میں چپ رہوں گی

افسانہ نگار : شہباز اکبر الفت

, میں چپ رہوں گی

”تم آ رہی ہو کہ نہیں؟“ اس کے لہجے میں دھمکی کی آمیزش کو محسوس کرتے ہی رابی سر سے لے کر پاؤں تک لرز گئی
”شانی، تم سمجھنے کی کوشش کیوں نہیں کر رہے“ وہ روہانسی ہوگئی
کیا سمجھانا چاہ رہی ہو“ وہ ہنسا
”یہی کہ میں یہ سب نہیں کر پاؤں گی“
”ہاہاہا کیوں نہیں کر سکتیں، باتیں تو بہت کرتی تھیں، اب تو کرنا پڑے گا“
”ضد مت کرو، میں اس حد تک نہیں جا سکتی“ اس نے بے بسی سے کہا
”تم کچھ بھول رہی ہو، تم اس سے کہیں زیادہ آگے جانے کی باتیں کر چکی ہو، میرے پاس تمہارے سارے میسج موجود ہیں“
”میسج تو کوئی بھی کرسکتا ہے، میں کہہ دوں گی کہ میری سم کہیں گر گئی تھی یا موبائل گم ہوگیا تھا“
”اور تصویریں“
”تصویریں بھی فوٹو شاپ کا کمال ہو سکتی ہیں، کوئی بھی آسانی سے یقین کرلے گا“
”اس کے علاوہ بھی میرے پاس بہت کچھ ہے، جانتی ہو کیا کیا۔۔۔۔?“ اس نے جان بوجھ کر بات ادھوری چھوڑ دی
”کیا کیا؟“ کچھ سوچ کر ہی وہ کانپ گئی
”بہت کچھ، خاص طور پر ایک پیار بھرا ویڈیو کلپ، یاد آیا، وہی کلپ جسے بنانے میں تمہاری اپنی مرضی بھی شامل تھی، تم سمجھ رہی ہو نا“
”مجھے کچھ سمجھ نہیں آرہی“
”لیکن میں سب سمجھ رہا ہوں اور آخری بار تمہیں سمجھانے کی کوشش کر رہا ہوں کہ تمہارے نہ آنے کا نتیجہ تمہیں کیا بھگتنا پڑے گا“
”دھمکی دے رہے ہو؟“
”ہاں، دھمکی ہی سمجھ لو، کیا کر لوگی، گھر والوں کو بتاؤ گی، پولیس کے پاس جاؤ گی، جو دل کرے کرو، مجھے کوئی فرق نہیں پڑتا، بربادی صرف تمہارے حصے میں ہی آئے گی“
”اف، اللہ، میں کیا کروں؟“ اب وہ باقاعدہ رونے لگ گئی تھی
”میری بات مانو اور چپ چاپ میرے پاس چلی آؤ، کسی کو کچھ پتہ نہیں چلے گا“
”اور اگر میں نہ آؤں؟“ اس نے مریل سے لہجے میں کہا
”تواپنی اور تمہاری محبت کی رنگین داستان سارے گواہوں اور ثبوتوں کے ساتھ وائرل کر دوں گا“
٭٭٭


