مثںوی سحرالبیان کی خصوصیات

مثنوی سحرالبیان

جب قیامت کا ذکر چھڑ جاتا ہے تو بات محبوب کی جوانی تک پہنچتی ہے۔ جب مثنوی کا ذکر چھڑ جاتا ہے تو بات سحرالبیان تک پہنچتی ہے۔ یہ حقیقیت ہے کہ جس قدر نشہ ، خمار، کشش اور ساحری محبوب کی جوانی میں ہوتی ہے اسی قدر یہ خصوصیت دوسری اشیاء میں نہیں ہوتی ہیں۔ اسی طرح سے اردو میں کافی تعداد میں مثنویاں کہی گئی ہیں مگر جو دلکشی اور ساحری مثنوی سحرالبیان میں موجود ہے دوسری مثنویاں ان خوبیوں سے محروم ہیں۔ اس لئے ہم بلاتکلف یہ بات کہہ سکتے ہیں کہ سحرالبیان اردو کی بہترین مثنوی ہے۔

سحرالبیان اردو کی ان زندہ جاوید مثنویوں میں سے ہے جو ہر زمانہ میں عوام اور خواص میں یکساں طور پر مقبول رہی ہیں۔ اس مثںوی کی مقبولیت پر غور کیجئے تو بہت سے فنی محاسن ایسے نظر آتے ہیں جو دوسری مثنویوں میں نہیں ملتے ہیں۔ اس لئے سحرالبیان ایک مقبول عام مثنوی ہے۔ فنی محاسن کے سلسلے میں اس کی کردار نگاری، پلاٹ، جذبات نگاری، مکلامہ نگاری، مرقع نگاری، منظر نگاری اور سراپا نگاری کے علاوہ ایک مربوط معاشرت کے ثقافتی کوائف کی تصویر بے حد کامیاب کھینچی گئی ہے۔

اس مثنوی سے میر حسن اور ان کی سوسائٹی کے مذہبی افکار اور اخلاقی اقدار پر روشنی پڑتی ہے جو اس معاشرت کے روایتی طرزِ فکر اور تصورِ زندگی کا جزو بن چکے ہیں۔ سحرالبیان اس دور کے مذہبی معتقدات ، ذۃنی امور اور اخلاقی تصورات کی عکاس ہے۔ یہ مثنوی دراصل اس طرزِ زندگی کی بہترین نمائندگی کرتی ہے۔ اودھ کی اس فضا میں جہاں تکلف و تصنع کا دوردورہ تھا، ایک تہذیب بن رہی تھی۔ سحرالبیان میں اس تہذٰب کی تصویریں بھی محفوظ ہیں۔ میر حسن چونکہ دلی سے آئے تھے اور مغل تہذٰب کے دلدادہ تھے اسی لئے اس مثنوی گلزارِ نسیم کے مقابلے میں لکھنوی عناصر کم ہیں۔ اس مثنوی کا اسلوب و لہجہ دہلوی ہے۔ تکلفات و تصنعات کا وہ زور نہیں جو بعد میں گلزارِ نسیم کی صورت میں نمودار ہوا۔ پروفیسر احتشام حسین اپنے ایک مضمون “سحرالبیان پر ایک نظر” میں یون لکھتے ہیں:

اگر کوئی شخص اختلاف کرنے پر آئے تو اختلاف ہر بات سے ہوسکتا ہے اس لئے اگر کہا جائے کہ میر حسن کی مثنوی اردو زبان کی سب سے اچھی مثنوی ہے تو کہیں کہیں سے یہ آواز ضرور آئے گی کہ یہ رائے درست نہیں ہے لیکن اگر یہ کہا جائے کہ یہ مثنوی اردو کی بہترین مثنویوں میں شمار کی جاتی ہے تو شائد کسی کو شدت سے اختلاف نہ ہوگا۔ کیونکہ کہانی اور اندازِ بیان میں ضرور کچھ ایسے عناصر ہیں جن کا مطالعہ اس کی عظمت کا پتہ دیتا ہے۔

پروفیسر احتشام حسین

میر حسن نے کئی اور مثنویاں بھی لھیہ ہیں لیکن کسی مثنوی میں یہ نہیں کہا ہے کہ

ذرا منصفو ! داد کی ہے یہ جا
کہ دریا سخن کا دیا ہے بہا
زبس عمر کی اس کہانی میں صرف
تب ایسے یہ نکلے ہیں موتی سے حڑف
جوانی میں جب ہوگیا ہوں میں پیر
تب ایسے ہوئے ہیں سخن بے نظیر
نہیں مثنوی ہے یہ اک پھلجھڑی
مسلسل ہے موتی کی گویا لڑی
نئی طرز ہے اور نئی ہے زبان
نہیں مثنوی ہے یہ سحرالبیان

یہ میر حسن کی تعلی ہو یا روایتی شاعرانہ پیرایہ بیان لیکن ہم اس کو تنقید کی بنیاد بنا کر سحرالبیان پڑھیں تو بعض دلکش نتائج ضرور برآمد ہوں گے۔ سحرالبیان کا مطالعہ ہم مندرجہ ذیل عنوانات کے تحت کرتے ہیں۔ ہر عنوان میں اس کی خوبیوں اور فنی محاسن پر تنقید کر کے اس کی قدر و قیمت نمایاں کی جائے گی۔

