مصنف اور منشائے مصنف

مضمون نگار : محمد عباس

مضنف اور منشائے مصنف

بے چارہ اردو ادب …… جب فنکار کے کرائے کے مکان سے نکل کر تنقید کے شہرِ خراب میں محو خرام ہوتا ہے تو اس کے ساتھ بالکل کسی مجنون کا سا سلوک کیا جاتا ہے۔ ستم گاران شہر اسے اپنی دانشوری کا تختہ مشق یوں بناتے ہیں کہ تاب شنیدن نہیں رہتی۔ راہ چلتے کوئی متین صورت صاحب دبے پائوں آ کر اس کے سر پر فلسفے کی چپت لگا جاتے ہیں اور اس بے چارے کا سر گھنٹوں جھنجھناتا رہتا ہے۔ سماجی حالات سے پریشان کوئی مراقی سا نوجوان اپنے گھر کے سامنے کھڑا ’’پاگل اوئے!’’ کا نعرہ بلند کر کے فوراً طبقاتی کشمکش کے دروازے کی آڑ میں دبک جاتا ہے اور یہ جھلایا ہوا کھڑا آواز کی سمت کا اندازہ ہی کرتا رہ جاتا ہے۔ ادھر سے کوئی شرارتی لونڈا لپک کر نفسیات کا پتھر اس پر برسا مارتا ہے تو اس کے پاس سوائے بلبلانے کے کوئی چارہ نہیں ہوتا۔ تھوڑا آگے گلی کی کسی نکڑ پر چپکے سے کوئی ٹوڈی بچہ آ کر اس کے پچھلے دامن سے مغربی علوم کے پٹاخے باندھ، آگ دکھا کر غائب ہو جاتا ہے جبکہ یہ انتہائے بے کسی سے ہاتھ بھر اُچھلتا رہتا ہے۔ کوئی سامری صورت حضرت اجتماعی لاشعور کے کھٹارہ موٹر سائیکل پر بیٹھے، علامتوں، استعاروں کا پشتارہ کیرئیر پر دھرے اس کے قریب سے گزرتے انجانے میں جان بوجھ کر ہلکی سی سائیڈ مار جاتے ہیں۔ یہ اٹھ کر جب دیکھتا ہے تو دُور ان کے اساطیری سائیلینسر سے نکلتا محض دھواں ہی نظر آ رہا ہوتا ہے۔ مگر سب سے بڑا ظلم تو کیا ان مابعد جدیدیت والوں نے کہ اس عاجز کے راستے میں لسانیات ، ردِّتشکیل اور پس ساختیات وغیرہ کے کیل کانٹے بکھیر دیے۔ اب اس غریب کے پیر لہو لہان ہیں۔ درد سے بیتاب، نقاہت سے لڑکھڑاتا، پائوں کے آبلوں کو ٹھیس سے بچاتا، ہانپتا کانپتا، تھکا ہارا واپس ادیب کے گھر کے تھڑے پر جا لیٹا ہے۔ ادیب صاحب اب گھر پر نہیں، انہیں تو قاری اساس تنقید والوں نے عدم ادائیگی کرایہ کے جرم میں بے دخل کر رکھا ہے۔ اب اس خستہ حال کی خبر گیری کرے بھی تو کون…؟؟ بس آنکھیں کھولے نیچے پڑا یک ٹک اوپر فلک کج رفتار کی گردش دیکھتا ہانپ رہا ہے۔


’’ما بعد جدیدیت کا دوسرا رُخ ‘‘ میں ضمیر بدایونی صاحب فرماتے ہیں:
’’……قاری کو مصنف کی نہیں بلکہ بنیادی طور پر تصنیف کی ضرورت ہوتی ہے۔ معنی تو قاری کے ذہن میں موجود ہوتے ہیں۔ تصنیف اس کو حرکت میں لے آتی ہے۔ مصنف تو قاری اور تصنیف کے باہمی تعامل سے خود بخود پیدا ہو جاتا ہے۔‘‘


جیسے کوئی کہے کہ حرکت تو گاڑی کے اندر موجود ہے، ڈرائیور محض اسے اسٹارٹ ہی کرتا ہے۔ چلیں مانا کہ اس مصنف بیچارے کی اتنی ہی حیثیت ہے مگر پھر بھی ڈرائیور کے بغیر معنی کی گاڑی آخر کیسے چل سکتی ہے؟ ہاںما بعد جدیدیے مل کر اسے دھکا لگاتے رہیں تو شاید تھوڑی بہت حرکت کر لے تو اس کی قسمت۔ یا پھر نقاد صاحب کے کہے کی وضاحت یوں ہو سکتی ہے کہ سواری کو محض سفر سے غرض ہے، اسے ڈرائیور سے کیا واسطہ! بات کسی حد تک درست ہے، سواری روزانہ فائلیں بغل میں دبائے بس پر بیٹھ کر دفتر آتی جاتی ہے، ایسے میں اسے بس کا نمبر، ماڈل، رنگ وغیرہ سب ہی یاد ہو جاتے ہیں لیکن ڈرائیور کی صورت بھی کبھی نہیں دیکھی ہوتی اور وہ بھی سواری سے بے نیازگاڑی کو ٹریفک کے منجدھار سے باہر نکالنے کی فکر میں مبتلا ہوتا ہے۔ مگر جس دن گاڑی کی حرکت غیر متوازن ہو جائے تو وہی سواری چلا اُٹھتی ہے۔ اسی طرح جب ادب کی شاہراہ پر معانی کی گاڑی بھی ڈولنے لگے تو اس کی رفتار اور سمت ہموار رکھنے کے لیے مصنف کی ضرورت پیش آتی ہے۔ اگر ایسے میں پتہ چلے کہ ڈرائیور صاحب تو آگے ما بعد جدیدیت کی اوگھٹ گھاٹیاں دیکھ کر چلتی گاڑی سے کود چکے ہیں تو سواری کے لیے پھر آیت کریمہ کا آسرا ہی رہ جاتا ہے۔
شاید ان کا مقصود ہے کہ مصنف کو ایک طرف رکھ کر قاری اساس تنقید کا چراغ رگڑتے ہوئے معنویت کا جن نکالا جائے۔ ایک متوازن نقطہ نظر تک تو یہ بات قابل قبول ہو سکتی ہے اور یقینا فن پارے سے نئے معانی پانے میں کامیاب بھی ہوگی لیکن جب لہجہ اس قدر شدید ہو جائے کہ:


’’……لیکن کرسٹیوا نے اس خیالی مصنف کو بھی ختم کر دیا اور بین المتنیت کا نظریہ پیش کر کے منشائے مصنف کی پرچھائیں سے بھی محروم کر دیا۔‘‘


تو پھر لازم آتا ہے کہ کوئی اردو غزل کے اس مفلوک الحال عاشق کی حمایت میں بھی اپنا مقدمہ پیش کرے۔ مابعد جدیدیت کے ٹرک ڈرائیور جو چھابڑی ہوٹل سے ایک ہی متن کی پتی کو کاڑھ کاڑھ کر بنی چائے مزے سے پی سکتے ہیں، ان کے لیے تو یہ نظریہ تلذذ کا باعث ہو سکتا ہے لیکن ہم لوگ جو چائے کے ذائقے سے زیادہ بنانے والے کی چاہ سے لطف اُٹھاتے ہیں، ہمارے ذوق کے لیے یہ عمل گناہِ بے لذت ہو گا۔ ہم چھابڑی والی چائے پی سکتے ہیں اور پئیں گے بھی مزے سے لیکن وہ حظ نہیں اٹھا سکیں گے جو کسی نازنین کے شیریں ہاتھ سے بنی چائے سے پاتے ہیں۔ سو ہمیں فن پارے سے لطف اٹھانے کے لیے مصنف سے محروم ہونا قطعی گوارا نہیں۔ آپ خواہ اس میں سے معانی کا جہان بھی پیدا کرنے کا دعویٰ کریں لیکن مصنف کے گلے پر چھری پھیرنے کی شرط پر ہمارے لیے یہ سودا مہنگا ہے کہ کچھ لوگ فن پارے صرف معنی کشید کرنے کے لیے ہی نہیں، مصنف سے ملاقات کا لطف اٹھانے کے لیے بھی پڑھتے ہیں۔ آپ چھابڑی ہوٹل کی کڑوی کسیلی چائے پینے کے بعد لاکھ اس کے فوائد ثابت کریں کہ اس سے بندہ چست ہو جاتا ہے، ڈرائیونگ کے دوران نیند کا غلبہ نہیں ہوتا لیکن ہمیں تو بس اپنی نازنین کی چائے ہی پیاری ہے۔ ہمارے لیے اس کا مقصد اور فائدہ بس یہی ہے کہ جب لبوں سے ملے تو اک شیرینی سی گھل جائے۔ اگر ادب سے ادیب کاسوز ِآتشِ تمنا سے دہکتا بدن چھین لیا جائے تو پھر کوئی نقاد ادب کے بروئے کار نہیں آ سکے گا۔
ضمیر صاحب مزید لکھتے ہیں:


