سحرالبیان کا اسلوب

مثنوی سحرالبیان میر حسن

اسلوب کی بات کی جائے تو سحرالبیان کے اسلوب کی مختلف خصوصیات ہیں جن کا احاطہ کرنا مشکل ہے۔ تاہم اس کی چند خصوصیات مندرجہ ذیل ہیں:

زبان

شاعری میں زبان کی اہمیت کو جھٹلایا نہیں جا سکتا۔ میر حسن اس نکتے سے آگاہ تھے۔ سحرالبیان کی نمایاں خصوصیت اسکی زبان ہے۔ انہوں نے سبک شیریں اور نرم الفاظ کا استعمال کیا ہے۔ میر حسن کی اس سادگی اور روزمرہ کو دیکھ کر محمد حسین آزاد حیرت سے پوچھتے ہیں کہ

کیا اسے سو برس آگے والوں کی باتیں سنائی دیتی تھیں کہ جو کچھ کہا صاف وہی محاورہ اور وہی گفتگو جو اب ہم تم بول رہے ہیں

محمد حسین آزاد : ممعروف اردو نقاد و مصنف

انہوں نے ہر دو چار اشعار کے بعد ایک لفظ ایسا ضرور رکھا ہے کہ ان سب شعروں کا مضمون اس ایک ہی لفظ میں ادا ہوگیا ہے۔ گویا اشتیاق بڑھانے کے لئے پہلے تصویر کا ایک، حصہ دکھایا پھر کل تصویر سامنے رکھ دی:

غلاف ان پہ باناتِ پر زر کے ناٹک
شتابی سے تقاروں کو سینک سانک

میر حسن کے یہاں اگرچہ عام طور سے سادہ اور صاف ستھرے الفاظ نظر آتے ہیں جو دورِ جدید کی لسانی خصوصیات کی نمائندگی کرتے ہیں۔ یہ اسلوب کی کامیابی ہے۔ اس کے علاوہ ایسے الفاظ بھی پائے جاتے ہیں جو دورِ قدیم میں دکن اور شمالی ہند سے بولے جاتے تھے۔ مثلاَ میر حسن کئی جگہ نام کے بجائے نائوں کا لفظ استعمال کرتے ہیں۔

دیے شاہ نے شاہزادے کے نائوں
مشائخ کو اور پیرزادوں کو گائوں
ادھر آتیاں اور ادھر جاتیاں
پھریں اپنے جوبن کو دکھلاتیاں

تشبیہات

میر حسن کے ہاں حسین تشبیہات کے خزانے موجود ہیں۔ ان کی تشبیہات کو پڑھ کر دل کلی کی طرح شگفتہ ہوجاتا ہے۔ یہ خوصیت مثنوی کے عمدہ اسلوب کی نمائندہ ہے۔

وہ گورا بدن اور بال اس کے تر
کہے تو کہ ساون کی شام و سحر
نہانے میں یوں تھی بدن کی دمک
برسنے میں بجلی کی جیسے چمک

محاکات

میر حسن کے یہاں محاکات کی حسین مثالیں نظر آتی ہیں۔ میر حسن نے ایک جگہ بدر منیر کے بیٹھے کا انداز دکھایا ہے

کہ زانو پہ اک پائوں کو رکھ لیا
کہ اک پائوں مونڈھے سے لٹکا دیا

اس کے علاوہ سحرالبیان کے بعض اشعار اس قدر رواں ہیں کہ وہ ضرب المثل بن گئے ہیں۔ یہ مثنوی کی سادگی و سلاست کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ مثال کے طور پر

سدا عیش ِ دوراں دکھاتا نہیں
گیا وقت پھر ہاتھ آتا نہیں
کسی پاس دولت یہ رہتی نہیں
سدا نائو کاغذ کی بہتی نہیں

صنعتوں کا استعمال

میر حسن کے ہاں تشبیہات کے سلسلے میں قوسِ قزح کے جو رنگ ملتے ہیں وہ ان کی رنگینی فکر اور حسنِ نظر کا ثبوت ہیں۔ مگر ہم انہیں کلیتاََ ان کے معاشرہ اور ماحول کی رنگینیوں سے الگ کر کے نہیں دیکھ سکتے۔ اس دور کا مذاقِ حسن بھی ان پر اپنے جمالیاتی تصورات کی شعائیں ڈال رہا تھا۔ میر حسن کے یہاں صنعتوں کا استعمال بھی ہے۔ خاص طور پر صنعتِ ایہام جس کے لئے میر حسن نے “مگربسیار بشتگی بستہ شود” کی قید لگائی تھی۔ جس پر میر حسن نے آزادی کے ساتھ کام کیا ہے۔

