کیمونسٹ اور مذہب

مضمون نگار : بسمل آزاد

, کیمونسٹ اور مذہب

مذہب اور کیمونسٹ (Communism and Religion) انقلاب، دو متضاد طرحیں اٹھاروَں صدی کے بعد سے زیر بحث ہیں ۔ قطع وبرید ،من گھڑت حقایتوں سے بھرے دفتر موجودہ سماج میں دو فصیلوں کی صورت اختیار کر چکے ہیں ۔ یہ بحث اس وقت انتہائی دلچسپ قرار پائی ،جب فکر ولی اللہ کے سرخیل دارالعلوم دیوبند کے مایہ نازو عبقری شخصیت مولانا عبداللہ سندھی تحریک ریشمی رومال کی انقلابی سرگرمیوں میں ناکام ہونے کے بعد ہندستان بدر کر دیے گئے ۔ سوشل ازم کی طرف ایک جید عالمِ دین کا رجحان بد شگون سمجھا گیا ۔ دارلعلوم دیوبندی کی اساسات میں ان کا نام گرامی موجود تھا ۔ لیکن فکر میں اس قدر تضاد دینی دنیا میں چہ مگوئی جنم دے گیا ۔


فرماتے ہیں : ۔ ’’ میں نے انقلاب کے دینی فلسفہ کا پیغام دینے کے لیے آپ کے پاس آیا ہوں ،انقلاب کا میرا یہ پیغام تمہیں لادینی انقلاب کے مضرتررساں اثرات سے محفوظ رکھ سکے گا ۔ محنت کش طبقوں کے ہاتھ میں قوت اور اقتدار کا آنا یقینی ہے ۔ تم نے اگر محنت کشوں کے اس انقلاب کو دینی نہ بنایا تو پھر یہ انقلاب حتمی طور پر لادینی فلسفہ کے ذریعہ ہوگا ۔ ‘‘
یہ خطاب1939 میں مولانا عبیداللہ سندھی رحمہ نے کراچی کے ساحل پر اترنے کے بعد فرمایا تھا ۔ ’’خطبابت ومقالات‘‘یہ کتاب ان کی فکر پر حتمی ہے ۔


’’سیاحت روس کے عنوان سے ایک خط میں فرماتے ہیں ’’1922 میں ترکی جانا ہوا ۔ سات مہینے ماسکو میں رہا ۔ سوشلزم کا مطالعہ اپنے نوجوانوں رفیقوں کی مدد سے کرتا رہا ۔ چونکہ نیشنل کانگریس سے تعلق سرکاری طور ثابت ہوچکا تھا ۔ اس لیے سویت روس نے اپنا معزز مہمان بنایا اور مطالعہ کے لیے ہر قسم کی سہولتیں بہم پہنچائیں ۔ ۔ ۔ ۔ (یہ غلط ہے کہ میں لینن سے ملا ۔ کامریڈلینن اس وقت ایسا بیمار تھا کہ اپنے قریبی دوستوں کو بھی نہیں پہچان سکتا تھا) ۔ ۔ ۔ ۔ میرے اس مطالعہ کا نتیجہ ہے کہ میں اپنی مذہبی تحریک کو جو امام ولی اللہ کے فلسفہ کی ایک شاخ ہے ،اس زمانہ کے لادینی حملہ سے محفوظ کرنے کے لیے تدابیر سوچنے میں کامیاب ہوا ۔


میں اس کامیابی پر اول انڈین نیشل کانگریس دوم اپنے ہندوستانی نوجوان رفقاء جن میں ہندوبھی ہیں مسلمان بھی ،سوشلسٹ اور نیشنلسٹ بھی ، میں سویت روس کا ہمیشہ ہمیشہ ممنون ہوں اور شکر گزار ہوں گا ۔ اگر ان تینوں طاقتوں کی مدد مجھے نہ ملتی تو میں اس تخصص اور امتیاز کو کبھی بھی حاصل نہ کر سکتا تھا ۔ ‘‘
یہی وہ صیقل شدہ فکر تھی جس کی بنا مولانا عبیدا اللہ سندھی کو اپنے حلقہ احباب سے سبک دوش ہونا پڑا ۔


سوشلسٹ مینی فسٹو،داس کپیٹل سوشلسٹ انقلاب کے لیے بنیاد کی حیثیت رکھتی ہیں ۔ مذہب کو سوشلسٹ انقلاب کے سامنے ہونے کی وجہ کال مارکس کے کچھ بیانات ، لینن کا کردار یاٹراٹسکی کے انقلاب روس میں مذہبی پیشواؤں کے ساتھ مزاحمت بنی ۔
’’مذہب عوام کے لیے افیم ہے ‘‘کال مارکس کا یہ جملہ مذہبی حلقوں میں ببانگِ دہر دہرایہ جاتا ہے ۔ مذہبی حلقوں میں عموما دین اسلام کے پیشوا اس جملے سے مراد دین اسلا م کی تعلیمات کو’’ عوام کے لیے افیم ہے ‘‘سمجھ کر میدان میں نکل کھڑے ہوئے ۔
کال مارکس نے یہ جملے کس پس ِمنظر میں کہا ۔ آیا اس سے مراد ہر ایک مذہب کی تعلیمات ہیں ۔ سوشلسٹ فلسفے کی بنیاد کیا ہے.


