مثنوی سحرالبیان میں کردار نگاری

پیار، عشق اور محبت پر منتخب شاعری

سحرالبیان میں میر حسن کی سیرت نگاری کے بارے میں یہ بات جان لینی چاہئے کہ قصے کے تمام کردار اس آسودہ حال اور فارغ البال معاشرے ے افراد ہیں جہاں دولت عام ہے اور سوائے عشق و عاشقی اور رقص و سرور کی محفلوں کے کوئی کام نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ تقریباََ تمام ہی کردار بے عملی کا نمونہ ہیں۔ ڈاکٹر وحید قریشی سحرالبیان میں کرداروں کی اس بے عملی کا ذکر ان الفاظ میں کرتے ہیں:

حقیقیت یہ ہے کہ فراغت کی زندگی سے عیاشی پیدا ہوئی۔ سحرالبیان کے بے عمل کردار یہی عیاش لوگ ہیں۔ وہ واقعات کو آگے بڑھانے میں مدد نہیں کرتے بلکہ حالات کے دھارے میں بے دست و پا ہیں۔ بے نظیر دنیا بھر کے علم حاصل کرتا ہے۔ بہادر ہے، عقل مند بھی ہے لیکن اس کی زندگی میں جب بھی عمل اور پیش قدمی کی ضرورت ہوتی ہے وہ ہماری توقعات کو پورا کرنے سے قاصر رہتا ہے۔ اس کا باپ بھی قسمت پر شاکر ہےہ اور شہادے کے گم ہونے پر اسے واویلا کرنے کے سوا کچھ کام نہیں۔ شہزادی بدر منیر عشق و محبت میں صرف رونا جانتی ہے۔ غشی کے مسلسل دورے اس کی بے بسی و بے چارگی کو ظاہر کرتے ہیں۔

ڈاکٹر وحید قریشی : اردو نقاد

بے نظیر

بے نظیر کا کردار روایتی شہزادوں کا سا ہے۔ مثنوی میں بے نظیر کا کردار فعال نہیں ہے۔ وہ اپنے آپ کو حالات کے رحم و کرم پر چھوڑ دیتا ہے۔ حالات کو بدلنے کی کوشش نہیں کرتا۔ اگرچہ وہ کہانی کا مرکزی کردار ہے لیکن وہ فعال کردار نہیں ہے۔ شہزادہ بے نظیر ملک شاہ بادشاہ کا بیٹا ہے۔ اس کی نمایاں خصوصیات یہ ہیں کہ وہ بہت خوبصورت ہے۔ اس کا ذکر میر حسن یوں کرتے ہیں:

عجب صاحبِ حسن پیدا ہوا
جسے مہر و مہ دیکھ شیدا ہوا
نظر کو نہ ہو حسن پر اس کے تاب
اسے دیکھ بے تاب ہو آفتاب

ماہ رخ پری

اس کردار میں خوبصورتی، حیاداری اور عشق پسندی کے ساتھ ساتھ رقابت اور انتقام کا جذبہ اپنی انتہائوں پر دکھائی دیتا ہے۔ اس کا تعارف یوں ہوتا ہے کہ پرستان میں بے نظیر کی آنکھ کھلتی ہے تو وہ ماہ رخ کو اپنے سرہانے دیکھتا ہے۔

یہ گھر گو کہ میرا ہے تیرا نہیں
پر اب گھر یہ تیرا ہے میرا نہیں
ترے عشق نے مجھ کو شیدا کیا
ترا غم مرے دل میں پیدا کیا

اس کے کدار کا جلالی پہلو دیکھیں، شہزادہ بے نظیر، بدرمنیر کے باغ میں مئے عشق کا جام نوش کر رہا ہے، اسی عالم میں ایک جن یہ دیکھ کر ماہ رخ پری کے کان میں پورا منظر سنا دیتا ہے۔ ذرا اس غضبناکی کا یہ عالم ملاحظہ ہو:

تجھے سیر کو میں نے گھوڑا دیا
کہ اس مالزادی کو جوڑا دیا
الگ ہم سے رہنا و یوں چھوٹنا
یہ اوپر ہی اوپر مزے لوٹنا

بدر منیر

شاہانہ متانت، وقار، حسن، خوبی، ناز و ادا، شان و شوکت اور عیش و محبت کا یہ پیکر قصے کی ہیروئن ہے۔ اس کی نشست و برخاست، گفتگو، طور اطوار، چال ڈھال اور حسن و ذوق سے اس کا عالی جاہ شہزادی ہونا ثابت ہوتا ہے۔ میر حسن نے اس کردار کی سیرت کشی میں اتنی محنت کی ہے کہ بے اختیار واہ واہ کرنے کو جی چاہتا ہے۔ دیکھیں بدر منیر کس شکوہ سے باغ میں جلوہ افروز ہے:

بریں پندرہ کا اک سن و سال
نہایت حسین اور صاحب جمال
دھرے کہنی تکیے پہ اک ناز سے
سر ِ نہر بیٹھی اک انداز سے

رشک و حسن کا یہ انداز دیکھیں شہزادہ اپنی مجبوریوں کا اظہار کرتا ہے۔ پری کی قید سے رہائی نہیں ملتی تو اس کا جواب یہ ہے کہ:

مرو تم پری اور وہ تم پر مرے
بس اب تم ذرا مجھ سے بیٹھو پرے
میں اس طرح کا دل لگاتی نہیں
یہ شرکت تو بندی کو بھاتی نہیں