سحرالبیان کا پلاٹ

جہاں تک اس مثنوی کے پلاٹ کا تعلق ہے، اس میں کوئی نیا پہن نہیں۔ اس کہانی کے اجزاء مختلف منشور اور منظوم، قدیم داستانوں میں بکھرے پڑے ہیں اور اس کی کہانی سیدھے سادھے انداز میں یوں ہے:

کسی ملک میں ایک دبادشاہ تھا جو اپنی منصف مزاجی کی وجہ سے رعایا میں ہر دلعزیز تھا۔ بادشاہ کو تمام نعمتیں میسر تھیں مگر اولاد جیسی نعمت سے محرومی اس کی زندگی کی سب سے بڑٰ محرومی تھی۔ اس محرومی و مایوسی کے عالم میں بادشاہ دنیا ترک کر دینے کا ارداہ کرلیتا ہے۔ وزیروں کے مشورے پر وہ سردست اس فیصلے پر عمل درآمد روک دیتا ہے۔ شاہی نجومی بادشاہ کے ہاں چاند سے بچے کی پیدائش کی خوشخبری دیتے ہیں۔ لیکن اس کی سلامتی و زندگی میں چند خطروں کی نشان دہی کرتے ہوئے اس احتیاط کی تلقین کرتے ہیں کہ بارہ سال کی عمر تک اسے محل کے اندر رکھا جائے اور رات کھلے آسمان تلے سونے نہ دیا جائے۔ کچھ عرصے بعد واقعی بادشاہ کے ہاں لڑکا پیدا ہوتا ہے۔ اس کا نام اس کی خوبصورتی اور مردانہ وجاہت کے پیش نظر “بے نظیر” رکھا جاتا ہے۔

تمام شاہی تکلفات اور نازونعم کے ساتھ بارہ سال تک اسے محل کے اندر رکھا جاتا ہے۔ مگر سال کے آخری دن جب اس کی عمر بادشاہ کے حساب سے پورے بارہ سال ہوگئی تھی حالانکہ اتفاق سے ایک دن کم تھا، وہ رات کو ضد کر کے چھت پر سو جاتا ہے۔ آدھی رات کے قریب ماۃ رخ پری کا گزر وہاں سے ہوا۔ اسے سوتے میں دیکھ کر اس پر عاشق ہوئی۔ اور اپنے ساتھ پرستان میں لے گئی۔ شہزادے کی گم شدگی پر صبح محؒ میں قیامت کا منظر برپا ہوجاتا ہے۔ بڑی تلاش کی گئی مگر شہزادے کو نہ ملنا تھا نہ ملا۔ ماہ رخ پری طرح طرح سے شہزادے کو اپنی طرف مائل کرنے کی کوشش کرتی ہے۔

شہزادہ اپنی صگرسنی کے باعث اداس، ملول اور پریشان رہتا ہے۔ اس پریشانی کو دور کرنے کے لیے ماۃ رک پری اسے کل کا گھوڑا دیتی ہے۔ اس گھوڑے پر سیر کرتا پھرتا شہزادہ بدرمنیرشہزادی کے باغ میں اترتا ہے۔ دونوں ایک دوسرے کو دیکھ کر عاشق ہوجاتے ہیں۔ اچانک ایک دن ایک دیو اُن دونوں کو وصل کی حالت میں یدکھ لیتا ہے۔ اس کی اطلاع ماہ رخ پری کو ہوتی ہے تو وہ انتہائی غضبناک ہو کر شہزادے کو واپس آنے پر کوہ قاف کے اندھے کنویں میں ڈلوا دیتی ہے۔

بدر منیر کا عجیب حال ہے۔ اس کی راز دار سہیلی وزیر زادی نجم النساء بے نظیر کی تلاش میں نکلتی ہے۔ اور آخرکار بڑی مشکلوں سے جنوں کے بادشاہ کے بیٹے فیروزشاہ کی مدد سے بے نظیر کو رہائی دلاتی ہے۔ دونوں کی شادی ہوجاتی ہے۔ خود نجم النساء فیروزشاہ کے ساتھ بیاہ کر لیتی ہے۔ اور یوں یہ مثنوی طرب ناک انجما کو پہنچتی ہے۔

ڈاکٹر وحید قریشی اس پلاٹ کا تجزیہ کرتے ہوئے فرماتے ہیں:

فنی لحاظ سے سحرالبیان کا جائزہ لیا جائے تو اس ضمن میں میر حسن کی ذہانت ، پلاٹ کی تشکیل میں بروئے کار نظر آتی ہے۔ سحرالبیان اردو کے چند عظیم مثنویوں میں سے ہے۔ اس میں اگرچہ محدود زندگی کی تصویر کشی کی گئی ہے لیکن اپنی محدودیت کے باوجود میرحسن نے جس زندگی کو پیس کیا ہے وہ ہمارے لئے دلچسپی کا سامان مہیا کرتی ہے۔ مثنوی کی شہرت اور مقبولیت کا راز میر حسن کی اعلی صلاحیت میں مضمر ہے۔

اسی مضمون کا اگلا حصہ مثنوی سحرالبیان میں تہذیب و ثقافت کی عکاسی پر مبنی ہے۔ اسے پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

شیئر کریں
مدیر
مصنف: مدیر
لفظ نامہ ڈاٹ کام کی اداریہ ٹیم کے مدیران کی جانب سے
1 Comment

کمنٹ کریں