ماڈل ٹائون کے افسانے

مضمون نگار : محمد عباس

, ماڈل ٹائون کے افسانے

بلال حسن منٹو کے افسانے اردو کی افسانوی روایت میں ایک نیا اضافہ ہیں جوا پنے منفرد ذائقے کی وجہ سے اپنا ایک الگ مقام حاصل کرسکتے ہیں ۔ اردوا فسانے کی تمام روایت اور بڑے بڑے افسانہ نگاروں کو سامنے رکھتے ہوئے دیکھا جائے تو یہ ایک بہت بڑا دعویٰ ہے۔ افسانے کا اچھا ذوق رکھنے والے اور اردو کی روایتی مبالغہ آمیز تنقید سے بیزار قاری کو اس مضمون سے بد ظن کرنے کے لیے یہ جملہ ہی کافی ہوگا لیکن میرے لیے یہ الفاظ لکھنا مجبوری تھے اور اس سے بہتر کوئی آغاز سوجھ نہیں رہا تھا۔ستم ظریفی ہے کہ بلال حسن منٹو کے غیر روایتی افسانوں پر مضمون لکھنے کے لیے اتنے روایتی جملے سے آغاز کرنا پڑا۔ بلال حسن منٹو کے افسانے اپنی تخلیقی قوت کی وجہ سے قاری کو فوراً اپنی طرف کھینچ لیتے ہیں ۔ قرأت کے آغاز میں ہی دلچسپی کا عنصر قاری کا ہاتھ تھام لیتا ہے اور قاری بھی راستے کے نشیب و فراز سے بے نیاز اس کے ہم راہ چلتا جاتا ہے۔ سفر اتنا مختصر نہیں لیکن تمام راستے میں دلچسپی کے عناصر اس قدر ہیں کہ طوالت محسوس ہی نہیں ہوتی۔ اس کے علاوہ افسانوں کی ہلکی پھلکی زبان جس کی وجہ سے کہیں بھی ابہام یا فکری پیچیدگی کا امکان پیدا نہیں ہوتا، قاری کو کہیں بھی اٹکنے نہیں دیتی۔ ’’ماڈل ٹائون‘‘کا سفر ایک دورے میں ختم ہو جاتا ہے۔


پہلا افسانہ ’’فیلئیر ‘‘ ہے۔ یہ افسانہ اس کتاب اور مصنف دونوں کا ایک لحاظ سے تعارف ہے۔ اگر یہ افسانہ کامیاب نہ ہوا تو کتاب کے باقی حصے کی قسمت معلوم۔ لیکن اس افسانے کی اٹھان اور شروع کے چند صفحات ہی یہ سب بھلا دیتے ہیں کہ لکھنے والے کی پہلی تحریر ہے یا کسی نو آموز کا لکھا ہوا افسانہ ہےجو ادب کی دنیا میں بھولے سے وارد ہوگیا ہے ۔ چند ماہرانہ اسٹروک اور کچھذومعنی پیراگراف مصنف کی مہارت ، محنت اور ذہنی رجحان سجھا دیتے ہیں اور قار ی کے لیے مصنف اجنبی نہیں رہتابلکہ کسی بہت پرانے لکھاری کی حیثیت اختیار کر لیتاہے جسے مدتوں سے پڑھ رہا ہو اور جس کے اسلوب کی ایک ایک خوبی سے پہلے ہی آگاہی ہو۔اندازہ ہوتا ہے کہ بلال حسن منٹو افسانے کا اچھا مطالعہ رکھتے ہیں اور مطالعہ وسیع ہو یا نہ ہو، افسانوی روایت کا پختہ شعور ضرور رکھتے ہیں اس لیے اردو کے اچھے افسانہ نگاران کی تحریر کے پس پردہ اپنے تخلیقی تسلسل کے طور پر جھانکتے نظر آتے ہیں اور اس لکھاری کو اجنبی نہیں رہنے دیتے۔ دوسرے، بلال حسن منٹو خالصتاً کہانی کار ہیں ،لکھتے وقت ان کا فوکس کہانی پر رہتا ہے اور وہ اس میں دلچسپی کے عنصر کو کمزور نہیں پڑنے دیتے۔ قاری جو کہانی کی ازلی پیاس رکھتا ہے، مصنف کی اس کوشش پر والہانہ اس کی طرف لپکتا اور ڈیک لگا کے پیتاچلا جاتا ہے۔یہی معاملہ ’’فیلیئر‘‘ کے ساتھ ہے۔ ایک دفعہ شروع ہو جانے کے بعد کہانی کے انجام تک رکنا ممکن ہی نہیں ۔ ماحول جاندار ہے اور سکول میں تعلیم پائے ہر شخص کے لیے شناسا۔ کردار عام سماجی سطح سے اٹھائے گئے ہیں جنہیں کسی نظریے یا آئیڈیلزم کا علمبردار بنانے کی بجائے انسان ہی رہنے دیا گیا۔ یوں محسوس ہوتا ہے کہ افسانہ نہیں پڑھا جا رہا بلکہ کسی دیکھے بھالے ماحول کی سیر ہو رہی ہے۔ بیان میں مزاحِ لطیف اور طنزِ ملیح کا خوبصورت استعمال دلچسپی کو ٹوٹنے نہیں دیتا اور اردو افسانے کی دنیا میں جہاں دس صفحے کے افسانے کو طویل کہہ دیا جاتا ہے، چالیس صفحے کے افسانے کو ہوا کے دوش پر اڑتے چند لمحے بھی نہیں لگتے۔ ایک نئی قسم کی کہانی اور نئے طرزِ بیان کی وجہ سے افسانہ قاری کو اپنے اندر اتنا جذب کر لیتا ہے کہ ختم ہو جانے کے باوجود بھی اس سے الگ ہونے کو جی نہیں چاہتا۔ یہی خواہش ہوتی ہے کہ یہ فضا قائم رہے اور اس میں تھوڑی دیر مزید گزاری جائے۔ اس کی فضا بھال چندر نیماڈے کے ناول ’’کوسلا‘‘ کے ابتدائی حصے سے ملتی جلتی ہے اور اُسی کی طرح چلبلا مزاج رکھتی ہے۔


’’فیلئیر‘‘ کہانی ہے ایک ایسے لڑکے کی جو قبل از وقت دنیا کے حقائق سے واقف ہو چکا ہے۔ یہ قبل از وقت شعور تعلیم کی طرف سے اس کی توجہ موڑ چکا ہے اور اب وہ معاشرے کے مروجہ معیارات پر چلنے کی بجائے منحرف ہو گیا ہے۔ وہ تین سال سے ایک ہی تعلیمی درجے پر رکا ہوا ہے اور ابھی بھی سنجیدگی سے تحصیلِ علم کی طرف راغب نہیں ہے۔ وہ فیلیئرہے اور کیا خبر آگے زندگی میں بھی ایک فیلیئر کے طور پر ہی جیے۔ اس کردار سے مصنف کوئی بڑی فلاسفی نہیں سنوانا چاہ رہا اور نہ ہی اس کا سہارا لے کر سماج اور اس کے اصولوں پر کوئی طنزیہ وار کرنا چاہتا ہے ۔ اسے فیلیئر میں اس لیے دلچسپی ہے کہ یہ دوسروں سے منفرد ہے اور سننے والے کے دل میں بھی اس کی روداد سے دلچسپی پیدا ہو گی۔ یہی دلچسپی پیدا کرنا مصنف کا پہلا مقصد نظر آتا ہے ۔ افسانہ جب انجام پر پہنچتا ہے تو قاری کا سامنا فکری سطح پر کسی بھی نئے سوال سے نہیں ہوتا بلکہ دلچسپی کا سامان ختم ہو جانے پر ذرا ملول ہو جاتا ہے ۔ اگر یہ بیان اتنا پر لطف ہے تو اسے تھوڑی دیر مزید جاری رہنا چاہیے تھا۔


اس مزید لطف کی تمنا میں دوسرا افسانہ شروع کر لیا جاتا ہے ۔ ’’پوسٹمارٹم‘‘۔ یا حیرت یہ کیا نظر آ رہا ہے۔ افسانوں کے کسی مجموعے میں یہ دیکھنے میں کبھی نہیں آیا کہ پہلی کہانی کے کردار ہی دوسری کہانی میں امڈے چلے آ رہے ہوں بلکہ انہی سب کو لے کر کہانی لکھی گئی ہو۔ سبھی کردار وہی ہیں ، بس ایک آدھ گھریلو ملازم نیا شامل ہوا ہے۔ ایسا بھی نہیں کہ یہ کہانی پہلی کہانی کا تسلسل ہو۔ دونوں بالکل منفرد اور الگ الگ کہانیاں ہیں البتہ انہی کرداروں کے شامل ہونے سے اس میں دلچسپی کا تاثر شروع سے ہی پیدا ہو جاتا ہے ۔ عام طور پر کسی افسانہ نگار کے کسی ایک اچھے افسانے کے ماحول اور کرداروں میں اتنی قوت پیدا ہو جاتی ہے کہ پھر افسانہ نگار کے لیے وہاں پہنچنا مشکل ہو جاتا ہے اور قاری اس پہلے افسانے کے مضبوط تاثر کی وجہ سے افسانہ نگار کے کسی نئے افسانے میں اس قدر دلچسپی نہیں لے پاتا۔بلال حسن منٹو اس سرحد کو پاٹ گئے ہیں اور دوسرے افسانے میں بھی اسی ماحول اور انہی کرداروں کو لے کر پہلے ہی صفحے سے قاری کو جذب کر لیتے ہیں ۔ یقین ہو جاتا ہے کہ پہلی ہی کہانی کی طرح یہ کہانی بھی اسی طرح دلچسپ ہو گی اور پھر کہانی ختم ہونے تک قاری کی دلچسپی اسی سطح پر برقرار رہتی ہے اور دلچسپی ہی اس کہانی کا بنیادی عنصر ہے۔ اس کے علاوہ مصنف نے اسے کسی بھی اور مقصدسے آلودہ کرنے کی کوشش نہیں کی اور پہلی کہانی کی طرح یہ بھی اسی مزے دار انداز میں انجام کو پہنچ جاتی ہے۔ یہ ایک سنجیدہ اور متین شکل افسانے کی بجائے معصومانہ اور ایک شوخ بچی جیسی ہے۔ پہلی کہانی کی طرح۔ ان دونوں پر کسی بھی گہری فکر کا سایہ نہیں ہے۔ دونوں میں مصنف کی توجہ کہانی کہنے پر ہے اور اس کے علاوہ کسی اور جانب جانے کا لوبھ نہیں ہے۔