رابی اس وقت کو یاد کرکے پچھتا رہی تھی، جب فریحہ کے کہنے پر اس نے فیس بک اکاؤنٹ بنایا، فریحہ اس کے ساتھ اکیڈمی میں پڑھتی تھی، بڑے گھر کی لا ابالی سی لڑکی تھی، اسے اپنی پراعتماد شخصیت پر بڑا مان تھا، اچھے سے اچھے برانڈ کی ڈریسنگ، فل میک اپ، لڑکوں سے دوستی، ہوٹلنگ، ہر وقت ہلہ گلہ ہی شاید اس کی زندگی کا مقصد تھا اور وہ اپنی تمام سرگرمیوں کی تصاویر سوشل میڈیا پر اپ لوڈ کرنا بھی نہ بھولتی تھی، رابی کو اکثر اس کی ہنگامہ خیز زندگی پر رشک آجاتا، اس کے اپنے گھر میں توکھل کر ہنسنے تک کی اجازت نہیں تھی
”یار، تم یہ سب کیسے کر لیتی ہو؟“ ایک دن اس نے پوچھ ہی لیا
”سمپل ہے یار، اپنے اندر کے خوف کو ایک بار ٹاٹا بائے کہہ کر دیکھو، سب کچھ بالکل سادہ اور آسان آسان لگنے لگے گا“
”بابا، بھیا جان سے مار دیں گے“
ارے کچھ نہیں ہوتا یار، میری بھی تو فیملی ہے، شروع شروع میں سب ہی ٹوکتے، ڈانٹتے لیکن آہستہ آہستہ سب ہی اس حقیقت کو تسلیم کرلیتے کہ زمانہ بہت بدل چکا، نئے زمانے کے انداز و اطوار کو اپنانے میں کوئی برائی نہیں“
” لیکن!” اس نے کچھ کہنا چاہا لیکن فریحہ نے اس کی بات کاٹ دی
”لیکن ویکن کچھ نہیں، زندگی صرف ایک بار ملتی ہے،اسے کھل کر جینا چاہئیے“
فریحہ نے ہنستے ہوئے موبائل اس کے ہاتھ سے لیا اور اس کا اکاؤنٹ بنانے لگی، سمارٹ فون پاس ہونے کے باوجود رابی نے کبھی سوشل میڈیا پر آنے کے بارے میں نہیں سوچا تھا، فریحہ نے فیس بک کے ساتھ ساتھ وٹس ایپ, انسٹا گرام اور ٹویٹر کے اکاؤنٹس بھی بنا دیئے، رابی نے بڑے فخر سے اپنی آئی ڈی کا عرفی نام ”پاپا کی پرنسس“ رکھا اور فریحہ کے ساتھ ہی لی ہوئی اپنی پہلی سیلفی اپ لوڈ کر دی
٭٭٭


رابی نے کبھی سوچا بھی نہیں تھا کہ فیس بک کی دنیا اتنی بھی رنگین ہوسکتی ہے کہ دھنک کے سارے رنگ بھی اس کے سامنے پھیکے پڑ جائیں، ایک ہی دن میں اس کی پہلی سیلفی پر سینکڑوں ردعمل اور کلمات آئے تھے، اکثر نے سو کیوٹ, سویٹ، گارجیس، پرنسس اور ماشاء اللہ سے نوازا تھا، خاص طور پر دل کے ایموجیز اور اسٹیکرز کی بھرمار دیکھ کر تو وہ نہال ہی ہوگئی، ہر شخص اس کے حسن اور معصومیت کی تعریف کرتا نظر آ رہا تھا، کئی منچلوں نے تو شاعری والے امیج چسپاں کرکے بھی اپنی پسندیدگی کا اظہار کیا تھا، اگلے دن اس نے صرف اپنی تصویر لگائی اور ردعمل اس کی توقع سے بھی بڑھ کر ملا، پسندیدگی کے اگلے پچھلے ریکارڈ ٹوٹ گئے تھے، کچھ ہی دنوں میں اس کی آئی ڈی اتنی مقبول تھی کہ اسے اپنا آپ کسی فلمی ہیروئن کی طرح لگنے لگا، ہر دوسرا شخص اس کے پیچھے جان پر تلا ہوا تھا، آن لائن ہوتے ہی ہائے، ہاؤ آر یو، سویٹی، سویٹ ہارٹ اور ڈارلنگ جیسے القابات سے بھرے انباکس میسجز اس کا والہانہ استقبال کرتے، وہ دھڑکتے ہوئے دل کے ساتھ سارے نوٹی فکیشن دیکھتی، انباکس میسجز پڑھتی، دوچار سے تھوڑی بہت بات چیت بھی کرلیتی، رابی کو یہ سب کچھ اتنا سحرانگیز لگتا تھا کہ اکثر وہ سوچ میں پڑ جاتی کہ کہیں خواب تو نہیں دیکھ رہی، بھلا عام زندگی میں اتنے رنگ ایک ساتھ کیسے بھر سکتے ہیں
اور پھر ایک دن اسے شانی نام کی آئی ڈی سے انباکس میسج آیا
” السلام علیکم! کیسی ہومعصوم شہزادی؟“
٭٭٭


