مکتب پر اشعار


بھلے لگتے ہیں اسکولوں کی یونیفارم میں بچے
کنول کے پھول سے جیسے بھرا تالاب رہتا ہے
منور رانا

مکتبِ عشق کے اصول نرالے دیکھے
اس کو چھٹی نہ ملی جس نے سبق یاد کیا
نامعلوم

دیکھ میں ہوگیا ہوں بدنام کتابوں کی طرح
میری تشہیر نہ کر اب تو جلادے مجھکو
نامعلوم

آگے زبانِ یار کے خط کھینچے سب نے میر
پہلی جو بات اس کی کہیں تو کتاب ہو
میر تقی میر

لیتا ہوں مکتبِ غمِ دل میں سبق ہنوز
لیکن یہی کہ “رفت” گیا اور “بود” تھا
مرزا غالب

وہ عجب گھڑی تھی کہ جس گھڑی لیا درس نسخہ عشق کا
کہ کتابِ عقل طاق پر جوں دھری تھی، تیوں دھری رہی
نامعلوم

تجھے کتاب سے ممکن نہیں فراغ کہ تو
کتاب خواں ہے، مگر صاحب کتاب نہیں
علامہ قبال

شکایت ہے مجھے یا رب خُداوندانِ مکتب سے
سبق شاہین بچوں کو دے رہے ہیں خاکبازی کا
علامہ اقبال

یہ فیضانِ نظر تھا یا کہ مکتب کی کرامت تھی
سکھائے کس نے اسماعیل کو آداب فرزندی!
علامہ اقبال

تجھے کتاب سے ممکن نہیں فراغ کہ تو
کتاب خواں ہے، مگر صاحب کتاب نہیں
علامہ اقبال

یہ علم کا سودا ، یہ رسالے ، یہ کتابیں
اک شخص کی یادوں کو بھلانے کے لیے ہیں

کہاں کہ مکتب وملا ، کہا ں کے درس و نصاب
بس اک کتاب ِمحبت رہی ہے بستے میں

لفظوں کے سینے شق ہیں، معنی عرق عرق ہیں
مَیں نے کتاب، ہستی کھولی جہاں جہاں سے

کھلی کتاب کے صفحے اُلٹتے رہتے ہیں
ہوا چلے نہ چلے، دن پلٹتے رہتے ہیں

بس ایک چہرہ کتابی نظر میں ہے ناصر
کسی کتاب سے میں استفادہ کیا کرتا

اس شہر میں کتنے چہرے تھے ،کچھ یاد نہیں سب بھول گئے
اک شخص کتابوں جیسا تھا ،وہ شخص زبانی یاد ہوا

جب کتابوں سے میری بات نہیں ہوتی ہے
تب میری رات میری رات نہیں ہوتی ہے

کتابوں سے دلیلیں دوں ، یا خود کو سامنے رکھ دوں
وہ مجھ سے پوچھ بیٹھے ہیں ، محبّت کس کو کہتے ہیں 

الوداع اسکول

لڑکپن کی رفیق اے ہم نوائے نغمۂ طفلی
ہماری گیارہ سالہ زندگی کی دل نشیں وادی
ہمارے ذہن کی تخئیل کی احساس کی ساتھی
ہمارے ذوق کی رہبر ہماری عقل کی ہادی
ہمارے دامن افکار پر تیرا ہی سایا ہے
خوشا اسکول کہ ہم نے تجھی سے فیض پایا ہے
ہماری دھڑکنیں تیرے ہی بام و در میں پنہاں ہیں
ترے ماحول میں ہم سب کے محسوسات غلطاں ہیں
ہماری آرزوئیں تیرے دالانوں میں رقصاں ہیں
نقوش عہد رفتہ تیرے ماتھے پر نمایاں ہیں
ہمارے واسطے تو ایک لافانی مسرت ہے
ہمیں اسکول تیرے ذرے ذرے سے محبت ہے
ترے آغوش میں بچپن کے ہم نے دن بتائے ہیں
ترے آنگن میں کتنا روئے کتنا مسکرائے ہیں
یہاں مسرور آنکھوں میں نئے ارماں جگائے ہیں
یہاں معصوم ہونٹوں سے ترانے ہم نے گائے ہیں
ترے سائے میں بچپن کی سہانی یادگاریں ہیں
ہمارے عہد گم گشتہ کے لمحوں کی قطاریں ہیں
یہاں سے دوستی کی کتنی تعمیریں اٹھائی ہیں
رفاقت کی حیات افروز دنیائیں بسائی ہیں
یہاں پر شوخیوں کی بے کراں موجیں بہائیں ہیں
یہاں بزمیں سجائی ہیں یہاں دھومیں مچائی ہیں
ترے پہلو میں کتنی ہی انوکھی وارداتیں ہیں
ترے ہونٹوں پہ کتنی ہی تبسم ریز باتیں ہیں
ترے دامن سے ہم نے قیمتی لمحات پائے ہیں
خلوص و انسیت کے بے بہا جذبات پائے ہیں
ترے ساغر سے ہم نے فیض کے جرعات پائے ہیں
ہماری فکر نے تجھ ہی سے رجحانات پائے ہیں
تجھے پا کر جو پایا ہے اسے ہم کھو نہیں سکتے
ترے ہیں تیرے اپنے ہیں پرائے ہو نہیں سکتے
نئے سازوں پہ جب تیرے ترانے گائے جائیں گے
نئے غنچے ترے گلزارؔ میں جب مسکرائیں گے
نئی کرنوں سے جب تیرے دریچے جگمگائیں گے
نئے ارمان جب تجھ میں نئی جنت بسائیں گے
نئے ساتھی ترے آنگن میں جب دھومیں مچائیں گے
تو شاید ہم بھی اے اسکول تجھ کو یاد آئیں گے
یہ مانا زندگی ہم کو بہت مصروف کر دے گی
ہمارے ذہن کو دنیا کے اندازوں سے بھر دے گی
ہزاروں مسئلوں پر دعوت فکر و نظر دے گی
کہ جب تھوڑی سی مہلت گردش شام و سحر دے گی
غم دوراں سے جب بھی فرصت یک لمحہ پائیں گے
تری یادوں میں کھو جائیں گے خود کو بھول جائیں گے
عبد الاحد ساز

شیئر کریں
مدیر
مصنف: مدیر
لفظ نامہ ڈاٹ کام کی اداریہ ٹیم کے مدیران کی جانب سے

کمنٹ کریں