’’پوسٹمارٹم‘‘ہلکے پھلکے انداز میں لکھا گیا افسانہ ہے جس میں بچپن کے معصوم لگائو کی ایک کہانی ہے۔ بچپن میں جس چیز کے ساتھ لگائو ہو جائے، بہت فطری اور گہرا ہوتا ہے جس میں کوئی لالچ یا مفاد وابستہ نہیں ہوتا۔ آدمی اس لیے چیزوں سے پیار کرتا ہے کیوں کہ اس کی فطرت میں پیار کرنے کا جذبہ موجود ہے۔ وہ اپنی ان پیاری چیزوں کے ارد گرد رہتا ہے اور ان سے جدا ہونے کا تصور بھی نہیں کرسکتا لیکن جب وقت کا دیو ہیکل پہیہ اس تعلق کو روندتے ہوئے بے رحمی سے گزر جاتا ہے توڈبڈباتی آنکھوں کے ہمراہ انسان کا معصوم ذہن زندگی کے دکھوں سے واقف ہونے کی پہلی سیڑھی پر قدم رکھتا ہے۔ یہ افسانہ اسی دکھ کی ہلکے پھلکے انداز میں بیان کی گئی کہانی ہے۔ اس کا انداز بہت حد تک فرینک اوکونر کی بچپن پر مبنی کہانیوں جیسا ہے۔افسانے کا دوسرا موضوع موت ہے۔ انسان کی زندگی میں جب تک سب سے بڑی حقیقت موت کا احساس شامل نہیں ہوتا ،سوچ معصوم اور شگفتہ رہتی ہے۔یہ افسانہ پہلی دفعہ موت کے، مٹ جانے اور معدوم ہو جانے کے احساس سے دوچار ہونے والے بچے کی کہانی ہے۔اسے معلوم ہوا ہے کہ فنا بھی کوئی چیز ہے اور کیوں کہ اس کتے کے مرنے پر کوئی ہنگامہ نہیں مچا تو یقینا کوئی عام سی بات ہے۔ اس نے فطری انداز میں موت کی حقیقت کو قبول کر لیا ہے اور افسانے کے آخر پر راوی کا مالی کو موت کے متعلق دھمکی دینا اسی قبولیت کی طرف اشارہ ہے۔


دوسرے افسانے میں جس ڈاکٹر والٹر کا سرسری سا ذکرآیا ہے، اسی کے نام سے تیسرے افسانے کا اعنوان دیکھ کر اور شروع کی چند سطروں میں مظہر، طلعت، عاقب اور قمر کا نام دیکھ کر کامل یقین ہو جاتا ہے کہ یہ سبھی کہانیاں یقینا ایک ہی ماحول سے لی گئی ہیں ۔ عام افسانوی مجموعے میں کوئی افسانہ ختم ہونے پر دلچسپی کا گراف ٹوٹ جاتا ہے اور دوسرا افسانہ شروع ہونے پر دلچسپی دوبارہ سطحِ زمین سے اٹھنی شروع ہوتی ہے،قاری اگلا افسانہ شروع کرتے وقت تھوڑا مخمصے کا شکار ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا کے ضخیم ترین ناول ایک ہی رو میں پڑھے جا سکتے ہیں لیکن افسانوی مجموعے آہستہ روی سے پڑھے جاتے ہیں اور ایسا کرنا بھی چاہیے کہ ہر نیا افسانہ اپنے ساتھ ایک نئی فضا ،الگ زندگی اور وکھرے کردار لے کر آتا ہے جو گزشتہ افسانے سے مختلف ہوتے ہیں ۔ یہ نیا افسانہ متقاضی ہوتا ہے کہ پچھلے افسانے کی فضا اور تاثر کوذہن سے محو کر کے متخیلہ کو اتنی مہلت دی جائے کہ وہ نئے افسانے کی فضا کو تصور کر سکے۔ جب تک نئے افسانے کی فضا تصور میں اپنی تصویر پیدا نہیں کرتی، تب تک وہ افسانہ اپنے فن کا حیرت کدہ نہیں دکھا سکتا۔ یہ تو افسانوی مجموعے پڑھنے کی عام ترکیب ہے لیکن بلال حسن منٹو کے ہاں یہ معاملہ ہے ہی نہیں ۔ اگلا افسانہ شروع ہوتے ہی جب ہم مانوس فضا کو دیکھتے ہیں تو دلچسپی کا گراف اسی سطح سے اوپر اٹھتا ہے جہاں پہلے افسانے نے پہنچا دیا تھا۔ قار ی ہر اگلے افسانے کو پہلے سے بھی زیادہ دلچسپی سے پڑھتا ہے اور ان افسانوں کی اسی یکساں فضا کا کمال ہے کہ یہ افسانے ایک ہی نشست میں پڑھے جاسکتے ہیں ۔ ایک افسانہ ختم ہونے کے بعد بے تاب نظر شتابی سے اگلے افسانے تک پہنچتی ہے اور دلچسپی سے پڑھتے چلی جاتی ہے۔


تیسرے افسانے ’’ڈاکٹر والٹر‘‘ میں بلال حسن منٹو کا طریقہ واردات سمجھ آنے لگ جاتا ہے ۔ وہ کہانی کو اپنے ہی بچپن کے ماحول سے اخذ کرتے ہیں اور اس میں چند دلچسپ واقعات کا اضافہ کر کے قاری کی دلچسپی کو بڑھاتے ہیں ۔ اس کہانی میں بھی بھوتوں جیسی آواز ریکارڈ کر کے چوکیدار اور آخر پر چھپکلی سے امی کو ڈرانے کا قصہ خاصے دلچسپ ہیں جو بظاہر مرکزی کہانی سے ناگزیر تعلق نہیں رکھتے پھر بھی اس کی دلچسپی میں اضافہ کرتے ہیں ۔ کہانی ڈاکٹر والٹر اور اس کے خاندان کی ہے جو ماڈل ٹائون میں مسلمانوں کے محلے میں آ بستے ہیں اور اپنے مذہب اور رہن سہن کی بنا پر مسلمانوں کے اندر حیرت یا حقارت کا باعث بنتے ہیں ۔ تبھی ملک میں مارشل لاء کا نفاذ ہوتا ہے اور ان لوگوں کے لیے مذہبی تعصب کی بنا پراگنے والی خودرو نفرت کے جنگل میں گزر کرنا مشکل ہو جاتا ہے ۔ نتیجتاً وہ امریکہ میں پناہ حاصل کر لیتے ہیں اور سب کچھ بیچ باچ کر چلے جاتے ہیں ۔
بلال حسن منٹوکے والد بائیں بازو کے مکتبہ فکر سے تعلق رکھنے والے ممتاز دانشور ہیں اور جنرل ضیاالحق کے نظریاتی مخالف ہیں ۔ ان کے بیٹے کی تحریر میں ضیاالحق سے اختلاف کا یہ پہلو جھلکنا غیر فطری نہیں لیکن اردو کے عام افسانہ نگاروں کی طرح براہِ راست ذکر آنے کی بجائے ایسی فنکارانہ چابک دستی سے آیا ہے کہ فنِ افسانہ نگاری کی روح بھی خوش ہو گئی ہو گی۔ جنرل ضیاالحق کے غاصبانہ قبضے کے پیچھے کارفرما خباثت ، اس کے الیکشن کے جھوٹے دعوے اور اسلامی اصلاحات کے نعرے کو بڑی عمدگی سے طنز کا ہدف بنایا گیا ہے۔ اتنی لطیف کہانی اس قدر زہریلے شخص کے تذکرے سے کثیف ہو سکتی تھی لیکن انہوں نے ایسا خوبصورت پیرایہ اپنایا کہ کہانی اپنی اسی لطافت کے ساتھ چلتی جاتی ہے۔ کہیں بھی جنرل ضیاء کا تذکرہ گراں نہیں گزرتا۔ کہانی کا راوی ایک چھوٹا بچہ ہے ، اس کی سوچ میں امڈنے والے سوالات اور ان کے بے تکے جوابات کی شکل میں اس جنرل کی شخصیت کا خاکہ کھینچا گیا ہے۔ اینٹی ضیا گھر میں پلنے والے بچے کے دل میں ضیا کے حوالے سے ناگواری کا جو تاثرہو سکتا ہے وہ سارا کھنچا چلا آتا ہے اور لطف یہ کہ کہیں بھی احساس نہیں ہوتا کہ لکھنے والا کوئی بغض نکال رہا ہے۔ یہی جان پڑتا ہے کہ والٹروں کی کہانی کہنے کے لیے اس شخص کی اسلامی اصلاحات کا ذکر کرنا اشد ضروری تھا۔ ’’مکروہ جنرل‘‘ ، ’’بد معاش جنرل‘‘ اور ’’بے حیا جنرل ‘‘ تک کے الفاظ استعمال کردیے جاتے ہیں اور بیانیے پر گراں نہیں گزرتے۔ اس افسانے کے اسلوب میں شاید اس کے انسان دوست موضوع کی وجہ سے مزاح کی نسبت طنز زیادہ حاوی ہے۔ شاید اس کی وجہ یہی ہو کہ ضیا کے خلاف لکھنے والا اس قدر بھرا بیٹھا ہے کہ لکھتے وقت وہ متانت قائم نہیں رکھ پاتا جو مزاح نگار کا خاصہ ہے اور اس طیش میں مبتلا ہو جاتا ہے جو طنز نگار کے مزاج کا حصہ ہوتاہے یا پھر اس کا سبب یہ ہو کہ وہ ہمارے معاشرے کی مذہبی عصبیت کا پردہ چاک کرنا چاہتے تھے اور کیوں کہ یہ پردہ زیادہ گہرا ہے اس لیے، اسے چاک کرنے کو وار بھی اتنا ہی گہرا کیا گیا ہے۔