”معصوم شہزادی“کا لقب اسے اپنے لیے سب سے اچھا لگا تھا اورشاید اس لیے بھی اچھا لگا تھا کہ اس کے ابو اپنی تمام تر سخت گیر طبیعت کے باوجود اکثر موڈ میں آکر معصوم شہزادی ہی کہتے تھے، رابی کی فیملی میں کل چھ نفوس شامل تھے، امی، ابو، ایک بہن، دو بھائی اور وہ خود، اس کے ابو کا رئیل اسٹیٹ کا اپنا کاروبار تھا، ہر قسم کی جائیداد کی خرید و فروخت کا کام کرتے تھے اور اپنی ایمانداری و اصول پسندی کی وجہ سے انہیں اپنے کلائنٹس بالخصوص انویسٹرز کا بھرپور اعتماد حاصل تھا، ان کے ایک اشارے پر کروڑوں کے سودے ہوجاتے تھے، بڑی بہن کی شادی ہو چکی تھی، بھائی ایم بی اے کر رہا تھا، چھوٹی دونوں بہنیں ابھی انٹر میں تھیں جبکہ وہ خود بی کام کے دوسرے سال میں تھی، گھر کا ماحول مجموعی طور پر خوش گوار تھا اور سب بہن بھائی آپس میں خوب ہلہ گلہ کرتے لیکن ابو کے آتے ہی سب کو چپ لگ جاتی،ایک بار بھائی موبائل کھانے کی میز پر ہی بھول کر واش روم تک گیا تو اس کے موبائل پر کال آگئی، ابو نے کال اٹینڈ کی
”بلال، کہاں ہو؟“
کسی نسوانی سی آواز میں پہلا جملہ سن کر ہی آپے سے باہر ہوگئے اور دھاڑنے لگے، بلال باہر آکر بھی سرجھکا کر کانپتا ہی رہا،اسے کسی وضاحت کا موقع بھی نہ ملا، حالانکہ فون اس کے بچپن کے دوست حسیب کی بڑی بہن کا تھا جسے وہ خود بھی بچپن سے آپی کہتا چلا آرہا تھا اور آپی نے ہی اسے میسج کرکے فوراً گھر آنے کو کہا تھا کیونکہ حسیب کی کئی دنوں سے طبیعت بہت خراب تھی اورحسیب کے اکلوتا ہونے کی وجہ سے آپی کے علاوہ کوئی اور اس کی دیکھ بھال کرنے ولا بھی نہ تھا، بلال نے خود ہی کہا تھا کہ وہ آکر حسیب کو ڈاکٹر کے پاس لے جائے گا۔
٭٭٭


رابی کو شانی کے ساتھ بات کرنا بہت اچھا لگتا تھا، اس نے بہت جلد ہی اپنا اعتماد بنا لیا تھا، وہ ہر وقت اس کے ساتھ رابطے میں رہتا، اپنی ہر بات اس کے ساتھ شیئر کرتا، رابی خود بھی بہت باتونی تھی، گڈ مارننگ سے گڈ نائٹ تک سارے دن کی کارگزاری، کیا کھایا، کیا پیا، کیا پہنا،گھر کی باتیں، باہر کے قصے، دوستوں کا تذکرہ تک ہوتا، موبائل نمبر ز تو پہلے ہفتے ہی شیئر ہو گئے تھے، فیس بک آف تو وٹس ایپ شروع، وٹس ایپ سے بھی اکتا جاتے تو کال پر آجاتے،شانی بہت اچھا سامع بھی تھا، جب وہ بولتی تو چپ چاپ سنتا رہتا، رابی نے اسے اپنے بارے میں سب کچھ بتا دیا تھا،گھر کا ماحول، ابو کا رویہ، اکیڈمی کے دوست اور پسند و ناپسند، شانی اکثر بہت زیادہ رومانٹک ہوجاتا تھا،ہر بات بے دھڑک انداز میں کہہ جاتا، اس کا لہجہ اتنا خواب ناک، جملوں میں اتنی تڑپ ہوتی کہ نہ چاہنے کے باوجود بھی وہ اس کے ساتھ کسی خواب نگر کا حصہ بن جاتی، کبھی کبھی تو تخیل کے اس سفر میں اس کے ساتھ اتنی دور نکل جاتی کہ بعد میں اپنے ہی کہے ہوئے الفاظ پر اس کا سارا وجود پر شرم سے پانی پانی ہو جاتا
٭٭٭


