مصروفیت پر اشعار

مصروفیت پہ اشعار
مصروفیت پہ اشعار

مصروفیت پر اشعار

مصروفیت اسی کی ہے فرصت اسی کی ہے
اس سرزمین دل پہ حکومت اسی کی ہے
ریحانہ روحی

گاہ مصروفیت سلگ اٹھے
گاہ تنہائی و فراغ جلے
اختر ضیائی

محبت میں کمی آنے لگی ہے
اسے مصروفیت کھانے لگی ہے
شاہدہ مجید

مرے خدا یہی مصروفیت بہت ہے مجھے
ترے چراغ جلاتا بجھاتا رہتا ہوں
اسعد بدایونی

ساری مصروفیت کی وجہ وہی
وہی ہر خواب کا حوالہ ہے
تاجدار عادل

وہی شہر در شہر مصروفیت
وہی فکر کار جہاں ہر طرف
سلطان اختر

تم مرا گوشوارۂ شب و روز
تم ہی مصروفیت ہو فرصت ہو
وقار سحر

مدت سے کسی زلف کی خوشبو نہیں آتی
مصروفیت دست صبا جانیے کیا ہو
شاہد اختر

مصروفیت زیادہ نہیں ہے مری یہاں
مٹی سے اک چراغ بنانا ہے اور بس
سلیم کوثر

لکھو کبھی کہ مجھ کو تم یاد کر رہے ہو
مصروفیت کے لمحے بھی مجھ پہ وارتے ہو
دیا جیم

مصروفیت پر اشعار

اے مری مصروفیت مجھ کو ضرورت ہے تری
اک پرانے غم کا سر پھر سے کچلنا ہے مجھے
سوپنل تیواری

مجھ کو مصروفیت ہے دفتر کی
وہ سمجھتا ہے بے وفا ہوں میں
صغیر احمد صغیر

ان سے تو جا کے ملنا بھی دشوار ہو گیا
مصروفیت کے نام پہ ہم بھی سمٹ گئے
خورشید سحر

کوئی مصروفیت ہوگی وگرنہ مصلحت ہوگی
نہ اس پیماں فراموشی سے اس کو بے وفا کہنا
صبیحہ صبا

کھو گئے مصروفیت کی بھیڑ میں
ختم اس میں زندگانی ہو گئی
سلیم رضا ریوا

وقت اور مصروفیت کے مسئلے سب اک طرف
دوریاں اتنی نہیں تھیں تاجؔ اپنے گھر کے بیچ
حسین تاج رضوی

سمجھنے سوچنے سے ہی نہیں ملتی مجھے فرصت
مری مصروفیت میں شغل بے کاری بھی شامل ہے
راحت حسن

دوستوں کی بھیڑ کو مصروفیت میں کھو دیا
آج فرصت بام پر ہے رات ہے تنہائی ہے
رازق انصاری

میں دیر سے ایک در پہ خالی کھڑا ہوا ہوں
کسی کی مصروفیت میں وقفہ نکالنا ہے
اسامہ ذاکر

چلو محبت کی بے خودی کے حسین خلوت کدے میں بیٹھیں
عجیب مصروفیت رہے گی نہ غیر ہوگا نہ یار ہوگا
عبد الحمید عدم

شیئر کریں
مدیر
مصنف: مدیر
لفظ نامہ ڈاٹ کام کی اداریہ ٹیم کے مدیران کی جانب سے

کمنٹ کریں