معلومات کے تعلق سے انسانی رویہ

کالم نگار : علی نثار

, معلومات کے تعلق سے انسانی رویہ

معلومات کےبارے میں انسان دو طرح کا رویہ رکھتاہے
پہلا یقین اور انکار دوسرا اعتبار اور شک
پہلی قسم کا رویہ مذہب میں ہوتا ہے۔ آپ کو کچھ چیزوں کے وجود سے سرے سے انکار ی ہوتے ہیں اور کچھ پر مکمل یقین کرتے ہیں۔ “
مذہب میں تشکیک پر جستجو غالب ہے۔
تشکیک خدشے کا باعث
جستجو چیلنج کا باعث
تشکیک میں پہلے سے کسی شے پر دو یا دو سے زیادہ امکانات کا خدشہ
جستجو میں شے کی حقیقت کو جاننے کی تڑپ طلب اور کوشش
کم علم تشکیک کا نہیں جستجو کا طالب ہے
کج فہم پر تشکیک کا غلبہ رہتا ہے۔
جستجو غیر جانبدار جبکہ تشکیک میں جانبداری کا عنصر نمایاں ہے۔


مذہب میں ایک ہی شے کو ماننا یا انکار کرنا پڑتاہے اور وہ یہ ہے کہ یہ کائنات اور اس سے جڑی ہر شے اور قانون ایک قدرت مند ہستی کا پلان ہے اور اس نے حضرت انسان سے رابطہ کر کے اسکی تمام تفصیلات اشارے کنائے سمیت تمام تر لسانی اسالیب و تراکیب و عملی مشاہدات و امثال سے واضع کر دی ہیں۔
اور اس پر یقین کرنے کے لیے انسانی عقل و شعور کو کھلا اختیار بھی دے دیا ہے اور جس چیز پر یقین رکھنے کا حکم یا دعوت دی ہے اسکی حکمت تلاشنے کو سب سے بڑا ٹاسک قرار دیا ہے۔


اگر اس ایمان کو ایک جملے میں بیان کیا جائے تو ا س طرح کہہ سکتے ہیں کہ قادر مطلق کو مان کر انسان عقل کو اسکی قدرت پر غور کرنے کے لیے استعمال کرتا ہے
دوسرا جملہ بظاہر اسکے برعکس ہے لیکن درست ہے کہ انسان اپنی عقل سے کھوج لگائے کہ نظم کائنات کیا ہے اور کسی کی قدرت سے ہے۔
“دوسری قسم کا رویہ سائنسی ہے۔ آپ ہر انفارمیشن پر شک کرتے ہیں۔ “
سائنسی رویے میں ہم ہر انفارمیشن پر شک نہیں کرتے۔ اس پر کارل ساگان کا مشہور فقرہ ہے کہ “ہم ذہن کھلا رکھتے ہیں لیکن اتنا نہیں کہ ۔ ” سائنس میں بھی اعتبار کیا جاتا ہے۔ ٹھیک اتھارٹی پر اعتبار ہی علم کا درست طریقہ ہے۔
” مثلاً LIGO کی ٹیم نے دعویٰ کیا کہ انہوں نے گریویٹیشنل ویوز دریافت کیں۔ اس پر ساری دنیا نے اعتبار کر لیا۔ وجہ یہ تھی کہ انہوں نے اپنا طریقہ کار اور دستیاب ڈیٹا سب پر ظاہر کردیا اور کوئی بھی ان کو ٹیسٹ کرسکتا ہے۔ یہی شفافیت اعتبار کا سبب ہے۔”
یہ درست نہیں کہ کوئی بھی ان کو ٹیسٹ کر سکتا ہے۔ لائیگو کی دریافت کوئی بھی اور ٹیسٹ نہیں کر سکتا بلکہ یہ ڈیٹا صرف اور صرف لائیگو میں ہی حاصل کیا جا سکتا ہے
مذہب شک کے بغیر یقین اور انکار کا نام ہے۔ ہوسکتا ہے آپ کے پاس اس کی کوئی اور ڈیفینیشن ہو۔ جس موضوع کا تعلق سوشل سائینس سے ہے اور یہاں اختلاف کی بہت گنجائش ہوتی ہے۔


دوسری طرف سائنسی طریقہ کار میں تشکیکیت skepticism کی اہمیت کو لوگ تسلیم نہیں کرتے اور بڑوں کی بات کو آنکھیں بند کرکے ماننے کا حکم دیتے ہیں۔ دوسرے لفظوں میں آپ نے سائنس کو ایک مذہبی فرقہ سمجھتے ہیں، جس کے پروہت کسی کو بھی excommunicate کرنے کا حق رکھتے ہیں۔ آج اگر CALTECH جیسی سہولیات دوسروں کے پاس نہیں تو دس سال بعد ہوسکتی ہیں۔
یہ جو مباحث صدیوں سے ہوتے رہے ہیں اور خیالات کا ارتقا مسلسل رہا ہے، اس کے پیچھے کیا کارفرما تھا لیکن اس بحث کو رہنے دیتے ہیں۔
دوسری طرف سائنسی طریقہ کار میں تشکیکیت skepticism کی اہمیت کو آپ تسلیم نہیں کرتے اور بڑوں کی بات کو آنکھیں بند کرکے ماننے کا حکم دیتے ہیں۔


زیادہ تر لوگوںنے سائنس کو ایک مذہبی فرقہ سمجھتے ہیں، جس کے پروہت کسی کو بھی excommunicate کرنے کا حق رکھتے ہیں۔ یہ بات درست نہیں۔
یہ بات بھی بہت ہلکی ہے کہ لائگو کے دعوے کو کوئی دوسرا ٹیسٹ نہیں کرسکتا۔
میرا دعویٰ ہے کہ لائیگو جیسی فیسلٹی دنیا میں کوئی اور نہیں بنے گی۔ ہو سکتا ہے کہ یہ دعویٰ ہلکا ہو لیکن آپ اس کا وزن کیسے کریں گے؟آج اگر CALTECH جیسی سہولیات دوسروں کے پاس نہیں تو دس سال بعد ہوسکتی ہیں۔
نہیں۔ سائنس میں ہمارے پاس لامحدود بجٹ نہیں ہوتا۔ لارج ہیڈرون کولائیڈر ہو یا ہبل ٹیلی سکوپ یا لائیگو یا دوسری بے انتہا مہنگے آلات، یہ ایک ہی بار بنتے ہیں۔
لیکن بالفرض ہم ایک اور جگہ پر یہ آلہ دس سال بعد بنانے کا مفروضہ تسلیم کر بھی لیں تو دس سال شک میں مبتلا رہیں گے؟

شیئر کریں
علی نثار
مصنف: علی نثار
علی نثار صاحب کا تعلق حیدرآناد انڈیا سے ہے ۔ یہ کینڈا میں مقیم ہیں۔ بہترین افسانہ نگار ، ناقی اور مضمون نگار ہیں ۔ ان کے افسانے اردو کے تمام اہم رسائل میں شائع ہوتے رہتے ہیں ۔ عالمی سطح پہ ان کی تحریروں کو مقبولیت حاصل ہے ۔ پیشے سے بزنس مین ہیں ۔

کمنٹ کریں