’’کیمونزم کا نظریہ ایک سائنس ہے ،سماج کی سائنس ،انسانی تاریخ کے پچھلے تجربوں کو سامنے رکھ کر سماج کو آگے لے جانے والی اور اسے بے طبقہ سوساءٹی کی طرف بڑھانے والی سائنس ۔ یہ ایسے اعتقادات کا نام نہیں ہے جو اوپر سے آئے ہوں نہ وہ ایسے احکام پیش کرتی ہے جو فطرت یا سماج کی طاقتوں کے سامنے آدمی کی بے بسی یا جبر کو ظاہر کرتے ہوں ۔ یہ انسان قوتوں کے اختیار کا فلسفہ ہے ۔ ‘‘(کیمونسٹ اور مذہب از ظ ۔ انصاری ‘‘
مندرجہ بالا اقتباس میں دو ٹوک یہ اس چیز کا دعوی ٰ کیا گیا ہے ۔ ’’یہ ایسے اعتقادات کا نام نہیں جو اوپر سے آئے ہوں ‘‘ مابعدالطبعیات مارکسی فلسفہ کا موضوع ہی نہیں ہیں ۔ اگر مابعد الطبعیات فلسفہ کا موضوع ہی نہیں ہے تو مارکس کے اس جملہ(مذہب عوام کے لیے افیم ہے) کا کیا مطلب بنتاہے.


ظ ۔ انصاری نے اپنی کتاب ’’کمیونسٹ اور مذہب‘‘ میں اس سوال کا جواب دینے سے پہلے کچھ واقعات نقل کیے ہیں جو سویت یونین کو اس وقت کے مذہبی پیشواؤں کی طرف سے لاحق تھے ۔ ’’لکھتے ہیں مارکس نے یہ بات اس طرح کہی ہے کہ : ۔ مذہب کے روپ میں جو دکھ اور مصائب ہیں اس کے دو رُخ ہیں ۔ ایک رخ یہ ہے کہ انسان پر جوزیادتی اور جبر ہوا ہے جو مصائب گزرتے ہیں ، یہ ان کا اظہار ہے ۔ دوسرا رخ یہ کہ مذہب ان مصائب کے خلاف زیادتی اورجبر کے خلاف احتجاج اور پروٹسٹ ۔ مذہب دبی کچلی مخلوق کی ایک آہ ہے یہ بے درد دنیا کی ایک درد مندی ہے اور بے حسی کے حالات کا ایک جذبہ ہے ۔ یہ عوام کی افیم ہے. eligion misery is ,on the one{cpital}‘‘ان جملوں کا اگر پوری طرح تجزیہ کیا جائے تو معلوم ہو گا مذہب کو ایک طرف ’’عوام کی افیم ‘‘ اور دوسری طرف دکھ مجبوری اور مصائب کے خلاف آواز کہہ کر مارکس نے انسانی تاریخ کی کتنی عظیم اور بے پناہ سچائی کو چند لفظوں میں سمودیا ہے ۔ ‘‘(صفحہ ۷۴)
اگر مارکس نے یہ بات مثبت پہلو سے کہی جیسے ظ ۔ انصاری صاحب نے دفاعی طور پر پیش کی ۔ ’’مذہب عوام کے لیے افیم ‘‘ جیسے جملے کو مذہب کبھی درخور ا اعتنا کیے بغیر نہیں رہ سکتا ۔


انہوں نے ایک جگہ اسی بات کو مفضل لکھتے ہوے لکھا ،’’مارکسی فلسفے اور کمیونسٹ عمل کی روشنی میں دیکھا جائے تو یہ حقیقت صاف نظر آئے گی کہ مارکس ازم یا کمیونسٹ تحریک کی اصل لڑائی مذہب سے ہرگز نہیں ہے ۔ اور نہ کمیونسٹوں کا اصل مقصود یہ ہے کہ مذہب کو مذہبی اداروں کو اور مذہبی اعتقادات رکھنے والوں کو ایذادی جائے ،ان سے جنگ مول کی جائے ، اور ان کو اپنا حریف بنا دیاجائے‘‘
کسی حد تک اس بات کو تسلیم کر لیا جائے تو یہ بات ماننی پڑے گی کہ مارکسی فلسفے کا مصداق سماج ہے ناکہ مذہب یعنی مابعد الطبعیات ۔ لیکن مذہب مابعد الطبعیات سے اخذ کی ہوئی معلومات کے زیر میں سماج کو بھی برابر ڈسکس کرتا ہے ۔ یہ وہ حد ہے جہاں دونوں کے درمیان ٹکروَکے امکانات پائے جاتے ہیں ۔ اینگلز بھی اسلام کے پھیلنے کو سماجی ارتقاء کے تناظر میں دیکھتے ہوئے لکھتا ہے ۔


