مقبول بٹ اور مذہبی حصار

تحریر : بسمل آزاد

, مقبول بٹ اور مذہبی حصار

پاکستانی زیر انتظام کشمیر میں 11فروری 2021قائد کشمیر ،قائد حریت مقبول بٹ شہید کی یوم ِشہادت پر سرکاری طور پر تعطیلِ عام کا اعلان کر دیا گیا ۔ یہ نوٹیفکیشن دیکھتے ہی لحظہ بھر کے لیے فہم ماءوف ہوچکی ہے ا س حکم نامے کو خوش آئندسمجھا جائے یا کوئی بڑی حماقت ۔ مقبول بٹ 1984 میں تحتِ دار پرجھول گئے، لیکن ہ میں یہ تعین کرتے سینتیس برس بیت چکے ہیں ،آیا مقبول بٹ وقعتا کشمیری ہیروتھا ۔ ۔ کیونکہ ہمارے غدار وہیرو ماپنے کا نصاب اقوم ِ متحدہ کا صحیفہ ہے ۔ دوسری طرف مذہبی پیشوایہ مراقبہ کرتے ہیں کہ اس کو جنت کی طرف یا جہنم کے اسفل میں بھیجا جائے،مجاور کاسر جس سمت سر کی دھن رک جائے وہی حکم نامہ نوشتہ ِتقدیر قرار پاتا ہے ۔


مقبول بٹ شہیدنے جب جہادِ کشمیر کے خلاف پراکسی وار کی اصطلاح استعمال کی تو اہل مذہب اس کار کو لامتناہی غلطی کے طور پر محو کرنے کو تُل گئے ۔ کیونکہ اس کی زر میں ایک بڑا مکتبہ ِفکرتھا ۔ بیسویں صدی کا اللہ بھلا کرے کہ یہ بات طے ہوئی کہ کشمیر میں جاری جنگ واقعتا علاقی جنگ ہی تھی ۔


علامہ اقبال جب تک جواب ِشکوہٰ بُنتے اس سے پہلے انھیں بھی وضاحت دینی پڑی ۔ برصغیر میں بنیادیں تبھی مستقل ہوپاتی ہں ،جب تک ہمارا مذہبی حصار معلوم نا ہوجائے ۔
واعظ تنگ نظر نے مجھے کافر جانا اور کافر یہ سمجھتا ہے کہ مسلمان ہوں میں ۔
چین کے مسیحا ماوَزے تنگ نے کہا تھا،مجھے مرنے کے بعد اگر یاد رکھنا ہے تو چھٹی کی بجائے اس روز دو گھنٹے کام کر کے میرے ساتھ اظہارِعقیدت کرنا ۔ چین نے سی پیک انھیں دو گھنٹوں میں حاصل کیا ہے ۔


پاکستان سال بھر میں ۹ دن قومی تعطیلات کرتا ہے ۔ جن میں پہلے نمبر پر 5فروری کو یوم کشمیر ،23مارچ یوم ِ پاکستان ،،یکم مئی یوم ِ مزدور ،14اگست یوم آزادی اور 25دسمبر قائد اعظم ڈے کے ساتھ کرسمس ،مذہبی تہوارو میں عیدین کی تعطیلات سرفہرست ہیں ۔
امریکہ میں چار تعطیلات کی تاریخیں مقرر ہیں ،25دسمبر کرسمس ،یکم جنوری نیا سال ،4جولائی یوم آزادی اور 11نومبر ویٹیرنزڈے منایا جاتاہے ۔ شہری حقوق اور مساوات کے اہم راہنماماٹن لوتھر کی یوم پیدائش پرتعطیل عام کی جاتی ہے ۔
ہ میں یہ سوچنے میں 37سال لگے کہ مقبول بٹ شہید بھی آزادی کی بات کرتا تھا ۔ پسِ زندان دوملکوں کی تخریب کی بھینٹ چڑھنے والا اپنے ساتھ کوئی یو م مخصوص ہی نہ کرسکا ۔


عمر بھر سنگ زنی کرتے رہے اہل ِوطن
یہ اور بات ہے کہ دفنائیں گے اعزاز کے ساتھ
ہم پریہ سقوط کبھی طاری نہیں ہوا کہ چوہدی غلام عباس کشمیر ی نہیں تھے،شیخ عبد اللہ یہاں کا نژاد تھا ۔ لیکن ہر آزادی پسند ہماری نظر کی بھینٹ چڑھا کے ۔ ۔ ایچ ۔ ۔ خورشید ہماری تاریخ سے محو ہوتا جارہا ہے ۔ جس کے زانوئے تلمذ سے مقبول بٹ سیراب ہوئے تھے ۔
نظریات اگر محکم ہوں تو تادیر ہی صحیح اپناہم نواؤں کا رجحان موڑ ہی دیتے ہیں ۔ مقبول بٹ شہید مسئلہ کشمیر کو اس وقت اجاگر کرنے کے لیے جان کی بازی لگائی جب روس اسے سلامتی کونسل سے ویٹو کر چکا تھا ۔ پاکستان کی زبان گنگ ہوچکی تھی ۔
پاکستان زیر انتظام کشمیر میں پہلی بار سرکاری طور یہ تسلیم کیا گیا کہ 11فروری ہماری اساس ہے ۔ یہ اہم پیش رفت تھی جس کا سہرا آزادی پسند جماعتوں کے سر جاتا ہے ۔ ان شاء اللہ وہ وقت بھی قریب ہوگا جب ہمارا نصابِ تعلیم بھی ان لا زوال لوگوں کی قربیاں سے مزین ہوگا ۔

شیئر کریں

کمنٹ کریں