو ہم ماہر سمجھ سکتے ہیں۔ ایک معقول حد تک ان کی ماہرانہ رائے پر اعتبار کر سکتے ہیں۔ اور اندازہ کر سکتے ہیں کہ معتبر کون ہے۔ ماہرین غلطیاں کرتے ہیں اور اس کی بھی گارنٹی نہیں کہ بہت سے ماہر ملکر بھی درست ہی کہہ رہے ہوں۔ لیکن ہم ہر وقت گومگو میں تو نہیں رہ سکتے۔ رائے تو بنانی ہی ہے نا۔ دستیاب شواہد کے مطابق بہترین خیال ۔۔۔ سائنسی سچائیوں کی یہی نیچر ہے۔

شیئر کریں

کمنٹ کریں