مقبول بٹ کا مشربِ انقلاب

تحریر:بسمل آزاد

, مقبول بٹ کا مشربِ انقلاب

برصغیر سے جڑی سرحدیں انقلابات کا مجموعہ رہی ہیں ۔ انسان خود کو آزاد کروانے کے لیے جس قدر تگ و تاز کرتا رہا ، اسے اسی قدر کٹھن ماحول کا سامنا رہا ہے ۔ مقبو ل بٹ شہید کی زندگی بھی انہیں بیچ وخم میں گزری ۔ دو عالمی جنگوں کو قریب سے مطالعہ کرنے والا مقبول بٹ، اپنے اندر قائدانہ صلاحیتوں کومحسوس کر چکا تھا ۔ ۔ ۔ ۔ انقلابی طینت کے لیے ماضی اُسی وقت اہمیت کا حامل ہوسکتا ہے ،جب ماضی اسے فطری ہم آہنگی کے ساتھ فکری کمک بھی مہیا کرے ۔


مقبول بٹ نے جب شعور سنبھالا ،ایک طرف کشمیر شورشوں کی زد میں تھا،دوسری طرف سوویت روس تیز رفتار سے ترقی کی منازل طے کرتے ہوئے پوری دنیا کے سامنے ابھر رہا تھا ۔ اس کے برائے راست اثرات چین میں موجود جاپانی فاشزم پر پڑ چکے تھے ۔ من تانگ کے نت نئے مظالم سے نپٹنے کی بددولت وہاں کے اشتراکیت پسند حلقوں ،مزدوروں ،کسانوں اور دوسرے جمہوریت پسند عوام کو گولیوں ،پھانسیوں اور دیگر مظالم کا سامنا تھا ۔ اس کے سامنے کھڑا تحریک کا سرخیل قوم پرست رہنما’’ماوَزسی تنگ‘‘ روزانہ کی بنیاد پر فراءض سرانجام دے رہا تھا ۔ ماوَزسی تنگ نے چین کی تاریخ میں سب سے لمبے انقلابی مارچ کی رہنمائی کر تے ہوئے جزبے حریت کے پیش نظر ایک طویل نظم لکھی تھی ۔


سفر طویل ہے مگر
ہماری لال فوج کو ہراس سے غرض نہیں
بلند چوٹیاں ،غصیلی ندیاں الانگھتی
یہ بڑھ رہی ہے جیسے کھیل کھیلتی ہوئی ۔
لیانگ کے پہاڑ کا یہ اونچا نیچا سلسلہ ۔ ۔ ۔ ۔ آخر
مقبول بٹ شہید 18فروری 1938کو کپواڑہ کے قصبے ترہگام میں پیدا ہوئے ۔ ابتدائی تعلیم بھی اپنے آبائی اسکول سے حاصل کی ۔ بی ۔ اے سینٹ جوزف کالج بارہ مولا میں مکمل کرتے ہوئے سیاسی سرگرمیوں میں انتہائی فعال رہے ۔ یہ ابتدائی تربیت ان کے اندر کو نڈر بنا چکی تھی ۔ اس کی بنیادی وجہ وہ دور تھا، جب کشمیر میں مہاراجہ کے خلاف بازارِعداوت برپا تھا ۔ شیخ عبد اللہ پس زندان تھے ۔ عالمی دنیا انقلابات کی زد میں تھی ۔ برطانوی ہند اپنے پر تول رہا تھا کہ کب تک وہ برصغیر کو دوحصوں میں تقسیم کرتے ہوئے یہاں سے اڑان بھر ے گا ۔ دوسری عالمی جنگ نتاءج سنانے کو زیب تن تھی ۔ 1944کواتحادی فوجوں نے فرانس کو نازی جرمن سے آزاد کروانے کے لیے دنیا کی تاریخ کا سمند ر ہٹلر کی بھاری فوج کے سامنے مورچہ زن کیے رکھا تھا ۔ رَن بھی انسانی ہلاکتوں کے بوجھ سے بوجھل تھا ۔ مقبول بٹ اپنی عمر کے چھ برس مکمل کر چکے تھے ۔