نجم النساء کا کردار

مثنوی سحرالبیان کا سب سے زیادہ روشن، رنگین، شوخ اور متحرک کردار نجم النساء کا ہے۔ بقول عابد علی عابد نجم النساء کی تخلیق میں میر حسن نے اپنی ساری صنعت گری صرف کر دی ہے۔ احتشام حسین کی رائے میں سحرالبیان میں سب سے اہم کردار نجم النساء کا ہے۔ بلکہ کہا جاتا ہے کہ سحرالبیان ہی نہیں تمام مثنویوں میں اپنی مثال آپ ہے۔

نجم النساء سحرالبیان کے کینوس پر پہلی مرتبہ اس وقت نظر آتی ہے جب شہزادہ بے نظیر، بدر منیر کے باغ میں آ چکا ہے اور بدر منیر سہلیوں کی جھرمٹ میں بیٹھی ہوئی ہے۔ سب ہی شہزادے کے حسن سے متاثر ہوتے ہیں۔ بدر منیر شرما جاتی ہے اور ملاقات کی ہمت نہیں رکھتی۔ اس موقع پر کہانی میں نجم النساء حرکت پیدا کرتی ہے۔ اور دونوں کو ملانے کی ترکیب کرتی ہے۔ شہزادی کا اشتیاق بڑھاتی ہے اور حسن و جوانی سے لطف اندوز ہونے کی دعوت دیتی ہے۔

کہ اتنے میں آئی وہ دختِ وزیر
لگی ہنس کے کہنے کہ بدرِ منیر
مجھے چوچلے تو خوش آتے نہیں
ترے ناز بے جا یہ بھاتے نہیں
کیا ہے اگر تو نے گھائل اسے
تو مت چھوڑ اب نیم بسمل اسے

اس مقام پر نجم النساء کی ذہانت قابلِ داد ہے۔ وہ جانتی ہے کہ بدر منیر پر حجاب غالب ہے۔ اسے توڑنے کے لئے وہ دونوں کے درمیان شراب لا کر رکھ دیتی ہے۔ پہلے شہزادہ پیتا ہے، پھر بدر منیر پیتی ہے۔ اس طرح دونوں کھل کر راز و نیاز کی باتیں کرتے ہیں۔

جب کہانی میں کوئی ہیچ پڑتا ہے تو نجم النساء فوراََ سجھا دیتی ہے۔ نجم النساء کے کردار میں وفاداری کا جذبہ سب سے بڑا ہوا ہے۔ وہ جب اپنی سہلی کو سمجھھا چکتی ہے کہ اب شہزادہ نہیں آئے گا اس لئے اس کا خیال چھوڑ دے مگر وہ خیال ترک نہیں کرتی۔ لہذا اپنی سہیلی پر جان وار کرنے کے لئے تیار ہوجاتی ہے۔ اور جوگن کا روپ اختیار کر کے بےنظیر کی تلاش میں نکلتی ہے۔ نجم النساء کا کردار مجموعی طور پر ایک جاندار کردار ہے۔

لگی کہنے وہ یوں نہ آنسو بہا
ترے واسطے میں نے اب دکھ سہا
بس اب سر بصحرا نکلتی ہوں میں
اسے ڈھونڈ لانے کو چلتی ہوں میں

سحرالبیان کے تمام کرداروں میں نجم النساء کے کردار کی اہمیت اس لئے زیادہ ہے کہ یہ کردار باعمل ہے۔ اسی کردار کے باعث سحرالبیان کا پلاٹ آگے چلتا ہے۔ نجم النساء اپنے مقصد میں خرکار کامیاب ہو کر واپس آتی ہے۔ بے نظیر اور فیروز شاہ اس کے ہمراہ ہیں۔ جب شہزادی سے ملتی ہے تو اس موقع پر اس کی گفتگو بے حد شوخ ہے۔ وہ کہتی ہے کہ تیرا قیدی چھڑاتے چھڑاتے ایک اور قیدی باندھ کے لے آءی ہوں۔ پھر سب کی ملاقات ہوتی ہے۔

تیرا قیدی جا کر چھڑا لائی ہوں
اور اک اور بندھو اڑا لائی ہوں
مگر ایک یہ آ پڑی بے بسی
کہ میں تیری خاطر بلا میں پھنسی

یہ نجم النساء کی آخری تصویر ہے جو سحرالبیان میں نظر آتی ہے۔ یہاں وہ جوگن نہیں رہتی۔ بحیثیت ایک دوشیزہ کے سامنے آتی ہے۔ یہاں سے اس کی دوشیزگی نکھر آئی ہے۔ وہ اپنے عاشق کو جلانا خوب جانتی ہے۔ اس نے سرخ جوڑا پہن رکھا ہے۔ اس کے تمام لباس اور جسم میں جنسی کشش عود کر آئی ہے۔

وہ جوگن ہوئی تھی جو نجم النساء
جمی گرد وہ اپنے تن کی چھڑا
نہا دھو کے نکلی وہ اس شان سے
کہ الماس نکلے ہے جوں کان سے

قارئیں! یہاں مثنوی سحرالبیان کے تنقیدی و تحقیقی مضمون کے اس حصے کا اختتام ہوتا ہے۔ اگلا حصہ مثنوی سحرالبیان کے اسلوب سے متعلق ہے۔ اسے پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں۔ اگر آپ اسی مضمون کا گزشتہ حصہ پڑھنا چاہتے ہیں جو کہ جزئیات نگاری سے متعلق ہے، تو یہاں کلک کریں۔

شیئر کریں
مدیر
مصنف: مدیر
لفظ نامہ ڈاٹ کام کی اداریہ ٹیم کے مدیران کی جانب سے
1 Comment

کمنٹ کریں