محبوب کی تعریف: اردو شاعری

محبوب محبت عشق شاعری اردو

بول کر داد کے فقط دو بول
خون تھکوا لو شعبدہ گر سے

اس شعر میں جون ایلیا نے شاعر کو تعریف کا بھوکھا بتایا ہے، لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ محبوب کی تعریف کرنی ہو یا محبت کا اظہار، سب کی پہلی پسند شاعری ہے، سب کی زندگی میں ایک دور ایسا ضرور آتا ہے جب خوب شاعری پڑھی جاتی ہے اور لکھنے کی کوششیں بھی ہوتی ہیں، یہ دور اکثر محبت یا آج کی زبان میں کرش یا پہلے پہلے پیار کا دور ہوتا ہے۔

وہ جو پہلا تھا اپنا عشق وحی
آخری واردات تھی دل کی
پوجا بھاٹیہ

لیکن شاعری میں تعریف یا داد یا کسی چیز کو کلوروفائی کرنا اپنے آپ میں اچھی شاعری کا حصہ رہا ہے، یوں سمجھ لیجئے کہ تعریف میں جو علامتیں استعمال کی جاتی ہیں وہ پر اثر ہوں، تو ‘آہ’ اور ‘واہ’ ساختہ ہی منہ سے نکل جاتا ہے!

نازکی اسکے لب کی کیا کہئے
پنکھڑی اک گلاب کی سی ہے

اب شاعری اور زبان سے ناواقف شخص کو اس شعر میں شاید کچھ انوکھا نہ لگے، لبوں کو گلاب کی پنکھڑی ہی تو کہا ہے، اس میں کیا بڑی بات ہے؟ مگر ایسا ہے نہیں، میر خداٴ سخن یونہی نہیں کہلاتے، انہوں نے لب کو پنکھڑی نہیں کہا ہے، لب کی نازکی کی بات کی ہے، نازکی خود لب کی ایک خوبی ہے، اب اگلے مصرعے میں کہا جا رہا ہے کہ “پنکھڑی اک گلاب کی سی ہے”۔

ہو سکتا ہے کہ یہ بھی لگے کہ چلو لب کی نازکی کو گلاب کی پنکھڑی کہہ دیا گیا، لیکن اگر آپ ایسا سوچتے ہیں تو آپ پھر مات کھا جا ئینگے، اچھے شاعر کے شعر میں ہر لفظ کسی وجہ سے ہوتا ہے اور کوئی بھی لفظ فالتو یا بھرتی کا نہیں ہوتا، اسی لئے لب کی نازکی گلاب کی پنکھڑی نہیں ہے، “پنکھڑی کی سی” ہے، یہاں جو “سی” ہے وہ اس شعر کو بلا کا نازک اور خوبصورت بنا رہا ہے کہ اب آپ کو شاعر نے تصور میں چھوڑ دیا کہ ایسی نازکی جو گلاب کی پنکھڑی کی سی ہے، اب گلاب کی پنکھڑی تو آپ پھر بھی سوچ لیں مگر پنکھڑی کی ‘سی’ ہے کیسے سوچیں گے؟ اس شعر کو تو ایک مصور پینٹ بھی نہیں کر سکتا۔ اور یہی شاعری ہے۔ (محبوب)

اسی طرح پنڈت دیا شنکر “نسیم” نے گلزار نسیم لکھی تھی، گلبکاولی کی اس کہانی کو انہوں نے نظم (کاویہ) میں تبدیل کیا، تو ایسا کرنے سے پہلے اس نثر کی تعریف کرتے ہیں، وہ نثر جو ہندستانی تہذیب کا اہم حصہ ہے، وہ کہتے ہیں:

اس مے کو دو آتشہ کروں میں
وہ نثر ہے، داد نظم دوں میں

مئے کو دو آتشہ کرنا یعنی اسکا نشہ دوگنا کرنا، وہ نثر ہے داد نظم دوں میں، اب یہاں ایک بہت اہم بات یہ ہے کہ نثر اور نظم میں ہمیشہ نظم کا مرتبہ اوپر رہا ہے، اسکی وجہ بھی ظاہر ہے کہ نظم میں ہر طرح کا کرافٹ استعمال ہوتا ہے، جیسے داستان اور ناول کے بیچ کا فرق۔

اب یہ مصرع ہم پر کھلتا ہے کہ یہ نثر اتنی خوبصورت ہے کہ اسے میں نظم کے ذریعے داد دوں، یعنی کمتر مانی جانے والی صنف اتنی عمدہ ہے کہ اس سے برتر مانی جانے والی صنف ہی اسکی تعریف کا حق ادا کر سکتی ہے۔