’’لسانی وجود یا linguistics مفروضہ متن اور قاری کی ضرورت پوری کرنے کے لیے کافی ہے۔ اس لسانی شکست و ریخت کے بعد مصنف کے وجود کا اگر کچھ حصہ رہ جاتا ہے تو آج کے بعد قاری کو اس پر اکتفا کرنا ضروری ہے۔‘‘


دراصل یہ بے سمت لوگ خود مرکز سے بچھڑے ہوئے ہیں تو فن پارے کو بھی مرکز سے محروم کر دینا چاہتے ہیں۔ مصنف کی موجودگی کا احساس فن پارے کے اندر ایک مرکزی معنی کو سہارا دیتا ہے جس تک پہنچنے کے لیے مصنف اور اس کے ادبی و سماجی ماحول تک رسائی بھی معاون ثابت ہوتی ہے۔ اس مرکزی معانی تک رسائی کے بعد اب قاری کا شعور مختلف نقطہ نظر سے اسے دیکھنے کی کوشش کرے توکسی نئے معانی کی چھوٹ پڑتی نظر آئے گی جس سے فن پارے کے مرکزی معانی کی توسیع بھی ہوگی اور نئی تعبیر قاری کے حظ میں یقینی اضافہ بھی کرے گی۔ لیکن یہ مابعد جدیدیے جنہوں نے اپنے لیے نام بھی اتنا مشکل منتخب کیا ہے کہ مجھ جیسے ضیق النفس کے مریض کا سانس بھی پھولنے لگتا ہے، اپنی اس کم عقلی کو چھپانے کے لیے جو فن پارے کے اس مرکزی معانی تک پہنچنے کی اہلیت نہیں رکھتی، جو بھی الٹی سیدھی تشریح سمجھ میں آئے، اپنی قاری اساس تنقید کے نام پر لکھا کرتے ہیں۔


سوال تو یہ ہے کہ ہم ادب پڑھتے کیوں ہیں؟ کیا صرف معانی اخذ کرنے کے لیے؟ وہ بھی مابعد جدیدیوں کے بقول، صرف معانی جو پہلے ہی ہمارے پاس موجود ہیں، اگر ایسا ہے تو پھر ہم ادب ہی کیوں پڑھیں؟ فلسفہ مغرب کی تاریخ یا سو عظیم مفکرین جیسی کتابیں کیوں نہ چاٹتے رہیں؟ ادب کا مطالعہ تو انسان کسی نئی دنیا تک رسائی کے لیے کرتا ہے۔ جب تک کوئی فن پارہ ہمیں کسی نئی دنیا (خواہ یہ دنیا جذبات کی ہو، محسوسات کی یا افکار کی)میں نہیں لے جاتا، تب تک وہ فن پارہ حقیقی معنی میں فن پارہ کہلانے کا حقدار نہیں ٹھہرتا۔ اسی لیے اچھے فن پارے کی ایک اہم صفت حیران کرنے کی صلاحیت ہے۔ جو فن پارہ قاری کو متحیر یا مرعوب نہ کر دے، بڑا فن پارہ نہیںہو سکتا۔ اگر اخباروں میں چھپنے والی تین عورتیں تین کہانیاں یا خواتین کے ڈائجسٹوں میں شامل کہانیوں کی بات ہو،دوا کے ڈبے سے نکلنے والے لٹریچر کی بات کریں، یا مذہبی تنظیموں کے انتہا پسندانہ لٹریچر کی تو واقعی ان کے معانی قاری کے ذہن میں پہلے سے موجود ہو سکتے ہیں لیکن ایک حقیقی فن پارہ ایک نئی دنیا کی تخلیق کے ساتھ معانی کی نئی کہکشائیں بھی لے کر آتا ہے۔ ہم ادب پڑھتے ہیں اس نئی دنیا کی سیر کرنے کے لیے، اس کے رنگوں کو اپنی آنکھوں میں سمونے کے لیے، اس کی خوشبوئوں سے مستی بھرا لطف اٹھانے کے لیے۔معنی پر غورو فکر توتب ہو گی جب وہ اپنی کاملیت ثابت کر دے گا۔ ایسے میں اگر کوئی نقاد اپنے بنائے ہوئے قاری اساس پرفیوم کا چھڑکائو کرنے لگے تو پھر فنکار کے دست چابک سے تخلیق پائی، زندہ خوشبوئیں اپنی موت آپ مر جاتی ہیں اور نقاد کی بے تحاشا چھڑکی پرفیوم ذوق لطیف کے سر چڑھنے لگتی ہے۔
ضمیر صاحب اگر بضد ہیں تو یہ بھی تسلیمکہ معانی ہمارے اندر موجود ہوتے ہیں لیکن پھربھی ان کی جوت جگانے کے لیے آخر فن پارہ ہی ذریعہ بنتا ہے ۔ اگر فن پارہ نہ ہوگا تو یہ معانی شاید قیامت تک اندر ہی مست خواب رہیں۔ یہاں قاری کے اندر پہلے سے موجود معانی کی بابت بھی عرض کرتا چلوں کہ یہ صرف واہمہ ہی کہلایا جا سکتا ہے کہ معانی ہمارے اندر تھے اور فن پارے نے انہیں فقط مہمیز کیا ہے۔ دراصل یہ سب فن کا معجزہ ہے، فن جب اپنے کمال کو پہنچتا ہے تو قاری کی رگوں کا خون تک اس پہ ایمان لے آتا ہے۔ اس مقام پر قاری کو یہ گمان گزرتا ہے کہ لکھنے والے نے جو لکھا ہے، یہ تو پہلے ہی اس کے ذہن میں موجود تھا۔


دیکھنا تقریر کی لذت کہ جو اس نے کہا
میں نے یہ جانا کہ گویا یہ بھی میرے دل میں ہے


مگر اس کی حقیقت کچھ بھی نہیں، یہ محض واہمہ ہے جو فن کے جادو سے وجود میں آتا ہے اور ایک ادب پارے کی کامیابی کا یہی ثبوت ہے کہ قاری کے دل میں یہ واہمہ پیدا کر دے لیکن جب ساحری اپنا واہمہ بنا دیتی ہے تو سادہ لوح نقاداس سے لطف لینے کی بجائے اس واہمے کا بت تراش کر پوجنے لگتے ہیں۔یہ وہی Animism ہے کہ وحشی انسان خالق کائنات تک رسائی کی بجائے محض اس کے بنائے فطری مظاہر کی پوجا پاٹھ میں لگا رہتا تھا۔ وحشی انسان کی حد تک تو یہ پھر بھی جائز ہے مگر جب انگریجی پڑھنے والے جنٹل مین بھی اس واہمے کا شکار ہو جائیں تو:


ع ناطقہ سربگریباں ہے اسے کیا کہیے


اگر معانی قاری میں نہیں تو پھر کس میں ہیں؟ یقینا فن پارے میں۔ ہم پھر اس کے تخلیق کار کو اس سے جدا کیوں کریں، مصنف تو وہ ماچس ہے جو ادب پارے کے سگریٹ روشن کرتی ہے اور یہ تو کچھ اہل دل ہی جانتے ہیں کہ دنیا کی قیمتی سے قیمتی سگریٹ بھی ٹکے کی ماچس کے بغیر محض کچرہ ہوتی ہے۔ یوں اگر ہم مصنف کو معطل کر دیتے ہیں تو ادب پارہ بھی ایک بیکار سگریٹ بن جاتا ہے جسے شیخی بگھارنے کے لیے کانوں میں تو اڑسا جا سکتا ہے، کش لگا کر مزہ نہیں لیا جا سکتا۔ ادیب کم قیمت ہی سہی مگر اس کی قدر اتنی تھوڑی بھی نہیں جتنی لفظوں کا ٹین ڈبہ تول خریدنے والے مابعد جدیدیت کے کباڑیوں کو نظر آتی ہے۔ اور پھر یہ بھی ہے کہ معانی ہزار قاری کے ذہن میں پہلے سے موجود ہوں لیکن ایک اچھا فن پارہ صرف اس کا بیان ہی نہیں کرتا، بلکہ قاری کو اس کے تجربے سے بھی گزارتا ہے۔معنی کا گلاب جامن تجربے کے دہن پر آئے تو لطف دیتا ہے ورنہ ذہن کی بیکری میں پڑا پڑا مکھیوں کی خوراک بن جاتا ہے۔ اب یہ تو ہر کسی کو پتہ ہے کہ موہ مایا انسان کو برباد کر کے رکھ دیتا ہے لیکن ’’مادام بوواری‘‘ پڑھ کر ہم اس معانی کے تجربے سے گزرتے ہیں۔ ہمارا شعور اس تک پہنچے نہ پہنچے، ہمیں اس نتیجے کے بیان کے لیے لفظ ملیں نہ ملیں، مگر ہمارا رواں رواں اس تجربے کی لطافت پر ایمان لا چکا ہوتا ہے۔ ’’سہاگ کی پہلی رات‘‘ پڑھ کر یہ تو ہمارے سکول کے چھوکرے بھی جان چکے ہوتے ہیں کہ شادی ایک مسرت بھرا تجربہ ہے لیکن ونود کمار شکل نے ’’دیوار میں ایک کھڑکی رہتی تھی‘‘ میں اس سوچ کو جس طرح تجربے کی صورت عطا کی ہے، اپنی بیوی کی صورت سے بیزار بندہ بھی اس تجربے کی لطافت سے انکار نہیں کر سکتا۔ کوئی بھی انٹلکچوئل گھٹیا درجے کے سگریٹ کا سوٹا مار کر یہ فلسفیانہ جملہ کہہ سکتا ہے کہ …’’انسان موت کو سامنے دیکھ کر بھی اپنا جینے کا حوصلہ نہیں ہارتا!‘‘… لیکن جس نے ’’بہائو‘‘ کے آخر پر پا روشنی کی ہا و ہو ودھم سنی ہو، وہ اس حوصلے کو مجسم دیکھ سکتا ہے۔ یہ ادب کا تجربہ ہے، یہ ادیب کا فن ہے جو چپ چاپ رگ جاں میں اتر جاتا ہے اور کسی دلیل کسی جواز کا محتاج نہیں رہتا۔


