مثنوی سحرالبیان کی منظر نگاری

مثنوی سحرالبیان میر حسن

مثنوی سحر البیان پر تنقیدی و تحقیقی مضمون کا گزشتہ حصہ سحرالبیان میں تہذیب و ثقافت کی عکاسی مطالعہ کرنے کے لیے کلک کریں۔

میر حسن نے منظر نگاری میں جس دقتِ نظر کا ثبوت دیا ہے وہ ان کی بھرپور فن کاری کی دلیل ہے۔ واقعات کے ضمن میں مناظر کی جزئیات کی تفصیل ان کے ہاں اتنی گہری اور وسیع ہے کہ پورا منظر متحرک ہو کر ہمارے سامنے آ جاتا ہے۔ میر حسن کی منظر نگاری دکھانے کے لیے ہم نے “باغ کی تیاری” کا نقشہ منتخب کیا ہے۔ اس باغ کے منظر کو دیکھئے آخری مغل عہد کا یہ باغ ہے۔ اس کی تعمیر، عمارات، اور ترتیب کا بیان ہو بہو مغل باغات کے مطابق ہے۔ باغ کا نقشہ اور عمارتوں کا بیان، بے جان تصویریں نہیں بلکہ ایک ایسا نگارخانہ ہے جس کی ہر شے متحرک ہے اور اس میں ایک ایسی تہذیب کے چہرے سے نقاب اٹھائی جا رہی ہے جس کی تصویر کو میر حسن نے اپنی آنکھوں سے دیکھا تھا تاکہ وہ اپنے عہد کی تہذیب اور زندگی کی رونقوں کی تصیور پیش کر سکیں۔ میر حسن فطری مناظر میں دلچسپی رکھتے تھے۔ سید عابد علی عابد لکھتے ہیں:

میر حسن اس معاملہ میں یکتا ہیں کہا نہون نے فطری مناظر کی دلکشی اور رعنائی کو اپنی روح میں جذب کیا اور پھر اس رعنائی کو پڑھنے والوں تک اس طرح منتقل کیا کہ ان کی صنعت گری کا عالم دیکھ کر بڑۓ سے بڑا نقاد انگشتِ بدنداں ہے۔

باغ کی تیاری

اب باغ کی تیاری کا منظر دیکھئے۔ مختلف پھولوں، درختوں کے نام ہی سنیے۔ ان کی خوشبو بھی محسوس کیجئے۔ میر حسن نے باغ کی فضا بناتے وقت پھل، پھول، درخت، خوشبو، روشنی ، ہوا کا حسین امتزاج تیار کر دیا ہے۔ جس میں پڑحنے والا کھو کر رہ جاتا ہے۔

دیا شہ نے ترتیب اک خانہ باغ
ہو رشک سے جس کے لالے کو داغ
بنی سنگ ِ مرمر کی چوپڑ کی نہر
گئی چار سو اس کے پانی کی لہر

غسل کا منظر

رقص و موسیقی اور باغات و عمارات کے تہذیبی نقشے دیکھنے کے بعد ایک روایتی غسل کا منظر بھی دیکھئے۔ شہزادہ بے نظیر غسل کے لئے آتا ہے۔ اس مقام پر کیا اہتمام ہوتا ہے، کیسے کیسے لوازمات برتے جاتے ہیں، یہ منظر دیکھئے۔

ہوا جب کہ داخل وہ حمام میں
عرق آ گیا اس کے اندام میں
نہانے میں یوں تھی بدن کی دمک
برسنے میں بجلی کی جیسے چمک

جلوس کی تیاری

میر حسن نے یہاں جلوس کی تیاری میں اس دور کے روایتی جلوس کی بھرپور عکاسی کردی۔ مختلف سواریوں کا حال لکھا ہے۔ سنہری روپہلی عماریوں کا جلوس ہے۔ ساتھ پالکیاں ہیں اور کہار، زربفت کی کرتیاں پہنے دبے پائوں آگے بڑھ رہے ہیں۔ اب جلوس میں شہنائیوں کی صدا آتی ہے اور نوبت کی دھیمی دھیمی صدا کانوں کو بھلی لگتی ہے۔ اس منظر میں نقارچی بھی نظر آتے ہیں۔ اس میں ہاتھیوں کی قطاریں بھی ہیں، جلوس کے آگے آگے نقیب، چوبدار دکھائے گئے ہیں۔ چونکہ شہزادے کا پہلا پہلا جلوس ہے اس لئے اس کو دیکھنے خلقت کثرت سے امنڈ آئی ہے۔

