مثنوی گلزارِ نسیم کی خصوصیات

گلزارِ نسیم کی خصوصیات

مثنوی گلزار ِ نسیم کی خصوصیات پر نظر ڈالنے سے قبل اس مضمون کا پہلا حصہ جو کہ مثنوی گلزارِ نسیم کی تاریخ و تعارف پر مشتمل ہے، پڑھنے کے لئے یہاں کلک کریں۔

معاشرت کی تصویر کشی

اگرچہ گلزارِ نسیم کا پلاٹ مکمل طور پر فرضی ہے مگر یہ بھی حقیقیت ہے کہ شاعر اپنے دور سے مواد حاصل کرتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ گلزارِ نسیم میں نوابین ِ اودھ کے عہد کی تہذیب نظر آتی ہے۔ پنڈت دیا شنکر نسیم نے نواب غازی الدین حیدر، نواب نصیر الدین حیدر، نواب محمد علی شاہ، نواب امجد علی شاہ کا زمانہ دیکھا تھا۔ اس لئے اس عہد میں لکھنئو میں جو رواج تھے ان کی جھلک گلزارِ نسیم میں نظر آتی ہے۔ جب تاج الملوک اور بکائولی کی شادی ہوئی تو کچھ رسمیں ادا کی گئیں جن کا ذکر نسیم یوں کرتے ہیں:

گل سے خوانوں میں زردہ لایا
ان غنچہ دہانوں کو کھلایا
جب عقل کی ان کے ساعت آئی
دو رشتوں میں اک گرہ لگائی
حق پا کے جو رکھتی تھیں قدامت
بول اٹھیں مبارک و سلامت

ان اشعار سے ظاہر ہوتا ہے کہ لکھنئو کے نوابی دور میں گانا، ناچ کے علاوہ حقہ، پان، کھانے کا رواج تھا۔ اور بھی بہت سے رواج اور رسم مثنوی میں گلزارِ نسیم میں ملتے ہیں۔

مرصع کاری اور بندشِ الفاظ

مرصع کاری میں گلزارِ نسیم اپنی مثال آپ ہے۔ اس کے لکھنے والے پنڈت دیا شنکر نسیم، خواجہ حیدر علی آتش کے شاگرد تھے۔ اور خود آتش کے خیال میں شاعری مرصع ساز کا کام ہے چنانچہ بندش الفاظ نگوں کے جڑے کی مثل ہیں۔ دیا شنکر نسیم نے بھی بندش الفاظ کے معاملے میں اپنے استاد جیسی فنی مہارت کا ثبوت بہم پہنچایا ہے۔ دیا شنکر نسیم کی اس مثنوی میں اسی مرصع سازی کے نمونے جگہ جگہ بکھرے دکھائی دکھائی دیتے ہیں۔ مندرجہ ذیل اشعار دیکھیں:

عریانی کے ننگ سے لے جائیں
ستار کی سب قسمیں کھائیں
ہم بستر آدمی پری تھی
سائے کی بغل میں چاندنی تھی

مثنوی گلزارِ نسیم کی دیگر خصوصیات اور مںظر نگاری کے متعلق پڑھنے کے لئے یہاں کلک کریں۔

شیئر کریں
مدیر
مصنف: مدیر
لفظ نامہ ڈاٹ کام کی اداریہ ٹیم کے مدیران کی جانب سے
1 Comment

کمنٹ کریں