شانی سے اس کی پہلی ملاقات ایک جوس کارنر پر ہوئی تھی، اکیڈمی پہنچنے سے ایک گھنٹہ پہلے ہی وہ امی کو فریحہ کے گھر جانے اور فریحہ کے ساتھ ہی اکیڈمی جانے کا کہہ کر نکل آئی، فریحہ کو اس نے پہلے ہی اعتماد میں لے لیا تھا اور فریحہ نے بھی انگوٹھا دکھاتے ہوئے بیسٹ آف لک کہہ کر پوراحوصلہ دیا،پھر بھی وہ اس کے سامنے سارا وقت گبھرائی گھبرائی سی بیٹھی رہی البتہ شانی پورے اعتماد کے ساتھ اسے نپے تلے جملوں میں اپنے پیار کا یقین دلاتا رہا، شانی کی شخصیت تو بظاہر عام سی تھی،سانولی رنگت، درمیانہ قد، عمر میں بھیسات آٹھ سال بڑا لیکن تازہ شیو اور نئی پینٹ شرٹ کے ساتھ وہ اسے کسی شہزادہ گلفام سے کم نہیں لگ رہا تھا اوپر سے اس کی چرب زبانی، رابی تو اپنے آپ کو ہواؤں میں اڑتی ہوئی محسوس کر رہی تھی، جب شانی نے اس کے ساتھ سیلفیاں لینی شروع کیں، تب بھی اسے اندازہ نہیں ہوا کہ ان کے تعلقات کس طرف کا رخ کر چکے
٭٭٭


دوسری بار دونوں شانی کے فلیٹ پر ملے جہاں شانی اکیلا رہتا تھا، شانی نے اسے بتا رکھا تھا کہ وہ ایک سافٹ ویئر انجینئر ہے اور ایک مقامی کمپنی میں کام کرتا ہے جبکہ اس کے گھر والے گاؤں میں رہتے ہیں اور یہ بھی کہ شادی کے بعد بھی وہ شہر میں ہی رہے گا اور اس نے اپنے گھر والوں کو رابی کے بارے میں سب کچھ بتا دیا ہے، شانی نے اسے یہ بھی بتایا تھا کہ بہت جلد اس کے گھر والے خود اس کے گھر آکر اس کا رشتہ مانگیں گے اور پھر انہیں ہمیشہ کے لیے ایک ہونے سے کوئی روک نہیں سکے گا، تھوڑی دیر ادھر ادھر کی گپ شپ کے بعد شانی پر ایک بار پھر رومانس کا بھوت سوار ہوگیا، شانی نے اسے یقین دلایا کہ وہ بہت جلد شادی کرلیں گے اس لیے گھبرانے کی ضرورت نہیں، اس نے موبائل کیمرہ لے کر اپنی گستاخیوں کی مووی بھی بنانا شروع کر دی
”یہ کیا کر رہے ہو؟“ رابی نے گھبرا کر خود کو اس کی گرفت سے چھڑوایا
”ان پیار بھرے لمحوں کو ہمیشہ کے لیے محفوظ کر رہا ہوں تاکہ شادی کے بعد بھی جب کبھی تم ناراض ہوکر میکے جاؤ تویہی تمہیں وٹس ایپ کرکے تمہارا موڈ ٹھیک کرسکوں“ شانی کے بے ڈھنگے جواز پر وہ بے ساختہ ہنس پڑی، شانی نے دوبارہ پیش قدمی کی کوشش کی لیکن تب تک رابی نے خود کو سنبھال لیا تھا
”مجھے اکیڈمی سے دیر ہو رہی ہے پلیز“ اس نے بمشکل خود کو چھڑایا اور باہر کی طرف دوڑا لگا دی
٭٭٭