پہلی عالمی جنگ کا لہوابھی خشک نہ ہوا تھا ۔ 1914 میں شروع ہونے والی جنگ چار دہائیوں تک کسی نا کسی محاز پر بھڑک رہی تھی ۔ برطانیہ ، فرانس ،سربیا اور روسی بادشاہت جرمنی ،ہنگری، سلطنت عثمانیہ کی اینٹ سے اینٹ بجا رہے تھے ۔ ادھر 25اکتوبر 1917کو ولادی میر لینن بالشویک فوجوں کے ہمراہ اہم سرکاری عمارتوں پر قابض ہو چکا تھا ۔ عالمی قوتیں آپس میں برسرے پیکار تھیں ۔ خصوصا 1930تک ہٹلر جیسے لوگ بھی سویت جمہوریت کے آگے سرنگوں تھے ۔


یہ مَشرب ابھی ابال پر تھے کہ مقبول بٹ نے اپنی زندگی کی ابتدا کی ۔ 1945 میں ماوَسی تنگ جاپانیوں اور اپنے اندر موجود غدارمن تانگ پر تاریخ کی بڑی سیاسی فتح پارہا تھا ۔ انقلاب کی زد میں دنیا کا گھسا پٹا انسان اپنی کمر سیدھی کر ہی رہا تھا کہ کشمیر کی یورش ایک نیا موڑ اختیار کر گئی ۔ مسئلہ کشمیر اقوام متحدہ کے سرد خانہ کی نظر ہوچکا تھا ۔


چنانچہ مقبول بٹ 1958کو اپنے چچا عبد العزیر کے ہمراہ جنگ بندی لائن عبور کرتے ہوئے آزادکشمیر میں داخل ہوگئے ۔ پاکستان کے سرحدی محافظوں نے انہیں پوچھ گچھ کے لیے قلعہ مظفرآباد میں نظر بند کر دیا ۔ یہ مقبول بٹ کی عمر کا بیسواں سال تھا ۔ رہائی کے بعد پشاور میں سکونت اختیار کرنے کے ساتھ انہیں پشاور یونیورسٹی سے ایم ۔ ۔ اے صحافت کی ڈگری حاصل کرنے کا موقع ملا ۔ اسی اثنا ء انہوں نے مقامی اخبار ’’انجام ‘‘ میں کام شروع کر دیا ۔ سن 61 میں ان کی شادی قرابت دارخاتوں سے کروا دی گی ۔ جس کے بطن سے یکے بعد دیگر دو بیٹے جاوید مقبول اور شوکت مقبول پیدا ہوئے ۔


60کی دہائی میں کے ۔ ایچ خورشید کے عہدِ صدارت میں مقبول بٹ آزاد کشمیر کے بلدیاتی انتخابات میں بطور امیدوار کامیاب ہوئے ۔ 65 میں مقبول بٹ اور ان کے ساتھیوں نے’’ محاذ رائے شماری‘‘ کے نام سے ایک سیاسی جماعت کی بنیاد رکھی ۔ 13اگست 1965 میں محاذ کے خفیہ عسکری ونگ کی بنیاد رکھی گئی ۔ عسکری مہم کے آغاز میں انہیں جون 1966کو میجر امان اللہ خان ،صوبیداکالا خان اور اور نگزیب شہید کے ہمراہ جنگ بندی لائن عبور کرتے ہوئے وادی میں داخل ہونا پڑا ۔ جہان تین ماہ تک وہ خفیہ طور پر تنظیم سازی کرتے رہے ۔


