مارٹن کی بیوی اور میرا خواب

افسانہ نگار : خاور جمال

, مارٹن کی بیوی اور میرا خواب

کیا آپ کو معلوم ہے کہ آپ اپنے خوابوں کو پورا نا بھی کر سکیں، ان کو قابو یا کنٹرول کر سکتے ہیں۔ پھر ان میں جو مرضی کریں۔ میں نے کتاب کا سرورق پھر پلٹ کے دیکھا۔ اس پر جلی حروف میں ” لوسڈ ڈریمنگ” لکھا تھا اور شوخ رنگوں سے پگھلی ہوئی گھڑیاں بنی ہوئی تھیں۔ مجھے کتاب دلچسپ لگی سو اپنے تھیلے میں ڈال کر کاؤنٹر کی طرف چل پڑا۔
آج کاؤنٹر پر پھر ربیکا کھڑی تھی۔ خداوند کے حکم سے آج پھر کسی بےوقوفی پر اس حسینہ کے ہاتھوں زلیل ہوں گا، یہ سوچتے ہوئے خریداروں کی قطار میں کھڑا ہو گیا۔ خوبصورت تو وہ تھی ساتھ میں اسے لوگوں سے بات کرنے کا ڈھنگ بھی خوب آتا تھا۔ میرے لیئے یہی کافی تھا کہ چند لمحے وہ مجھ سے بات کر لیتی لیکن اسے نہیں معلوم تھا کہ وہ میری خانماں خراب تنہائی کی درجہ اول کی رفیق ہے۔ اسے تو کسی اعلیٰ کمپنی کے باس کی سیکٹری ہونا چاہیے تھا لیکن شاید بڑھتی عمر اور دو بچوں کے بعد گھر کے خرچے اسے یہ نوکری کرنے پر مجبور کیئے ہوئے تھے۔


مجھے دیکھتے ہی اس کے چہرے پر پیشہ ور مسکان پھیل گئی جو کہ میرا تھیلا دیکھتے ہی حیرانی کے تاثر میں تبدیل ہوتی چلی گئی اور کہنے لگی آج پھر ہمارا سٹور لوٹ کر جا رہے ہو جون۔ میں لہجے میں بے چارگی بھر کر بولا یہ کیسی لوٹ مار ہے کہ اس کے پیسے بھی ادا کرنے پڑتے ہیں۔ وہ قہقہھا لگا کر ہنسی حالانکہ میری بات ایسی مزاحیہ تو نہ تھی لیکن شاید وہ میرے شکل بنانے پر ہنسی ہو گی کیونکہ میں ایک غریب شکل رکھتا ہوں اور اس پر اگر مسکینی کے تاثرات ابھار لوں تو سونے پر سہاگے کا سا سماں بندھ جاتا ہے۔ سماں میرے منہ کے ساتھ ساتھ لوگوں کے دلوں پر بھی بندھ جاتا ہے۔ میں کئی بار بہت سارے گھمبیر حالات میں اپنی اس ترسیلی شکل کی بدولت بچ نکلنے میں کامیاب ہوا ہوں۔ آئینے کے سامنے کھڑے ہو کر کئی بار میں نے بھیک مانگنے کے بارے میں بھی سوچا مگر ابھی ایسا وقت نہیں آیا، گزر بسر ہو ہی جاتی ہے۔