؎چپ چاپ رگ جاں میں اتر جاتی ہے ناظر
پڑھنے سے پڑھانے سے محبت نہیں آتی


ادب کے معنی سے مراد وہ فکر نہیں ہے جو فن پارے میں پیش ہوئی ہے بلکہ وہ تجربہ ہے جسے فن پارے کی شکل ملی ہے اور اس فن پارے سے ہم مصنف کی ذات کو تحلیل نہیں کر سکتے۔ مصنف تو وہ جاگ ہے جو دودھ کو دہی میں بدلتا ہے! مصنف کو ایک طرف کر دینے پر ہم فن پارے سے بھلا کیسے لطف اندوز ہو سکتے ہیں، اس کے پوشیدہ معانی تک کس طرح رسائی حاصل کر سکتے ہیں۔ مجید امجد کی ’’آٹو گراف‘‘ ، فیضؔ کی ’’زنداں نامہ‘‘ ، ناصرؔکی ’’پہلی بارش‘‘ فنکار کی شخصیت سے الگ کر کے پڑھیں تو آپ اسی تخلیق کے معانی کے دوسرے قطب پر کھڑے ٹھٹھرتے نظر آئیں گے۔ فنکار تو وہ بارش ہے جس کے زمین کے انگ انگ میں رچنے سے ہی زمین کا گوشہ گوشہ لہلہاتے رنگ پیدا کرتا ہے۔ اس کے بغیر فن پارہ خشک پتھریلی زمین میں تبدیل ہو جائے گا جہاں لسانیات کے ہزار ہل چلانے کے باوجود دھرتی کی مہک سے ہمکتی معانی کی فصل نہیں اگ سکے گی۔
فن پارہ اظہار ہے فنکار کی ذات کا، (معاف کیجئے گا، کہ اتنے پوسٹ ماڈرن نظریات کے جواب میں ناچیز اِتنے گھسے پٹے جملے پیش کر رہا ہے!) اور فنکار کبھی اپنی پوری ذات کا اظہار فن پارے میں نہیں کر پاتا۔ اس کے کچھ حصے ان کہے ہی رہ جاتے ہیں۔ قاری جب مصنف تک رسائی حاصل کرتا ہے تو ان تشنہ اظہار پہلوئوں کی مدد سے فن پارے کے معانی کی توسیع ہو جاتی ہے۔ یا پھر فنکار کی شخصیت کے کچھ گنجلک عناصر فن پاروں میں شامل ہو جاتے ہیں لیکن ان کی شناخت تب تک ممکن نہیں ہوتی جب تک شخصیت سے راہ و رسم نہ پیدا کی جائے۔ مجید امجد کی شاعری کا اچھا خاصا حصہ شالاط سے ان کے تعلق کو جانے بغیر پوری طرح دائرۂ تفہیم میں نہیں آتا۔ راشد کا ’’حسن کوزہ گر‘‘ ان کے اند رکے فنکار کے ساتھ بوقت مے پرستی ہی کھل سکتا ہے۔ غالب کے قصیدے اور بہت سی غزلیں ان کی شخصیت کے بغیر معانی سے محروم رہتی ہیں۔ پھر ایک سوال یہ بھی ہمارے سامنے آتا ہے کہ کیا کسی فنکار کا کوئی انفرادی فن پارہ اپنی جگہ خود مختار ہو سکتا ہے جو معنی کی جلوہ نمائی کے لیے وقت، مقام اور مصنف سے آزاد ہونے کے علاوہ فنکار کے دوسرے فن پاروں سے بھی بے نیاز ہو!… کیا ایسا ہونا ممکن ہے؟؟ ایک سطح پر اس کا امکان تو نظر آتا ہے کہ کسی فنکار کا کوئی ایک فن پارہ پورے معانی دے سکے۔ لیکن ہم اسے اصول نہیں بنا سکتے۔ یہ تو ان کٹر گوروں کا سا متعصبانہ رویہ ہے جو ایک اسامہ بن لادن کی وجہ سے سبھی مسلمانوں کو دہشت گرد سمجھتے ہیں۔ کسی نئے شہر میں ملنے والے پہلے شخص کا جو مزاج ہو، وہی پورے شہر کا نہیں ہوتا۔ پورے شہر کو سمجھنے کے لیے شہر کو پوری طرح سے دیکھنا پڑتا ہے۔ فنکار تو اپنے تجربات کو مختلف فن پاروں میں بیان کرتا چلا جاتا ہے۔ لازم ہے کہ اس کے کسی ایک فن پارے کی تفہیم کے لئے اس کے سارے فن کو بنظر غائر دیکھا جائے۔ ادیب کی مثال تو سیمنٹ فیکٹری کے اس مزدور کی سی ہے جو سیمنٹ بنانے والی مشین میں پِس کر اپنے ہاتھوں سے بننے والے سیمنٹ میں شامل ہو گیا تھا اور اس کی محبوبہ نے اُس دن بننے والے ہزاروں سیمنٹ کے تھیلوں میں استعمال کرنے والوں کے لئے یہ درخواست لکھ کر پیک کروائی تھی کہ یہ سیمنٹ احتیاط سے استعمال کیجئے گا، کیا پتہ اس میں میرے محبوب کا کون سا حصہ ہو! بعینہٖ فنکار کے وجود کا کون سا حصہ کس فن پارے میں کہاں رچ گیا، یہ کون جان سکتا ہے؟ ایک فنکار کی تمام تر تخلیقات پڑھ کر ہی اس کا کوئی ایک فن پارہ پوری طرح سمجھ میں آسکتا ہے۔ ’’کئی چاند تھے سرِ آسمان!‘‘ کی تفہیم میں فاروقی کی ’’سوار اور دوسرے افسانے‘‘ جس قدر معاون ہے، اس سے کون انکار کر سکتا ہے۔میرؔ کے دروں بیں ہونے کا امیج ان کی مثنویاں اور ’’ذکر میرؔ‘‘ پڑھ کر ٹوٹ جاتا ہے۔ یوں اگر یہ بات سمجھ آتی ہے کہ کسی فن کی تفہیم کے لیے اس کے فن کا بحیثیت کل مطالعہ کرنا پڑے گا تو پھر فنکار کی تفہیم بھی لازم قرار پائے گی ورنہ ایک دو شعر یا افسانے سے نتائج اخذ کرنے والے نقاد اور اس کٹھ ملا میں کیا فرق رہے گا جو قرآن کی کچھ آیتوں کو اپنے ذاتی مفاد کے لیے استعمال کرتا رہتا ہے؟ تنقید تو فن پارے کی پوری تفہیم کا نام ہے اور پوری تفہیم پورا فنکار پڑھے بغیر ممکن نہیں اور پورا فنکار اپنے فن کے ساتھ ساتھ اپنی شخصیت سے گرفت میں آتا ہے۔ یگانہ کی شاعری سمجھنے کے لیے ہم چاہے زبان کا سارا علم استعمال کر لیں، اردو غزل کی روایت گھونٹ کر کیوں نہ پی جائیں، یگانہ کی غزل اس وقت سمجھ نہ آئے گی جب تک خود یگانہ سمجھ نہ آ جائے۔ یہ ٹھیک ہے کہ فنکار کا علم ہوئے بغیر بھی کوئی فن پارہ اپنا کوئی نہ کوئی معانی تودے ہی دے گا! مجھے بھی اس سے انکار نہیں، میں تو صرف یہ کہنا چاہتا ہوں کہ فنکار کے بغیر ہی فن تک رسائی ایک فارمولا ہرگز نہیں بننا چاہیے۔