رابی کو بہت جلد احساس ہوگیا کہ شانی محض ایک فلرٹ ہے اور معصوم لڑکیوں کی زندگیوں سے کھیلنے کے علاوہ اسے کوئی کام نہیں اور یہ بھی کہ وہ کہیں کوئی کام وام نہیں کرتا اور اس کی انہی حرکتوں کی وجہ سے اس کے گھر والوں نے بھی اسے عاق کر دیا ہوا ہے، یہ ساری باتیں اسے فریحہ نے بتائی تھیں جسے اسی کی ایک فیس بک فرینڈ عالیہ نے شانی کے ہاتھوں برباد ہونے اور رابی کو شانی کی طرف بڑھتے دیکھ کر بتایا تھا، فریحہ اور رابی کی دوستی کا فیس بک پر سب کو پتہ تھا،اس کی ٹائم لائن پر سب سے زیادہ تصاویران دونوں کی ہی ہوتی تھیں،فریحہ نے سنجیدگی کے ساتھ کہا
” دوسروں سے ساری گپ شپ، سارا ہلہ گلہ صرف فیس بک تک ہی رہے تو اچھا ہے، مجھے خود بھی بہت جلد اس بات کا احساس ہوگیا تھا، تمہیں بھی روکنے کی کئی بار کوشش کی مگر تم نے سننا گوارہ ہی نہیں کیا،ابھی بھی وقت ہے، کچھ نہیں بگڑا، اپنے بڑھتے ہوئے قدم روک لو، مانا کہ فیس بک پر سب ہی برے نہیں ہوتے لیکن کسی کی برائی کو دیکھ کر بھی کبوتر کی طرح آنکھیں بند کرلینا ہرگز دانشمندی نہیں“
٭٭٭


اور اب شانی باقاعدہ بلیک میلنگ پر اتر آیا تھا، رابی نے بہت کوشش کی کہ کسی طرح اس مصیبت سے جان چھوٹ جائے مگر وہ کسی بالائے ناگہانی کی طرح اس کے پیچھے پڑگیا، ایک نمبر سے بلاک کرتی تو دوسرے سے کال اور میسج کرکرکے جان عذاب میں ڈال دیتا، فیس بک پر ہی پتہنہیں کتنی آئی ڈیز کے پیچھے اسی کا چہرہ تھا،وہ اچھی طرح جانتا تھا کہ رابی اس کے بارے میں کبھی کسی سے کچھ نہیں کہے گی اور اب اس نے خود رابی کو بھی باور کرا دیا تھا کہ اگر اس نے اس کی خواہش پوری نہ کی تو وہ سب کچھ سوشل میڈیا پر ڈال کر اس کی زندگی تباہ کر دے گا
وہ جتنا سوچتی، اتنا ہی پریشان ہوتی جاتی، فریحہ سے بات کرنے کا بھی کوئی فائدہ نہیں تھا، اس نے تو پہلے ہی منع کر دیا تھا
” اللہ جی، اب میں کیا کروں، کدھر جاؤں“اس نے روتے روتے سرخ آنکھوں سے اوپر دیکھتے ہوئے دونوں ہاتھ دعا کے لیے پھیلا دیئے
٭٭٭


”یاہو! وہ آ رہی ہے“ شانی نے میسج پڑھتے ہی نعرہ لگایا ”جونہی وہ فلیٹ میں داخل ہو، ٹھیک دس منٹ بعد تم لوگ بھی آدھمکنا، زور زور سے دروازہ پیٹنا، میں اسی حالت میں اٹھ کر دروازہ کھول دوں گا، رنگے ہاتھوں پکڑے جانے پر وہ تم لوگوں کے لیے بھی انکار نہیں کر سکے گی“ اس نے ساتھ بیٹھے اپنے جگری دوستوں حبیب اور شاکر کو اپنے منصوبے سے آگاہ کیا، ان دونوں کے ہونٹوں پر بھی شیطانی سی مسکراہٹ پھیل گئی
٭٭٭