میں گھڑیوں کی دکان پر کام کرتا ہوں۔ آمدنی تو کچھ خاص نہیں لیکن ساتھ ساتھ پیسے جوڑتا رہتا ہوں۔ بس اتنے پیسے کہ کھانا پینا چلتا رہے اور نشہ پورا ہوتا رہے۔ کتابوں کا نشہ۔ میرا وہ زنبیل نما تھیلا جس کو دیکھ کر ربیکا حیران ہو رہی تھی دراصل اس میں کتابیں بھری تھیں اور وہ دکان جو میں لوٹ کر جارہا تھا وہ آکس فیم کی کتابوں کی دکان تھی۔ آکسفیم ایک فلاحی ادارے کے طور پر کام کرتا ہے۔ یہاں سے مجھے بہت ساری کتابیں سستے داموں مل جاتی ہیں۔بلکہ کوڑیوں کے دام کہا جائے تو زیادہ مناسب ہوگا۔ نیو ہیم کا علاقہ جہاں میں رہتا ہوں، اس سے قریب دس منٹ کے پیدل سفر پر یہ دکان واقع ہے۔ یہ لندن کا ایک سستا علاقہ ہے۔ یوں کہہ لیں کہ خاص غریبوں کے لئے بسایا گیا ہے۔ مائیکل کی مہربانی ہے کہ اس نے پرانی شناسائی ہونے کے سبب مجھے اپنے ایک کمرے کے گھر میں جگہ دی۔ کرائے کے نام پر میں اپنی 10 پاؤنڈ کی تنخواہ میں سے دو پاؤنڈ اسے بطور کرایا ادا کر دیتا تھا۔ پچھلے مہینے جب وہ کارڈف اپنے بیوی بچوں سے ملنے کے لئے جا رہا تھا میں نے وعدہ کیا تھا کہ کرایہ منی آرڈر کر دیا کروں گا لیکن خیر سے وہ پیسے بھی میں نشہ پورا کرنے پر اڑا چکا تھا۔ اب میرے پاس صرف 2 پاؤنڈ بچے تھے۔


ڈیڑھ پینی کی کافی لے کر میں کمرے میں آ گیا۔
سب سے پہلے یہی لوسڈ ڈریمنگ والی کتاب پڑھنا شروع کی۔ کتاب میں مختلف مشقیں اور ان کو کرنے کا طریقہ درج تھا۔ مثلاً ہر خواب کو آنکھ کھلتے ہی لکھنا، سونے اور جاگنے کا وقت مقرر کرنا۔ خواب میں گزرا وقت حقیقت میں گزر رہے وقت سے مختلف ہوتا ہے لہذا وقت کو جانچنے، کہ آیا آپ خواب میں ہیں یا حقیقت میں، کے لیے الگ مشقیں تھیں۔ سب سے الگ اور پیچیدہ مشق یہ تھی کہ اگر سوتے وقت آپ پر نیند کا فالج طاری ہو جائے تو گھبرا کر اٹھنا نہیں بلکہ اسے طاری رہنے دینا ہے کیونکہ اس سے خواب کو اپنی مرضی سے کنٹرول کرنے میں کمال حاصل ہو جائے گا۔ میں بچپن سے اس کیفیت کا عادی ہوں۔اسے میں قابوس کہا کرتا ہوں۔ یہ کیفیت جب بھی نیند میں مجھ پر طاری ہوتی ہے تو ایسا لگتا ہے جیسے میرے سینے پر کوئی بہت ہی بڑا بوجھ رکھ دیا گیا ہے یا کوئی بلا چڑھ کر بیٹھ گئی ہے۔ میں اس کیفیت سے نکلنے کی بھرپور کوشش کرتا ہوں لیکن نہیں نکل پاتا ۔ 10 15 سیکنڈ کی کشمکش کے بعد جب میں اس کیفیت سے نکلتا ہوں تو میری سانس پھولی ہوئی ہوتی ہے اور میں پسینے سے بھیگا ہوتا ہوں۔ اس دوران بہت ہی خوفناک خواب آتے ہیں۔


غریب تو میں شروع دن سے تھا۔ امیری کے خواب دیکھنا میری عادت تھی اس لیے شارٹ کٹ مارنا تو میرا حق بنتا تھا۔ سوچا کیوں نہ اس نیند کے فالج پر قابو پایا جائے، باقی مشقیں تو آسان ہی ہیں۔ مائیکل اکثر اوقات سونے سے پہلے ایک سفوف پھانکا کرتا تھا۔ بقول اس کے اس سے نیند جلدی آ جاتی تھی۔ میں نے ایک چمچ برابر پھکی ماری اور گرم کافی کے گھونٹ کے ساتھ نگل گیا۔ دوپہر کے دو بج رہے تھے، یہ سونے کا وقت نہیں تھا لہذا مجھے مکمل یقین تھا کہ بے وقت کی یہ پھکی لے کر زبردستی سونے کی کوشش، قابوس کو لازمی دعوت دے گی۔