بلال حسن منٹو نے ’’ڈاکٹر والٹر‘‘ میں پہلی دفعہ کسی سماجی موضوع کو براہِ راست مَس کیا ہے۔ اس افسانے کا موضوع اقلیتوں کے ساتھ ہمارا سلوک ہے۔ اس موضوع پراشفاق احمدکا ’’گڈریا‘‘،اسد محمد خان کا ’’مئی دادا‘‘، مرزا حامد بیگ کا’’کاتک کا ادھار‘‘ ،علی اکبر ناطق کا’’والٹر کا دوست‘‘اورصائمہ ارم کا ’’ دینو بابا‘‘ پہلے سے لکھے گئے بہت عمدہ افسانے ہیں ۔’’ڈاکٹر والٹر‘‘ بھی انہی افسانوں کی طرح ہمارے معاشرے کی عصبیت اور منافقت کو دکھاتا ہے ۔ اس میں خاص بات یہ ہے کہ بین المذاہب تفریق دکھانے کے لیے ضیا دور کا انتخاب کیا گیا ہے۔ اس دور کی سیاسی صورتحال اور مذہبی پروپیگنڈے کی وجہ سے دیگر مذاہب کے لوگوں کے خلاف جونفرت اور حقارت عام مسلمانوں میں پیدا ہو رہی تھی، انہیں خوبی سے مصور کیا گیا ہے۔ اسلام کو دنیا کا حقیقی اور ابدی مذہب قرار دینے والی حکومت نے اسلام کی سر بلندی کے لیے جو اقدامات کیے تھے،ان کے نتیجے میں جنم لینے والا سماجی رویہ غیر مسلموں کے لیے ناقابلِ برداشت ہو گیا تھا اور ڈاکٹر والٹر کی طرح ان سب اقلیتوں کو سماجی سطح پر تحقیر کا سامنا کرنا پڑتا تھا۔
چوتھی کہانی’’سفگمو مینو میٹر‘‘ ہے ۔ اس کا عنوان کہانی کے راوی کی طرح ہمارے لیے بھی روانی سے ادا کرنا مشکل ہے۔ اس افسانے کی مرکزی کہانی نوید کی ہے جو راوی کا بڑا بھائی ہے۔ وہ کالج کے دوران تنظیمی سرگرمیوں میں ملوث تھا اور بائیں بازو کے ساتھ تعلق کی وجہ سے پولیس کے ہاتھوں گرفتار ہو گیا تھا۔ کہانی اس کے چھڑوانے اور واپس لانے کے دوران کے اعصابی تنائو پر کھڑی ہے۔ البتہ بلال حسن منٹو کے حسنِ بیان کی داد نہ دینا زیادتی ہو گی جس نے تقریباً تیس صفحے تک اس تنائو کو ہمارے اعصاب تک پہنچنے ہی نہ دیا۔ قاری جو اس طرح کی صورت حال میں اپنے اعصاب کو تجسس اور سسپنس کے سنجیدہ عوامل کے لیے تیار کر لیتا ہے، اس کہانی میں کسی ایسی ہی صورت حال کی متوقع آمد کے لیے منتظر ہی بیٹھا رہتا ہے جہاں اس کے ان جذبات کو خوراک مہیا ہو سکے لیکن بلال کے لطیف مزاح اور شگفتہ بیانیے نے تنائو کے یہ سب مراحل مزے سے گزار دیے۔ قاری بھی کسی پریشانی میں مبتلا ہونے کی بجائے اس بچے کی معصومانہ نظرکے ساتھ ساتھ چلتا ہے جو اس پریشان کن صورت حال میں بھی اپنی بچگانہ بے فکری کے تحت چیزوں کو دیکھ رہا ہے۔ کالج کے چوکی دار کے جملوں کی لغویت پر غور اور محرر کے کمرے میں پڑے وائر لیس کی افادیت پر خصوصی توجہ دیتا ہے۔ یہ سبھی چیزیں اس بچے کے معصوم ذہن کے ساتھ چلنے پر مجبور کرتی ہیں اور قاری اس صورت حال کا سامناایک بالغ نظر آدمی کی بجائے ایک بچے کی طرح کرتا ہے ۔ کوئی اعصابی تنائو کوئی پریشانی اس کے قریب بھی نہیں پھٹکتی اور خندہ ٔزیرِ لب کے ساتھ گزرتا جاتا ہے۔ مثال کے طور پرمحرر کے کمرے میں موجود یہ بچہ وائرلیس سے آتی آوازوں کو یوں دیکھ رہا ہے:


’’موٹے پولیس والے کے نزدیک یہ کوئی خاص بات نہیں تھی۔ مجھے تو وہ باتیں بھی اس کے نزدیک اہم نہیں لگ رہی تھیں جو اس جدید اور مفید آلے میں سے آواز کی رفتار سے برآمد ہو رہی تھیں کیوں کہ وہ ان کو غور سے نہیں سن رہا تھا، جب کہ میں ، حالانکہ میں پولیس مین بھی نہیں تھا،بے حساب انہماک سے ان پر توجہ دے رہا تھا۔ کوئی چاہے تو موٹے پولیس والے کے حق میں یہ دلیل بھی پیش کر سکتا ہے کہ اس میں برا ماننے کی بات نہیں ہے کہ وہ ان آوازوں پر توجہ نہیں دے رہا تھا کیوں کہ ہو سکتا ہے ان میں اسے مخاطب ہی نہ کیا جا رہا ہو مگر میں اس دلیل کے خلاف یہ دلیل دے سکتا ہوں کہ مجھے کون سا ان آوازوں میں مخاطب کر کے بات کی جارہی تھی؟ میں تو پھر بھی انہیں غور سے سن رہا تھا۔ان آوازوں کو نشر کرنے والے تو یہ بھی نہیں جانتے تھے کہ میں وہاں دوسرے سرے پر ، اس آلے کے نزدیک کھڑا ہوں ۔ ابا کے ساتھ۔‘‘٭۱


اس افسانے میں ایک بار پھر ضیاالحق کے دورِ ظلمات کا عکس دکھا یا گیا ہے۔ تعلیمی اداروں میں تدریسی و تعلیمی سرگرمیوں کی جگہ سیاسی سرگرمیوں کو فروغ دیا گیا۔بھٹو اور بائیں بازو کے مکتبہ فکر کی تعلیمی اداروں میں مقبولیت کی وجہ سے حکومتی سرپرستی میں دائیں بازو کی غنڈہ گرد تنظیم قائم کی گئی جس کا مقصد بائیں بازو کی فکر کا تعلیمی اداروں سے قلع قمع کرنا تھا۔ اس طریقہ کار کی وجہ سے ملک کے اندر تعلیمی سرگرمیاں بری طرح متاثر ہوئیں ۔ طالب علموں کے مستقبل پر سیاہی پھیر دی گئی اور آئندہ کے لیے ایک ایسی تقلید پرست نسل کی بنیاد رکھ دی گئی جو تازہ فکر یا نئی تحقیق کو ہی گناہ سمجھنے لگی۔ ان سرگرمیوں کی وجہ سے اگلی کئی دہائیوں تک تعلیمی ادارے تعلیم کی جگہ سیاسی تربیت گاہ کا درجہ حاصل کرنے والے تھے۔ اسی پس منظر میں اس افسانے کی کہانی تعمیر کی گئی ہے۔ کالج پڑھنے والا نوجوان لڑکا بائیں بازو کی سرگرمیوں میں ملوث ہونے کی وجہ سے ریاستی اداروں نے اٹھا لیا ہے لیکن گھر والوں کو اس کی گم شدگی کے متعلق کچھ علم نہیں ہے۔ وہ سب پریشان ہو کر اسے ڈھونڈنے کی فکر کرتے ہیں اور آخر پر ایک فوجی افسر کیپٹن فراز کی مدد سے وہ بازیاب کرا لیا جاتا ہے۔


