میٹھی چیزلائی

تحریر ۔ ببرک کارمل جمالی
lafznamaweb@gmail.com

, میٹھی چیزلائی

ویسے تو پاکستان بہت ساری میٹھی چیزوں کی وجہ سے مشہور ہے، ان میں ایک میٹھی چیز گڑ بھی ہے جس کی مٹھاس اور ذائقہ ہر کسی کی پسند ہوتا ہے، سردیوں میں تو اسے کھانا صحت کیلئے بھی کافی مفید سمجھا جاتا ہے، گڑ سے بننے والی مٹھائی لائی ایک نئی چیز بھی لگتی ہے، گوگل بھی لائی کے بارے میں کچھ نہیں جانتا ہے، گڑ کی بنائی ہوئی لائی کو پاکستان کے اکثریتی شہروں میں سردیوں میں بہت کھایا جاتا ہے، عام لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ اس میٹھی سوغات کو بنانا بہت آسان سا ہے مگر درحقیقت اس کو بنانے کیلئے بہت محنت درکار ہوتی ہے یہ کام چاول کی تازہ فصل کے تیار ہونے کے بعد شروع ہوتا ہے اور دو سے تین مہینوں تک چلتا ہے، اس لئے لائی صرف دسمبر اور مارچ تک لوگ تازہ کھا پاتے ہیں۔


لائی کو تیار کرنا بھی مشکل کام ہے، لائی کو پکانے کیلئے ایک تندور بنایا جاتا ہے جس پر پہلے چاول ابال دیئے جاتے ہیں جس کی وجہ سے چاول کی جسامت بڑھ جاتی ہے، پھر ان چاولوں کو تھوڑا سا خشک کیا جاتا ہے پھر ایک کڑاہی میں گڑ ڈالا جاتا ہے، تیز آگ پر گڑ کو رکھا جاتا ہے پھر گڑ پانی کی طرح بن جاتا ہے اور گڑ گاڑھی شکل اختیار کر جاتا ہے، اس کے بعد اس میں پکے ہوئے لمبے لمبے ابلے چاول ڈال دیئے جاتے ہیں، اس کو اچھی طرح گھمایا جاتا ہے تاکہ گڑ اور چاول مل جائیں، گڑ اور چاول کو ملانے کے بعد ایک بڑی سی پلیٹ میں ڈال دیا جاتا، پھر اس پر روٹی والا بیلن گھمایا جاتا ہے، چاول کے لائی کے سائز پنجاب میں کچھ چھوٹا بھی ہوتا ہے اور گولائی، مستطیل سانچوں میں بنائی جاتی ہے۔


چاول کی لائی جب بن رہی ہوتی ہے تو اس کی مہک بہت دور تک جاتی ہے، اس مہک کی وجہ سے بھی لوگ چاول کی لائی کھاتے ہیں، جس کی بعد چاول کی لائی ایک بڑی سی روٹی کی شکل اختیار کر جاتا ہے اور پھر اسے سوکھنے کیلئے سورج کی روشنی میں رکھ دیا جاتا ہے، چاول کی لائی پاکستان میں مختلف اقسام کی بنائی جاتی ہیں، جس میں مونگ پھلی کی لائی، بادام کی لائی، چنے کی لائی، تل کی لائی اور دیگر کئی اقسام شامل ہیں، جو بازاروں میں الگ الگ داموں پر فروخت کی جاتی ہیں، چاول کی لائی پورے ملک میں بنائی جاتی ہے مگر پورے ملک میں اس کو الگ الگ ناموں سے پکارا جاتا ہے، چاول کی لائی ملتان میں بھی بنتی ہے، اسے گڑ اور چینی دونوں سے بنایا جاتا ہے، گڑ والی زیادہ لذیز ہوتی ہے، مقامی لوگ ملتان میں اسے اپنی زبان میں مرُنڈا بھی کہتے ہیں جبکہ مظفر گڑھ کے لوگ چاول کی لائی کو ’’ممبرا‘‘کہتے ہیں۔
سندھ میں چاول کی لائی لاڑکانہ اور نوابشاہ میں زیادہ پائی جاتی ہے اور جا بجا بنائی جاتی ہے جیکب آباد میں لائی چاول کے بجائے مختلف خشک میوہ جات سے بنائی جاتی ہے جبکہ پورے سندھ میں سندھی زبان سے تعلق رکھنے والے لوگ اسے لائی ہی کہتے ہیں، حتیٰ کہ پاکستان کے کچھ علاقوں میں لائی کو گڑ پٹٓی بھی کہتے ہیں، چاول کی روٹی کو بسکٹ کی طرح کھایا جاتا ہے۔


چاول کی لائی کی فی کلو قیمت 140 روپے تک سندھ اور بلوچستان میں ہوتی ہے جبکہ دیگر میوہ جات سے بننے والے لائی کی فی کلو کی قیمت 300 روپے سے 500 روپے تک ہوتی ہے، پورے ملک میں لائی کو مختلف ناموں سے پکارا جاتا ہے، ڈیرہ غازی خان میں ’’چاولی‘‘بھی کہتے ہیں، اسے اندرون بلوچستان اور سندھ میں چاول کی لائی ہی کہتے ہیں جبکہ کچھ علاقوں میں لائی کو گُجی بھی کہتے ہیں، پنجاب میں اسے مرونڈے کے نام سے بھی پکارا جاتا ہے جبکہ اندرون پنجاب میں لائی کو ’’چولاں دی روٹی‘‘ بھی کہا جاتا ہے جو شخص ایک مرتبہ چاول کی روٹی کھاتا ہے تو پھر بار بار کھانے کا شوق رکھتا ہے۔ پاکستان کے کچھ علاقوں میں گڑ اور خشک میوہ جات سے ملانے کے بعد لائی کو گڑ پٹٓی بھی کہتے ہیں، حتیٰ کہ پاکستان کے کچھ علاقوں میں اسے مرونڈا بھی کہتے ہیں۔

شیئر کریں
ببرک کارمل تعلق بلوچستان پاکستان سے اہل قلم 2000 سے تاحال مسلسل لکھ رہے ہیں۔ تعلیم ایم اے بین الاقوامی تعلقات عامہ . فی الحال ابھی ان کی کوئی کتاب منظر عام پہ نہیں آئی ہے تاہم سینکڑوں افسانے مضامین اور بچوں کی کہانیاںشائع ہو چکی ہیں ۔

کمنٹ کریں