میں اکثر یہ سوچتی ہوں

رابعہ الربا/ rabia al raba
رابعہ الربا/ rabia al raba

رابعہ الرباء

(دل کے اوراق پہ لکھی ذہنی ڈائری )قسط 2

, میں اکثر یہ سوچتی ہوں

کل رات اچانک سردی کی شدت میں اضافہ ہو گیا ہوا چلے تو اپنا رستہ بنا ہی لیتی ہے ۔ اور ایسا رستہ بناتی ہے کہ رضاءیوں تک میں آ کر اپنی آمد سے گدگدا دیتی ہے ۔
ایسی ہی کوئی حسین رات تھی کہ لکھتے لکھتے ہمیں نیند آ گئی ورنہ ہم تو نیند کے انتظار میں شب بھر یادوں کی بارات لے کر بیٹھے رہتے ہیں ۔ اور شہنائی گنگناتی رہتی ہے۔
آنکھ لگی ہی تھی کہ دھماکہ ہوا جیسے لاہور پہ کوئی فضائی حملہ ہو گیا ہو۔ ہم ہی کیا سب اٹھ کر باہر کو بھاگے ہونگے الہی خیر


مگر رات کے تین بجے معلوم ہوا کہ یہ کسی کے شادیانوں کی چھنکار تھی ۔جس نے نو دولتیے پن کی وجہ سے دھماکوں کی صورت دھاڑ لی تھی ۔ اس تو جدید آتش بازی بھی کہتے ہیں ۔ ہر جدید چیز کا شور بڑھتا جا رہا ہے شاید اس لئے کہ ہم روز قیامت کے شور کے لئے تیار کیے جا رہے ہیں ۔


اخلاقیات کا معیاراتنابلند ہوگیا ہے کہ چار پانچ ہسپتالوں کے درمیانی علاقے سے یہ آتش فشانی آسمان پہ ست رنگی ستاروں میں بدلی اور دور دور تک لوگوں کو پہلے غم کی خبر کا خدشہ ہوا پھر معلوم ہوا کچھ خوشیاں بھی قیامت کی مانند ہوا کرتی ہیں ۔
جو اپنے پہ ہی نہیں ٹوٹتی ،سب پہ برسائی جاتی ہےاور سب کو بتائی جاتی ہیں۔ اور قانون کا کیا ہے ایسی آتش دولت اسے پہلے ہی وردی سمیت خرید کر سلادیتی ہے ۔
سو وہ نیند جو بنا انتظار کے آ ہی گئی تھی ٹوٹ گئی اور پھر روٹھ گئی ۔
مگر بعد میں خفیہ ذرائع سے معلوم ہوا یہ شاہی شادیانے تھے کہ پی ایس ایل کے میچیز ہونے والے ہیں اور اس کے لیے کسی گیت کے ریکارڈنگ کے لیے قوم کی نیندوں سے اور جذبوں سے پہلے کھیلا گیا تھا۔
میچ بعد میں ہونگے


جو ہمیں اپنی زندگی میں تاحال سب سے عزیز تر ہے ۔
یادوں کے جگنو کروٹوں کے سنگ گلستان بناتے بناتے جانے کیسے کوئی خواب نگری سجا دیتے ہیں اور اس میں بسا بھی دیتے ہیں ۔
زندگی پل پل بدلتی کہانی بن جاتی ہے ۔ مگر اس پل پل بدلتے وقت کو آتے بھی بہت وقت لگتا ہے۔
اس کے بعد وقت کی رفتار اور ڈور ہاتھ سے پھسل سی جاتی ہے۔
کل ہی کی تو بات ہے ہم نے کتابوں کی بات چھیڑ رکھی تھی ۔تو معلوم ہوا حلاج باز آ جاو۔۔۔۔
راز مت کھولو۔۔۔۔


پتھر برسے نہیں تھے مگر کل سے برستی دھند میں جہاں ایک فٹ پار دکھائی نہیں دے رہا وہاں نجانے کیسے دور سے پتھروں کے برسنے کی آوازیں سنائی دے رہی ہیں ۔
اک مقام سحر ہوتا ہے
جب ہم اس میں داخل ہو جائیں تو سنسناہٹ بھی مسکرانے لگتی ہے۔
سو اسی کیف میں ہم مسکرا دئیے
ہمیں ہمارے ایک دادا استاد ڈاکٹر انوار احمد نے بتایا کہ
“رات کی رانی کومہکنے دیں ۔
کرشن چندر کے ایک ڈرامے کتاب کا پبلشر اور کتاب چھاپ کے مصنف کو بتاتا رہتا ہے کہ آ کے اپنی کتابیں گن لو ویسے کی ویسی پڑی ہیں کیسی رائلٹی ؟”