آخر یہ ادب ہے، کوئی دوا نہیں کہ بنانے والے کا علم ہوئے بغیر بھی اپنا پورا اَثر دکھائے۔مریض کے لیے تندرستی ضروری ہے، دواساز کے بائیوڈیٹا کی بجائے دوا کی تاثیر اہم ہے ۔ادب کا قاری کوئی مریض نہیں کہ جس کے لیے نقاد مابعد جدیدیت کا سفید اوورآل پہنے، لسانیات کے پیڈ پر جو نسخہ لکھ د ے گا، مریض کو وہی استعمال کرنا لازم ہے۔ ادب کا قاری تو فن پارے کے سبھی رنگ دیکھنے اور برتنے کی ہوس رکھتا ہے۔ ایک کسان کی طرح جو دودھ کو دہی سے پنیر تک درجنوں رنگ میں استعمال کرتا ہے اور اس کے ہر روپ سے نشیاتا رہتا ہے۔ قاری تو ہر وہ طریقہ اپنانا چاہتا ہے جس کے ذریعے وہ فن پارے میں نئی معنویت پیدا کر سکے۔ وہ اگر ضروری سمجھے گا تو فنکار کو علیحدہ بھی کر دے گا اور اگر ناگزیر جانا تو فنکار کا مطالعہ کر کے فن پارے کے معانی تک پہنچنے کی کوشش بھی کرے گا۔ اس لیے مصنف کا گلا گھونٹ نظریہ اس کے لیے قابل قبول نہیں۔ مصنف کو ایک طرف کر کے وہ کس طرح معانی کی سبھی سطحوں تک رسائی حاصل کر سکتا ہے۔درحقیقت یہ نظریہ ان لوگوں کا ہے جہاں دو صدیاں پہلے خدا تک کو موت کے گھاٹ اتار دیا گیا تھا، ان کے لیے مصنف کی موت کوئی خاص مسئلہ نہیں، اور ہمارے ہاں تو ابھی تک جیب کٹنے میں بھی خدا کی مرضی شامل ہوتی ہے، ہم کیسے مصنف سے منہ پھیر سکتے ہیں۔


اگر ب ات اس لٹریچر کی ہو جو مارکیٹنگ سے تعلق رکھتا ہے ، اس کا مصنف واقعی فوت شدہ ہوتا ہے۔ مگر تخلیقی ادب پر تو مصنف کی چھاپ ختم ہوتی ہی نہیں، جیسا کہ انتظار حسین نے ذکریاؑ کی مثال دی تھی کہ مصنف فن پارے کے اندرجتنا بھی چھپنا چاہے، اس کے دامن کا سِرا نظر آتا رہتا ہے۔ آنکھوں پر مابعد جدیدیت کی چربی چڑھی ہو تو مصنف اگر سامنے بیٹھ کر سینہ کوبی بھی کرتا رہے تو نقاد اس سے بے نیاز اپنی مابعد جدیدیت کی ہنڈیا میں رد تشکیل کا چمچہ ہلاتے رہیں گے۔ قاری بے چارہ صرف لسانیات کی کشتی کے سہارے ادب کا سمندر نہیں چھان سکتا،وہ آپ کی طرح معانی کی صرف انہی مچھلیوں کو پکڑنے کے لیے ادب نہیں پڑھتا جن کا ذائقہ اس کی انگلیاں بھی بتا سکتی ہوں، نہ کسی مناظرہ باز عالم کی طرح صرف اپنے موقف کی تائید کرنے والی احادیث کی تلاش میں سرگرداں رہتا ہے۔ اول تو وہ فن پارہ صرف اپنے لطف کے لیے پڑھتا ہے اور اگر اسے فن پارے کے پوشیدہ معانی تک پہنچنے کی خواہش ہو بھی تو وہ اس کی تفہیم کے لیے کسی بھی ذریعے سے مدد لے سکتا ہے۔ آپ اسے صرف لسانیات کی زنجیروں میں جکڑنے کی کوشش کیوں کرتے ہیں۔ یہ تو ہر اک حلقۂ زنجیر میں زباں رکھ دینے والے فنکاروں کا قاری ہے، یہ آتش زیر پا قاری ان زنجیروں کا پابند نہ رہ سکے گا۔ آپ کیوں اس کی نظر آزمانے کے لیے اس سے الف ب کا چارٹ پڑھواتے ہیں؟ اس کی نظر میں کوئی فتور نہیں بلکہ یہ اتنی باریک بیں ہے کہ آپ کے دماغ کا فتور تک پڑھ سکتی ہے۔


آگے چل کر رولاں بارتھ کا مضمون پڑھتے پڑھتے فاضل نقاد عینک کے موٹے موٹے شیشوں کے عقب سے اپنی برفیلی نگاہیں قاری کے چہرے پر جما دیتے ہیں اور ارشاد ہوتا ہے:
’’یہ تاثر غلط ہے کہ نئی ادبی تھیوری میں مصنف کی موت واقع ہو گئی ہے اور جس چیز کو بھی ہم چھوتے ہیں، وہ اس کی نعش ہے! یا یہ کہ جدیدیت اور مابعد جدیدیت کا عظیم مینار ہم نے مصنف کی لاش پر تعمیر کیا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ مصنف ہمیشہ کی طرح اب بھی موجود ہے۔ ہم اسے دائمی طور پر Deconstruct نہیں کر سکتے۔ جو تبدیلی واقع ہوئی ہے وہ یہ ہے کہ مصنف کا متن سے رشتہ تبدیل ہو گیا ہے۔ اب متن کی ملکیت کے کئی دعویدار پیدا ہو چکے ہیں اور Author کی Authority چیلنج ہو چکی ہے…قاری صرف قاری نہیں رہا، بلکہ مصنف ثانی بن چکا ہے۔ یعنی Co-Author۔‘‘
ٹھیک ہے صاحب! آپ اپنی کور تخلیقیت کو چھپانے کے لیے اگر معاون تخلیق کار بننا چاہتے ہیں تو ہم کون ہوتے ہیں اعتراض کرنے والے۔ اگر آپ خود تخلیق نہیں کر سکتے تو کم سے کم اس طرح اپنے دل مہجور کو بہلا لیں۔ ویسے اس معاون لفظ سے مجھے تو اردو فلم کا وہ معاون اداکار یاد آ جاتا ہے جس کا کام فلم میں محض اسی قدر ہوتا ہے کہ جب ہیرو، ہیروئین یا ولن پردے پر نہ ہوں تو تماش بینوں کو بور نہ ہونے دے۔ آپ بھی اگر اپنی تخلیقی بوریت کو ’’معاون مصنف‘‘ کے خیال سے دُور کرنا چاہتے ہیں تو ست بسم اللہ۔ شوق سے اپنا شوق پورا کریں۔ لیکن آپ کے اس سادہ اور معصوم سے عمل کے باعث ادب کا قاری کس قدر برگشتہ خاطر ہو سکتا ہے، آپ کی سادہ لوحی شاید اس کی تہہ تک نہ پہنچ سکے۔ آپ کی تشفی کے لیے تو میرے پاس مزید لفظ نہیں بچے۔ البتہ مصنف کی دلجوئی کا خیال ستا رہا ہے جو آپ کے حربوں سے چور ہوا پڑا کراہ رہا ہے۔ میرا جی چاہتا ہے کہ اسے اُٹھائوں، گلے سے لگائوں اور کہوں… ’تمہی میرے محبوب ہو، تم جو لکھتے ہو مجھے اچھا لگتا ہے۔ اور مجھے اَور اچھا لگے گا اگر تم آئندہ بھی لکھتے رہو۔‘ …میں اس کے چہرے پر آنے والی رونق دیکھ سکتا ہوں، اس کی مشاق انگلیوں میں ہوتی ہوئی جنبش محسوس کر سکتا ہوں۔


