مثنوی کیا ہے؟ مثنوی نگاری کی تعریف

مثنوی نگاری masnavi

مثنوی کی تعریف

مثنوی کا لفظ عربی کے لفظ مثنٰی سے بنا ہے اور مثنیٰ کے معنی دو کے ہیں۔ اصطلاح میں ہیئت کے لحاظ سے ایسی صنفِ سخن اور مسلسل نظؐ کو کہتے ہیں جس کے شعر ممیں دونموں مصرعے ہم قافیہ ہوں اور ہر دوسرے شعر میں قافیہ بدل جائے، لیکن ساری مثنوی ایک ہی بحر میں ہو۔ مثنوی میں عموماََ لمبے لمبے قصے بیان کیے جاتے ہیں۔ نثر میں جو کام ایک ناول سے لیا جاتا ہے، شاعری میں وہی کام مثنوی سے لیا جاتا ہے۔ یعنی دونوں ہی میں خہانی بیان کرتے ہیں۔ مثنوی نگاری یعنی مثنوی لکھنے کا فن۔

مثنوی ایک وسیع صنفِ سخن ہے اور تاریخی، اخلاقی، اور مذہبی موضوعات پر کئی ایک خوبصورت مثنویاں کہی گئی ہیں۔ البتہ مثنوی عموماََ چھوٹی بحروں میں کہی جاتی ہے اور اس کے لیے چند بحریں مخصوص بھی ہیں۔ شعراء عموماََ اس کی پاسداری کرتے ہیں لیکن مثنوی میں شعروں کی تعداد پر کوئی پابندی نہیں ہے۔ کچھ مثنویاں تو کئی کئی ہزار اشعار پر مشتمل ہیں۔

صنفِ مثنوی کی تاریخ

رباعی کی طرح عربی شاعری میں مثنوی کا وجود بھی نہیں ہوتا اور یہ خاص ایران کی ایجاد ہے۔ یہ فارسی کے ذریعے ہندوستان میں آئی۔ رودکی کی مثنوی کلیلہ ودمنہ کا شمار فارسی کی قدیم ترین مثنویوں میں ہوتا ہے۔ ان کے بعد بہت سے فارسی شعراء نے مثنویاں لکھیں۔ لیکن دو مثنویاں ایسی ہیں جو دنیائے ادب میں زندہ و جاوید سمجھی جاتی ہیں۔ ایک فردوسی کی شرہ آفاق مثنوی شاہنامہ اور دوسری مولانا رومی کی مثنوی معنوی۔ ان کے علاوہ نظامی گنجوی کا خمسہ، جو پانچ مثنویوں کا مجموعہ ہے اور امیر خسرو کا خسمہ جو نظامی گنجنوی کی مثنویوں کے جواب میں ہے، بھی مشہور مثنویاں ہیں۔ ان کے علاوہ سعدی شیرازی اور مولانا جامی بھی مثنوی کے مشہور شاعر ہیں۔ علامہ اقبال نے خوبصورت فارسی مثنویاں لکھی ہیں جیسے جاوید نامہ، اسرارِ خودی اور رموزِ بے خودی و دیگر۔

اردو میں مثنوی کی ابتداء دکن سے ہوئی اور اس دور میں کثرت سے مثنویاں لکھی گئیں۔ دکن کا پہلا مثنوی نگار نظام بیدری تھا۔ اس قدیم دور کے دیگر مثنوی گو شعراء میں رستمی، نصرتی، سراج دکنی، ملا وجہی، محمد قلی قطب شاہ وغیرہ قابلِ ذکر ہیں۔

اس کے بعد کے دور میں مشہور اردو مثنوی نگار شعراء میں میراثر، میر حسن، میر تقی میر، جرات، دیاشنکر نسیم، نواب مرزا شوق، مومن خان مومن اور مرزا غالب وغیرہ شامل ہیں۔

جدید دور کے شعراء نے بھی اس صنفِ سخن میں طبع آزمائی کی ہے۔ گو اب اس کا چلن کم ہوگیا۔ اس دور کے شعراء میں الطاف حسین حالی، داغ، امیرمینائی، اقبال، حفیظ جالندھری، محسن کاکوروی اور شوق قدوائی وغیرہ شامل ہیں۔

خوصیات

مثنوی کی ہیئت کا ذکر تو ہوچکا لیکن اس کے علاوہ بھی ایک معیاری اور اچھی مثنوی کے لیے کئی ایک چیزیں ضروری ہیں، مثال کے طور پر:

پیٹرن یا خاص ترتیب

قدیم مثنوی نگاری کا آغاز ہمیشہ حمد و نعت و منقبت سے ہوتا تھا، اس کے بعد مرشد کا ذکر آتا تھا۔ پھر عموماََ بادشاہ کی تعریف یا علم و حکمت و دانائی کی تعریف بیان کی جاتی تھی۔ وجہ تالیف بھی عموماََ بیان کی جاتی تھی اور اس کے بعد اصل قصہ یا داستان شروع ہوتی تھی۔ لیکن جدید شعراء نے اس سے انحراف بھی کیا ہے جیسے علامہ اقبال۔

سلاست و زبان و بیان

مثنوی میں عموماََ ثقیل الفاظ استعمال نہیں کیے جاتے بلکہ چونکہ ہر شعر میں قافیہ بدلنا ضروری ہوتا ہے۔ اس لیے شاعر کو ایک طرح سے سہولت مہیا ہوتی ہے کہ بہتر سے بہتر اور رواں و سلیس شعر کہے۔ یہی وجہ ہے کہ کئی ایک مثنویوں کے اشعار ضرب المثل کا درجہ اختیار کر چکے ہیں جیسے میر حسن کی مثنوی “سحر البیان” کا یہ شعر دیکھیں:

برس پندرہ کا یا سولہ کا سِن
جوانی کی راتیں مرادوں کے دن

یا نواب مرزا شوق کی ایک مثنوی کا یہ شعر :

موت سے کس کو رستگاری ہے
آج وہ کل ہماری باری ہے

اسی طرح ایک اور مثنوی کا مشہور شعر جو زبانِ زد عام ہوچکا ہے، پیش ِ خدمت ہے:

لائے اس بت کو التجا کر کے
کفر ٹوٹا خدا خدا کر کے

کردار نگاری

ایک اچھی کہانی کی طرح، ایک اچھی مثنوی میں کردار نگاری انتہائی اہم درجہ رکھتی ہے۔ تاریخی مثنویاں تو اچھی کردار نگاری کے بغیر بے جان تصور کی جاتی ہیں۔

مشہور اردو مثنویاں

یوں تو تقریباََ سبھی مشہور اردو شعراء نے مثنویاں کہی ہیں جیسا کہ بیان کیا گیا ہے مگر میر حسن کی مثنوی سحر البیان کو دو صدیوں سے زائد وقت گزر جانے کے باوجو اردو میں بہترین مثنوی سمجھا جاتا ہے۔ اس مثنوی میں عشق و محبت کا ایک عام اور سادہ سا قصہ بیان ہوا ہے جس میں کئی ایک مافوق الفطرت واقعات درج ہیں لیکن سادہ و سلیس زبان، جذبات نگاری، مصوری و منظر نگاری اور تہذیب و ثقافت و معاشرت کے خوبصورت اظہار نے اس کو یہ درجہ ء جلیلہ عطا کیا ہے۔

مقبولیت کے لحاظ سے اس کے بعد پنڈت دیاشنگر نسیم کی مثنوی گلزارِ نسیم ہے جو اصل یں گل بکائولی کا قصہ ہے۔ اس مثنوی کی مقبولیت کی وجہ طرزِ ادا اور لکھنویت ہے۔

نواب مرزا شوق کی مثنوی زہرِ عشق بھی ایک مشہور لیکن بدنام مثنوی سمجھی جاتی ہے اور اس کی وجہ عریانی ہے۔ شوق کی دیگر مشہور مثنویوں میں فریبِ عشق، لذتِ عشق اور بہارِ عشق شامل ہیں۔

غالب کی مثنوی قادرنامہ کا گو اردو ادب میں وہ مقام نہیں ہے جو مذکورہ مثنویوں کا ہے۔ مگر یہ مثنوی اس لحاظ سے اہمیت کی حامل ہے کہ یہ باقاعدہ ایک مقصد کے لیے لکھی گئی تھی۔ یہ مثنوی ایک طرح سے ایک فرہنگ ہے جس میں عربی، فارسی اور ہندی مشکل الفاظ کے اردو مترادف بتائے گئے ہیں اور بنیادی طور پر بچوں کے لیے لکھی گئی تھی۔

علامہ اقبال کی اردو مثنوی ساقی نامہ کا شمار بھی اردو ادب کی بہترین مثنویوں میں ہوتا ہے۔ جوش، روانی، اور بے ساختگی میں یہ مثنوی اپنی مثال آپ ہے۔ اس کے علاوہ حفیظ جالندھری کا شاہنامہ ء اسلام اسلامی تاریخ پر مشتمل بہترین مثنوی ہے جبکہ محسن کاکوروی اپنی نعتیہ مثنویوں کی وجہ سے مشہور ہیں۔

نوٹ: یہ مضمون صادقین علی سید کی تخلیق ہے۔

شیئر کریں
مدیر
مصنف: مدیر
لفظ نامہ ڈاٹ کام کی اداریہ ٹیم کے مدیران کی جانب سے
1 Comment

کمنٹ کریں