دادا استاد اس لیے کہ وہ ہمارے استاد محترم خالد محمود سنجرانی کے باقاعدہ استاد ہیں اور خالد صاحب ہمارے باقاعدہ استاد ہیں اس تعلق سے وہ ہمارے دادا استاد کہلوائیں گے۔
سر ہم رات کی رانی کو مہکنے دیں گے ۔
اس کو روکیں گے نہیں۔ بس آسمانوں سے پار جا کر دیکھیں گے کہ۔ہماری نئی نسل کیا کرنے والی ہے ۔سر میرے لئے یہ بچےامید کے چاند ہیں۔
ہراگلی نسل پچھلی نسل سے اچھی اور سچی نسل آ رہی ہے ۔
ہم اسی میں خوش ہیں ۔
رات کی رانی مہکتی رہی گی۔ یہ اس کی فطرت ہے۔ جسے فطرت ہی روک سکتی ہے ہم نہیں روک سکتے۔


ہاں بات تھی کتاب گھروں کی تو بات کچھ یوں ہے کہ آج ہمارا یہ بات کرنے کا باکل بھی موڈ نہیں ہے۔ کیونکہ موسم نےمن میں اک رم جھم بپا کی ہوئی ہے۔ اور ماضی کا پل پل کسی شجر پہ کلی کی مانند تو کہیں گل کی طرح ہمیں گلنار کیے ہوئے ہے ۔
حال گزارنا دشوار ہے مگر جب یہ ماضی بن جائے تو دشواری پھول بن کر بس یاد کی مہک بن جاتی ہے ۔
کچھ ایسی ہی خوشبویں ہیں جو اس پل مجھے گھیرے ہوئے ہیں ۔ اور میں مہکی ہوئی ہوں ۔
رات کی رانی کی طرح یا حنا کے رنگوں کی مانند۔
دور دور تک سناٹا ہےاور اتنا حسین ہے کہ مجھ میں اتر رہا ہے ۔ اس دھند کی طرح جو باہر زمین کی اورسفر کر رہی ہے۔
جس نے زمین اور آسمان کو ملا رکھا ہے۔ اور دونوں اک دوجے سے راز و نیاز کر رہے ہیں ۔اپنے دکھرے اپنے سکھرے بانٹ رہے ہیں ۔ اور نجانے یہ اس دوران آنے والی دنیا کے لئے کیا بانٹ جائیں گے ۔


یہ تو لمحات وصل ہیں۔ معراج عشق ہے۔گویا جدائی بھی قریب ہے۔وصل و جدائی سے یاد آیاآج ہی ڈاکٹر طاہرہ کاظمی کا ایک آرٹیکل شب زفاف کے حوالے سے پڑھا ۔جادو ہے ان کے ہاتھوں میں ۔ یہی بات کبھی مجھے تھریم عظیم نے کہی تھی تو مجھے اس پہ پیار آ گیا تھا جیسے کسی بچے پہ آ جاتا ہے۔
ڈاکٹر صاحبہ لکھتی ہیں
“کہاں لب کشائی کرنی ہے ؟ کہاں ضبط کرنا ہے؟ کہاں محبت کے پر جلنے کا اندیشہ ہے؟ کہاں جذبات کو ٹھیس پہنچنے کی فکر ہے؟ کہاں بھرم رکھنا ہے؟ کہاں ہاتھ پکڑنا ہے؟ کہاں سہارا دینا ہےاور کہاں معاف کرنا ہے؟ “
ہمارے مرد و زن یہی نہیں جانتے ۔یہی خیال میں اس خیال سے پیش نہیں کر سکتی کہ مجھ سے تجربہ کاری کا سوال پوچھنے والے زبان سے چسکلے سے پر جلنے والی نوبت پہ سوار آئیں گے۔
مگر یہی میرا حال دل ہے وصل میں ضبط وہ جادو ہے جو سر چڑھ کر بولتا ہے اور محبت عشق میں بدل جاتی ہے ۔


بات ہوئی ہے عشق کی تو جدائی امتحان بھی ہے
یہ لفظ مجھے اندر تک صحرا بنا دیتا ہے ۔کیونکہ جدائی اور وصل کی منزل ایک ہی ہے ۔
اس کے رنگ اس کا کیف اس کا سچ اس کا جھوٹ اس کا وجود سب ایک سا ہے۔ جس میں جذب کی سچائی دونوں رنگوں اور کیفیتوں کے عروج پہ ہوا کرتی ہے ۔
اب نم آنکھیں جدائی کا تقاضا کرتی ہیں ۔
شب بخیر زندگی

شیئر کریں

کمنٹ کریں