بات اگر کسی صحافیانہ تحریر ، کسی سڑک چھاپ، رقت انگیز قسم کے ادب کی ہو تو ہم کہہ سکتے ہیں کہ قاری اس کی من مانی تشریح کر سکتا ہے۔ کوئی اس کا ہاتھ اور قلم روکنے والا نہیں ہوگا۔ ایسا ادب پڑھتے ہوئے نقاد بعض اوقات فنکار سے بھی آگے نکل جاتا ہے اور تحریر کے مفاہیم سے لے کر اس تحریر کو بہتر طریقے سے لکھنے کے بیسیوں تیر بہدف نسخے اس کے ذہن میں کلبلانے لگتے ہیں۔ لیکن ہم جسے اعلیٰ ادب کہتے ہیں، وہ کبھی بھی نقاد کو آگے نکلنے نہیں دیتا۔ نقاد بڑے فنکار کو تجویز نہیں دے سکتا۔ نقاد اس کی من مانی تشریح نہیں کر سکتا… اور اگر کرنے کی کوشش کرے تو کہیں نہ کہیں کوئی ایسا معنوی خلاء پیدا ہو جاتا ہے جس کی مدد سے فن پارے کی داخلی ہئیت خود ہی اس شرح کو رد کر دیتی ہے۔ اب ہم لاکھ کہیں کہ اقبال کی فلاں نظم (مثلاً چاند اور تارے) میں اقبال کے بعد کے فلسفوں کی گونج ہے مگر نظم خوداس دعوے کی گواہی سے انکار کر دے گی۔ہم ایک عام لکھنے والے کا افسانہ پڑھ کر جس میں بیٹے نے باپ کا قتل کر دیا ہو، اس کی تشریح اپنے تجربے کی روشنی میں کر سکتے ہیں اور الزام بیٹے کی شقاوت یا باپ کی بد اعمالی کو دے سکتے ہیں لیکن دوستوفسکی جب بیٹے کے ہاتھوں باپ کا قتل دکھاتا ہے تو ہم اتنی سہولت سے اپنے تجربات کا اس پر اطلاق نہیں کر سکتے بلکہ ناول کی داخلی شہادتوں کی مدد سے مواد اور فارم کو بلحاظ مجموعی مد نظر رکھ کر ہی اس پر کوئی ناقدانہ فیصلہ دے سکتے ہیں۔ ہمیں نفسیاتی، سماجی، موروثی، قومی، مذہبی اور خاندانی‘ سبھی محرکات کو ذہن میں رکھ کر ہی مطالعہ کرنا پڑتا ہے کہ اس قتل کے پیچھے کیا کچھ کارفرما ہے اور صرف اسی ایک قتل کی بنیاد پر کھڑا اِتنا بڑا ناول آخر کیا ویژن دیتا ہے! سبھی محرکات سے اخذ کیے گئے الگ الگ نتائج اپنی اپنی جگہ اہمیت رکھتے ہیں اور نقاد پر کوئی روک بھی نہیں ہے کہ وہ کوئی نیا نقطہ نظر نہ اپنائے لیکن یہ سبھی رہیں گے وہی معانی جو دوستو فسکی کی ہزار رنگ شخصیت کے تجربے میں موجود تھے۔ اس نے کہیں بیان نہیں کیا کہ یہ ناول لکھنے سے اس کا مقصد کیا ہے، بلکہ اس نے تو تجربے کی (خواہ اسے یہ تجربہ ہوا یا نہیں، اہمیت ناول میں بیان کیے گئے تجربے کی پیشکش کی ہے نہ کہ تجربے کی واقعیت کی!) کثیر الابعادی شدت کو پوری مہارت سے کاغذ پر منتقل کر دیا۔ اب یہ قاری کا کام ہے کہ اس تجربے سے نتائج اخذ کرتا رہے۔ دوستوفسکی یا اس کے تجربے کو کیا فرق پڑتا ہے؟ لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ قاری بھی مصنف ہو گیا ہے۔ مانا کہ اس نے فن پارے کی کچھ معنیات دریافت کر لی ہیں لیکن اگر مہمان کھیر کے چمچے بھر بھر کے منہ میں لے جاتے ہوئے گلگلا کر کہہ اٹھے کہ کھیر میں سے کیوڑے کی مہک آ رہی ہے تو اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ اب وہ خاتون خانہ کا معاون ہو گیا ہے۔ قاری کا کام ادب سے حظ اندوزی یا اوجھل عناصر کی تعبیر ہے۔ وہی اس کو زیب دیتا ہے۔ شداد کی طرح اپنی جنت کی تعمیر کی خواہش، فردوس ادب کے اندر پائوں رکھنے سے قبل ہی اس کی جان لے لے گی۔ مصنف کبھی فن پارے کے مرکز سے نہیں ہٹ سکتا اور اگر ہٹا دیا جائے تو پھر زمیں بوسی ہی معنی کے محل کا مقدر رہ جاتا ہے۔ ظاہر ہے کہ جب ہر اینٹ کے ایک ایک مسام میں رچا ہوا سیمنٹ نکل جائے تو پھر دیوار کو گرنے سے کون بچا سکتا ہے؟ مصنف کے بغیر معنی کی دیوار ہی کیا فن پارے کا پورا مکان ہی گر جائے گا اور پیچھے رہ جائے گا تنقید کے اہل محلہ کا شور مچاتا جمگھٹا جو ہر ایک لفظ کی اینٹ اٹھا اٹھا کر گلی کی نکڑ میں اپنے فلسفیانہ معانی کا نیا چٹّہ لگا دے گا اور اسی پر پھولا نہ سمائے گا کہ اس نے ادب کی روح کو سمیٹ لیا ہے۔


باقی اب رہا منشائے مصنف کا مسئلہ تو یہ بھی خاصا بحث طلب امر ہے کہ آیا مصنف کا کوئی منشاہوتا بھی ہے یا نہیں۔ مصنف اپنی تحریر کے ذریعے کوئی واضح پیغام دینا چاہتا ہے، ادب میں شاید ایسی بات وثوق سے نہیں کی جا سکتی۔ کہ اگرادیب زمانہ سازی کا اتنا پختہ ارادہ رکھتا ہو تو پھر تنبیہ الغافلین ،ہشت بہشت،مکاشفتہ القلوب اور تہذیب الاخلاق قسم کے رسائل لکھ مارے۔ اسے ادب کی دشوار راہوں میں آنے کی ضرورت ہی کیا ہے۔ اس کے لیے مسئلہ ہی یہی ہے کہ وہ اپنے اندر بہت کچھ موجود پاتا ہے لیکن اس سب کی صحیح نوعیت سے آگاہ نہیں ہو سکتا اور یہی بہت کچھ جب اس کے فن کی بھٹی میں تپ کر فن پارے کی شکل میں باہر آنے لگے تو وہ اسے کاغذ پر محفوظ کر دیتا ہے۔


منشائے مصنف ڈھول کی دھمکدار آواز کی تال پر دھمال ڈالتا ہوا میلے پر ڈالی چڑھانے نہیں جاتا بلکہ مصنف نے فارم اور مواد کا جو میلہ رچایا ہوتا ہے، اس پورے میلے کی پیش کش بھی اسی کی منشاء ہوتا ہے۔ دنیا کے بڑے بڑے شاعر اور ناول نگار کسی نہ کسی فکر یا نظامِ اقدار کے قائل تھے اور وہ اسی کے پرچار کے لیے قلم اٹھاتے رہے، مگر یہ فکر یا قدر ان کے فن پارے کے باہر کوڑھ مغزوں کے لیے خلاصہ کر نہیں بتائی گئی بلکہ پوری فارم اور اس کا چھوٹے سے چھوٹا جُز بھی مصنف کے نظامِ فکر کو تعمیر کرنے کا کام کرتا ہے۔ یہ سارا عمل خفیہ یا پوشیدہ ہوتا ہے اور لکھنے والا براہِ راست فکر کو نہیں، اپنی فارم کو پیش کرتا ہے ۔ اس لیے اس کے لیے اہمیت فارم کی ہوتی ہے ، فکر کی نہیں۔ وہ تجربے کو اولیت دیتا ہے، اس کے نتیجے کو نہیں۔ ایک دفعہ فارم شروع ہوں جائے اس کے بعد مصنف اس کا غلام ہوتا ہے اور بعض اوقات اسے اپنے فکر سے ہٹ کر بھی اس کا ساتھ دینا پڑ جاتا ہے۔ مصنف کا اپنا منشاء، اپنی ہی تخلیق کردہ فارم کے تابع ہو جاتا ہے۔ یہی چیز ملٹن سے شیطان اور شیکسپئیر سے شائی لاک تخلیق کرواتی ہے۔ شرر جیسا دماغ شیخ علی وجودی کوجاودانی عطا کرتا ہے اور نذیر احمد ابن الوقت کو ٹھوس وجود کی حیثیت دے دیتے ہیں۔ مصنف اپنی فکر کو نہیں اپنی فارم کو پورے خلوص سے پیش کرتا ہے، جیسے ہومر اوڈیسی کے ساتھ چلتا ہے، جیسے فلابیئر مادام بوواری کے ساتھ زندہ رہتا ہے، جیسے مارکیز ارلیانو بوئندہ کے مرنے پر دھاڑیں مار کے روتا ہے۔ یہ سب فارم کے ساتھ مجنونانہ وابستگی کے کرشمے ہیں اور اس حدتک فکر کو اولیت نہیں۔ لیکن اگر یہ دیکھا جائے کہ مصنف نے یہی موضوع ، یہی کردار کیوں چُنا تب اس کے سماجی ، نفسیاتی ، مذہبی اور سیاسی پس منظر کا مطالعہ ہمیں اس کی منشاء تک لے جاتا ہے۔ کہانی ، کردار، واقعات ، ماحول ، زبان کے شعوری انتخاب کے پس پردہ جو ذاتی عوامل رہے ہوںگے ،وہی منشائے مصنف کا سراغ دیتے ہیں۔ یوں مصنف کی منشاء معدوم سمجھنا تفہیم کا ایک رُخ ہو سکتا ہے، فن پارے کی کُلی تفہیم کا حتمی طریقہ نہیں ہو سکتا۔ لکھنے کے عمل کے دوران اسے ایک ہی خیال ہوتا ہے کہ اس کے لاشعور سے امڈ آنے والے اس تصور کا جو انجانا سا پیکر شعور کی سطح پر چند ثانیوں کے لیے جلوہ آراء ہوا ہے، اسے ہوبہو کاغذ پر اُتار دے۔ اپنی طرف سے اس امیج کو گرفت میں لینے کی پوری کوشش کرتے ہوئے وہ فن پارے کو تخلیق کر دیتا ہے۔ جیسے عورت مرد کے ملاپ کے دوران اپنا آپ کھو کر صرف لذت وصل میں سرشار ہوتے ہیں۔ ہم کیسے کہہ سکتے ہیں کہ وصل کے دوران یہ سارا عمل ان کے خیال میں محض بچہ پیدا کرنے کا ذریعہ ہوتا ہے! یہ منشائے مصنف کا بچہ عورت مرد کے ذہن میں نہیںہوتا، وہ تو بس اپنے تجربے کی علویت میں کھوئے جاتے ہیں۔ مصنف بھی اپنا تجربہ ہی گرفت میں لینا چاہتا ہے اوراگر اسے کوئی مقصد پیش کرنا بھی ہو تو اس کے لیے فکر کی فلسفیانہ سطح کی بجائے اس کی تجرباتی حیثیت زیادہ اہم ہو جاتی ہے۔ مصنف لاکھ نظام فکر کا قائل ہو مگر جب وہ ادب کی تخلیق میں مگن ہوتا ہے تو وہ اس نظامِ فکر کے زر خالص کو اپنے تجربے کی کسوٹی پر رگڑ رہا ہوتا ہے۔ اس کے لیے فکر ایک ثانوی حیثیت اختیار کر جاتی ہے اور اپنا تجربہ ہی اس کی کائنات بن جاتا ہے۔ جس کی ہر شے، ہر پہلو پر نظر رکھنا خالق ہونے کے ناتے وہ اپنا فرض سمجھتا ہے۔ اس کا فنی شعور کسی نظام فکر کی جدلیات آزمانے کی بجائے تجربے کی پوری شدت کو پکڑ میں لانے کی دھن پر رقصاں ہوتا ہے اور اسی عمل میں وہ اپنے لاشعور سے موصول ہونے والے اشاروں کی مدد سے تشبیہہ، استعارہ، مجاز،رمز، کنایہ، ایما، تمثال، امیج، علامت کا ایسا بے ساختہ استعمال کرتا ہے کہ فن پارے کے سورج کے گرد معنی کے متعدد سیارگان کے مدار بن جاتے ہیں۔ اب نقاد کے ذہن رسا پر منحصر ہے کہ وہ معنی کے کس سیارے تک رسائی حاصل کر سکتا ہے۔ لیکن، باوجودیکہ وہ کسی بالکل نئے سیارے کی دریافت کر لے، ہم یہ نہیں کہہ سکتے کہ اس سیارے کی تخلیق قاری نے کی ہے بلکہ یہ تو وہی سیارہ ہے جو کائنات فن کی تخلیق کے وقت خالق نے ذرا اوجھل کر کے رکھ دیا تھا۔ مثلاً ندیمؔ کا ایک شعر:


جب بھی دیکھا ہے تجھے عالم نو دیکھا ہے
مرحلہ طے نہ ہوا تیری شناسائی کا


ہم اسے جس معانی میں مرضی لے لیں، حمدیہ کہیں یا نعتیہ، خالص عشقیہ شعر کہہ دیں یا کسی دوست کی پرخلوص محبت کے اظہار کا نام،فن کے بدلتے رنگ سمجھیں یا سرکار کے نِت نئے حربوں پر طنز ،امریکہ کی پالیسیوں پر اعتراض کہیں یا مہنگائی کے خلاف احتجاج جانیں، پاکستان کی سیاست کی گنجھل گتھی تصور کریں یا علم کی نیرنگی کی گواہی گردانیں، خواہش انقلاب کا مظہر دیکھیں یا ادب کی ہر آن بدلتی کیفیتوں کی دلیل مانیں۔ جو بھی ہو، ان سب معانی کی چھوٹ تو فنکار کے لاشعور میں شعر کی تخلیق کے وقت موجود تھی۔ اور یہ تو صرف ’’ تُو ‘‘ کی اتنی شرحیں ممکن ہوئی ہیں، معلوم نہیں اس میں کس کس معانی کا جہاں آباد ہے۔ ایسے میں غالبؔ اور میرؔ کے اشعار میں جہاں کسی علامت کا حسین استعمال ہوا ہو وہاں فن پارے کا منشور معنی کے کتنے رنگوں کو لطیف بنا سکتا ہے اور قاری کی نظر کے نور کا زاویہ بدلنے سے ان رنگوں کی کیفیت کس طرح بدلتی جائے گی‘ یہ ہم صرف لسانیات کی مدد سے نہیں جان سکتے۔ فنکار لاشعوری طور پر فن پارے کی تخلیق کے وقت اخذ معانی کا پورا نظام یعنی Langue قائم کر دیتا ہے۔ جس کی ہر اک جداگانہ شرح کو ہم پیرول کہہ سکتے ہیں، اس ’لانگ‘ کو استعمال کرتے ہوئے پیرول تو جتنے چاہے تشکیل پاتے چلے جائیں گے لیکن کوئی شخص صرف اس پیرول کی بنا پر ’لانگ‘ کی تشکیل کا دعویٰ نہیں کر سکتا۔ یہ صرف مصنف کو ہی روا ہے۔


اب پھر ضمیر صاحب فرماتے ہیں کہ:


’’مصنف کی ارادی معنویت کو اصل خطرہ زبان میں موجود ساختوں یعنی Structures سے ہے۔ یہ ساختیں اپنے لسانی عمل سے معنویت خود پیدا کرتی ہیں اس لیے مصنف کی اپنی معنویت کا نقش قائم نہیں ہوتا۔ بین المتنیت (Intertextuality) کا عمل مصنف کے ارادی نقش کو مزید مدہم کر دیتا ہے۔‘‘


بڑے بھولے ہیں ضمیر صاحب، اب انہیں کیا خبر کہ ان کا بھولپن مصنف بے چارے کو کس طرح Under estimate کر رہا ہے گویا مصنف گلی محلے میں گنڈا گولہ بیچنے آیا ریڑھی بان ہے، ہر بچے سے ٹھیپا لینے کے بعد جو بھی گرڑ گوں گوں کرتا ہے، اس کا ارادہ، مقصد، منشا سب کچھ گولہ بنانا ہی ہوتا ہے۔ اور یوں وہ زبان کی برف کا چورہ کر کے اس کے لفظ لفظ کو اپنے فن کی مٹھی میں بھینچ بھینچ کر اس پر شاعرانہ یا افسانوی وسائل کے رنگ چھڑک، مرکزی خیال کا تیلا ٹھونس رنگ برنگا فن پارہ بنا دیتا ہے…… توبہ ہے بھئی… کن کوڑھ مغز نقادوں سے واسطہ پڑا ہے جو خود کبھی تخلیقی عمل کی جھلک بھی دیکھ نہ پائے، جنہوں نے کبھی اپنے عالمانہ سنگھاسن سے اتر کر بے چارے فاقہ کش مصنف کے بوریے پر قدم دھرنے کی کوشش ہی نہیں کی، انہیں کیا خبر کہ اس بوریے تلے کتنے جہانوں کے معانی پوشیدہ ہیں۔ وہ تو یہی سمجھتے ہیں کہ جس طرح وہ انگریزی کی پانچ دس کتابیں پڑھ کر، خوب سونچ سانچ کر اپنے ماتھے کو گھنٹوں پنسل سے ٹھونکتے ہوئے پانچ سات صفحے کا فاضلانہ قسم کا مضمون ایجاد کر لیتے ہیں اسی طرح مصنف مسکین بھی اپنے ذہن میں ابلتے ہوئے افکار نادرہ کو ترتیب دے کر فن پارے کی شکل میں ڈھال دیتا ہے۔ انہیں تخلیق کے اس آتشیں جذبے کی کیا خبر کہ جو بھڑک اٹھے تو فن کار کے پاس اس آگ کی پوری تپش کو کاغذ پر منتقل کرنے کے سوا کوئی چارہ نہیں رہتا۔ آبگینہ تندیِ صہبا سے پگھلا جائے ہے۔گر وہ ایسا نہ کر پائے تو خود اس کا وجود ہی اس آگ میں جھلسنا شروع ہو جاتا ہے۔ فنکار ہمہ وقت اسی آگ کا شکار رہتا ہے۔ اسے جس قدر کہنا ہوتا ہے، اتنا وہ کبھی نہیں کہہ پاتا، اس کے وجود کے تنور میں ہر دم جو آگ بھڑک رہی ہوتی ہے، اسے وہ چار روزہ حیات مستعار کے عطا کردہ دو لمحات فرصت میں کیسے ٹھنڈیاسکتا ہے۔ نتیجہ یہ کہ فنکار اپنے ہی وجود کے اگنی کنڈ میں جلتا رہتا ہے۔ منٹو، میرا جی، قابل اجمیری، شکیب جلالی، ثروت حسین سبھی اسی آگ کا شکار ہوئے ہیں۔ جو، جب باہر نکلنے کا راستہ نہیں پاتی، تو اندر کو ہی دہکانے لگتی ہے اور یہ تماشا دیکھنے والے نقاد اس کا ارادی منشا دیکھتے رہتے ہیں۔ اس کا ارادی منشا تو فن پارے کی تخلیق تھا، وہ اس نے کر دیا، جو لفظ اس کو اپنی آگ ٹھنڈا کرتا محسوس ہوا، وہ اس نے قرطاس پر نقش کر دیا…… پھر معنی کے لحاظ سے بھی، اگر دیکھا جائے تو فنکار اتنا بے خبر نہیں، وہ شعوری طور پر چاہے خبر رکھے یا نہ رکھے، مگر لاشعوری طور پر ضرور آگاہ ہوتا ہے کہ کون سا لفظ فن پارے کی معنوی توسیع میں کارآمد ہے اور کون اس کی تحدید کرے گا۔ سو وہ ایسا ہی لفظ لے کر آتا ہے جو اس کے فن پارے کو زیادہ سے زیادہ معنوی ابعاد بخش سکے۔ یہ اس کی اسی آگ کی تپش ہوتی ہے جو فن پارے کا پورا اسلوب اور اس کا تمام داخلی ربط ہم آہنگ کر کے ہمارے سامنے لے کر آتی ہے کہ ہم معانی سے اسلوب کو جدا کر ہی نہیں سکتے۔ مثال کے طور پر یہ شعر ملاحظہ ہو؛