بجاتے ہوئے شادیانے تمام
چلے گے آگے ملے شاد کام
سوار اور پیادہ صغیر و کبیر
جلومیں تمامی امیر و وزیر

شادی کا منظر

یہ منظر بے نظیر کی شادی کا ہے۔ اس تہذیبی مرقع میں شہزادوں کی روایتی شادی کا نقشہ پیش کیا گیا ہے۔ اس نقشہ میں سواریاں، آلات، موسیقی اور شان و شوکت کے خطوط بہت روشن ہیں۔ آلات ِ موسیقی دیکھیے یہ دھولنے رعد کی طرح گرج رہے ہیں۔ شہنائی کی سہانی دھنیں مست کر رہی ہیں۔ طبل بج رہے ہیں۔ سواریاں دیکھیے تو تمامی کے تخت رواں، ہاتھی، گھوڑے وغیرہ ملتے ہیں۔ سامانِ آرائش کا بیان سب سے بہتر ہے۔ فانوس، چراغوں کے ترپولئے، ابرک کی ٹٹی، مینے کا جھاڑ، شمعدان، آتش بازی اس تہذیبی نقشہ کی ہر شے حرکت و حرارت رکھتی ہے۔ میر حسن کی نظر پورے جلوس شادی پر ہے۔ وہ ایک ایک شے کو نظر میں رکھ کر اس کا حال لکھتے ہیں:

وہ شہنائیوں کی سہانی دھنیں
جنہیں گوش زہرہ مفصل سنیں
وہ طبلوں کا بجنا اور ان کی صدا
یہ گانا کہ اچھا بنا لاڈلا

شادی کے اس منظر میں رشتہ داروں کی چھیڑ چھاڑ، شہزادہ کا محل میں بلایا جانا۔ آرسی مصحف کی رسم، دولہا دلہن سے ہنسی مذاق کی باتیں رنگ رلیاں اور رخصتی کی رسم، کو میر حسن نے بڑی چابکدستی و صناعی سے پیش کیا ہے۔

سراپا نگاری اور سامان ِ آرائش

میر حسن نے سراپا نگاری میں اس دور کی بہت سی تہذیبی اشیاء کو محفوظ کر دیا ہے۔ مثلاََ زیورات سامانِ آرائش وغیرہ۔ وہ بدر منیر کی پوشاک کا حال یوں لکھتے ہیں : وہ آبِ رواں کی طرح ایک پسوار پہنے تھی، ایک ہلکی پھلکی اوڑھنی تھی۔ گریباں میں الماس کا تکمہ تھا، باازو پہ نورتن ڈھلک رہے تھے۔ کرن پھول اور بالی کا نظارہ بھی تھا۔ اس کے بعد اس کے قد و قامت اور عمارات کی تفصیل بتائی ہے۔ بدر منیر کے بعد بے نظیر کی پوشاک اور سامانِ آرائش کا بیان بڑا ہی مکلف ہے۔ بے نظیر نے وہی پوشاک پہن رکھی ہے جو اس دورو کے شہزادے پلہنتے تھے۔ اس زیورات وغیرہ کی تفصیل بھی حسن کے صناعی ہاتھوں نے خوب مہیا کر دی ہے۔

کروں اس کی پوشاک کا کیا بیاں
فقط ایک پسوار آبِ رواں
گریباں میں اک تکمہ الماس کا
ستارا سا مہتاب کے پاس کا

میر حسن کی مثنوی سحرالبیان کے متعلق یہ حصہ اختتام پزیر ہوتا ہے۔ اگلے حصے میں جذبات نگاری اور جزیات نگاری کا مطالعہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

شیئر کریں
مدیر
مصنف: مدیر
لفظ نامہ ڈاٹ کام کی اداریہ ٹیم کے مدیران کی جانب سے
2 کمنٹ

کمنٹ کریں