ملکہ پکھراج

تحریر : ناصر خان ناصر۔ امریکہ

ماضی کی نامور گلوکارہ محترمہ ملکہ پکھراج صاحبہ ٹھمری کے انگ میں غزل گائیکی کا ایک منفرد اور بہت بڑا نام ہیں ۔ وہ پہاڑی اور ڈوگری زبانوں کے لوک گیت گانے میں خوب ملکہ حاصل رکھتی تھیں۔ محترمہ 1914 میں ہمیر پور سدھر میں پیدا ہوئیں۔ اخنور کے مشہور عالم نانگے فقیر بابا روٹی رام مجذوب نے ان کا نام ملکہ معظہ رکھا تھا۔ جس میں پکھراج کا اضافہ ان کی رقاصہ و گلوکارہ پھوپھی صاحبہ نے کر دیا۔ انھوں نے نو عمری میں ہی استاد علی بخش قصوری صاحب جو استاد بڑے غلام علی صاحب کے والد بزرگوار تھے، کے سامنے زنوائے تلمذ تہ کیا۔
محترمہ اپنی نوخیز بالی عمر میں ہز ہائی نیس مہاراجہ ہری سنگھ آف جموں و کشمیر کی تاجپوشی کی تقریب میں ایسا ٹوٹ کر گائیں کہ مہاراجہ ان پر لٹو ہی ہو گئے


مالا ہائے مروارید اور خلعتِ فاخرانہ و ملبوساتِ زر و زری و شاہی مرحمت فرمانے کے ساتھ ساتھ ترنت درباری گائیکہ کے باعزت رتبے پر سرفراز کر دیا۔ گھوڑا، ہاتھی، پالکی اور شاہی دربار میں کرسی ان کا حقِ استحقاق ٹہرے۔
آپ نو برس تک مہاراجہ ہری سنگھ کے دربار سے وابسطہ رہیں۔ اپنی چڑھتی کلا، جاگتی جوت، بے مثال ناز و نخرہ، حسن و جوانی اور سریلی آواز کی بدولت ان کی من پسند درباری گائیکہ ہونے کا شرف حاصل کر لیا۔ مہاراجہ سے ان کے گہرے روابط و قربت کا ذکرِ خیر شیرِ کشمیر جناب شیخ عبداللہ صاحب نے اپنی مایہ ناز کتاب “آتشِ چنار ” میں بھی کیا ہے۔


اسی زمانے میں ایک خبر جنگل کی آگ کی مانند پھیلی کہ مہاراجہ کو زہر خوانی سے مار ڈالنے کی ایک بڑی سازش ہوئی ہے۔ تفصیلات کھلیں اور اس سازش میں جب ملکہ پکھراج صاحبہ کا نام کھلے عام لیا جانے لگا تو محترمہ راتوں رات ریاست کے دیوان صاحب کے ہمراہ کشمیر سے چوری چھپے فرار ہو گئیں۔ تب سارے عالم میں یہ آکاش بانی پھیل گئی کہ دونوں نے خزانے سے ہیرے جواہرات، سونا چاندی اور جو کچھ ان کے ہاتھ لگا، سمیٹ، جانیں بچا کر بھاگ جانے میں ہی اپنی عافیت سمجھی ہے۔


دیوان صاحب کے لواحقین کا تو آج تلک یہی کہنا ہے کہ یہ سارا مال و متاع ملکہ پکھراج صاحبہ نے دیوان صاحب سے بھی ٹھگ لیا تھا اور انھیں کوڑی کوڑی کا یوں محتاج کر کے چھوڑ دیا تھا کہ چندیا پر بال تک نہ چھوڑا۔


شنیدن ہے کہ ملکہ صاحبہ خود بھی بہت عرصے تک چھپی چھپی پھریں۔ ایک مدت بعد بات دب جانے اور سارے ہنگامے کی دھول بیٹھ جانے کے بعد وہ لاہور آ گئیں اور سرعام نوابین و امراء کے لیے ناو و نیش اور راگ و رنگ کی محفلیں سجانے لگیں۔ ان کی شادی شبیر حسین شاہ صاحب سے ہو چکی تھی جو کہ ایک جونیئر سرکاری آفسیر تھے اور عمدہ ادبی ذوق و شوق رکھتے تھے۔ ٹی وی ڈرامہ سیریز “جھوک سیال” ان محترم کی تحریر کردہ ہے۔
تب تک پاکستان بھی آزاد ہو چکا تھا۔ کشمیر کی ریاست دو لخت ہو کر دونوں ملکوں میں بٹ چکی تھی۔ مہاراجہ قصہِ گردشِ ایام بن کر بھلائے جا چکے تھے۔
قیام پاکستان کے بعد ملکہ پکھراج صاحبہ نے ریڈیو پاکستان پر کالے خان صاحب کے کمپوز کردہ گیتوں، لوک گیتوں، ٹھمریوں اور غزلوں سے گویا سارے شہر کو سرخ رنگ دیا تھا۔ تان سین کی تانی کی مانند گویا ایک تہلکہ سا مچا رکھا تھا۔