؎ میرؔ صاحب رلا گئے سب کو کل وے تشریف یاں بھی لائے تھے


اس شعر کے جتنے بھی الفاظ ہیں، کسی اور لفظ سے بدل کر دیکھ لیں، معنی کس طرح محدود سے محدود تر ہوتے جائیں گے۔ پھر جو اس کا مہذبانہ انداز ہے، اسلوب میں جو غیر شخصی پن ہے، یہ سب مل کر اسے اتنی معنوی جہتیں دیتے ہیں کہ یہ شعر کبھی بھی قاری کے احساس سے محو نہیں ہوتا۔ صاحب، گئے، وے، تشریف، بھی، سب اس کے کلیدی الفاظ ہیں لیکن الفاظ کے بالا بالا وہ مہذبانہ لہجہ شعر کی توقیر آسمان تک لے جاتا ہے جو میرؔ نے اپنے درد کے اظہار کے لیے اپنایا ہے۔ اب ہم اس شعر کی لاکھ پرتیں کھولتے رہیں، ہم اس امر تک تو کبھی نہیں پہنچ سکتے کہ میرؔ کو یہ انداز کیسے سوجھا، نہ ہی ہم اس کی درجنوں شرحیں لکھ کر اس کے سبھی معانی تک رسائی کی کوشش سے کوئی فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔ ہمارا مقدر تو اتنا ہی ہے کہ ہمارا احساس ،شعر میں بیان کردہ ضبط غم کی کیفیت کو اپنی گرفت میں لے سکے۔ جب ہمارا لہنا ہی اتنا ہے تو ہمیں اس سے آگے بڑھ کر شاعر کے کندھوں سے کندھا ملانے کی ضرورت ہی کیا ہے!


مصنف کے ہاں یہ سارا عمل تقریباً شعوری ہوتا ہے، اسی لیے تو وہ فنکار جن کا فنی شعور طاقتور ہو، تجربے کے بیان میں کثیر الابعادی کیفیات پیدا کر دیتے ہیں جبکہ کم تر درجہ کا فنکار اسی تجربے کے بیان میں اتنی سطحی کیفیت پیدا کر دیتا ہے کہ طبیعت منغض ہو جاتی ہے۔ اگر ایسا نہ ہوتا تو ہم غالبؔ کی طرح ذوقؔ کے اشعار کی بھی اتنی ہی شرحیں لکھ چکے ہوتے۔ دونوں ایک عہد، ایک شہر، ایک زبان، ایک روایت، ایک سے شعری ماحول میں زندہ رہے۔ ذوقؔ تو فنی حربوں کا استعمال غالبؔ سے بھی زیادہ کرتا ہے، تو پھر وہ کیا چیز ہے جو ذوقؔ کو ذوقؔ اور غالبؔ کو غالبؔ بنا رہی ہے۔ متن کی خود مختاری کا دعویٰ کرنے والے ذوقؔ کی درجن بھر شرحیں لکھنے کی کوشش کریں تو شاید جواب مل جائے۔


اس کے علاوہ اردو میں خاص طور پر غزل کی روایت اس قدر پختہ ہے اور اس میں علامتوں کا استعمال اتنا وسیع ہے کہ شاعر کو شعوری طور پر شعر کی تخلیق کے وقت یہ احساس رہتا ہے کہ شعر کس قدر زیادہ معنوی وسعت رکھتا ہے۔ اس کے لیے ہمیں اردو شاعری میں اصلاح سخن کی روایت سے ضرور استفادہ کرنا چاہیے کہ کس طرح ہمارے شاعر محض ایک آدھ لفظ کی تبدیلی سے شعر کے یک رنگ پڑے معنی کو ہفت رنگ بنا دیتے تھے۔ اسی طرح افسانے میں ہمارے ہاں نیر مسعود اپنے بیانیے کو شعوری طور پر اس طرح برتتے ہیں کہ معنی کا کوئی ایک واضح نقش نہیں کھڑا کیا جا سکتا۔ ان کے ہاں الفاظ‘ معنی کی تخصیص کی بجائے معنی کی تعمیم کی طرف بڑھتے ہیں۔ اب نیر مسعود کے بیانیے کے تجزیے سے اگر کوئی اپنے حسب استطاعت ایک نیا معنی اخذ کر لے تو اس کا یہ مطلب نہیں کہ اخذ معنی کے عمل میں وہ اکیلا ہی مالک و مختار ہے۔ بلکہ اس کے اس عمل میں مصنف کا فن (شعوری یا لا شعوری) اس کے ساتھ شریک ہے۔ مصنف اتنی آسانی سے بارہ پتھر نہیں ہو سکتا۔ ہم اپنے عالمانہ زعم میں ایسا سمجھ بیٹھیں تو اور بات ہے۔ ورنہ بین المتنیت کے عمل سے جتنے بھی معنی اخذ ہوں گے، دراصل مصنف کے ’’ارادی معانی‘‘ کے نقش ہی اجاگر کریں گے۔ آخر مصنف اپنی کائناتِ تخلیق کا خدا ہے۔ اس کی مرضی کے بغیر تو کوئی اس کے بھیدوں تک نہیں پہنچ سکتا۔ ضمیر صاحب کو جب کوئی سہارا نہیں رہتا تو پھر اپنے مغربی رہنمائوں کے کندھوں پر چڑھ کر کلکاریاں مارنے لگتے ہیں۔


’’اسی لیے رولاں بارت کو کہنا پڑا؛
“Writing writes itself and not the author!”
ہیڈگر نے اس حقیقت کا اظہار کرتے ہوئے کہا؛
’’زبان کلام کرتی ہے نہ کہ انسان!‘‘


اب میں کسی کٹر مولوی کی طرح نعوذ باللہ وغیرہ تو نہیں کہوں گا مگر بات کچھ ایسی ہی ہے۔ نقاد صاحب تو ایمان لائے بیٹھے ہیں کہ خالق کے بغیر ہی یہ کائنات چل رہی ہے۔ ارے صاحب! آپ کیوں ان ملعون فرنگیوں کی باتوں میں آکر نیچری ہوئے جاتے ہیں۔ اتنا تو سوچئے کہ ان کا اور ہمارا ڈسکورس ہی الگ ہے۔ان کی سوچ کا سفر ہی کسی اور نہج پر ہے۔ آپ ان کی ڈگر پر ہمیں بھی چلا کر کیوں ہمارا راستہ کھوٹا کرنا چاہتے ہیں۔ وہ تو مصنف کے اقتدار کے سارے امکانات آزما کر اب اس سے ہٹ کر پرانی شراب سے نیا لطف اٹھانا چاہتے ہیں اور ادھر ہمارے ہاں تو ابھی تک اردو کے بڑے ادیب شعراء بھی شخصیت کے نظریے کے تحت پرکھے جانے کے منتظر ہیں۔ اور آپ ہیں کہ اگلی منزل کی ترغیب دے رہے ہیں۔ آگا دوڑ، پیچھا چھوڑ سے رستے طے نہیں ہوتے، کھوٹے ہوتے ہیں۔ پہلے افکار کی ارتقائی صورتوں سے واقف تو ہوں، پھر آپ کو اپنے اس قبل از وقت کے راگ کی بے معنویت کا احساس ہوگا۔
ضمیر صاحب تو یقین کیے بیٹھے ہیں کہ زبان کا گھوڑا شہسوار کے بغیر بھی چل سکتا ہے۔ ٹھیک ہے، ہم نے بھی مانا، چل تو سکتا ہے… لیکن جب تک اس گھوڑے پر کوئی شہسوار فن کی زین کس، فکر کی لگام تھام سوار نہ ہو، ادب کے کارزار میں اس کے جوہر ہی نہیں کھلتے۔ ایک ماہر سوار کی مضبوط رانوں تلے دبے گھوڑے کی چال میں نرالی ہی شان اور اس کی چلت میں ایک جداگانہ منضبط پھرتی ہوتی ہے جسے اکیلے چلتا گھوڑا کبھی پا ہی نہیں سکتا۔ ارے زبان کا گھوڑا صحافت کے تانگے میں بھی جوتنا ہو تو کوچوان ضروری ٹھہرتا ہے اور آپ میدان جنگ میں گھوڑے کو بغیر کسی سوار کے بھیج رہے ہیں۔ گھوڑے کی طاقت اور تیزی اپنی جگہ مگر یہ مصاف جنگ میں تبھی کارآمد ہو سکتا ہے جب اس کی لگام کسی چابک دست شہسوار کے ہاتھ میں ہو۔


