مضمون : محنت کی عظمت

محنت کی عظمت
محنت کی عظمت

محنت کو زندی میں بیحد اہمیت حاصل ہے ۔ اسے زندگی کی سب سے بڑی ضرورت بتاتے ہوئے بھرترہری نےکہا ہے

“ادیمے نہی سدھینتی
کاریانی نا منورتھی :۔
نہ ہیں سپتسیہ سہنسیہ،
پروشنتی مکھے مرگا۔۔

معنیٰ یہ ہے کہ کوئی بھی کام صرف خیال باندھنے سے پورے نہیں ہو جاتے ہیں۔ انہیں پورا کرنے کے لیے کڑی محنت بھی بہت ضرورت ہوتی ہے شیر کے منہ میں جانور خود داخل نہیں ہوتے اسکے لیے تو شیر کو خاص محنت کرنی پڑتی ہے۔

محنت کی اہمیت

محنت کی اہمیت لامحدود ہے۔ محنتی آدمی ناممکن کو ممکن کر سکتا ہے۔ قدیم زمانے سے محنت کی اہمیت کی سبھی تائید کرتے رہے ہیں ۔ اس کی خاص وجہ یہ ہے کہ محنت سے نہ صرف فائدہ ہوتا ہے بلکہ محنتی انسان کی سماجی سطح پہ بھی اہمیت ہوتی ہے ۔ اس سے تمام قسم کی راحت میسر ہوتی ہے اور خوشی بھی ملتی ہے۔ ساتھ ہی محنتی آدمی سماج اور ملک کی ترقی میں ایک بنیاد کا کام بھی کرتا ہے ۔ اس طرح ہم آئے دن یہ دیکھتے ہیں کہ محنتی آدمی اپنی سخت محنت کے ذریعہ حسب خواہش مال و دولت ، عزت ، رتبہ حاصل کرکے اپنے آس پاس کے سماج پر بھی اپنا اثر چھوڑتا ہے ۔ جس طرح ایک غریب شاگرد اپنی سخت محنت سے نہ صرف امتحان میں اول اتا ہے بلکہ کسی اعلیٰ عہدے پہ پہنچ کر اپنے خاندان اور سماج کو فائدہ پہنچاتا ہےا ور ایک مثال قائم کرتا ہے ۔
سچا محنتی آدمی اگر ناکام ہو جائے تو اسے افسوس نہیں ہوتا اسکے من میں اتنا سکون ضرور رہتا ہے کہ اس میں جتنی زیادہ طاقت تھی اسنے اتنا محنت کیا اسکا پھل دینا یا نا دینا تو اللہ کے ہاتھ میں ہے ۔ آدمی کا کام تو صرف عمل کرنا ہے محنتی ادمی کے بر عکس آلسی آدمی ہوتا ہے۔ وہ اپنی ناکامی کا الزام خدا کو دیتا ہے لیکن وہ نہیں سمجھ پاتا ہے کہ قسمت بھی محنتی آدمی کا ساتھ دیتی ہے۔ ایسا اسلئے کہ قسمت بنا محنت کے ساتھ نہیں دیتی اسلئے قسمت تو محنت کے مطابق بنتی ہے ۔ مشہور شاعررامدھاری سنگھ دنکر نے صاف لفظوں میں لکھا ہے۔

پرکرتی نہیں ڈرکر جھکتی ہے، کبھی بھاگیہ کے بل سے
سدا ہارتی وہ منشیہ کے ادھم سے ،شرم جل سے

محنت کے مختلف نمونے

تاریخ میں ایسے واقعات بھرے پڑے ہیں جو اس بات کے گواہ ہیں کہ محنت سے ہی انسان کامیاب ہوتا ہے بابر، شیر شاہ سوری ، نیپولین، سکندر وغیرہ سبھی ابتدا میں عام آدمی ہی تھے۔ لیکن اپنی محنت سے انہوں نے بڑی بڑی حکومت کھڑی کر دی ۔ اس طرح تاریخ میں اپنا نام امر کر دیا۔ کولمبس نے سخت اور کڑی محنت کی بدولت ہی امریکہ کی کھوج کی تھی۔ شواجی کی کامیابی کا راز انکی سخت محنت ہی تھی۔ اسکے برعکس انکا بیٹا سمبھا جی سستی کی وجہ سے ہی ناکام رہا۔ جھانسی کی رانی لکشمی بائی کی کامیابی کا سہرہ محنت کے ہی سر جاتا ہے ۔ ہم ہندوستانیوں نے آزادی بھی بہت محنت اور قربانی کے بعد حاصل کی ہے۔

عبادت اور محنت کی وجہ سے ہی کے اندر اسن کامالک بنا تھا۔ سخت محنت اور عبادت کے اثر سے راون لنکا کا راجہ بنا، کالیداس وشوکوی بنے ، میڈم کیوری اور ایڈسن بڑے سائنسٹسٹ ہوئے اور ابراہم لنکن امریکہ کے پہلے صدر بنے ۔ دنیا کے بڑے مصنف ، شاعر کی کامیابی کا راز بھی انکی انتھک محنت ہی ہے۔ دنیا کے سات بڑے عجوبے انسان کے اٹوٹ محنت کا ہی نتیجہ ہے۔ امریکہ، جاپان، روس، جرمنی وغیرہ ملکوں کی ترقی کا راز محنت ہی ہے۔ انسان کی چاند سمیت مختلف سیاروں کا سفر انکے مسلسل محنت کا نتیجہ ہی تو ہیں ۔

جہاں ترقی ہے وہاں محنت ہے۔ دوسرے لفظوں میں محنت ترقی کی ماں ہے۔ محنت سے جی چرانے والا کبھی سکھ کو حاصل نہیں کر سکتا ہے۔ وہ تو قسمت کے سہارے رہتے ہوئے اور کچھ کرنا جانتا ہی نہیں ہے۔ حقیقت میں محنت ہی خوشگوار زندگی کی بنیاد ہے ۔ یہی ترقی کی چابی ہے۔ زندگی کی سچائی صرف محنت ہے ۔

شیئر کریں
علی نثار
مصنف: علی نثار
علی نثار صاحب کا تعلق حیدرآناد انڈیا سے ہے ۔ یہ کینڈا میں مقیم ہیں۔ بہترین افسانہ نگار ، ناقی اور مضمون نگار ہیں ۔ ان کے افسانے اردو کے تمام اہم رسائل میں شائع ہوتے رہتے ہیں ۔ عالمی سطح پہ ان کی تحریروں کو مقبولیت حاصل ہے ۔ پیشے سے بزنس مین ہیں ۔

کمنٹ کریں