محمد علی سدپارہ اور ایک گزارش

مضمون نگار : اعزاز کیانی

, محمد علی سدپارہ اور ایک گزارش

اس وقت سوشل میڈیا اور مین اسٹریم میڈیا پر جو موضوع زیر بحث ہے وہ محمد علی سدپارہ ہے.
محمد علی سدپارہ کا تعلق گلگت بلتستان کے علاقہ سکردو سے ہے اور وہ کے ٹو کو سرے کرنے کی مہم پر تھے. اطلاعات کے مطابق وہ کے ٹو کو سر کرنے کے قریب ہی تھے لیکن اس کے بعد ان سے رابطہ منقطع ہو گیا. اس وقت تک ہاکستای فوجی کی جانب سے دو آپریشن بھی کیے جا چکے ہیں لیکن شومی قسمت کے محمد علی سدپارہ اور ساتھی کوہ پیما ہنوز لاپتہ ہیں.


محمد علی سدپارہ کے متعلق اس وقت اتنا ہی کہا جا سکتا ہے کہ وہ جہاں بھی ہوں اللہ کی امان میں ہوں اور جلد بخیر و عافیت واپس لوٹیں.
جہاں تک کوہ پیمائی کا تعلق ہے تو اس وقت اس بابت دو مختلف آراء پائی جاتی ہیں. ایک طبقہ فکر کے نزدیک یہ ایک قابل فخر اقدام ہے جس سے نہ صرف ملکی وقار و نام بالا ہوتا ہے بلکہ معاشی طور پر سود مند مشغلہ ہے. جبکہ دوسرے طبقہ فکر کے نزدیک یہ کوہ پیمائی کا جنون غیر مناسب یا غیر عقلی ہے جو انسانی جانوں کے ضیاع کا موجب ہے.
کوہ پیمائی ایک کار کھٹن ہے جس کے دوران کئی لوگ اپنی قیمتی جان سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں. ایک رپورٹ کے مطا ق کے ٹو دنیا کی خطرناک ترین چوٹی ہے جس پر چڑھائی کی کوشش کے دوران ہر چار میں سے ایک کوہ پیما اپنی جان گنوا بیٹھتا ہے اور کے ٹو پر شرح اموات 29 فی صد ہے.


میرے نزدیک اس کا صائب تر طریقہ یہ ہے کہ بجائے اسکے یہ کام انفرادی سطح پر ہو جس میں افراد کی جان کا کھٹکا دائمی طور پر موجود ہے یہ کام یعنی دنیا کے بلند و بالا پہاڑوں کو دیکھنے اور انکی سیاحت کا کام ریاست کی سر پرستی میں ہو. یعنی بلند و بالا پہاڑوں کی سیاحت ریاست کی سیاحتی پالیسی کی ایک جہت ہو. ریاست پہاڑوں کہ سیاحت کے لیے باقاعدہ پروگرام مرتب کرے جس کے تحت خواہش مند افراد تحت ضابطہ مناسب سرکاری فیس ادا کریں اور ریاست انہیں تمام تر انتظامات کے ساتھ بذریعہ ہیلی کاپٹر یا کسی اور متبادل طریقہ سے ان پہاڑوں کی چوٹیوں پر لے جائے. یہ سہولت نہ صرف ریاستی شہریوں کے لیے ہو بلکہ غیر ملکی سیاح بھی اس سے مستفید ہو سکیں.


اس وقت کوہ پیماؤں کے علاوہ عوام کے بڑی تعداد ایسے عجائب فطرت کو قریب سے دیکھنے کی فطری خواہش رکھتے ہیں لیکن کوئی مناسب انتظام نہ ہونے کی وجہ سے اور جان کے جانے کے فطری خوف کی وجہ سے وہ کبھی اس جانب سوچنے کا بھی گوارہ نہیں کرتے.
میرے نزدیک جب ریاست اس طرح کا کوئی قاعدہ مرتب کرے گی تو نہ صرف ملکی بلکہ غیر ملکی سیاحوں کی ایک بڑی تعداد اس سے مستفید ہو سکے گی. افراد کو جب جان کی ضمانت حاصل ہو جائے گی اور مکمل تحفظ کا یقین ہوگا تو کھنچتے چلے آئیں گے. بنا بریں سیاحت کو فروغ بھی ملے گا بلکہ ملکی معشیت کو ایک مستقل اور مضبوط سہارا بھی ملے گا.


افراد کی انفرادی خواہشات بلاشبہ اہمیت کی حامل ہیں لیکن دانشمندی یہ ہے کہ ان خواہشات کی تکمیل.کو ایک ضابطہ فراہم کیا جائے.
انتہائے خواہشات بسا اوقات عقل کو ماؤف کر دیتی ہیں اور انسان پر جنونیت کی کفیت طاری ہو جاتی ہے جس سے اکثر اوقات انتہائی مہلک نتائج سامنے آتے ہیں. سوہنی کا شوق وصل اور داستان عشق مثالی ہو سکتہ ہے لیکن کچے کھڑے کو عام رواج نہیں بنایا جا سکتا ہے. غالباً انہی وجوہات کی بنیاد پر مشہور فلسفی کارل پوپر نے کہا تھا “جنونیت دائمی برائی ہے” اور ہئیگل نے کہا تھا


دنیا سر کے بل کھڑی ہو گئی ہے ( یعنی یہ دور عقلیت کا دور ہے)
انسان کی انفرادی خواہشات میں ایک بڑا حصہ ہمیشہ غیر تعمیری خواہشات کا ہوتا ہے لیکن معاشرے کے لیے وہی خواہشات سود مند ہو سکتی ہیں جو اپنی نوعیت میں تعمیری خواہشات ہوں اور معاشرتی بقا بھی اسی میں ہے کہ تعمیری خواہشات کی ترغیب دی جائے.
اللہ تعالیٰ سد پارہ اور ساتھی کوہ پیماؤں کا حامی و ناصر ہو

شیئر کریں

کمنٹ کریں