اس افسانے میں ایک یادگار کردار آنٹی ارشد کا ہے۔ یہ ایک مزے دار خاتون ہے۔ اس سے پہلا تعارف افسانے کے آغاز میں ہوتا ہے جب وہ اس بات پر نالاں ہے کہ اسے ہائپر ٹینشن کی بیماری کیوں نہیں ہے اور اس کا بلڈ پریشر نارمل کیوں ہے۔ وہ خودکو اس بیماری کا مریض ثابت کر کے دوسروں پر اپنی گھریلو ذمہ داریوں کے ناقابلِ برداشت ہونے کا رعب جمانا چاہتی ہے۔ وہ چاہتی ہے کہ اس کی بیماری کا جان کر لوگ اس سے ہمدردی کاا ظہار کریں ۔ دوسری دفعہ وہ تب سامنے آتی ہے جب نوید کے گم ہو جانے کا معلوم ہوتا ہے اور وہ راوی کی امی کا غم بانٹنے ان کے گھرآجاتی ہے، اب غم بانٹنے یا تسلی دینے کی بجائے وہ نوید کے اغوا برائے تاوان ہو جانے، حادثے میں مر جانے، خود کشی کر لینے یا بوری بند لاش کے طور پر گھر کے سامنے پھنکوائے جانے کے امکانات شمار کرنے لگتی ہے اور چاہتی ہے کہ گھر والے ذہنی طور پر کسی بھی حادثے کے لیے تیار رہیں ۔ اس کی ڈھکی چھپی خواہش بھی ہے کہ کوئی جان لیوا حادثہ ضرور پیش آ جائے جس سے اس کی پہلی تنبیہ درست ثابت ہو جائے کہ نوید پر کالا جادو ہوا ہے لہٰذا اس کے لیے قرآن خوانی کی محفل منعقد کروائی جائے جو کہ پہلے نہیں کروائی گئی تھی۔
پانچواں افسانہ ’’آسیہ ‘‘ ہے جو کتاب کا سب سے دلچسپ افسانہ ہے ۔ اس کی مرکزی کردار ایک ناقابلِ فراموش کردار ہے۔ اس کردار ’’آپا صغراں ‘‘ کا ذکر اس سے قبل دو افسانوں میں آ چکا ہے اور ہم جانتے ہیں کہ وہ ایک خود پسند اور تنگ نظر عورت ہے اور مزید برآں اس کی دو بیٹیاں فری اور پری ہیں جنہیں وہ بہت بے رحمی سے زدو کوب کرتی ہے۔ یہ زمانہ ساز عورت ہے اور دنیا کو اچھی طرح سمجھتی ہے۔ محمد سلیم الرحمٰن صاحب نے اس کردار کی اسی خوبی کو یوں بیان کیا ہے:


’’بلاشبہ اس مجموعے کا سب سے کرارا کردار آپا صغراں کا ہے۔ آپا صغراں نہایت بد تمیز،سنگدل اور منہ پھٹ عورت ہے جس سے آس پاس کی عورتیں ملنا تو در کنار سلام لینا بھی پسند نہیں کرتیں …ایک ایسے معاشرے میں جس کی باگ ڈور مردوں کے ہاتھ میں ہو، کوئی تن تنہا عورت صرف اسی صورت میں اپنی شرطوں پر زندگی گزار سکتی ہے کہ وہ شاطر ہو۔ یہی وجہ ہے کہ وہ پاس پڑوس کی عورتوں کو حقارت کی نگاہ سے دیکھتی ہے کہ اس کی نظر میں وہ طفلِ مکتب کے سوا کچھ بھی نہیں ۔‘‘٭۲
لوگ ظاہر میں کچھ اور ہوتے ہیں اور اندر کچھ اَور چھپا رکھا ہوتا ہے۔ نہیں خبرہوتی کہ ہمارے سامنے سیدھی سادی زندگی گزارنے والے لوگ کیا اصلیت رکھتے ہیں ۔ آپا صغراں راوی کے ہمسائے میں ہی رہتی تھی اور اپنی سخت گیر طبیعت اور خسیس فطرت کی وجہ سے خاصی بدنام تھی ۔ وہ کسی سے گھلتی ملتی نہ تھی اور ایک خاص قسم کا فاصلہ رکھتی تھی۔ یہاں تک اس کے متعلق سبھی جانتے تھے اور اس کے ڈر سے کسی کو بھی اس سے ملنے کی خواہش نہ ہوتی تھی۔ معاملات یوں ہی چلتے رہتے لیکن حالات ایسے بن گئے کہ صغراں کی شخصیت بے نقاب ہو گئی۔ پردے تلے جو گھناونی شخصیت چھپی ہوئی تھی، وہ انتہائی قابلِ نفرین تھی ، خاص طور پر پاکستانی معاشرے میں ایسا کام کرنے والے لوگوں کو کبھی بھی برداشت نہیں کیا جا سکتا۔ صغراں کا پردہ اٹھ جانے پر سمجھ آتی ہے کہ وہ لوگوں سے گھلتی ملتی کیوں نہ تھی۔


اس افسانے کی کہانی اپنی دلچسپی کی بنا پر جکڑ کے رکھتی ہے اور آپا صغراں کے کرخت اور خوفناک کردار کو لطیف انداز میں دکھائے جانے سے پوری کہانی پڑھتے ہوئے لبوں پر مسکراہٹ کھیلتی رہتی ہے۔ اس کردار کی دہشت ، اس کے گھر جانے والی دونوں عورتوں کے تاثرات اوروہاں بیتنے والے واقعات خاصے دلچسپ ہیں ۔ اس افسانے میں بیانیے کے دوران منٹو نے وہ چٹکیاں نہیں لیں جواس سے پہلے افسانوں میں وافر تھیں ۔ شاید اس افسانے میں انہیں یقین تھا کہ کہانی اتنی مضبوط ہے کہ اپنے بل پر قاری کو باندھ کے رکھ لے گی جب کہ تیسرے اور چوتھے افسانے کی مرکزی کہانی اتنی دلچسپ نہیں تھی ، اس لیے وہاں انہیں زیبِ داستاں کے لیے ذیلی واقعات بھی شامل کرنے پڑے تھے ۔ اس افسانے کا بیانیہ پہلے افسانوں کی طرح ہی مضبوط ہے ، دلچسپی بڑھتی جاتی ہے اور قاری افسانے کو ادھورا چھوڑ ہی نہیں سکتا۔ بیان کرتے وقت بلال اس بات کا خاص خیال رکھتے ہیں کہ یہ بیان ایک بچے کے نقطہ نظر سے لکھا جا رہا ہے ۔ افسانے میں ایک مقام ایسابھی ہے جہاں یہ بتایا جانا ہے کہ صغراں پہلے راولپنڈی میں غیر قانونی ابارشن کرتی تھی، اس جگہ ایک بچے کی زبانی یہ بات کہلوانا خاصا مشکل کام تھا لیکن منٹو بڑی ہی طرح داری سے دامن بچا کے نکل جاتے ہیں ۔ یہ بیان خاصا مزے دار ہے جہاں بلال صاف بتاتے بھی ہیں اور بتانے سے انکار بھی کر رہے ہیں :
’’باقی ساری تفصیلات کا ذکر تو میرے سامنے امی نے ابا کے گوش گزار کر دیا تھا مگر یہ بات کہ اس کلینک میں کیا کام ہوتا تھا، انہوں نے میرے سامنے بیان نہ کی اور کر بھی دیتیں تو مجھے کچھ خاص پتہ نہ چلتا کیوں کہ تب تک مجھے ان عجیب و غریب سلسلوں کے بارے میں کوئی بہت زیادہ علم نہیں تھا کہ انسان اور دیگر جانور اپنے چھوٹے چھوٹے بچے کس طرح ایجاد کرتے ہیں اور یہ کہ کوئی ایسے حالات بھی ہو سکتے ہیں کہ کسی بچے کا پیدا ہونا ناگزیر ہو جائے جب کہ لوگ، یعنی اس کے ماں باپ، یہ نہ چاہتے ہوں کہ وہ بچہ وجود میں آ جائے۔ ‘‘٭۳


چھٹا افسانہ ’’اندیشہ‘‘ دلچسپی کے حوالے سے گزشتہ سبھی افسانوں سے کمزور ہے ۔ البتہ اس میں فضو انکل کے ملحدانہ خیالات اور فرحت آنٹی کی دوست فرزانہ ملک کے آزادانہ خیالات پڑھنے کے قابل ہیں ۔ فضو انکل ملحد ہیں ، گو کہ انہوں نے کبھی اس کا ببانگِ دہل اعلان نہیں کیا لیکن جس طرح کے خیالات کا اظہار کرتے رہتے ہیں ، اس سے ان کے الحاد کا علم ہو جاتا ہے ۔ ان کے متعلق پہلے افسانے کے ص:۲۸پر بھی ہمیں بتایا گیا تھا کہ وہ کس قسم کی سوچ رکھتے ہیں ۔ اس افسانے میں یہ کھل کرآئے ہیں ۔اپنے تمام ملحدانہ خیالات کے ساتھ۔ ان کی بیوی ان خیالات سے تنگ ہے اور خواہش مند ہے کہ وہ ہروقت بیٹھ کر کتابیں پڑھنے جیسے فضول کام ترک کر دیں اورمعاشی معاملات پر توجہ دے کر عملی طور پر زندگی میں شامل ہو جائیں ۔ جب اس کا خاوند زندگی کی طرف نہیں لوٹتا اور اسی طرح بے عملی کی زندگی پر قانع رہتا ہے تو ردِ عمل کے طور پر وہ خودزندگی میں عملاً شریک ہو جاتی ہیں ۔
افسانے میں آزادانہ خیالات عمدگی سے پیش کیے گئے ہیں ۔ مذہبی آزادی اور عورت کے حقوق نیز اس کی انفرادی پہچان بنانے کی بات کی گئی لیکن بیانیے میں اس طرح سمو کر کہ نہ تو بھونڈی لگتی ہیں اور نہ افسانے کے مجموعی تاثر پر فرق ڈالتی ہیں ۔ بڑی ہمواری سے سب کچھ بیان ہوا ہے اورسبھی خیالات کہانی کا حصہ لگتے ہیں ۔ کردار جب بولتے ہیں تو وہ انہی کا خیال لگتا ہے ،مصنف کا نہیں ۔ البتہ انجام تک پہنچ کر یہ احساس ہوتا ہے کہ یہ افسانہ ان کے ذہن میں اپنی مکمل فارم کے ساتھ نہیں آیا تھا۔ شروع کرلینے کے بعد کسی نہ کسی طرح جاری رکھا گیا اور جب فضوانکل اور فرحت آنٹی کے متعلق سب باتیں ختم ہو گئیں تو کہانی کار کے پاس اس کہانی کو انجام دینے کے لیے کچھ نہ تھا۔ آخر پر انہوں نے کہانی کو کسی بھی طرح ختم کرنا چاہا اور باوجود ماہرانہ کوشش کے کہانی کو اس کے منطقی انجام تک نہ پہنچا سکے۔ انجام پڑھ کر لگتا ہے کہ جیسے کسی گاڑی نے ہمیں منزل تک پہنچانے کی بجائے بیچ راستے میں اتاردیا ہو۔ آخری سطر پڑھ کر یہ احساس ضرور ہوتا ہے کہ یا تو اس کہانی کو تھوڑا آگے بڑھانا ضروری تھا اور یا کم از کم یہاں ختم نہیں ہونا چاہیے تھا۔