’’ترقی کی اگلی منزل پر پہنچ کر فطرت اورسماج سے وابستہ جو بے شمار خداؤں کا سلسلہ ہوتاہے وہ ایک قادرِمطلق خدا میں بدل جاتا ہے‘‘(اینگلز)
حالانکہ کے تیرہ سو سال پہلے اسلام نےبتوں کو کعبۃ اللہ سے نکال کر اسی ایک ہستی کا درس دیا تھا ، جسے کلمہ طیبہ سے تعبیر کیا جاتا ہے ۔
مذہب عوام کے لیے افیم ہے کا دوسرا رخ یہ ہے کہ ’’تاریخ میں ایسا وقت بھی آیا ہے جب جمہوری اورپرولتاری جدوجہد نے مذہبی شکل اختیار کی اور وہ ایک مذہبی عقیدے کی دوسرے مذہبی عقیدے کے خلاف جنگ کے روپ میں ظاہر ہوئی ‘‘(لینن ۔ گورکی کے نام خط )
ظ ۔ ۔ انصاری کی اس کاوش پر نگاہ دوڑا کر ایک خالی الذہن یہی نتیجہ اخذ کر سکتا ہے کہ کمیونزم کسی بھی مذہب کے متوازی نہیں ہے ۔ البتہ مذہبی بورژواؤں کے رویوں کی وجہ سے کمیونزم کی زد بارہا مذہب پر پڑی ۔


ٹکراوَ ہے یا نہیں کے زیر عنوان لکھتے ہیں : ۔ ’’مارکس اور اینگلز کی تحقیق کو پیش نظر رکھتے ہوئے انسان کی سماجی تاریخ مذہب کی کارگردگی سے جو نتیجے ہمارے سامنے آتے ہیں ان کا حاصل یہ ہے کہ اکثر مذہب کے دو رُخ باقی رہے ۔ ایک ترقی پسندی اور دوسرا رجعت پرستی ہے ۔ ایک سماج کو موجودہ حالت سے آگے لے جانے کے لئے فکری اور اعتقادی طاقت کے طور پر استعمال ہوتا ہے ۔ دوسرا سماج کو پرانے بندھنوں میں جکڑ ے رکھنے کے لئے حاکم طبقے کے ہتھیار کے طور پر دنیا کے تین بڑے مذاہب جو آج تک باقی ہیں ،بدھ مت مسیحیت اور اسلام تینوں کی مفصل تاریخ اس حقیقت کی آئینہ دار ہے ۔ ‘‘(کیمونسٹ اور مذہب)
مذہب کا سماجی پہلو جو اہمیت کا حامل رہا ہے ،یہی پہلو کیمونزم میں قابل غور رہا ہے ۔ کیمونزم کا اعتقاد سماج ہے ، جس کے تحت وہ اخلاقیات ،معاشیات وتمدن کی حدیں متعین کرتا ہے ۔


’’والذین یکنزون الذھب والفضہ ولا ینفقونھا فی سبیل اللہ فبشرھم بعذاب الیم ۔ ۔ ۔ ترجمہ جو لوگ سونا چاندی سمیٹ کر رکھتے ہیں اور اسے خدا کے راستے میں خرچ نہیں کرتے ان سے کہہ دو کہ درد ناک عذاب ان کا انتظار کر رہا ہے ۔ سود دینا حرام ،بلیک مارکیٹ حرام ،ہوڈنگ (ذخیرہ اندوزی )یا حتکار حرام ۔ ‘‘سوشلسٹ کا سماجی فلسفہ کن نئی بنیادوں کے طور پر ابھر ا ہے ، جس کی اسلام نے نفی کی ہے ۔ استحصال کو اسلا م نے کبھی برداشت نہیں کیا ۔
ظ ۔ ۔ انصاری کی کتاب کمیونسٹ اور مذہب میں ان مثالوں کی بہتات ہے ،جن کو ظ ۔ انصاری نے سویت روس میں عینی شاہد کے طور پر اخذ کیا ہے ۔ کتاب کے آخر میں مولانا مودودی رحمہ کی کتا ب پر تنقید کی گئی ہے جس میں انہوں نے سویت روس میں خاندانی غیر میانہ روی کو موضوع بنایا ہے ۔ ظ ۔ ۔ انصاری نے وہاں کے خاندانی پراسس کی مثالیں دیتے ہوئے مولانا مودوی کی تنقید کو رد کیا ہے ۔

شیئر کریں

کمنٹ کریں