جب تعریف کی ہی بات آئی ہے تو اس دور کی بیحد مشہور غزل ہم کیسے بھول سکتے ہیں، جس شخص نے بھی اسے پڑھا ہے اسکے تصور میں کیسے کیسے رنگ بکھرے ہو نگے انکا کوئی اندازہ بھی نہیں لگا سکتا سوائے احمد فراز کے:

سنا ہے بولے تو باتوں سے پھول جھڑتے ہیں
یہ بات ہے تو چلو بات کر کے دیکھتے ہیں

اب یہاں غور کیجئے، شاعر نے سنا ہے کہ کوئی شخص ہے جو بات کرے تو باتوں سے پھول جھڑتے ہیں، کہاوت ہے منہ سے پھول جھڑنا یعنی کوئی اتنا پیارا اور مدھر بولتا ہے کہ اسکے منہ سے جیسے پھول جھڑ رہے ہوں، یہاں لفظوں کو ہی پھول کہا گیا ہے، “لفظ نہیں مانو پھول نکل رہے ہوں”، مگر فراز کہتے ہیں کہ ”بولے تو باتوں سے پھول جھڑتے ہیں”، اسکا تصور کچھ ایسا بیٹھتا ہے جیسے باتیں بیلیں ہوں اور ان سے پھول جھڑیں، یہاں تعریف میں ایک اور خوبصورتی شامل ہو گئی ہے۔

اب جیسے جون ایلیا کہتے ہیں:

تم ہو خوشبو کے خواب کی خوشبو
اور اتنی ہی بےمروت ہو

ہم ایک خوشبو کا خواب دیکھیں اور اس خواب میں جو خوشبو محسوس کریں، وہ ہو تم! اور یہ ہیں جون ایلیا! جون ایلیا کے شعر میں ایک خوشبو کا ذکر ہے اور پھر اس خوشبو کا انہوں نے خواب دیکھا ہے، پھر اس خواب کی خوشبو آئی ہے، اطمینان سے ایک ایک لفظ کے ساتھ اپنے خیال کی پرتیں جوڑئیے۔

خوشبو خود کسی کی یاد کی بہت نازک اور جلدی سے کھو جانے والی شے ہوتی ہے، جیسے کبھی آپنے اپنے کسی کا پرفیوم سونگھا ہو اور وہ خوشبو اسکی یاد بن جائے، اب آپ اسی خوشبو کا خواب دیکھیں یا اس خوشبو کو خواب میں سونگھیں اور اس خواب کی تاثیر اس خوشبو کے ساتھ مل جائے، اب آپکے پاس صرف یاد نہیں ہے، خواب بھی ہے اور اس خواب کی خوشبو بھی، تھوڑا سا غور کرینگے تو محسوس کر پائیں گے کہ ہر پرت حقیقت سے ایک دوری پر کھڑی ہے، پہلے خوشبو، پھر خوشبو کا خواب پھر خواب کی خوشبو، جیسے جیسے پرتیں بڑھتی گئیں، حقیقت سے دوری بڑھتی گئی اور اسی لیے ایسا صنم بےمروت بھی ہے جو اتنا دور ہے! اور جو موجود ہے، جو دیر تک ساتھ نہیں رہ سکتا۔

اب واپس احمد فراز کی غزل پر آتے ہیں:

سنا ہے رات اسے چاند تکتا رہتا ہے
ستارے بام فلک سے اتر کے دیکھتے ہیں
۔
سنا ہے دن کو اسے تتلیاں ستاتی ہیں
سنا ہے رات کو جگنو ٹھہر کے دیکھتے ہیں
۔
سنا ہے اسکے بدن کی تراش ایسی ہے
کہ پھول اپنی قبائیں کتر کے دیکھتے ہیں

یہاں پورا کمال تصور کا ہے، شاعر خود نہیں جانتا کہ یہ شخص واقعی ایسا ہے یا نہیں، شاعر نے اسکے بارے میں سنا ہے اور اسکی ہر خوبی کو شاعر اپنے انداز میں دیکھتا ہے، ممکن ہے کہ اس نے اب تک اس شخص کی جھلک بھی نہ دیکھی ہو، لیکن شاعر کے تصورات کے سہارے ہی ہم خود بھی اسی منظر میں پہنچ جاتے ہیں جو اس نے ترتیب دیا ہے، یہ پوری غزل ہی اپنے آپ میں تعریف، تصور، زبان اور تشبیہات کا خوبصورت نمونہ ہے جو ہر پڑھنے والے کو ایک جادو نگری میں لے جاتی ہے۔ (محبوب)