اور پھر وہی ہوا۔ مجھے نیند کا غلبہ محسوس ہونے لگا۔ جسم بستر میں دھنسنا شروع ہو گیا۔ بوجھ تیزی سے میرے سینے پر قبضہ جمائے جا رہا تھا لیکن مجھے اسے بس چند لمحے برداشت کرنا تھا۔ میں خلا میں ڈوبتا جا رہا تھا۔ میں گھپ اندھیرے میں آنکھیں پھاڑ پھاڑ کر دیکھنے کی کوشش کر رہا تھا لیکن میری آنکھیں بند تھیں۔ میں تیزی سے ہاتھ پاؤں چلا رہا تھا لیکن میرا جسم ساکت تھا۔ بہت ہمت کی میں نے لیکن برداشت نہ کر سکا اور اٹھ بیٹھا۔ میری سانس پھولی ہوئی تھی اور جسم پسینے سے شرابور تھا۔ رات ہو چکی تھی۔
کچھ دیر بعد حواس جگہ پر آئے تو مجھے خنکی کا
احساس ہوا۔ کھڑکی کھلی ہوئی تھی۔ میں اٹھ کر کھڑکی بند کرنے لگا تو دیکھا باہر ربیکا کھڑی ہے۔ بالکل ساکت اور میری طرف دیکھے جا رہی ہے۔ میں نے اسے آواز دی لیکن وہ وہیں کھڑی رہی۔ میں باہر نکلا اور چکر کاٹ کر گھر کی پچھلی طرف پہنچا جہاں ربیکا کھڑکی کے سامنے کھڑی تھی۔ مجھے دیکھتے ہی لپٹ گئی اور زاروقطار رونے لگی۔ مجھے کچھ سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ یہ کیا ہو رہا ہے۔ میں اسے گھر کے اندر لے آیا۔ آگ جلا کر ہم دونوں اس کے سامنے بیٹھ گئے۔ اس کا رونا تھما تو کہنے لگی کہ وہ اپنے شوہر مارٹن سے لڑ کر گھر سے باہر نکل آئی اور سمت کا تعین کیئے بغیر چلتی چلتی یہاں پہنچ گئی۔


میں نے اسے دلاسہ دیا جس سے وہ بہت اچھا محسوس کرنے لگی۔ میرے دل میں جنگ چل رہی تھی کہ اسے گھر چھوڑ آؤں یا شیطانی وسوسوں کو عملی جامہ پہناوں۔ وہ بھی تقریباً راضی نظر آ رہی تھی عین اسی لمحے دروازہ ایک دھماکے سے اڑ کر سامنے کی دیوار سے جا لگا۔ میں اپنی جگہ جم کر رہ گیا۔ ٹوٹے ہوئے دروازے کے خلا سے ربیکا کا شوہر دو نالی بندق تھامے اندر داخل ہو رہا تھا۔ وہ چیخ چیخ کر اسے کچھ کہہ رہی تھی لیکن مجھے کوئی آواز سنائی نہیں دے رہی تھی۔ میں اپنی جگہ سے اٹھنے کی کوشش کر رہا تھا لیکن اٹھ نہیں پاتا تھا۔ مارٹن ربیکا کے پیٹ میں دو کارتوس اتار چکا تھا اور وہ اڑ کر ادھڑے ہوئے دروازے کے اوپر اپنے ہی خون میں ڈوب رہی تھی۔
اب مارٹن اور اس کی بندوق کا رخ میرے سینے کی طرف تھا۔ میرے سینے پر بوجھ بڑھتا جا رہا تھا۔ اس نے بندوق میرے سینے پر رکھ دی۔ میں نے بہت ہاتھ پاؤں مارے لیکن میرا جسم ساکت تھا۔ اور پھر دو کارتوس میرا سینہ چیرتے ہوئے بے حس و حرکت جسم میں پیوست ہو گئے۔
میری آنکھ کھل چکی تھی۔ سانس بری طرح پھولی ہوئی تھی۔ میں پسینے سے شرابور تھا۔ دوپہر کے دو بج کر بارہ منٹ ہوئے تھے۔ کافی ابھی مکمل ٹھنڈی نہیں ہوئی تھی۔

شیئر کریں

کمنٹ کریں