ان کی ازدواجی زندگی نہایت کامیاب تھی۔ ان کے چھ بچے (چار لڑکے اور دو لڑکیاں) ہوئے۔ اپنی بیٹی تسنیم صاحبہ کو انھوں نے راگ داری سکھانے کی بھرپور کوشش کی مگر مار پیٹ اور سختی کے باوجود محترمہ تسنیم صاحبہ نے گائیکی سیکھ کر نہ دی، ملکہ پکھراج تھک ہار کر بیٹھ گئیں۔ پھر نئے سرے سے تازہ دم ہو کر اپنی دوسری چھوٹی بیٹی طاہرہ کی تعلیم و تربیت کا بیڑا اٹھایا۔


تب تلک راوی چین ہی چین لکھتا تھا، راوی کنارے بستے ہوئے انھوں نے اپنی دوسری بیٹی طاہرہ سید صاحبہ کو اپنا راگ داری کا سارا خزانہ تو سونپ ہی دیا، ناز و نخرے کے دل لبھاو زیورات سے بھی ایسا سجا دیا کہ شاید وباید۔ اخلاق، تہذیب، بڑے لوگوں میں اٹھنا بیٹھنا، تمدن، نفاست، سلیقہ، قرینہ، تمیزداری اور راگ داری ان میں کُوٹ کُوٹ کر یوں بھر دی جیسے گنگا جمنی کٹورے میں لبالب ٹھنڈا پانی۔ پان پھول پیش کرنے میں یوں طاق کر دیا کہ تاک کر اچھوں اچھوں کو طاق پر بٹھا دیں۔ ریاض اتنا کرایا کہ سانسیں تک سات سروں میں رچ بس گئیں۔ جب چاہیں تیور چڑھے سر یکدم کومل سروں کی مٹھار میں اتار لیں۔ اک اشارے پر سر کا دریا الٹا بہنے لگنے۔


اب ان کا کام مزید چل پڑا۔ محترمہ طاہرہ سید صاحبہ کو نہایت دلچسب انداز میں ٹی وی پر متعارف کروایا گیا۔ ہمیں یہ بات آج بھی روزِ روشن کی طرح یاد ہے کہ ٹی وی پر محترمہ ملکہ پکھراج صاحبہ ایک فریم میں بیٹھی جناب حفیظ جالندھری صاحب کی شہرہ آفاق نظم “ابھی تو میں جوان ہوں” الاپ رہی تھیں، استھائ کے نچلے و درمیانے سُر لگتے ہی فریم میں فٹ بیٹھی اُن کی صورت میں یکدم عجب نکھار آ گیا اور انترے کے سُر یکایک مزید سریلے و رسیلے سے ہو گئے۔
ہم دم بخُود بیٹھے دیکھ رہے تھے کہ دیکھتے ہی دیکھتے ان کا روپ بہروپ گویا بدل ہی گیا۔ ہم نے قریب بیٹھی اپنی ہمشیرہ صاحبہ سے سرگوشی کی کہ لگتا ہے ملکہ پکھراج صاحبہ نے شاید کسی ماہر سرجن سے پلاسٹک سرجری کروا لی ہے اور دوبارہ نوجوان بن گئی ہیں۔
یہ عقدہ تو کچھ دیر بعد کھلا کہ انترہ گانے والی وہ نہیں بلکہ اُن کی دخترِ نیک اختر طاہرہ سید صاحبہ ہیں۔
محترمہ طاہرہ سید صاحبہ کی یوں زبردست آمد نے موسیقی کے بڑے بڑے جغادری پنڈتوں کو خوب چونکا کر رکھ دیا اور ہر طرف ان کی نشیلی و سریلی آواز کے ڈنکے بجنے لگے۔ ان کی ایسی پذیرائی ہوئی کہ ہفت اقلیم میں دھوم مچ گئی۔


پھر انھوں نے ٹی وی کے ایک پروگرام میں مشہور شاعر احمد فراز صاحب کے سامنے بیٹھ کر ان کی غزل
“یہ عالم شوق کا دیکھا نہ جائے
وہ بت ہے یا خدا! دیکھا نہ جائے” گائی تو احمد فراز صاحب بُت بنے مبہوت بیٹھے، انھیں دیکھتے کے دیکھتے ہی رہ گئے۔ غزل ختم ہونے سے قبل ہی ایک عالم مدہوش ہو چکا تھا اور ان کا دیوانہ۔۔۔
محترمہ طاہرہ سید صاحبہ فلموں میں بھی گانے لگیں مگر یہاں دلِ ناتواں کا مقابلہ سخت تھا۔ اِس راجدھانی کی ملکہ چودہ بدھیا ندھان و نا مہربان ملکہ ترنم نور جہاں تھیں۔