مقبول بٹ اپنے ساتھیوں کی معیت میں گوریلا وار شروع کر چکے تھے ۔ جسے انہوں نے ’’پراکسی وار ‘‘جیسی اصطلاح سے تعبیر کیا ۔ برصغیرکے مذہبی پسِ منظر میں پہلی بار ایک مسلم لیڈرنے ایسی عسکری تحریک شروع کی جسے ’’پراکیسی وار‘‘ سے موسوم کیا گیا ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ پاکستان کے معرض وجود میں آنے کے ساتھ مذہبی بنیادوں پر مباحثے شروع ہو چکے تھے ۔ جب کشمیر کی’’ وار‘‘ میں پاکستان نے کشمیری مہاہدین کو کمک مہیا کرنا شروع کی ،تو جماعت اسلامی کے موَسس سید ابو الاعلیٰ مودوی نے علامہ شبیر احمد عثمانی کو یہ کہتے ہوئے اعتراض کیا کہ جب بھارت کے ساتھ پاکستان کے معاہدات موجود ہیں توپاکستان کی طرف سے غیر اعلانیہ طور پر کشمیر ی مجاہدین کو کمک مہیا کرنا غیر شرعی ہے ۔ لیکن ایک طویل مکالمے کے بعدیہ نقطہ قابلِ اتفاق ٹھہر ا کہ پاکستان کا کشمیر ی مجاہدین کی مالی معاونت کرنا ، بھارت کے علم میں ہے ۔ واللہ اعلم ۔ ۔ ۔ ’’خطبات ومکتوبات عثمانی ۔ ۔ ۰۶۴ ۔ ۔ ۔ ۵۴۲‘‘


مقبول بٹ کی شروع کی گئی پراکسی وار کاربط چی گویراکی گوریلا جنگ سے ملتاہے ۔ دونوں کی زندگیوں میں کافی حد تک سیاسی وعسکری مطابقت نظر آتی ہے ۔ چے گویرا1928 میں ارجنٹائن میں پیدا ہوئے،لیکن 7فروری 1954کو چے گویرا کو کیوبا کی شہریت مل گئی ۔ دسمبر 1964 میں چے نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کیا ۔ 1965 میں وہ کیوبا چھوڑ کر اپنے بارہ گوریلا ساتھیوں کے ساتھ کانگو پہنچ گئے ۔ وہاں انہوں نے گوریلا مہم شروع کر دی ۔ ’’چے اپنی کتاب ’’گوریلاجنگ ‘‘ میں لکھتے ہیں ،گوریلا جنگ کے فریق کون ہوتے ہیں. ایک فریق تو جابر سرکار ہوتی ہے،جس کی پشت پناہی منظم فوج کرتی ہے اور جسے عام طور پر بیرونی امداد ملتی رہتی ہے ۔ دوسرا فریق عوام ہوتی ہے ۔ ‘‘
کشمیر کی زمینی صورت حال کے ساتھ معروضی حالات گوریلا وار کے لیے ُاسی طرح موزوں تھے، جیسے چے نے اپنی کتاب میں اِنہیں زیر بحث لایا ہے ۔ یہ بعید از عقل نہیں ہے کہ اس سے پہلے روم میں اسپارٹکس کی رہنمائی میں غلاموں کی بغاوت ہو یا پھر شمالی امریکہ وایشیا کی استعمار کے خلاف صدائے احتجاج ،ہم باہوش وحواس مطالعہ کر سکتے ہیں کہ انہوں نے مسلح جدوجہدکرتے ہوئے خود کو سرفراز کیا ۔ مقبول بٹ کا بنیادی مشرب چے گویرا کی تحریکات تھیں ۔


چنانچہ ستمبر 1966 میں انہیں اپنے چند ساتھیوں کے ہمراہ گرفتار کرکہ سنٹرل جیل سری نگر میں قید کر دیا گیا ۔ بھارتی زیر انتظام کشمیر کی عدالت نے انہیں پاکستانی انٹیلی جنس کا ممد ہونے پر مقدمہِ بغاوت کے تحت پسِ زندان ڈالا ۔ مقدمہ کی سماعت پرکشمیر ہائی کوٹ کے جج نیل کنٹھ گنجونے انہیں سزائے موت سنائی دی ۔


