سحرالبیان میں تہذیب و ثقافت کی عکاسی

مثنوی سحرالبیان لکھنویت masnavi

یہ مضمون مثنوی سحرالبیان کے گزشتہ مضمون کا اگلا حصہ ہے۔ گزشتہ حصہ پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

سحرالبیان کی فنی خوبیوں میں اس کی نمایاں کوبی تہذیب و ثقافت کی عکاسی ہے۔ سید عابد علی عابد اس کی تہذیبی و معاشرتی خوبیوں کا بیان یوں کرتے ہیں:

میر حسن نے جس معاشرت کی تصویر کھینچی ہے وہ نوابانِ لکھنئو سے متعلق ہے۔ رعایا خوشحال، پرجا فارغ البال، ہر ہفتے کوئی نہ کوئی تقریب، میلے ٹھیلے، ڈٰرے دار طوائفیں، شوخ و شنگ اور چست و چالاک ناچنے والیاں، لوگ موسیقی کے رسیا، ٹھمریوں کے بولوں کے شیدائی، فرمانروا، داستان گوئی، اور داستان طرازی کی طرف مائل، خوبصورت باغ لگوانے کے مشتاق، شہزادیاں اور ناز و نعمت میں پلی ہوئیں، سات محل کی خواسیں کہ جن کا نام سن کر آنکھوں میں نور ، دل میں سرور آ جائے۔

میر حسن نے درحقیقیت اس تہذٰب و معاشرت کا گہری نظر سے مطالعہ کیا تھا۔ اور وہ اس سے خوب واقف بھی ہے۔ یہاں ہم موسیقی کی ایک محفل کی تصویر پیش کرتے ہیں جسے میر حسن کے فنی شعور نے تخلیق کیا ہے۔

موسیقی

بنا ٹھاٹھ نقارخانے کا سب
مہیا کر اسباب ِ عیش و طرب
دیا چوب کو پہلے تم سے ملا
لگی پھیلنے ہر طرف کو صدا
بجے شادیانے جو واں اس گھڑی
ہوئی گرد و پیش آکے خلقت کھڑی

رقص کی ایک اور محفل کا نظارہ کیجئے۔ موقع یہ ہے کہ بدر منیر اور بے نظیر کی شادی کی خوشی میں رقص اور موسیقی کا اہتمام ہوتا ہے۔ اس منظر کی تہذیبی قدر وقیمت یہ ہے کہ یہاں اس دور کی رقاصائوں کی عمدہ تصویر دی گئی ہے۔ ان کے رقص کا انداز، پھرتی، جسم کے اعضاء کی حرکات اور ان سے پیدا ہونے والے تاثرات، اس تہذٰبی محفل کی قیمت بڑھاتے ہیں۔ رقاصہ کا آرسی دیکھنا اور اس کے بعد رقص میں آںے کے لئے آستین اور مہرے کا چاک الٹ دینا اور نئے سرے سے انگیا درست کرنا۔ پھر ابرودرست کر کے چست و چالاک ہو کر دوپٹہ سر پر الٹ کر صف چیر کر نکل آنا۔ اس دور کے تہذٰبی رقص کی تصویر پیش کرتا ہے۔

انگوٹحے کی لی سامنے آرسی
وہ صورت کی دیکھ اپنی گلزار سی
الٹ آستیں اور مہرے کا چاک
نئے سر سے انگیا کو کر ٹھیک ٹھاک
دوپٹۓ کو سر پر الٹ اور سنبھل
یکایک وہ صٖ چیر آنا نکل

جبکہ اس دور کے فرماں روائوں کے نجوم کے قائل اور رسموں کے گھائل ہونے کا منظر تو مثنوی کی ابتداء ہی میں نظر آتا ہے ۔جبکہ مختلف موقعوں پر چند رسومات کا بیان بھی ہے۔ اگر ان کا جائزہ لیا جائے تو معاشرت و تمدن کی بڑی واضح اور جاندار تصوریریں ہمارے سامنے آ جاتی ہیں۔ مثلاَ۔ شہزادے کی پیدائش پر جس طرح مال اسباب لٹایا جاتا ہے۔ علماء و شیوخ کو جاگیریں عطا کی جاتی ہیں۔ سپاہیئوں کو گھوڑے دیے جاتے ہیں۔ ان سب سے اس معاشرے اور حکومت کی تصویر ہمارے سامنے آتی ہے۔

امیروں کو جاگیر لشکر کو زر
وزیروں کو الماس و لعل و گہر

جبکہ اس شعر میں تو آسف الدولہ عہد خود بہ خود جھلک رہا ہے۔ جو کہ مثنوی کے آخر میں کہا گیا ہے۔

رہے شاد نوابِ عالی جناب
کہ آصف الدولہ جس کا خطاب

دراصل “سحر البیان” ایسے معاشرے کی تصویر کشی ہے جسے فراغت حاصؒ ہے۔ قصۓ کے تمام افراد اسی آسودہ حالی اور فارغ البالی کے مظہر ہیں۔

ڈاکٹر وحید الدین قریشی

میر حسن دہلوی کی مثنوی سحرالبیان میں تہذیب و ثقافت کے عنصر کا احوال آپ نے پڑھا۔ اسی مثنوی میں منظر نگاری کے پہلوئوں کو جاننے کے لیے یہاں کلک کریں۔

شیئر کریں
مدیر
مصنف: مدیر
لفظ نامہ ڈاٹ کام کی اداریہ ٹیم کے مدیران کی جانب سے
2 کمنٹ

کمنٹ کریں