ساتواں اور آخری افسانہ ’’کیڑا ‘‘ہے۔ یہ افسانہ باقی افسانوں سے الگ ہے۔ اس میں افسانے کا ماحول اور کردار دوسرے افسانوں سے ہٹ کر ہیں ۔ ایک جیسے ماحول کی چھ کہانیوں کے بعد یہ آخری کہانی کی بدعت عجیب سی لگتی ہے۔ اس کہانی کو اس مجموعے میں شامل کرنے کی حکمت اور مصلحت یقینا مصنف کے پاس موجود ہو گی جو انہوں نے کتاب میں کہیں واضح نہیں کی ہے ۔ بہ حیثیتِ نقاد ہمارے پاس یہ حق بالکل نہیں ہے کہ ہم اس کا کوئی من گھڑت جوازتلاش کرنے کی کوشش کرتے ہوئے مصنف کے اس فعل پر اسے حق بجانب یا غلط بجانب ثابت کریں ۔ہم تو اس افسانے کے حسن و قبح پر رائے زنی کے مجاز ہیں اور اسی پر توجہ رکھیں گے۔ یہ افسانہ دوسرے افسانوں کی طرح کہانی کے ایک سلسلے سے جڑا ہوا نہیں ہے۔ افسانے کے اندر کہانی کے دو الگ راستے ہیں ۔ ایک کہانی پیٹ کے کیڑے کے متعلق ہے جسے نکالنے کے لیے مرکزی کردارمحمود بے تاب ہے اور کوشاں بھی۔ اس نے دوا بھی استعمال کی اور خود بھی بہت سی زور آزمائی کی مگر کیڑا نکل نہ سکا۔ اس راستے پر کہانی خاصی دلچسپ ہے لیکن اس کا انجام افسانے میں نہیں ہے اور افسانہ اس پہلو سے تشنہ رہ جاتا ہے ۔دوسری کہانی مقبول کے متعلق ہے جو مرکزی کردار کا ڈرائیور ہے ۔ یہ کہانی بھی مزاح کا پہلو رکھتی ہے لیکن کیوں کہ مزاح کا نشانہ ایک غریب اور لاعلم شخص کو بنایا جاتا ہے اور بنانے والا ترس اور رحم کے جذبات سے بیگانہ آقا ہے، اس لیے مزاح پر ہنسی کی بجائے اس غریب کی بے چارگی کا تصورکر کے ترس آتا رہتا ہے جو یہ بھی نہیں جانتا کہ اس کے ساتھ مذاق کیا جارہا ہے۔ یہی مذاق سنجیدہ لے کر اس نے اپنی آئندہ زندگی کی طویل منصوبہ بندی کر لی ہے۔جب اسے معلوم ہوتا ہے کہ یہ سب مذاق تھا تو پھر اس کی شخصیت ایک دھماکے سے پھٹ جاتی ہے۔ شخصیت کی اس توڑ پھوڑ کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ وہ محمود کو پھندہ لگا کر مار ڈالتا ہے۔


یہ افسانہ باقی افسانوں کے ماحول سے الگ ماحول رکھتا ہے لیکن اس تبدیلی کے باوجود اس کہانی میں دلچسپی ویسے ہی قائم رہتی ہے جیسی پہلی کہانیوں میں تھی، سوائے اس بے نام خلش کے جو گزشتہ ماحول سے جدا ہونے کے باعث پیدا ہوتی ہے، کہیں اس افسانے میں دلچسپی کا عنصر کم نہیں ہوتا۔ پہلی کہانی جو کیڑے سے متعلق ہے، اس کا انجام کہانی کے اندر نہیں ہے اور وہ پہلو ایک لحاظ سے تشنہ رہ جاتا ہے۔ یوں خیال ہوتا ہے کہ کیڑے والے معاملے کو کسی منطقی انجام تک پہنچنا چاہیے تھا ۔ اس کے علاوہ اس کہانی میں بھی کوئی خامی نہیں اور باقی افسانوں کے معیار کے ساتھ ہی کھڑا ہو جاتا ہے ۔یوں یہ علم ہو جاتا ہے کہ مصنف ایک ہی طرح کے افسانے لکھنے پر قادر نہیں بلکہ اس ڈگر سے ہٹ کر بھی اچھی کہانی کہہ سکتے ہیں ۔


اس کتاب کے آخری افسانے کو چھوڑ کر باقی چھ افسانوں میں ناول کا سا تاثر ملتا ہے۔ اول تو یہ کہ تمام ماحول ایک ہی ہے اور اس وجہ سے سبھی کہانیاں ایک دوسرے سے مربوط لگتی ہیں ۔اس کے علاوہ دو عوامل اور بھی ہیں جن سے یہ تاثر گہرا ہوتا ہے۔ زبان کایکساں مزاج اور کرداروں کا بین الاقوامی ربط۔ بلال نے افسانوں میں ایسا حربہ استعمال کیا ہے جو کم از کم اردو کی حد تک نیا ہے۔ ایک افسانے میں کسی اگلے افسانے کے کرداروں کا ذکر آ جاتا ہے۔ یہ کردار یہاں متعارف ہو جاتے ہیں اور جب کسی اگلے افسانے میں مرکزی کردار بن کر آتے ہیں تو اجنبی محسوس نہیں ہوتے۔ مثلاً پہلے افسانے میں نوید بھائی کا ذکر آیا تو دوسرے افسانے کے مرکز میں وہ موجود ہے۔دوسرے افسانے میں ڈاکٹر والٹر کاسرسری سا ذکر ہے تو تیسرے افسانے میں وہ مرکزی کردار کے طور پر براجمان ہیں ۔ تیسرے میں سے ہی ضیاالحق اور اس کی پالیسیوں کا موضوع اخذ کر کے چوتھے میں استعمال ہوا۔ پانچویں افسانے کے مرکزی کردارآپا صغراں اور کیپٹن فراز ہیں تو آپا کا تیسرے اور چوتھے جب کہ فراز کا ذکر چوتھے افسانے میں ہو چکا تھا۔ چھٹے افسانے کا موضوع انکل فضو ہیں جن کے ملحدانہ خیالات سے ہم پہلے افسانے میں شناسا ہو چکے تھے۔ ان سبھی انسلاکات کو دیکھ کر یوں محسوس ہوتا ہے کہ بلال ایک ناول کے مختلف ابواب کی طرح افسانوں کو کھولتے جا رہے ہیں اور قاری کو اگلے افسانے تک پہنچانے کے لیے پہلے سے تیاری شروع کر دیتے ہیں ۔ ان کے یہ چھ افسانے پڑھ کر “The Leopard”یاد آ جاتا ہے جس کے آٹھ ابواب میں ایک ہی خاندان کے مختلف زمانی واقعات کو بتا کر ناول بنایا گیا ہے۔ گو کہ بلال کی یہ کہانیاں افسانے ہی ہیں لیکن دلچسپی کے تسلسل اور اندرونی ربط کی وجہ سے ناول کا سا تاثر ضرور رکھتی ہیں ۔اپنے اپنے طور پر الگ پڑھنے پہ بھی لطف دیں گی اور اگر ایک ترتیب سے پڑھی جائیں تو اس لطف کو دو بالا کر دیں گی۔مریم خان نے ان افسانوں کی اس خوبی کا تذکرہ اپنے مضمون میں یوں کیا ہے:
’’ایک راوی واحد کی آواز پہلی چھ کہانیوں میں سنائی دیتی ہے اورکھُلتے پلاٹ اور پھَلتے کرداروں کے حامل ناول کا سا احساس پیدا کرنے کے لیے فنکارانہ انداز میں کرداروں ، واقعات، پالتو جانوروں اور رشتوں کے درمیان ایک ربط قائم کرتی جاتی ہے جبکہ ہر کہانی اپنا ایک الگ کامل وجود بھی رکھتی ہے۔ ‘‘٭۴


