تورع مژدہ حزم

تحریر : آفتاب سکندر

, تورع مژدہ حزم

تن کی شانتی، من کی شانتی دونوں نربھر چیزیں ہیں. انسانی زندگی میں بے سبب کچھ نہیں ہے من کی شانتی کے لئے. تن کی شانتی کا ہر سبب تب تک بے سبب و بے سود ہے جب تک آسائش و آلام کا ذریعہ نہیں بنتا. جوگ، سیوگ، جیون، شانتی کرانتی، سب کھیل ہے. تن کا ڈھکنا، من کا ڈھکنا یہ چاہ کی شہوت ہے. تن کا ڈھکنا بے سبب نہیں ہوتا اُس کے پیچھے نفسیاتی تسکین ہوتی ہے بے وجہ کی. حکومت کی، حکمران ہونے کی، محکوم بنانے کی، مخدوم ہونے کی، خادم بنانے کی، جابر کا جبر، قہار کا قہر بھی سبقت کی سیڑھی چلنے کے لئے ہوتا ہے. واصف کا وصف، توصیف کی صفت بھی سبقت کی تشنہ حزینی کے عالم کی سیرابی کے لئے ہوتی ہے.


مکت ہونا، درویش ہونا، جذب و شوق سے پاک ہونا اس کے لئے کٹھن ترین مراحل سے نہیں گزرنا پڑتا صرف دو چیزوں کو اپنانا ضروری ہوتا ہے. ایک نفس کا خاتمہ، شہوت کا خاتمہ، دوسری چیز معاشرت کو خیر آباد کہنا ہے. سماج سے تعلق داری ختم کرلینا، رہبانیت اختیار کرلینا. قنوطیت اور رجائیت کے جھیل جھمیلوں سے آزادی حاصل کرلینا تن کی خواری ہے مگر من کی شانتی کا سبب ہے.


من کی شانتی ہزار تن کی شانتیوں کا سبب بنتی ہے. یہ کیا ہے. یہ فلسفہ ہے منطق ہے حقیقت ہے کیا ہے. اس جملے میں بہت بڑا راز پنہاں ہے.
تن کی خواری میں ذلت صرف تن کی نہیں. انسانیت کی ذلت ہے. انسانیت کا فلسفہ درست فلسفہ نہیں. یہ فلسفہ اپنی آپ مرگ ہے. دہریت، ملحدیت خالق کی قائل نہیں مگر خلقت کی فلاح پر مکمّل عمل پیرا نہیں. کیونکہ اس کے پاس تن کی شانتی کی منطق ہے. اس کے پاس تن آسانی کی بشارت ہے. تن خواری کا گریہ ہے. من کی شانتی، من کا سکون، من کے دکھڑے، من کے جھمیلے اس میں سمائے ہوئے نہیں ہیں. یہ نظامِ کائنات کے حرف بہ حرف قائل ہیں. پیدا کرو اور پرورش کرو، تربیت کرو تن آسانی کی طرف لگاؤ. اس کے قائل ہیں تو یہ سمجھتے نہیں کہ نسلِ انسانی کے بڑھنے سے ہر آنے والے فرد کا مجرم ٹہھرنا ہوا. اس کی تن خواری کا ذمہ دار ہونا ہوا. یہ ایسے ہی جیسے سب کچھ پر عمل پیرا ہوکر خود کو بے عمل کہنا. ایدھی انسانیت کا قائل تھا درست جب تک پالتا تھا یہ ممتاز فعل کرتا تھا. پیدا کرنا جرم تھا کیونکہ اس کے سب ہونے تھے اس نے کسی کا نہیں ہونا تھا. ہاں پالنا درست فعل ہوا اور پیدا کرنا اور کچھ ہوا. یہ سمجھنے کی باتیں ہیں سمجھ کر بھی ناسمجھ کی سمجھ میں نہ آنے والی بات ہے.
من آسائش کا قائل نہیں یہ تن کی خواہش ہے . من کی خواہش من جانے. جاننے والا تب ہی جانے جب تن سے عاری ہوجائے

شیئر کریں

کمنٹ کریں