”مجھے پتہ تھا کہ تم ضرور آؤ گی“ شانی نے اس کے اندر داخل ہوتے ہی دروازے کی کنڈی چڑھا دی اور اسے پکڑنے کی کوشش کی
”صبر تو کرو“ وہ دھیرے سے ہنسی اور ادھر ادھر دیکھتے ہوئے بولی ’’اتنی دور سے آئی ہوں، تھوڑاسانس تو لینے دوں“ شانی نے کھسیانا سا ہوکر فریزر سے پانی کی بوتل نکالی اور اس کی طرف بڑھادی، فریزر میں شراب کی ایک بڑی سی بوتل بھی صاف نظر آ رہی تھی، موبائل اور لیپ ٹاپ بھی قریب ہی دھرے ہوئے تھے، شانی نے مخمور نظروں سے اس کی طرف دیکھتے ہوئے شرٹ اتاری، عین اسی وقت دروازے پر دستک ہوئی اور پھر دروازہ زور زور سے پیٹاجانے لگا
”کتنی جلدی ہے ان کمینوں کو“ اس نے ناگواری سے بڑبڑاتے ہوئے دروازہ کھولا تو ہکا بکا رہ گیا
خلاف توقع باہر اس کے دوستوں کی بجائے پولیس کی بھاری نفری موجود تھی
٭٭٭


پولیس نے شانی اور اس کے پورے گینگ کو گرفتار کرلیا تھا، موبائل اور لیپ ٹاپ بھی قبضے میں لے لیے تھے جن میں ان کی مکروہ حرکتوں کا پورا کچا چٹھہ موجود تھا، کیس بہت مضبوط بناتھا اور اب وہ بہت جلد اپنے انجام کو پہنچنے والے تھے، رابی نے اپنے اقبالی بیان پر دستخط کیے اور واپس جانے کے لیے حوالات کے قریب سے گزری تو شانی نے آخری بار اسے آواز دی
”سنو“
رابی پورے اعتماد کے ساتھ چلتی ہوئی اس کے سامنے جا کھڑی ہوئی
”بکو“
”صرف اتنابتا دو کہ تمہارے جیسی بزدل اور ڈرپوک لڑکی کے اندر اتنا بڑا قدم اٹھانے کا حوصلہ کیسے پیدا ہوا؟“
”ضرور بتاؤں گی“ اس نے زہرخند لہجے میں کہا ” دراصل تم جیسے لوگ ہمیشہ یہی سمجھتے ہیں کہ لڑکیاں کمزور ہوتی ہیں، اپنے حق کے لیے، اپنے ساتھ ہونیوالے ظلم پر آواز بلند نہیں کرسکتیں، اپنی بدنامی کے ڈر سے زبان بند کرلیتی ہیں، سب کچھ سہہ کر بھی چپ رہتی ہیں“ زرا توقف کے بعد اس نے شانی کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال دیں ” لیکن تم جیسے لوگ یہ نہیں جانتے کہ کمزور صرف لڑکیاں ہوتی ہیں بیٹیاں نہیں، بیٹیوں کے پاس تو باپ کی طاقت اور بھروسہ بھی ہوتا ہے اور جب کوئی لڑکی صرف بیٹی بن کرسوچتی ہے، مقابلے پر اترتی ہے تو اسے دنیا کی کوئی طاقت ہرا نہیں سکتی“
رابی نے آنسو پونچھتے ہوئے اپنے ابو کا بازو پکڑلیا
”میں نے اپنے ابو کو سب کچھ بتا دیا، انہیں بتا دیا کہ ان کی معصوم سی شہزادی بہک گئی تھی اور اس کی پاداش میں بے شک مجھے قتل کر دیں، میں نے بلیک میل نہیں ہونا, تمہارے جیسے کتوں کے آگے جھکنے سے کہیں بہتر تھا کہ باپ کی غیرت پر قربان ہوجاتی“

شیئر کریں

کمنٹ کریں