ضروری نہیں ہے کہ بہت نازک، مدھم اور پھولوں سی زبان ہی استعمال کی جائے حالانکہ اس موضوع کی شاعری ایسی زبان میں بہت زیادہ حسن رکھتی ہے لیکن کچھ آسان اور روزمرہ کی زبان میں بھی تعریف ممکن ہے،

کتنے عیش سے رہتے ہو نگے کتنے اتراتے ہو نگے
جانے کیسے لوگ وہ ہو نگے جو اسکو بھاتے ہو نگے

یہاں جون ایلیا کا ملال، رشک، محبوب کی تمام خوبیوں کا تصور ان لوگوں سے جوڑ کر کرنا جو اسے پسند ہوں، یہ ایک طرح سے یہ کہنا ہے کہ ان لوگوں کو تو منہ مانگی مراد مل جاتی ہوگی جو اسکو پسند آتے ہو نگے۔

یارو کچھ تو ذکر کرو تم اسکی قیامت بانہوں کا
وہ جو سمٹتے ہو نگے ان میں وہ تو مر جاتے ہو نگے

فراز اگر محبوب کا ذکر سن کر اس سے ملنے کا تصور کر رہے ہیں تو جون یہاں الگ ہی دنیا میں ہیں، جیسے ہم کہیں کہ یار جن لوگوں کے پاس گاڑی بنگلہ ہوتا ہوگا وہ کتنے مزے سے رہتے ہو نگے ؟ اور پھر ہمیں پوچھیں کہ وہ گاڑی بنگلہ کیسا ہے؟ یا جنہیں محبت ملی ہوگی وہ لوگ کتنے خوش ہو نگے؟ یہاں ہماری جلن بھی ہے، اور دلچسپی بھی ہے، ہم جاننا بھی چاہتے ہیں اور ہم اپنے ذہن میں ایک تصویر بھی بنا کے بھی بیٹھے ہیں کہ وہ باہیں تو قیامت ہی ہیں، ”یارو انکا ذکر کرو”، لیکن کیونکہ ہم تصور میں یاروں سے آگے جا چکے ہیں، ہم خود ہی کہتے ہیں، جو ان باہوں میں سمٹتے ہو نگے، وہ تو مر ہی جاتے ہو نگے ؟

اب غالب کا شعر دیکھیے:

ذکر اس پری وش کا اور پھر بیاں اپنا
بن گیا رقیب آخر، تھا جو رازداں اپنا

یعنی ایک تو بات اس پری (محبوبہ) کی چلی، پھر میرے جیسا شاعر اسے بیان کرے، اب اس حسن کی دو دھاری تلوار سے کون بچ سکتا ہے، تو جو میرا رازداں تھا جسے میں سب بتاتا تھا، وہ میرا رقیب ہو چکا ہے۔

کہنے کو کہا جا سکتا ہے کہ شاعر جھوٹ بول رہا ہے، جھوٹی تعریف کر رہا ہے مگر ممکن ہے شاعر کا سچ یہی ہو۔ (محبوب)

محبت سے بڑا سچ ہے بھی کیا؟ عشق سے بڑا ایمان کیا ہو سکتا ہے؟ محبت میں عاشق چاند تارے توڑنے کی بات کرتا ہے اور اکثر دل بھی تڑوا بیٹھتا ہے، مگر ہمیں صرف ٹوٹے دل کی بات پر یقین آتا ہے، چاند تارے توڑنے والی بات پر نہیں، جہاں حقیقت یہ ہے کہ دل سلامت ہے پھر بھی ٹوٹا ہوا ہے، اسی طرح چاند تارے بھی توڑے جاتے ہیں۔ بس آپ محبت کیجئے، ہر سچ میں ہزار سچ اور ہر رنگ میں ہزار رنگ دکھینگے۔

محبت کی نظر مل جائے تو نظر اور منظر، سائٹ اور انسائٹ، بصارت اور بصیرت کا فرق ظاہر ہوتا ہے، جبھی تو اقبال کہہ گئے ہیں:

جب عشق سکھاتا ہے اداب خودآگہی
کھلتے ہیں غلاموں پر اسرار شہنشاہی

یہ مضمون پریامودا سنگھ کی ہندی تصنیف کا اردو ترجمہ ہے۔ اصل تحریر ریختہ بلاگ پر شائع ہوئی ہے۔

شیئر کریں
مدیر
مصنف: مدیر
لفظ نامہ ڈاٹ کام کی اداریہ ٹیم کے مدیران کی جانب سے

کمنٹ کریں