آخر کار دوسال بعد 9دسمبر 1968کو مقبول بٹ میر احمد اور چوہدری یٰسین کے ہمراہ سری نگر جیل سے فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے ۔ کشمیر میں یہ موسم سخت ’’ہو‘‘ کاتھا ،انہیں ایام میں کشمیر کے پست وپہاڑ کورے اور برفانی پوشاک سے بھر ے ہوتے ہیں ۔ انتہائی تکلیف دہ حالات میں انہوں نے بارڈ رکراس کی ،جہاں انہیں پاکستانی آرمی نے انڈین ایجنٹ کا الزام دیتے ہوئے مظفر آباد قلعہ میں اذیت کا نشانہ بنایا ۔


جب انہیں پاکستان کی عدالت میں پیش کیا گیا،یہ جرمِ ضعیفی 30جنوری 1971کو پیش آنے والا واقعہ بھارتی طیارہ گنگا ہائی جیک تھا ۔ جسے دو کشمیر ی نوجوانوں اشرف قریشی اورہاشم قریشی نے ہائی جیک کرتے ہوئے لاہور ایر پورٹ پر لینڈ کروا یاتھا ۔ اس کیس میں مقبول بٹ اور ان کے ساتھیوں پر لاہور کے شاہی قلعہ میں مظالم کے پہاڑ توڑے گئے ۔
اس بار مسند عدل پر بیٹھے جج جسٹس یعقوب علی اور شیخ عبد القادر تھے ۔ عدالت میں مقبول بٹ کا بیان انتہائی تاسف آمیز،پژمردگی پر منحصر تھا ۔ کیونکہ وہ اپنے تئیں ملخصانہ مقام نہ پاتے ہوئے خود کو اجنبی محسوس کرتے جارہے تھے ۔ اپنے مشن کے پیشِ نظر مقبول بٹ ایک بار پھر 1976ریاض ڈار اور حمید بٹ کے ہمراہ وادی میں داخل ہوگئے ۔ جہاں انہیں پھر سے گرفتار کیا گیا،بھارتی سپریم کوٹ نے ان کی سابقہ سزائے موت بحال کرتے ہوئے پھانسی کا فیصلہ سنا دیا ۔ حریت پسندوں نے مقبول بٹ اور ان کے ساتھیوں کی رہائی کے لیے مہاترے کو گرفتار کرکے مقبول بٹ کو اٹھتالیس گھنٹوں میں رہا کرنے کا مطالبہ کیا ۔

باون گھنٹے گزرنے کے بعد جب مطالبہ منظور نہ ہوا تو مہاترے کو قتل کردیا ۔ ۔ چنانچہ اس کے بدلے میں 11فروری 1984کو اتوار کے رو ز علی الصبح تہاڑ جیل میں انہیں پھانسی دے دی گئی ۔ بھارتی حکومت نے مقبول بٹ شہید کی لاش کو ورثاء کو حوالے کرنے سے انکار کر دیا،جیل کے مسلمان قیدیوں نے انہیں وہیں جیل کے احاطے میں دفن کر دیا ۔ 11فروری کشمیری حریت پسندوں کے علاوہ عوام ُالناس کے لیے اہم ترین دن کے طور پر یوم سوگ کی طرح منایا جاتاہے ۔ اسی دن کشمیر کی آخری کرن کو دو ملکوں کی ہمچوکڑیوں نے بجھا کر دم لیا ۔ مقبول بٹ بطور سیاسی وعسکری تحریکات ، ایک علمی موضوع کی حیثیت اختیار کر چکا ہے ۔ جو بجھانا چاہتے تھے ،انہیں کیا معلوم کہ چنگاری نے اس فہم کو ہی خاکستر رکر دیا جو مقبول بٹ کے نام کو تاریخ سے محو کرنے کے درپے تھے

شیئر کریں
1 Comment
  1. Avatar

    بہترین اور حقائق پہ مبنی مفصل تجزیہ❤️

    Reply

کمنٹ کریں