بلال حسن منٹو کے ان افسانوں کی سب سے بڑی خوبی ان کا تحمل ہے۔ آدمی کے پاس کہنے کو اتنا کچھ ہو تو وہ بے تابی سے کہانی کے اندر دخل دے دے کرا پنے قیمتی خیالات کا اظہار کرنے لگتا ہے۔ بے شک افسانے کا دامن اُدھڑتا رہے۔ منٹو اس طرح کے بے صبر آدمی نہیں ہیں ۔ کہنے کے لیے ان کے پاس بہت کچھ ہے لیکن وہ اسی قدر کہتے ہیں جس سے کہانی کے اجلے گال میلے نہ ہوں ۔ زیادہ کہہ کر افسانے کو خراب کرنے کی بجائے وہ کم بات پر اکتفا کر کے افسانے کی آبرو بچا لے جاتے ہیں ۔ یقینا وہ اس گُر کو احسن طریقے سے سمجھتے ہیں کہ افسانے میں کہانی کو پیشِ نظر رکھنا ضروری ہے، اس میں فکرو فلسفہ کے مصنوعی لالہ و گل کی نمائش ضروری نہیں ۔ اگر کہانی مکمل ہے تو وہ بجائے خود فکر کے لیے ایک دعوت ہوتی ہے۔وہ کرداروں کی شکل میں اپنے پورے گردوپیش کو سمیٹتی ہوئی آئے گی اور اس میں یقینی طور پر فکر کے لیے غذا موجود ہوگی ، افسانہ نگار کو باہر سے لادنی نہیں پڑے گی۔ اچھا افسانہ نگار اپنی بات کہنے کے لیے دخل نہیں دیتا بلکہ کہانی ہی ایسی منتخب کرتا ہے جو اس کی تمام فکر کو ، مسائل کو اپنے اندر سمو کر پیش کر دے اور اگر ایسی کہانی کی بجائے کوئی اور کہانی سوجھ جائے جس میں اپنی فکر پیش کرنا ممکن نہ ہو تو وہ اس میں زبردستی فکری لوازم گھسیڑنے کی بجائے کہانی کے فن سے مخلص رہتے ہوئے کہانی کو دیانت داری سے آگے بڑھاتا ہے۔ وہ کہانی سے وفاداری نبھاتا ہے اور اپنی فکری وابستگیوں کو پسِ پشت رکھ دیتا ہے۔ اس لحاظ سے اردو میں بلال حسن منٹو کے افسانے ایک نعمت ہیں ورنہ فکری وابستگی کی قربان گاہ پر افسانے کے فن کی بھینٹ ایک مستحکم روایت رکھتی ہے۔ منٹو ایسے ماحول میں کہانی کی خالص ترین شکل کے ساتھ آئے اور یہ دکھا دیا کہ فنکار کی اصل وابستگی کس کے ساتھ ہوتی ہے۔ کہانی کے ساتھ اس وابستگی کا نتیجہ ہے کہ ان کی یہ کتاب ہر قسم کے قاری کے لیے دلچسپی کا باعث ہے اور سبھی اپنے اپنے ذوق کے مطابق اس کا حظ اٹھاتے ہیں کیوں کہ قاری کو اچھی کہانی سے غرض ہوتی ہے، باقی سب کچھ اس کے لیے ثانوی حیثیت رکھتا ہے۔


ان افسانوں سے یہ احساس ہوتا ہے کہ جدیدیت کے بعد پوسٹ ماڈرن عہد میں افسانے کا بیانیہ ایسا ہونا چاہیے۔ جدیدیت سے پہلے افسانہ کسا کسایا اور پلاٹ کے مطابق پوری طرح مربوط ہوتا تھا۔ جدیدیت نے اس پابندی سے افسانے کو آزاد کیا لیکن کچھ ایسا آزاد کیا کہ پھر کسی سلیقے کا نشاں باقی نہ رہا۔ اردو افسانے کو اس جدیدیت نے دو طرفہ نقصان پہنچایا۔ ایک طرف قاری متنفر ہوتا گیا اور دوسری طرف لکھنے والے بھی پذیرائی کم ہونے کی وجہ سے منظرِ عام سے ہٹنے لگے۔ جدید افسانے نے اردو افسانے کے ساتھ جو سلوک کیا، اس کے بعد اردو افسانہ نگاروں کی نئی نسل نے دوبارہ پرانے افسانے کی طرف رجعت اختیارکی۔سید محمداشرف، محمد حمید شاہد، خالد جاوید،صدیق عالم، ابرار مجیب، محمد عاصم بٹ، عرفان جاوید،علی اکبر ناطق،صائمہ ارم، عبدالوحید کے افسانے اردو افسانے کے کلاسیکی انداز میں رچے ہوئے سامنے آتے ہیں ۔ البتہ پوسٹ ماڈرن عہد میں اس بیانیے میں مزید اضافے کی ضرورت تھی۔پابندی کے ساتھ ساتھ لگے بندھے اصولوں سے تھوڑا بہت انحراف بھی ضروریہے ، خاص طور پر اگر وہ افسانے کی ہیئت کو متاثر نہ کرے اور اسی موضوع کو تقویت دیتا ہو۔مرزا اطہر بیگ کے افسانے اردو میں اس انداز کی عمدہ مثال ہیں ۔ بلال حسن منٹو کے ان افسانوں کا انداز بھی پوسٹ ماڈرن افسانے کا سا ہے۔ کہانی کو درمیان میں چھوڑ کر کسی کردار یا واقعے کے متعلق تبصرے جاری کر دینا اسی اندازکی عطاہے۔ کسے کسائے بیانیے اور چست تحریر کی بجائے ڈھیلے ڈھالے بول چال کے انداز میں کہانی لکھتے چلے جانا بھی جدیدیت کی پیدا کردہ انتہا درجے کی سنجیدگی کا ردِ عمل ہے۔ سنجیدہ کہانی کو ہلکے پھلکے انداز میں بیان کرنا اور کہیں بھی سنجیدگی کو حاوی نہ ہونے دینا ، جوکہنا چاہتے ہوں ، وہ سب زیریں سطح پر کہنا اور بیرونی سطح پر شگفتگی کو قائم رکھنا یہ سبھی بیانیے میں نیا ذائقہ پیدا کرتے ہیں ۔


منٹو کا بیان حقیقت کا تاثر رکھتا ہے۔پہلی چھ کہانیاں پڑھتے ہوئے محسوس ہوتا ہے کہ یہ انہوں نے اپنی ذاتی زندگی سے اخذ کی ہیں اور سبھی کا وقتِ وقوع ان کے بچپن کی زندگی ہے۔ لیکن یہ صرف قاری کا وہم بھی ہو سکتا ہے۔افسانے کو حقیقی سمجھنا ایک ایسی غلط فہمی ہوتی ہے جو فنکار کے فن کا ثبوت ہوتی ہے۔ فکشن میں حقیقی ہونا یا نہ ہونا کبھی اہم ہوتا ہی نہیں ۔ اہم ہوتا ہے بیان کا حقیقی نظر آنا۔ واقعہ خواہ سچا ہو یا جھوٹا، اس سے قاری کو کیا غرض؟ بس بیان ایسا ہو کہ حقیقی کا گمان ہو۔ بلال حسن منٹو کے بیان میں یہ خوبی موجود ہے کہ وہ جس واقعے کا ذکر کرتے ہیں ، اس کی متحرک تصویر ہماری آنکھوں کے سامنے کھنچ جاتی ہے ۔ کلاس کی پچھلی قطار میں بیٹھ کر فیلئیر کا زیرِ پتلون مخفی کھلونا دکھانا، سائمو کے گھر کے سٹور روم میں طلعت کی پلیگ نکالنے کا عمل، ننھے راوی کا باپ کے ساتھ ماڈل ٹائون تھانے جانا، رات کی تاریکی میں چوکیدار کو ڈرانے کی خفیہ کاروائی، آپا صغراں کا پری کا پیچھا کرنا، سبھی ایسے شاندار بیانات ہیں کہ قرأت کے مدتوں بعد بھی ان کی متحرک تصویر تخیل میں تازہ رہتی ہے ۔


اس کتاب کی جس خوبی کی سب سے زیادہ تعریف ضروری ہے اور کوئی بھی قاری فوراً اسی پہلو کی طرف متوجہ ہو گا،وہ ہے اس کی زبان۔ فکشن کی دنیا میں ایک نئی تخلیقی زبان ڈھالنا فنکارکا اصل کارنامہ ہوتا ہے۔ منٹو کی اس کتاب میں مجموعی طور پر جو ایک جیسی شرارتی اور زیرِ لب خندہ کی سی کیفیت چھائی رہتی ہے، اس کی بظاہر وجہ یہی ہے کہ یہ سب افسانے ایک ہی ماحول سے اخذ کیے گئے لیکن درحقیقت اس کیفیت کو قائم کرنے میں اصل کردار زبان نے ادا کیا ہے۔ زبان پہلے افسانے سے ساتویں افسانے تک اسی آب و تاب کے ساتھ فعال رہتی ہے اور نامحسوس طریقے سے اپنا کردار اداکرتی چلی جاتی ہے۔ بہت ہی سادہ مگر پرکاری سے تعمیر شدہ اس زبان کا ذائقہ بالکل منفرد ہے اور اردو کی افسانوی نثر میں ایک قابلِ قدر اضافہ ہے۔


