میں اکثر یہ سوچتی ہوں

دل کے اوراق پہ لکھی ایک ذہنی ڈائری: قسط 3
کالم نگار : رابعہ الرباء

الوداع سر طارق فارانی

, میں اکثر یہ سوچتی ہوں

ہمارے اندر بھی ایک ہم ہوتے ہیں جسے ہم کبھی تو عمر بھر نہیں مل پاتے ، کبھی ملنے میں تاخیر ہو جاتی ہے تو کبھی خوش بختی بنا دستک دیئے آپ کی دہلیز پہ آن پہنچتی یے۔کہ آپ کو کوءی استاد ایسابے لوث و باکردار مل جاتا ہے کہ وہ آپ کی انگلی پکڑ کر آپ کو آپ سے ملا دیتا ہے۔ سر طارق فارانی بھی ایک ایسی ہی ہستی ہیں ۔


جب ہم یونہی اپنی ایک دوست شازیہ مغل کے کہنے پہ نظیر احمد میوزیک سوسائٹی کے ممبر بنے اور سوسائٹی روم میں آناجانا رہا تو جہاں وائلن ہمیں روز چڑیوں کی طرح چہچہانے پہ مجبور کرتا وہاں فارانی صاحب علم کے بکھرتے موتی چننے اچھا لگتا۔


ظاہر ہے اس دور میں ہم جتنے موتی چن سکتے تھے اتنے ہی کافی تھے۔ انہوں نے ہمیں اعتماد بخشا اور بخاری ہال میں پہلی بار ایک موسیقی کے پروگرام کو ہم چار رواینز نے ہوسٹ کیا۔ انہوں نے چار زبانوں کا انتخاب کیا اور چار ہی افراد نے کمپیرنگ کی۔ الفاظ کے اتار چڑھاءو اور الفاظ کی موسیقی سے شناسائی یہی سے ہوئی۔ وہ ہمیں کہا کرتے تھے کہ یہ ریڈیوکی آواز ہے ۔مگر مجھے علم تھا کہ یہ ہواوں کے سنگ نہیں اڑ سکتی ۔ سو ہم نے ان سے معذرت کر لی اور یونیورسٹی کی حد تک اس پروگرام سے بہت کچھ سیکھا۔


آج وہ بظاہر اس دنیا میں نہیں رہے مگر آج سے وہ اپنے شاگردوں اورتقسیم کیے گیے علم کی بدولت ہم میں موجود ہیں ۔
آپ کوکوءی روشن نستعلیق راوین دکھائی دے تو ایک بار اسے پوچھ لیجیے گا کہ فارانی صاحب کی صحبت سے موتی چنے ہیں ؟تو آپ کو اندازہ ہو جائے گا یہ وہ روشنی ہے جو نور میں بدل گئی ۔
کبھی آپ نے دیکھا کچھ لوگ بوڑھے ہو جاتے ہیں ان کی آنکھیں بوڑھی نہیں ہوتیں ان میں نو مولودیت لوٹ آتی ہیں ۔ایسی ہی آنکھیں فارانی صاحب کی تھیں۔جن سے ان کے بچپن کی حیرت کبھی نہیں گئی تھی۔


اور جب کبھی ان کا کوئی شاگرد اچھی بانسری بنا رہا ہوتا،اچھا وائلن بجا رہا ہوتا،ہارمونیم کے سر کمال کے ہوتے تو ان کی انگلیاں اور آنکھیں اس کی حقیقت بتا رہی ہوتیں تھیں ۔ اچھی موسیقی پہ وہ اپنے ہاتھوں کے اشارے سے شاعری پینٹ کرتے دکھائی دیتے تھے۔
نظیر احمد میوزیک سوسائٹی کی کرسی پہ دہاءیوں بیٹھے اس لیجنڈ انسان و استاد نے سینکڑوں لیجنڈ ز کی تراش خراش بہت ہنر مندی سے کی ۔ وہ اپنا علم اپنے ساتھ لے کر نہیں گئے پوری ایمان داری سے سو فی صد اپنے شاگردوں میں بانٹ کر گئے ۔ اور شایدہی کوئی ایسا شاگرد ہو گا جس کا دل آج اداس نہ ہو۔ یا آنکھ نم نہ ہو۔