ملکہ ترنم صاحبہ کا ریکارڈ ہے کہ انھوں نے آج تک کسی کو خود سے آگے بڑھ جانے کی اجازت نہیں دی۔ ملکہ پکھراج و دخترِ ملکہ کس کھیت کی مولیاں تھیں؟
دونوں بڑی گلوکاراوں کی چپقلش، جنگ عالمگیر ہنگامہ آرائی، گوہرِ سفتہ اور ناگفتن بات یوں ٹہری کہ طاہرہ سید صاحبہ نے اپنے ایک انٹرویو میں فرما دیا کہ نورجہاں صاحبہ کی آواز کو ایک بار سے زائد نہیں سنا جا سکتا۔ مزید غضب یہ ہوا کہ ان کی والدہ محترمہ نے بھی ان کی تائید میں اگٹا پیچی، خامہ فرسائی فرما دی جو جلتی پر تیل کا کام کر گئی۔
میڈم سے پنگا لینا اپنی موت کا سامان خود کرنا تھا۔ آ بیل مجھے مار۔۔۔
یہ انٹرویو سن کر جواباً ملکہ ترنم صاحبہ نے (جو کسی لگی لپٹی رکھنے کی سرے سے قائل ہی نہ تھیں) فصاحت و بلاغت کے ایسے ایسے دریا بہا دیے کہ سننے والوں کو اپنے اپنے کانوں کو ہاتھ لگانے پڑے۔


میڈم نے تو اپنے منہ سے خود اپنے آپ کو “غنڈی عورت” کا خطاب عطا کر رکھا تھا۔ محترمہ نے ایک تو فورا اِن ماں بیٹی کی ماں بہن ایک کر دی، دوسرے اِن بے چاریوں کی سات پشتوں کے گڑے مردے اکھیڑ کر رکھ دیے۔ دائی سے آخر کس کا پیٹ چھپا ہے؟


ترنت سارے بخیے ادھیڑنے کے بعد ان کی نانی دادی تک پرچول کر ان کے سارے پوشیدہ راز طشت از بام کرنے لگیں۔ تب بھی ڈیوڑھا لیکھا برابر نہ ہوا۔
موئےاخباروں کی تو گویا من کی مراد پوری ہو گئی ، دھڑا دھڑ ضمیمے اور شام کے شمارے چھپنے لگے۔ فلمی رسائل نے دونوں اطراف کے رموزیں چھانٹتے گرما گرم بیانات سے اپنے صفحات یوں کالے کرنے شروع کیے کہ اللہ دے اور بندہ لے۔


میڈم نور جہاں صاحبہ کی ایماء پر فلمی دنیا نے محترمہ طاہرہ سید صاحبہ کا مکمل بائیکاٹ کرنے کا اعادہ کیا تو ملکہ پکھراج صاحبہ کو کھلے عام اپنی شکست تسلیم کرنے، سر جھُکا کر خاموش ہو جانے اور اپنی چوکڑی بھول جانے کے علاوہ کوئی اور راہ نہ سوجھی۔ انھوں نے کھُلے بندوں معذرت نامے چھپوا کر جنگ بندی کے بگل بجا دیے۔


محترمہ طاہرہ سید صاحبہ کی بقیہ زندگی تو خیر سے الم نشرح ہے۔ اُس پر مزید حاشیے کیا چڑھانے؟
ملکہ پکھراج صاحبہ کو 1980 میں صدرِ پاکستان نے پرائڈ آف پرفارمنس عنایت فرمایا تھا۔ اِس سے قبل 1977 میں آل انڈیا ریڈیو کی گولڈن جوبلی پر اُنھیں
“Legand of voice”
کا ایوارڈ عنایت کیا گیا تھا۔
محترمہ ملکہ پکھراج صاحبہ کی آپ بیتی “بے زبانی زباں نہ ہو جائے” ان کی پوتی فرازے سید صاحبہ نے شائع کروائی ہے۔ ان کے مطابق مہاراجہ کی زہر خوانی والی ساری کہانی ملکہ پکھراج صاحبہ کے حاسدین و دشمنان کی گھڑی ہوئی ہے ۔ اور اس کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں تھا۔ واللہ اعلم۔

شیئر کریں
صدف اقبال بہار، انڈیا سے تعلق رکھنے والی معروف شاعرہ اور افسانہ نگار ہیں۔

کمنٹ کریں