ان کی اس زبان کو تخلیق کرنے میں ان کے خاص اسلوب نے اہم کردار ادا کیا ہے۔ اس اسلوب میں کئی ایسے حربے ہیں جو واضح نظر آتے ہیں اور کچھ خوبیاں ہیں جو پورے بیانیے میں ساتھ ساتھ چلتی ہیں ۔ان کی زبان بہت سلیس ، رواں اور شستہ ہے۔ نثر کا دھیان ابلاغ پرزیادہ ہے، اظہار کوظاہری طور پر خوبصورت بنانے پر کم ہے۔تشبیہ استعارہ اور کسی دیگر صنعت یارعایت کااستعمال نہیں کیا جاتا۔ تحریر میں ابہام کہیں نہیں اورہر بات صراحت سے بیان کی گئی ہے۔ الفاظ سے طوطے مینا اڑانے کی بجائے صرف مقصد کی بات کہنے پر توجہ رکھی گئی ہے۔ بلال حسن منٹو پیشے کے اعتبار سے وکیل ہیں اور اس ناتے یہ بات بخوبی سمجھتے ہیں کہ صراحت اور قطعیت کلام کے لیے کتنی ضروری ہیں سو وہ ان کا خاص خیال رکھتے ہیں ۔ اس لیے ان کے ہاں جامعیت نظر آتی ہے۔ کم سے کم لفظوں میں اپنی بات کہہ جاتے ہیں اور اظہار کی تزئین و آرائش کے لیے لفظ ضائع نہیں کرتے۔جو کہہ رہے ہوں ، اس کی خوبصورتی پر یقین رکھتے ہیں اس لیے کہنے کے طریقے کو خوبصورت بنانے کی خاص کوشش نہیں کرتے۔ البتہ یہ بات سبھی اہلِ نظر جانتے ہیں کہ سجی سنوری مرصع زبان کی نسبت سادہ زبان استعمال کرنا زیادہ محنت طلب ہے۔ اس بیانیے میں بلال حسن منٹو نے محنت کا یہ تقاضا بخوبی نبھایا ہے۔


پہلی چھ کہانیوں کا راوی ایک چھوٹا بچہ ہے جس کی عمر کا محتاط تعین بھی کیا جا سکتا ہے۔ بیانیے میں راوی کی اس عمر کا خیال پوری طرح رکھا گیا ہے اور جہاں ان باتوں کا ذکر نہیں کیا گیا جو بڑی عمر کے لوگوں کی دلچسپی کی ہوتی ہیں اور کسی چیز پر بالغانہ رائے نہیں دی وہاں پوری کوشش کی گئی ہے کہ چیزوں کا بیان بچے کے نقطۂ نظر سے ہی کیا جائے۔بلال حسن منٹو اس کوشش میں پوری طرح کامیاب رہے ہیں اور ہم کہانی کے پورے ماحول اور سبھی واقعات کو ایک بچے کی نظر سے دیکھتے ہیں ۔سکول کا پہلا دِن، طلعت کی پلیگ نکالنا، تھانے میں رپورٹ درج کرانے جانا، ہیپی کی روح کا پرواز کرنا، صغراں آپا سے پری کو مار پڑنا، سبھی واقعات کو ہم کسی بچے کی سی دلچسپی سے دیکھتے ہیں ۔ بیانیے میں یہ تاثر پیدا کرنا خاصا دقت طلب ہے اور ایک بالغ نظر مصنف جس کی اپنی نظریاتی وابستگی بھی ہو، کے لیے خود پر ضبط رکھنا اور دل سے امڈتے افکار کو پسِ پشت رکھ کر صرف بچے کے نقطۂ نظر سے ہی چیزوں کو دیکھنا خاصا مشکل کام ہے لیکن بلال حسن منٹو نے اسے بخوبی نبھا لیا ہے اور ہم پڑھنے والے بھی ان افسانوں کے حالات و واقعات کا بچگانہ انداز سے لطف لیتے ہیں ۔ مثلاً:۔ شیر جنگل کا بادشاہ ہے یا نہیں ۔(ص:50)اقبال کی شعری عظمت (ص:125) ہیپی لیبرا ڈار ہے یا نہیں (ص:89)عیسائی ڈاکٹر سے علاج کروانا چاہیے یا نہیں (ص:89) مختلف معاشروں میں لباس کا فرق(ص:77) ہیپی کا ڈاکٹرسے علاج کروانے جانا(ص:89)تقسیمِ ہند کے معاملات پر تبصرہ(ص:125)،عمران خان کا بیان(ص:166)سبھی جگہوں پر ہونے والی مزے دار بحث اس وقت ہی لطف دیتی ہے جب خیال رہے کہ یہ سب سوچنے والا ذہن ایک گیارہ بارہ سال کے بچے کا ہے۔ بیانیے کی اس خوبی کا صحیح ادراک تب ہوتا ہے جب ساتواں افسانہ دیکھا جائے جس میں راوی بچہ نہیں ہے اور وہاں ویسی کوئی شرارت نہیں کی گئی۔ گو کہ زبان کا معیار ویسا ہی رہتا ہے اور دیگر خوبیاں مزاحِ لطیف، طنزِ ملیح اور اسمائے صفات کا استعمال بھی اسی طرح رہتی ہیں لیکن نقطۂ نظر بدل چکا ہے اور بچے کی بجائے ایک ہمہ دان راوی کا نقطۂ نظر بن جاتا ہے۔ اس کا فائدہ انہوں نے یہ اٹھایا ہے کہ محمود کی طرف سے بیان ہوتی ہوئی کہانی آخر پر جا کر مقبول کے نقطۂ نظر سے بیان ہونے لگتی ہے اور راوی کے ہمہ دان ہونے کا احساس بیان کی اس تبدیلی کو محسوس نہیں ہونے دیتا۔ اس افسانے کا بیان کنندہ مختلف ہونے کی وجہ سے پچھلے چھ افسانوں کے بیان کنندہ اور اس کے نقطۂ نظر کی اہمیت اور حسن واضح ہونے لگتا ہے ۔


بلال کے ہاں زبان کی سادگی کو بول چال کا انداز بھی سہارا دیتا ہے۔ عام طور پر تحریر کا اپنا ایک نستعلیق انداز ہوتا ہے، جملے کی ساخت چست اور ٹھکی ہوئی ہوتی ہے جب کہ بول چال میں اس کاخیال رکھنا ممکن نہیں ہوتا۔ جملہ جس طرح ذہن میں وارد ہوتا ہے اسی بے ترتیبی سے ادا کردیا جاتا ہے اور بعض اوقات جملے کا کوئی اہم حصہ جملے کے آخر پر بولا جاتا ہے یا پھر جملہ ایسے ٹوٹ جاتا ہے کہ بے ربط محسوس ہوتا ہے۔ فکشن میں جملہ لکھنے کا یہ انداز ہندی افسانہ نگاروں میں خاصا نمایاں ہے اور نرمل ورما، راجیندر یادو، موہن راکیش اور کملیشور وغیرہ کے ہاں خاص طور پر جملوں کی ایسی ساخت نظر آتی ہے جو بول چال کے قریب ہوتی ہے۔ بلال نے بھی اس انداز پرتوجہ دی ہے۔ کہانیوں کا راوی ایک بچہ ہے اور تاثر یہی دیا گیا ہے کہ وہ بچہ لکھنے کی بجائے کہانیاں سنا رہا ہے سو بلال نے اسی گفتگو کے انداز کو قائم رکھنے کی کوشش کی ہے اور کئی جگہوں پر تو ایسے جملے لکھے ہیں کہ وہ بولنے کی زبان ہی لگتی ہے۔


’’مجھے حیرت تھی کہ نوید بھائی میرے مطالبات سے یہ کیسی چشم پوشی کر رہے تھے جب کہ وہ ایسے نہیں تھے اور رات کو کتنے شیرو شکر اور صلح جو رہے تھے میرے ساتھ اس معاملے پر۔‘‘٭۵
’’ان آوازوں کو نشر کرنے والے تو یہ بھی نہیں جانتے تھے کہ میں وہاں دوسرے سرے پر ، اس آلے کے نزدیک کھڑا ہوں ۔ ابا کے ساتھ۔‘‘٭۶
’’اگر کوئی شخص آپ کو نہایت برا بھی لگتا ہو، مثلاً آپ کا کوئی دشمن ، تو بھی اس کے مرنے پر ہرگز خوشی مت منائیں کیوں کہ ہو سکتا ہے کہ آنے والا دنوں میں ہی، مثلاً کل یا پرسوں ، کوئی ایساشخص مر جائے جو آپ کو پسند ہو، جس سے آپ کومحبت ہو ، یا ایسا کوئی اور پر اسرار جذبہ۔‘‘٭۷


بلال حسن منٹو کے بیانیے میں دلچسپی پیدا کرنے والا سب سے اہم عنصر ان کا خالص مزاح ہے۔ بلال کی حسِ ظرافت خاصی تربیت یافتہ ہے اور خالص مزاح کی تنی ہوئی تار پر چلنا بخوبی جانتی ہے۔ خالص مزاح میں لکھت کا مقصد صرف اور صرف مزاح پیدا کرنا ہوتا ہے اور اس میں طنز، سطحی قسم کی جگت یا ٹھٹھول شامل نہیں ہوتے۔عام طور پر اس پہلو کو موضوع بنایا جاتا ہے جو کسی بھی شخص کے لیے دل آزاری کا باعث نہ ہو۔ مذہب، نسل یا جغرافیائی حوالے سے کسی پہلو کو مزاح کا نشانہ نہیں بنایا جاتا اور کسی ایسے موضوع کو لیا جاتا ہے جس کا مذاق اڑتا دیکھ کر سبھی لطف لے سکیں ۔ بلال کے ہاں اکثر مزاح کا نشانہ ایسی ہی آفاقی چیزبنتی ہے اور جہاں کوئی حساس موضوع پکڑ بھی لیں تو بھی اپنی حسِ مزاح کی لطافت کی بنا پر ایسے نرمی سے ٹٹولتے ہیں کہ کسی کے جذبات مجروح ہونے کا اندیشہ پیدا نہیں ہوتا۔ ایک جگہ علامہ اقبال اور دوسری جگہ پارسی مذہب کے متعلق ایسے خیالات کا اظہار ہے کہ ان کے ماننے والوں کو بھی برا نہیں لگے گا۔ ان کے مزاح کی عمدہ مثالیں مندرجہ ذیل ہیں :