آج جی سی یو میں گزرے دو برس کا لمحہ لمحہ کسی مووی کی طرح آنکھوں کے سامنے ہیں یوں لگتا ہے ابھی کلاسز ختم ہو نگی اور ہم نظیر احمد میوزک سوسائٹی کی سیڑھیاں چڑھتے فارانی صاحب کے سامنے بیٹھے ان سے دنیا بھر کے بہترین ادب اور فلمز پہ بات کر رہے ہونگے ۔


انہوں نے اس دور میں ہمیں دنیا کی بہترین موویزکے حوالے سے بتایا جو ہم تب تو نہیں دیکھ سکے مگر یونیورسٹی کے دور خلافت کے بعد بس یہی کام کیا کہ پڑھا اور موویز دیکھیں۔
کبھی ذرا موسم سرد بھی ہوتا تو وہ کمرے کی ایک کھڑکی کھولے رکھتے تھے ۔ وہ چین سموکر تھے۔کبھی اکیلے بیٹھے سگریٹ پیتے رہتے اور اس کھڑکی سے باہر دیکھتے رہتے۔آپ اچانک چلیں جائیں دروذہ کھٹکھٹائیں توبھی ان کو آپ کی آمد کا احساس نہیں ہوتا کیونکہ وہ اتنی گہری سوچوں میں گم ہوتے۔گویا ان کے تخیل کی پرواز بہت بلند تھی ان کی تخیلاتی دنیا بہت وسیع گہری اور مضبوط تھی ۔ اور جو اس دنیا میں رہنا سیکھ لے۔پھر اس کے لیے موجود دنیا کے رنگ کے پھیکے پڑ جاتے ہیں ۔


زندگی میں جن افراد سے ہم بہت متاثر رہے ان میں فارانی صاحب کا بھی شمار ہوتا ہے۔
بڑے بڑے لیجنڈز ان کو جھک کر ملتے ہیں۔ ان کی استادی و فنکاری کا اعتراف کرتے ہیں۔ مگر وہ اتنے عاجزی پسند تھے کہ درویشوں کی طرح ان کا در ہر کسی کے لئے کھلا رہتا۔نہ کوئی تکبر نہ غرورکی بو، نہ میں ،نہ تو، مزاج عاشقی اللہ ہو،
کیونکہ وہ دلوں میں رہنے والی ہستی ہیں جو اللہ کا گھرکا ،بھلے خدا مسلم کا ہو عسیاءی کا ،ہندو کا یا یہودا کا۔ مقام رہائش دل ہی ہے۔


ہمیشہ ویل ڈریس، حشاش بشاش،مگر کبھی کبھی ان کی آنکھوں میں اداسی دکھائی دیتی تھی ۔مگر ہم میں اتنی ہمت نہیں تھی کہ کبھی ان سے اس بابت بات کی ہو۔ بس اتنا ہی کافی تھا کہ جب انسان اتنے حصوں میں بٹ جائے اور وہ سب کو جوڑے رکھنے کی تگ ودو میں ہو تو زندگی کی تھکن آنکھوں میں اتر ہی آتی ہے۔


اعلی ظرف ،کسی کی برائی نہیں کرتے تھے ہمیشہ یہی سمجھایا کہ کوئی اپنے ظرف سے بڑھ نہیں سکتا۔سو معاف نہیں کر سکتے توآگے بڑھ جاو۔
باوقار، کسی کے سامنے جھکنے والے نہیں تھے ۔سر بلند رکھتے تھے۔ اپنی بات پہ قائم رہنے والے انسان تھے ۔ ایسا انسان جھوٹ نہیں بول سکتا۔


اکثر ان کو بانسری بجاتے سنااور بس یوں تھا سانسیں سروں کے سنگ دل کو چھو کر کہیں زمان و مکاں سے ماورا سی کر دیتیں ۔اور یہ انہیں کے وجود کا کرشمہ تھاکہ جہاں آپ گورنمنٹ کالج میں داخل ہوئے تو زمان ومکاں سے جدا ہوگئے ۔مگر جونہی آپ نظیر احمد میوزک سوسائٹی کے


چھوٹے سے سریلے کمرے میں داخل ہوئے تو اک نئی سحر نگری نءے نگر کی سیر کولے جاتی اور وقت گزرنے کا علم ہی نہیں ہوتا تھا۔ یوں بھی جب جدائی کے لمحے قریب آتے ہیں وقت بے برکت سا ہو جاتا ہے۔
سید فیضان عباس کی تحریر یہاں بنا اجازت کے شامل کر کےفارانی صاحب کو ان الفاظ سے خراج تحسین پیش کر رہی ہوں جو شاید میرے پاس نہیں ہیں
“معلوم نہیں کون سی بستی کے مکیں تھے
کچھ لوگ مری سوچ سے بھی بڑھ کے حسیں تھے


