میری شادی کیوں ٹوٹ گئی؟

, میری شادی کیوں ٹوٹ گئی؟

میری شادی کیو ں ٹوٹ گئی؟
سادگی سے شادی کا ارادہ کرنے والے ایک نوجوان کا فسانہ
از : ڈاکٹر محمد اسلم فاروقی
صدر شعبہ اردو این ٹی آر گورنمنٹ ڈگری کالج محبوب نگر

فی زمانہ ہمارے مسلم معاشرے میں کئی سماجی برائیاں رائج ہیں۔ جن میں اہم جہیز اور اسراف کی لعنت ‘دکھاوا‘ریاکاری ‘خود نمائی وغیرہ اہم ہیں۔ ایک طرف سنجیدہ ذہن کے افراد اس کوشش میں لگے ہوئے ہیں کہ ہمارے سماج سے جہیز کی لعنت دور ہو۔ ہمارے نوجوانوں کی شادیاں کم خرچ میں آسانی اور خوش اسلوبی سے انجام پائیں اور قوم و ملت کے خاندان سود اور قر ض سے بچیں۔ اس کے لئے سادگی سے شادی کا ہونا ضروری ہے۔ علمائے کرام اور مصلحین قوم کی کوششوں سے بعض نوجوان اس بات کے لئے راضی ہورہے ہیں کہ وہ بغیر جہیز لئے اور بغیر کسی بھاری بھرکم خرچ والی دعوت کے صرف سادگی سے شادی کریں گے۔ اور سماج میں سادگی کی شادی کی مثال قائم کریں گے۔لیکن تصویر کا دوسرا رُخ دیکھئے کہ بعض دفعہ سادگی سے شادی کا ارادہ کرنے والے نوجوان لڑکوں کو سماج کے غلط برتاﺅ کا سامنا کرنا پڑا اور انہیں سادگی سے شادی کے اپنے ارادے پر عمل کرنے کے لئے سخت امتحانوں کا سامنا کرنا پڑا۔ ذیل میں ایسے ہی ایک نوجوان کا قصہ بیان کیا جارہا ہے۔ جس پر حیدرآباد کی ایک مشہور کہاوت” حیدرآباد نگینہ اندر مٹی اوپر چونا“سچ ثابت ہوئی۔

” میں متوسط طبقہ کے ایک مسلم گھرانے کا فرد ہوں۔ بچوں کی اعلیٰ تعلیم کی غرض سے میرے والدین ضلع سے شہر حیدر آباد منتقل ہوئے۔ اور والد صاحب حلا ل روزی کماتے ہوئے ہم بھائی بہنوں اور افراد خاندان کی پرورش میں لگے رہے۔ اللہ کا کرنا ایسا ہوا کہ وظیفہ پر سبکدوشی کے فوراً بعد ہم لوگ والد صاحب کے سایہ عاطفت سے محروم ہوگئے۔ ایک بھائی اور تین بہنوں کی شادی ہوچکی تھی۔ بڑے بھائی کی سر پرستی اور والدہ محترمہ کی زمانہ شناس طرز زندگی اور عزیز و اقارب کے پیار و محبت سے زندگی کا سفر چلتا رہا۔میں نے اللہ کے فضل اور اپنی ذاتی محنت سے کمپیوٹر کے شعبہ میں اعلی تعلیم حاصل کی۔ایک دینی جماعت سے وابستگی اور اللہ کی جانب سے ملنے والی ہدایت سے گھر سے ٹی وی کی لعنت کو دور کرنے کا فیصلہ کر لیا گیا جب کہ گمراہی کا ایک ایسا دور بھی تھا جب گھر میں سبھی افراد گھنٹوں بیٹھے اخلاق سوز ٹی وی سیرئیل اور فلمیں دیکھا کرتے تھے۔ یہ سچ ہے کہ گھر سے ٹی وی دور ہونے سے گھر کا باطل دور ہوتا ہے اور گھر میں روحانیت اور رحمت آتی ہے۔گھر میں دینی ماحول آگیا۔پاس پڑوس کی خواتین کو جمع کرکے گھر میں دینی اجتماع بھی ہونے لگا۔ گھر کی خواتین پردے کی پابندی کرنے لگیں۔ اس طرح گھر میں ایک سکون کا ماحو ل پیدا ہوا۔ میں نے اپنی تعلیم کی تکمیل کے بعد شہر میں چند ایک ملازمتیں اختیار کیں۔ بعد میں بھائی اور عزیز و اقارب کے تعاون سے آزاد ویزا پر سعودی عرب جانے کا موقع ملا۔ اور اللہ کے فضل سے پانچ ہزار ریال ماہانہ کی اچھی ملازمت بھی مل گئی۔چند ایک مہینوں میں گھر کے معاشی حالات سدھرے کچھ تعمیری کام ہوا۔ خیال ہو ا کہ جب اللہ نے روزگارکا موقع فراہم کر ہی دیا ہے تو نکاح کی سنت ادا کی جائے اور اپنا گھر آباد کیا جائے۔ والدہ اور بھائی کے سامنے بات آئی کہ میں شادی کا خواہش مند ہو ں افراد خاندان نے مشورہ دیاکہ پہلے بہن کی شادی انجام ہوتو پھر تمہاری شادی بھی ہوگی۔ بہن کے لئے مناسب رشتے کی تلاش میں میرا پہلا دورہ ہندوستان گذر گیا۔ اور میں بھی شادی نہیں کر سکا۔ کچھ دن بعد ایک اچھے گھرانے میں بہن کا رشتہ طے ہوگیا۔ اور خیال ہوا کہ بہن کی شادی کے ساتھ ایک ہی تقریب میں میری شادی بھی ہوجائے۔ دینی ماحول میں اُٹھتے بیٹھتے ‘جہیز کی لعنت کے خلاف عملی اقدام اُٹھانے کے ارادے سے اور اس بات پر کہ شریک حیات نیک ہو تو گھر جنت بنتاہے میں نے گھر میں کہہ دیا کہ اللہ کے فضل سے میرے پاس سب کچھ ہے۔ اس لئے بغیر جہیز کی طلب کے کوئی دین دار شریف گھرانے کی لڑکی تلاش کی جائے اور بات چیت میں پہلے ہی کہہ دیا جائے کہ لڑکا جہیز میں کچھ سامان ‘فرنیچر وغیرہ نہیں لے گا۔ جوڑے کی رقم نہیں لی جائے گی۔ نکاح مسجد میں سادگی سے ہوگا۔لڑکے والے لڑکی کے دعوت نہیں قبول کریں گے اور نکاح کے بعد لڑکے کے گھر کی چند خواتین لڑکی کو وداع کرکے لے جائیں گی۔ ان عزائم کے ساتھ لڑکی کی تلاش شروع ہوئی۔ شہر میں اضلا ع کی بہ نسبت دو لت کی ریل پیل ہے۔ اور کئی بڑے گھرانے دین داری کی طرف راغب بھی ہورہے ہیں۔ خاندان کے ایک بزرگ کی مدد سے ایک دینی جماعت کے سر کردہ کارکن اور پیشے سے انجینئر کے گھر لڑکی دیکھی گئی۔لڑکی کے بھائی نے سعودی عرب میں مجھ سے ملاقات کی۔ اور رشتے کو آگے بڑھانے کی بات کہی۔ میں نے اپنی والدہ سے کہہ دیا کہ میں شادی سے قبل لڑکی کی تصویر بھی نہیں دیکھو ں گا اور والدہ او ر بہنوں کی پسند پر آگے بڑھوں گا۔ البتہ شرط یہ ہوگی کہ شادی سادگی سے انجام پائے گی۔ لڑکی والوں نے ہماری بات منظور کرلی۔ اور ایک مختصر سی تقریب میں لڑکی کو منگنی کی انگوٹھی پہنا دی گئی۔ مبارک بادی کے تبادلہ ہوا۔ تصویر کشی اور ویڈیو گرافی سے پرہیز کیا گیا۔ دوسرے دن مجھے منگنی کی اطلاع دی گئی۔ اور مجھے رخصت لے کر جلد وطن آنے کے لئے کہا گیا۔ اس طرح میں نے ہندوستان جانے کی تیاری شروع کردی۔ ادھر گھر میں بہو لانے ماموں کے لئے مامی اور چاچا کے لئے چاچی لانے کی تیاریاں خوشی کے ماحول میں شروع ہوگئیں۔ میں نے اپنے بڑے بھائی اور ماموں سے کہہ دیا کہ وہ میری شادی کے لئے ضروری فرنیچر وغیرہ خرید لیں۔ لڑکی کے لئے حیثیت کے مطابق زیور اور اچھے کپڑے خریدے گئے۔ گھر کو کلر کیا گیا۔ میں ایک ماہ کی رخصت لے کر شادی کے خواب سجائے ہندوستان آگیا۔ گھر میں خوشی کا ماحول بن گیا۔ والد صاحب کی کمی کو اس موقع پر محسوس کیا گیا۔ سسرال والوں کا اطلاع دی گئی کہ لڑکا آگیا ہے جلدی سے شادی کی تاریخ طے کرنا ہے۔ خسر صاحب اور سالے صاحب نے گھر آکر مجھ سے ملاقات کرنے کی خواہش ظاہر کی۔ ملاقات کا وقت طے ہوا۔ لیکن کسی کام کے سبب وہ لوگ دئے گئے وقت سے کافی تاخیر سے گھر پہونچے۔ سب لوگ ان کے انتظار میں بیٹھے تھے۔ بہر حال ان کی آمد پر میں نے ان سے ملاقات کی اور یہ بھی کہہ دیا کہ ہمیں آپ لوگوں کا کافی انتظار کرنا پڑا۔ سعودی میں اوقات کی پابندی ہوتی ہے اس لئے مجھے ہندوستان والوں کی وقت کی بربادی کی بات مجھے پسند نہیں آئی۔ شائد میری خفگی کو ان لوگوں نے محسوس کیا ہوگا۔ گھر جاکر ان لوگوں نے یہ تاثر لیا کہ لڑکا لباس اور چہرے سے شریعت کا سختی سے پابند نظر آتا ہے۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ ہماری لاڈ و پیار میں پلی اکلوتی لڑکی اس سخت مزاج لڑکے کے ساتھ کیسے رہ پائے گی۔ اور ہماری لڑکی کے لئے یہ گھر کہیں قید خانہ تو نہ بن جائے۔ آگے یہ بات بھی لڑکی والوں سے کہی گئی کہ لڑکے کے ولیمہ میں اس کی بہن کی نکاح کی تقریب بھی شامل ہوگی۔ بہر حال خوشی اور خدشات کے دوران دونوں گھروں میں شادی کی تیاریاں جاری رہیں۔ بہن کی شادی طے ہوجانے کے بعد شادی خانہ بک کردیا گیا۔ بہن کے سسرال والے بھی شادی کے دن دعوت قبول کرنے تیار نہیں تھے۔ لیکن ان سے کہا گیاکہ بھائی کے ولیمے میں دعوت ہے اس میں آپ لوگ بھی شرکت کریں۔ ان لوگوں نے میرے ولیمے کی دعوت سمجھ کر کھانے کی دعوت قبول کرلی۔ میں چاہتا تھا کہ سادگی کے اعتبار سے میری شادی مثالی ہو اس لئے میں نے اسراف سے بچنے کی خاطر اپنی شادی کے رقعے بھی تیار نہیں کرائے اور شخصی طور پر ہی لوگوں کو نکاح کی تقریب او ر ولیمے میں شرکت کی دعوت دی۔ شادی سے دو دن قبل جب کہ ہمارا گھر مہمانوں سے بھرا ہواتھا ۔ شام کے وقت گھر پر دستک ہوئی۔ دیکھا تو پتہ چلا کہ میرا ہونے والا برادر نسبتی یعنی لڑکی کابھائی آیا ہوا ہے۔ اس کے ہاتھ میں سامان کی تھیلی تھی۔ اسے اندر گھر میں بلایا گیا۔ بڑے بھائی اور بہنوائی اس سے بات کرنے کے لئے آئے۔تب اس نے کہا کہ والد صاحب نے سلا م کہا ہے اور اور یہ رسم کی انگوٹھی اور کپڑے واپس کئے ہیں۔ اور کہا کہ کسی وجہہ سے ہمیں یہ رشتہ منظور نہیں ہے۔ یہ شادی نہیں ہو سکتی۔ اس نے اور کوئی وجہہ نہیں بتائی اور نہ ہی اس کے ساتھ گھر کا کوئی اور ذمہ دار فرد بات کرنے کے لئے آیا تھا۔ وہ انگوٹھی اور سامان دے کر واپس چلا گیا اور پل بھر میں شادی کی خوشی میں ڈوبے گھر میں غم کی لہر دوڑ گئی۔ماں اور بہنیں اپنے جذبات کو قابو میں رکھ نہ سکیں اور رونے لگیں۔ جس بہن کی شادی ہورہی تھی وہ بھی بے اختیار رونے لگی۔ فوراً گھر کے بڑے لوگوں اورخاندان کے سر پرستوں کو جمع کیا گیا۔ محلے میں لڑکی کے والد کے دوست اور دینی جماعت کے بزرگ سے رابطہ قائم کیا گیا۔ تاکہ دو گھرانوں میںہونے والی کسی غلط فہمی کو دور کیا جا سکے۔۔محلے کے سرکردہ بزرگ نے ایک گھنٹے تک فون پر لڑکی کے والد سے بات کی ۔ اور لڑکے اور اس کے گھر والوں کی شرافت کا اظہار کیا۔ اور اس بات کی بھی طمانیت دی کہ شادی کے بعد لڑکی سکون میں رہے گی۔ یہ بات بھی کہی گئی کہ آپ جس دینی جماعت سے وابستہ ہیں یہ لڑکا بھی اسی کام سے لگا ہوا ہے۔ اس لئے ہمیں بچوں کی زندگی اور گھر بسانے کی خاطر دانشمندانہ اقدام اُٹھانا ہوگا۔ رشتے لگانے والے خاندان کے بزرگ نے بھی اپنی جانب سے اپنے دوست کو سمجھانے کی کوشش کی ۔ لیکن لگتا ہے کہ دین کا کام کرنے والے لڑکی کے والد دولت کے نشے میں ڈوبی گھر کی خواتین کی باتوں میں آگئے تھے ۔ اس لئے انہوں نے اپنے دوستوں اور دینی جماعت کے ذمہ داروں کے لاکھ سمجھانے کے باوجود بات نہیں مانی اور رشتہ برقرار رکھنے سے انکار کردیا۔ اس طرح لڑکے کے گھر میں مان لیا گیا کہ شائد اللہ کو یہی منظور تھا کہ جس کا جوڑا جہاں ہے وہیں اس کی شادی مقررہ وقت پر ہوگی۔ لیکن سادگی سے شادی کرنے کا ارادہ کرنے والے نوجوان کو اپنے ہی ہم خیال لوگوں سے سخت مایوسی کا سامنا کرنا پڑا۔ میری شادی کے دن بہن کا شادی کی تقاریب ہوئیں۔ دوسرے دن جب کہ میرے ولیمے کا دن تھا اور سبھی لوگوں کو کھانے کی دعوت تھی بہن کا نکا ح ہوا اور لوگوں نے بہن کی شادی کی تقریب میں شرکت کی اور مجھ سے اظہار افسوس اور ہمدردی کیا۔بہن کی شادی کے فوری بعد ایک مرتبہ پھر میری شادی کے لئے لڑکی کی تلاش شروع ہوئی۔ شہر کے دین دار گھرانے سے دھوکہ کھانے کے بعد اضلاع کر رُخ کیا گیا اور اللہ کا کرنا ایسا ہوا کہ میری شرائط کے مطابق ایک اور لڑکی پسند کی گئی اور اندرون ایک ہفتہ میری شادی انجام پائی۔ اللہ کے فضل سے اب میں اپنی اہلیہ کے ساتھ پر سکون زندگی گذار رہا ہوں ۔ اللہ نے ہمیں اولاد کی نعمت بھی دی۔ رہنے کے لئے مکان بھی بن گیا۔ اور ہر سا ل میں گھر والوں سے ملنے کے لئے وطن بھی آتا ہوں۔ اور دینی خدمات میں بھی اپنے آپ کو مشغول رکھتا ہوں۔یہاں میں اپنے سماج سے سوال کرنا چاہتا ہوں کہ دنیا داری سے دین داری اختیار کرنے کے بعد جب میں نے جہیز کی لعنت کو دور کرنے اور سادگی سے شادی کرتے ہوئے اسراف سے بچنے کی جو کوشش کی تھی اس پر اپنے ہی ہم خیال لوگوں نے کیوں مخالفت کی اور کیوں میری شادی توڑ دی۔ کیا میںنے ساگی سے شادی کا ارادہ کرکے یا اپنے آپ کو شرعی لباس میں ڈھال کر کوئی جرم کیا ۔ جس کی سزا مجھے دی گئی۔ دینی کام میں زندگی لگاد ینے والے کیا یہ نہیں جانتے کہ مسلمان کے دل کو دکھانا اور شادی جیسے معاملے میںعین وقت پر وعدہ خلافی کرنا کتنے افسوس کی بات ہے۔ کیا دوسروں کی اصلاح کی خاطر لمبی لمبی تقاریر کرنے والوں کو خود اپنے گریبان میں جھانک کر دیکھنے اور خود اپنی اصلا ح کی سب سے پہلے ضرورت نہیں ہے۔جہیز کی لعنت کے خلاف آواز اُٹھانے والے اور سماجی اصلا ح پر تقریر کرنے والے اور دین کی بات بتانے والے علما اور مشائخ یہ جواب دیں کے میرے ساتھ جو معاملہ ہواہے اس کے ذمہ دار کون ہیں۔ کیا سماج اس کا ذمہ دار ہے۔یا ہماری جھوٹی شان و شوکت اور دکھاوے کی دین داری اس کی ذمہ دارہے۔ آج شہر حیدر آباد میں اورا©ضلاع میں کئی ایسے نوجوان ہیں جو میری طرح کی شرائط کے ساتھ شادی کر رہے ہیں۔ ایسے نوجوانوں کی حوصلہ افزائی ہونی چاہئے۔ تاکہ ہم کہہ سکیں۔

میں اکیلا ہی چلا تھا جانب منزل مگر لوگ ساتھ آتے گئے اور کارواں بنتا گیا
یہ کوئی دل سے بنائی گئی کہانی نہیں ہے بلکہ شہر حیدر آباد میں ایک مثالی دین دار نوجوان کے ساتھ پیش آیا درد ناک واقعہ ہے۔ اس نوجوان نے ایک اچھے جذبے کے تحت کچھ قدم اُٹھائے تھے۔ ہو سکتا ہے کہ اس نوجوان کا رویہ کچھ سخت قسم کا رہا ہو۔ یا اس کی تقدیر میں ہی اس طرح کی بات لکھی گئی تھی کہ اس کی شادی ٹوٹ گئی تھی۔ لیکن ایک عام پیمانے پر سوچیں تو اندازہ ہوتا ہے کہ یہ ہمارے ریا کار اور دکھاوے سے بھرے معاشرے کی سچی تصویر ہے۔ اچھی باتیں آج کل اخبارات اور کتابوں میں رہ گئی ہیں۔ دین دار نظر آنے والے گھرانوں کے معاملات بھی دنیا دار قسم کے ہیں۔ ایسے میں ضرورت اس بات کی ہے کہ سماج سے جہیز کی لعنت دور کرنے اور اسراف اور دکھاوے کو ختم کرنے کے لئے اس نوجوان کی طرح سخت اقدامات کی ضرورت ہے۔ دین کی حقیقت ہماری زندگی میں آنا ضروری ہے۔ دین صرف نماز روزے تک محدود نہیں بلکہ ہمارے شادی بیاہ اور زندگی کے ہر معاملے میں دین کی رہبری اور رہنمائی میں ہمیں چلنا ہوگا۔ اور سادگی سے شادی کرنے والے نوجوانوں کی حوصلہ افزائی کرنی ہوگی۔ اس طر ح کے نوجوانوں کو کٹر مولوی نہ کہتے ہوئے انہیں مبار ک باد دی جائے اور ان کے اقدامات کو دوسروں تک پہونچایا جائے اگر ہم ایسا نہیں کریں گے تو جہیز کی لعنت اور اسراف کی برائی ہمارے معاشرتی نظام کو دیمک کی طرح کھا جائے گی اور ہمیں افسوس کے ساتھ کہنا پڑے گا کہ
نہ سمجھوگے تو مٹ جاﺅگے ہندوستان والو تمہاری داستان تک نہ ہوگی داستانوں میں

شیئر کریں

کمنٹ کریں