سحرالبیان میں جذبات و جزئیات نگاری

مثنوی سحرالبیان

میر حسن کے ہاں جذبت نگاری کے بڑے ہی اچھے اور موثر مرقعے ملتے ہیں۔ خوشی کے عالم میں خوشی اور غم و الم اور دکھ کے موقع پر رقت طاری ہوجاتی ہے۔ ذرا وہ منظر دیکھیے جب بے نظیر چھت پر سے غائب ہوجاتا ہے۔ محل میں کہرام مچ جاتا ہے۔ والدین کے لئے قیامت آجاتی ہے۔ اور ہر کوئی پریشان اور حٰران کھڑا ہے۔

کوئی دیکھ یہ حال رونے لگی
کوئی غم سے جی اپنا کھونے لگی
رہی کوئی انگلی کو دانتوں میں داب
کسی نے ہا گھر ہوا یہ خراب
سنی شاہ نے جس گھڑی یہ خبر
گرا خاک پہ کہہ کے ہائے پسر

جزئیات نگاری

میر حسن نے جس واقعے کا بھی ذکر کیا اس کے ہر اک جزو کو مکمل بیان کردیا۔ مثلاَ۔ جب بادشاہ رمال کو بلا کر اولاد کے باےر میں ان سے دریافت کرتا ہے تو رمال نے اپنے کام یوں شروع کیا۔

یہ سن کر وہ رمال طالع شناس
لگے کھنچنے زائچے بے قیاس

اس طرح میر حسن نے پوری تفصیل کے ساتھ نجومیوں کے حرکات و سکنات کو بیان کیا ہے۔ اس طرح جب بادشاہ کا بیٹا ہوتا ہے تو رقص کا اہتمام ہوتا ہے۔ میر حسن نے رقص کا منظر نہایت دلفریب انداز میں پیش کیا ہے۔ انہوں نے ایسی باریک باتوں کا ذخر کیا ہے جس پر ہر شاعر کی نظر نہیں پڑتی۔

وہ گھٹنا وہ بڑحنا ادائوں کے ساتھ
دکھانا وہ رکھ رکھ کے چھاتی پہ ہاتھ

تصویر کشی

سحرالبیان کا ایک بڑا کمال اس کی تصویر کشی ہے۔ میر حسن نے جس منظر اور جس حالت کا جہاں بھی نقشہ کھینچا تصویر کشی کا حق ادا کر دیا۔ مولانا حالی مثنوی سحرالبیان کی اس خوبی کا ذکر کرتے ہوئے کہتے ہیں:

غرض کے جو کچھ اس مثنوی میں بیان کیا ہے اس کی آںکھوں کے سامنے تصویر کھینچ دی ہے۔ اور مسلمانوں کے اخیر دور میں سلاطین امراء کے یہاں جو حالتیں تھیں اور جو جو معاملات پیش آتے تھے، بیعنہ ان کا چربہ اتار دیا ہے۔

میر حسن نے منظر نگاری کیتصویر کشی کی ہے۔ اس میں ایسی محاکات کا ثبوت دیا ہے پورا منظر ہماری آںکھوں کے سامنے پھر جاتا ہے۔ منظر دیکھئے:

وہ اجلا سا میداں چمکتی سی ریت
لگا نور سے چاند تاروں کا کھیت
درختوں کے پتے چکمتے ہوئے
خس و خار سارے جھکمتے ہوئے

ایک موقع پر شہزادی کی تصویر کشی کی ہے اور بہت جیتی جاگتی تصویر ہے:

وہ بیٹھی عجب ایک انداز سے
بدن کو چرائے ہوئے ناز سے
منہ آںچل سے اپنا چھپائے ہوئے
مچاتے ہوئے شرم کھائے ہوئے

مکالمہ نگاری

سحرالبیان میں مکالمہ نگاری نہایت فطری انداز میں موجود ہے چونکہ میر حسن کے تجربات وسیع تھے اور انہوں نے مختلف طبقے کے لوگوں میں زندگی بسر کی تھی اس لئے ان کو مختلف لوگوں کی زبان سمجھنے کا موقع ملا۔ جب بدرمنیر سے ملاقات کر کے بے نظیر رخصت ہونے لگا تو اس نے بدر منیر سے کہا:

کہا اب پہر ی ہے رخصت مجھے
زیادہ نہیں اس سے فرصت مجھے

بدر منیر جواب دیتی ہے:

مرو تم پری پر، وہ تم پر مرے
بس اب تم ذرا مجھ سے بیٹھو پرے
یہ سن پائوں پر گر پڑا بے نظیر
کہا یا کروں آہ بدر منیر

مثنوی سحرالبیان کے اس مضمون کا گزشتہ حصہ ، جس میں منظرنگاری بیان کی گئی ہے، پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

مثنوی سحرالبیان میں کردار سازی کی خصوصیات کا مطالعہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

شیئر کریں
مدیر
مصنف: مدیر
لفظ نامہ ڈاٹ کام کی اداریہ ٹیم کے مدیران کی جانب سے
2 کمنٹ

کمنٹ کریں