طارق سلمان فارانی صاحب گورنمنٹ کالج لاہور میں 1963ء میں آئے اور آج 2021ء تک یعنی آخری سانس تک اس سے وابستہ رہے ۔ ان کا تعلق نستعلیق اور شُستہ لوگوں کی آخری نسل سے تھا جو ایک سایہ دار شجر کی طرح ہر آنے والے کو سایہ و ثمر فراہم کرتے تھے ۔ ان سے تھوڑا بہت تعلق عزیزم سعد فاروق ضیائی اور برادرم حسن مقصود کے تسوط سے بنا اس میں انہیں نہایت عمیق، مخلص اور عاجز انسان پایا ۔


بڑے لوگوں کی پہچان یہ ہوتی ہے کہ وہ عام لوگوں کی طرح رہتے ہیں اور اس پر قانع ہوتے ہیں جبکہ چھوٹے لوگ عام لوگوں کی طرح رہتے ہیں اور شاکی، بیقرار و مایوس رہتے ہیں ۔ فارانی صاحب نے زندگی کی چار دہائیاں خام مال کو سونا اور سونے کو کندن بنانے میں گزاریں، بڑے بڑے لیجنڈ ان کے گھٹنوں کو ہاتھ لگا کر فخر محسوس کرتے مگر ان کے اندر بلا کی عاجزی اور استحکام تھا ۔ انہیں دیکھ کر سمجھ آیا کہ کوئی شخص Larger than Life کیونکر ہوسکتا ہے!”


احمدعلیم صاحب نے بتایاکہ “وہ دہائیوں تک بلا معاوضہ جی سی یونیورسٹی کے ساتھ منسلک رہے۔ وہ ایک پڑھے خاندانی انسان تھے ان کے والد گرامی بہاولپور یونیورسٹی کے واءس چانسلر تھے۔ “
یہ باتیں کم از کم ہمارے علم میں نہیں تھیں مگر ہم اتنا ضرور جانتے ہیں ہم سب تو چلتے پھرتے ،بولتے اور اپنے افعال و کردارمیں اپنا پورا خاندانی پن لے کر چل رہے ہوتے ہیں ۔
سو ان کا کردار بحثیت مجموعی ان کے بیک گراؤنڈ کی گواہی دیتا تھا۔
یہ بات مجھے ہمیشہ سے افراد میں متاثر کرتی ہے کہ اس کا کردار اس کے ہونے کی کتنی گواہی دیتا ہے۔


اور میں ان کی فین رہی۔ آرٹ کا کوئی شعبہ نہیں جس پہ ان سے آپ بات نہیں کر سکتے۔ اکثر ان کو مطالعہ کرتے دیکھا۔ کتابیں ہمیشہ ان کے سائڈ ٹیبل پہ ہوا کرتیں۔ اور کبھی تو وہ جو کتاب پڑھ رہے ہوتے اسی کے حوالے سے بات شروع ہو جاتی وہ کم گو تھے مگر آرٹ کے حوالے سے نہیں ۔ بس وہ عمو می گفتگو نہیں کرتے تھے۔نہ بلا وجہ اور بہت زیادہ ہنستے تھے۔
حسن اتفاق فیضان ہوں یا احمد علیم سب رواینز اور خصوصی ان کے شاگرداور جن شاگردوں کی ان سے ایک قربت رہی، اس لمحے ایک ایسے درد میں ہیں ۔جو نا قابل بیان ہے۔ جب ان جیسا ایک استاد اس دنیا سے جاتا ہے شاید اپنے ساتھ وہ موتی وہ روشنی بھی لے جاتا ہے ۔جو ہم ان کے وجود کے موجود ہونے سے حاصل کر رہے ہوتے ہیں ۔
الوداع سر فارانی


ہم آپ کو اسی طرح رخصت کرتے ہیں جس طرح آپ نے ہمیں ہم سے ملایا تھا۔اللہ آپ کے اس گھر کو سکون کے پھولوں سے سجائے رکھے۔

شیئر کریں

کمنٹ کریں