ضمیر صاحب نے مصنف اور متن کی جدائی کے تصور کی دلیل یہ دی کہ ’دنیا کے عظیم فن پاروں کے خالقوں کے بارے میں ہمیں کچھ معلوم نہیں۔ ہومر، سقراط کا وجود سوالیہ نشان ہے۔ دیوان شمس تبریز کے مصنف کی بھی تصدیق نہیں۔ کولرج اور برائوننگ اپنی تخلیقات کی معنویت کا کامل شعور نہیں رکھتے۔‘


سب سے پہلے ہم آخری بات کو لیتے ہیں کہ کولرج اور برائوننگ اپنی تخلیقات کا کامل شعور نہیں رکھتے۔ میں پوچھتا ہوں کہ کیا صرف اسی دلیل کے سہارے ہم مصنف کو ادب کی دنیا سے بے دخل کر سکتے ہیں! میں پھر پوچھتا ہوں، کہ کیا کوئی ادیب اپنے فن پارے کی تمام معنویت کا کامل شعور رکھتا ہے…؟ نہیں صاحب، نہیں! اگر رکھتا تو پھر فن کی تخلیق کیوں کرتا، ایک آدھ عالمانہ قسم کا مقالہ لکھ کر پی ایچ ڈی کی ڈگری لیتا اور عمر بھر کسی یونیورسٹی کے شعبے میں پائوں پسار کر غم روزگار سے بے نیاز ہو جاتا۔ لیکن یہی تو اصل مسئلہ ہے، کہ کولرج اور برائوننگ ہی کیا، دنیا کا کوئی بھی اچھا ادیب اپنی تخلیقات کے تمام معانی سے واقف نہیں ہوتا۔ ہاں اس کا لاشعور تخلیق کے لمحے میں معانی کے پیکر سے اس کے شعور کی انگلیاں چھوا دیتا ہے۔ مصنف اس لمس سے پیکر کی پہچان تو نہیں کر سکتا البتہ جتنا جان سکے، اس کا بیان ضرور کر دیتا ہے۔ جیسا کہ اوپر بات ہو چکی ہے کہ معانی اس کا مسئلہ ہے ہی نہیں، یہ تو نقاد ہے جو اسے درد سر بنائے بیٹھا ہے۔


اب آئیں پہلی بات پر کہ عظیم فن پاروں کے مصنفین معلوم نہیں، تو صاحب، عرض ہے کہ دیو مالا، اساطیر جیسی چیزیں کسی ایک فرد کی تحریر ہوتی بھی نہیں، انہیں تو متعلقہ تہذیب کے چنیدہ ذہن تخلیق کرتے رہے ہیں۔ اور یہ بھی ہے کہ جب یہ لکھی گئی ہوں گی تب یہ ضرور اپنے مصنفین کے ناموں سے پہچانی جاتی ہوں گی اور ان کی توقیر بھی اسی حوالے سے ہوتی ہوگی لیکن ہوتے ہوتے جب وہ تہذیبیں ہی مٹ گئیں تو ان کے شخصی حوالے بھی معدوم ہوتے چلے گئے اور ہمارے ہاتھ یہ دیو مالائیں ان تہذیبوں کے حافظے کی صورت پہنچیں۔ اب ہم انہیں تہذیبی حوالے سے جانتے ہیں۔ قدیم داستانوں کی معنویت بھی تب اجاگر ہوتی ہے جب ہمیں علم ہو کہ یہ کس تہذیب کی تخلیق ہے۔ بغیر اس تہذیبی رشتے کے ہم ادھوری معنویت تک پہنچتے ہیں۔ تہذیب کے ناتے سے ہم جان لیتے ہیں کہ یہ کس عہد اور کس قسم کے ذہن کی تخلیق ہے۔ ہمارے لیے اب ان تہذیبوں کے اجتماعی حوالے زیادہ اہم ہیں۔ انفرادی مطالعے کی طرف اس طرح سے ہمارا رُخ ہوا بھی نہیں۔ اور ویسے بھی یہ ان قبائلی لوگوں کی تخلیقات ہیں جن میں انفرادیت کا سوال ابھی پیدا نہیں ہوا تھا۔ ابھی تو فطرت کی عظیم طاقتوں کے ساتھ پیکار کے لیے اجتماعی زندگی بہت ضروری تھی۔ فرد سے زیادہ قبیلے کو اہمیت تھی۔ اگر کسی ایک کی بھینٹ قبیلے پر آئی بلا ٹالنے کے لیے ضروری سمجھی جاتی تو بے دریغ سر کٹوا دیے جاتے تھے۔ اس وقت کسی تخلیق پر فرد کی بجائے اس کے قبیلے کی چھاپ ہوتی تھی۔ اسی لیے ہم یونانی، ہندی، چینی، مصری دیولامائوں سے واقف ہیں۔ یہ مصنف سے لاعلمی اس عہد کا مسئلہ تھا، اسے ہمارے عہد میں نہ گھسیٹیں‘ جب فرد خود ہی عالم اصغر میں تبدیل ہو چکا ہے!


آج کے عہد میں بھی زندگی کی اجتماعی صورت موجود ہے لیکن یہ قبائلی زندگی نہیں، ہجوم کی زندگی ہے۔ یہ حیاتیاتی نہیں، میکانکی زندگی ہے۔ یہاں مصنف کی شخصیت ہی بنیادی مسئلہ ہے۔ ایک ادیب ہے کہ جس کے پاس تھوڑی بہت انفرادیت کی روح زندہ ہے اور وہ اپنی اسی انفرادیت کو قائم رکھنے کے لیے لکھ رہا ہے۔ وہ خود کو اس ہجوم میں گم ہوتا نہیں دیکھ سکتا۔ اس لیے اپنی موجودگی کا احساس دلانے کے لیے قلم سے بھونپو کا کام لے رہا ہے۔ خدارا! اِس کی شناخت ختم کر کے اسے اپنی میکانکی زندگی میں مت گھسیٹیں۔ اسے حیاتیاتی سطح پر جینے دیں۔ آپ ہزار بجری کی سڑکیں بناتے چلے جائیں، آپ کو کون روکتا ہے، مگر اس کو پھولوں کی روش پر ننگے پائوں چلنے کی تمنا سے محروم نہ کریں۔ آپ خود اپنی زندگی جیسے چاہیں گزار لیں آپ کو کس نے روکا ہے؟ آپ کی زندگی ہو گی تو ادیب اسے موضوع بنا سکے گا مگر اس مصنف کو بھی اپنی زندگی اپنی مرضی سے جینے دیں۔ وہ اپنی مرضی سے جیے گا تو یہ ثابت کرنے کے قابل ہو پائے گا کہ انسان کے لیے ابھی بھی زندگی دشوار نہیں بنی اور جینا ابھی بھی ایک خوشگوار تجربہ ہے۔
٭٭٭

شیئر کریں
تعارف نام: محمد عباس تاریخ پیدائش: 11ستمبر 1983 جائے پیدائش: جہلم۔ پاکستان رہائش: لاہور تعلیم: پی ایچ۔ ڈی( اردو) لکھنے کا میدان: افسانہ۔ تنقید۔ ترجمہ۔ڈراما ملازمت: اسسٹنٹ پروفیسر(اردو)گورنمنٹ اسلامیہ ڈگری کالج (بوائز)غازی آباد،لاہور کتابیں: احمد شاہ سے احمد ندیم قاسمی تک(تنقید) نابغہ(انگلش تراجم) پچھلی گرمیوں میں(نرمل ورما کی کہانیوں کے تراجم) چھوٹے چھوٹے تاج محل(راجیندر یادو کی کہانیوں کے تراجم)

کمنٹ کریں