رعایتِ لفظی: کہا چاہ وال، ہیں یوسف عزیز
اری باولی چاہ میں کر تمیز
تجنیس: نہا دھو کے اس روز ایسی بنی
کہ دو دن کی جیسے ہو سچ مچ بنی

زبان کی صفائی

سحرالبیان کی زبان صفائی، شستگی اور روانی سے مزین ہے۔ یہ زبان میر و سودا کی زبان سے بہتر نظر آتی ہے۔ میر حسن نے محاورے روزمرہ کا استعمال بڑی خوبی سے کیا ہے۔ صنعتیں موجود ہیں لیکن وہ کلام کا ایک جزو بن کر سامنے آتی ہیں۔ زبان کی صفائی اور شستگی کے لئے چند اشعار

وہ بیٹھی عجب ایک انداز سے
بدن کو چرائے ہوئے ناز سے
پسینہ پسینہ ہوا سب بدن
کہ جوں شبنم آلود ہو یاسمن

بقول کلیم الدین احمد، اہم چیز سحرالبیان میں طرزِ ِ ادا ہے۔ عبارت صاف، پاکیزہ اور بامحاورہ ہے۔ میر حسن نے روزمرہ کا نچوڑ اس مثنوی میں رکھ دیا ہے۔ جو کہ اسلوب کی عمدگی کا باعث ہے۔

مجموعی جائزہ

سحرالبیان میر حسن کی زندگی کے آخری دور کا کارنامہ ہے۔ انہوں نے اس کے لکھنے میں اپنی عمر کا ایک طویل حصہ صرف کیا۔ چنانچہ وہ خود اعتراف کرتے ہیں:

ہر اک بات پر دل کو میں خوں کیا
تب اس طرح رنگین مضموں کیا

اس مثنوی کی سادگی و پرکاری، فن کارانہ نزاکت، مںظر کشی، واقعہ نگاری، کردار نگاری اور تفصیل نگاری کو دیکھ کر عجیب کیفیت محسوس ہوتی ہے۔ خاص طور پر میر حسن کے اندازِ بیان نے اس نظم کو حیاتِ جاوید سے ہمکنار کیا۔ ان کی شاعرانہ انداز ِ بیان، طرزِ ادا اور زبان پر قدرت نے مثنوی کو کہیں غیردلچسپ نہ ہونے دیا۔

واقعہ یہ ہے کہ اس تصنیف میں میر حسن نے اپنا خونِ جگر صرف کیا ہے۔ اپنی زندگی کے تجربات کا نچوڑ پیش کر دیا ہے۔ اپنی ذہانت و فطانت فنی آگہی و لسانی شعور کا ثبوت اس مثنوی کے ہر مصرعے میں فراہم کیا ہے۔ یہ کہانی نہیں تہذیبی دستاویز ہے۔ یہ شعر نہیں صحیفہء حیات ہے۔

خلیل الرحمن عظمی

میر شیر علی افسوس مثنوی کے دیباچہ میں لکھتے ہیں کہ

مثنوی سحرالبیان اسم ِ بامسمی ہے کیونکہ اس کا ہر شعر اہل ِ ذوق کے دلوں کو لبھانے کو موہنی منتر ہے اور ہر داستان اس کی سحر سامری کا ایک دفتر۔ کیونکہ فصاحت و بلاغت کا اس میں ایک دریا بہا ہے۔ اسلوب کی عمدگی اپنے عروج پر دکھائی دیتی ہے۔ میر حسن خود کہتے ہیں

رہے گا جہاں میں مِرا اس سے نام
کہ ہے یادگارِ جہاں یہ کلام

مثنوی سحرالبیان پر مبنی سلسلہ وار مضمون کا آخری حصہ یہاں اختتام پزیر ہوتا ہے۔ گزشتہ حصہ ، جس میں مثنوی سحرالبیان کی کردار سازی بیان کی گئی ہے، اسے پڑھنے کے لئے یہاں کلک کریں۔

شیئر کریں
مدیر
مصنف: مدیر
لفظ نامہ ڈاٹ کام کی اداریہ ٹیم کے مدیران کی جانب سے
1 Comment

کمنٹ کریں