’’…شیر جنگل کا بادشاہ ہر گز نہیں ہوتا۔ اگر ہوتا ہے تو پھر جنگلی بھینس سے کیوں ڈرتا ہے اور اکیلے ہی کیوں اس پر حملہ آور ہو کے نہیں دکھاتا؟ ہمیشہ اپنے خاندان کے باقی لوگوں کو سہارے کے طور پر ساتھ لاتا ہے کہ تم پیچھے سے حملہ کرنا،تم اس طرف سے، تم اس طرف سے اور پھر دیکھنا میں کس طرح اس کالی بھینس کی گردن دبوچتا ہوں ۔ اور وہ لوگ جو اسے بادشاہ بادشاہ کہتے ہیں ، ان کو یہ بھی بتانا چاہیے کہ اگر ایسا ہی ہے تو پھر کیوں ہاتھی اور گینڈے کا شکار اسی طرح نہیں کرتا جس طرح اپنے سے کمزور ہرن اور نیل گائے کا کرتا ہے؟ خیر یہ بات ان جھوٹے لوگوں سے پوچھنی چاہیے جنہوں نے صدیوں سے اس جانور ، شیرکو، بادشاہ قرار دیا ہوا ہے اور انہی لوگوں سے یہ بھی پوچھنا چاہیے کہ کیا جنگل کوئی سلطنت ہے جس میں بادشاہ ہو؟ اور اگر ہے تو پھر یہ بھی بتانا پڑے گا کہ وزراء کون ہیں ؟ کوئی عدلیہ بھی ہے یا نہیں ؟شوریٰ میں کون کون شامل ہے؟‘‘٭۸


’’چھپ چھپ کے لوگوں کی سُو لینا، ان پر نظر رکھنا ، ان کی ذاتی باتوں کا پتہ لگانا تا کہ بوقتِ ضرورت ان کو ان لوگوں کے خلاف استعمال کر کے انہیں بلیک میل کیا جا سکے اور کچھ اور اس سے بھی گھٹیا کام جو جاسوس کرتے ہیں اور جو اتنے خفیہ ہیں کہ ہم نہیں جانتے کہ وہ کیا ہیں ۔ چاہے ان لوگوں پر بنی فلمیں آپ کو بہت دلچسپ لگتی ہوں مگر کیا یہ جاسوسی وغیرہ کوئی قابلِ قدر کام ہے؟ چاہے آپ ان کے خوف کی وجہ سے منہ سے کچھ نہ کہیں لیکن امرِ واقع تو یہی ہے نا کہ جو کام یہ کرتے ہیں وہ تو تقریباً غیبت سے بھی بدتر ہے۔ غیبت میں تو صرف کسی کے بارے میں بری بات اس کی پیٹھ پیچھے کی جاتی ہے جب کہ اس میں تو چن چن کرلوگوں کے بارے میں ہر قسم کے طریقے سے تمام اچھی بری باتیں معلوم کی جاتی ہیں اور جہاں غیبت ایسے ہے کہ جیسے اپنے مردہ بھائی کا گوشت نوچ نوچ کر کھایا جائے، وہاں یہ کام جو سلطان کرتا ہے ، یہ تو کچھ ایسے لگتا ہے کہ جیسے زندہ بھائی کا گوشت کھایا جائے۔ پتہ نہیں یہ کام حلال ہے بھی یا نہیں ؟ کون سا یہ لوگ اس کام کو بحالت مجبوری یا اللہ کی خوشنودی کے لیے کرتے ہیں ۔‘‘٭۹


ان کے اس مزاح کا ایک رخ بہت ہی لطیف ہے اور شبہ ہوتا ہے کہ شاید طنز کا استعمال کیا گیا ہے لیکن باوجود تلاشِ بسیارکے طنز کا قتیل کہیں نہیں ملتا ۔ یہی سمجھ آتی ہے کہ یہ بھی ان کا مزاح ہی ہے۔ مزاح کا یہ حربہ بہت ہی لطیف ہے اور اس خوبی سے ان کا پورا بیانیہ رچا ہوا ہے۔ اکثر جملے، پیرا گراف سنجیدگی کی طرف جاتا جاتا بھی ہلکے پھلکے مزاح کا انداز رکھتے ہیں ۔ سبھی کہانیاں اس خوبی سے مالا مال ہیں ۔ بیانیے کی زیریں سطح پر مسلسل ایک لطیف سی لہر چلتی رہتی ہے جو مزاح کی سی کیفیت رکھتی ہے اور انشائیے کی طرح قاری کی طبیعت کو شگفتہ رکھتی ہے۔ یہ لطافت ان کی کہانیوں میں پائے جانے والے کئی سنجیدہ بیانات کی سنجیدگی کا بوجھ بھی محسوس نہیں ہونے دیتی اور دعوتِ فکر دینے کی بجائے مسکرانے کی دعوت ہی دیتی ہے ۔ مثال کے طور پر:


’’عام طور پر ہیپی کو رات کا کھانا نہیں دیا جاتا تھا کیوں کہ پھر وہ تمام رات سوتا رہتا تھا۔ گو وہ جاگ کے بھی کچھ زیادہ نہیں کرتا تھا مگر پھر بھی ذرا تسلی رہتی تھی کہ ہیپی جاگ رہا ہے جب کہ ہم غافل سو رہے ہیں ۔‘‘٭۱۰
’’مس نگہت کنجری ہیں ۔ یہ لکھا تھا وہاں ۔ اور کنجری’’ ہیں ‘‘ ہی لکھا تھا۔ ’’ہے‘‘ نہیں لکھا تھا۔ یعنی کہ کچھ نہ کچھ تمیزاور ادب سے ضرور کام لیا گیا تھا۔‘‘٭۱۱
طنز ایک ایسا حربہ ہے جس کے ذریعے ادیب معاشرے کی چیر پھاڑ کرتے ہیں ۔سماجی برائیوں اور انفرادی رویوں کو نشانہ بنا کر بے رحمی سے وار کیا جاتا ہے۔ طنز نگار کا وار بے رحمانہ ہوتا ہے اور اس کا مقصد اس برائی کی اصلاح ہوتا ہے۔ اس کا لہجہ تلخ اور بعض اوقات تکلیف دہ بھی ہوتا ہے لیکن طنز کے اسی حربے کو اگر نرمی سے استعمال کیا جائے اور اصلاح کے ارادے کو بالائے طاق رکھ کر محض اس برائی کی نشاندہی کر دی جائے تو طنز کا وہ انداز جنم لیتا ہے جو فنکارانہ لحاظ سے زیادہ قابلِ قدر رہتا ہے ۔ اس کی خوبی یہ ہوتی ہے کہ خود اس کا نشانہ بننے والا شخص بھی اس کی لطافت کا لطف اٹھاتا ہے۔ طنز کے اس انداز کو طنزِ ملیح کہا جا سکتا ہے۔ بلال حسن منٹو نے اپنی نثر میں طنز کے اسی اندازکو خوبی سے استعمال کیا ہے اور یہ ان کے اسلوب کی ایک حاوی صفت بن کر ابھرتا ہے۔ اکثر کسی انفرادی یا سماجی رویے کی بے معنویت یا لغویت کو ظاہر کرنے کے لیے وہ اسی حربے کا سہارا لیتے ہیں ۔ اس انداز سے مذکورہ خامی بھی سامنے آجاتی ہے اور اس کا ذکر کسی کو گراں بھی نہیں گزرتا۔ ورنہ ضیاء الحق ، اسلامی اصلاحات، علامہ اقبال ، مذہبی امتیازات وغیرہ جیسے موضوعات ایسے ہیں کہ ہمارے ہاں کسی بھی لکھاری کو ان پرلکھنے کے بعد سماجی و مذہبی حلقوں سے جان لیوا مخالفت کا سامناکرنا پڑے لیکن بلال اپنی طبیعت کے دھیمے پن کی وجہ سے طنز میں ایسی زہر ناکیپیدا ہی نہیں ہونے دیتے اور یوں اپنا دامن صاف بچا لے جاتے ہیں ۔


بعض اسلامی اقدار ایسی ہیں جنہیں ہمارے معاشرے میں کچھ وجوہ کی بنا پر زیادہ نمایاں کیا جاتاہے اور ان سے روگردانی کو مذہب کے خلاف تصورکیا جاتا ہے۔ ایسے ہی کچھ پہلوئوں پر بلال حسن منٹو نے یوں طنز کیا ہے:
’’اس زمانے میں ایسے سکول کم کم ہوتے تھے جہاں دس بارہ برس سے زیادہ عمر کے لڑکے لڑکیاں اکٹھے ، ایک ہی جماعت میں بیٹھ کر پڑھتے ہوں کیوں کہ یہ بات شرافت اور اسلام کے خلاف ہے اور پاک ممالک اور پاکیزہ معاشروں میں اس کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔‘‘٭۱۲
’’ہمارے شہر کے بیچ ایک بہت پیاری چھوٹی سی نہر گزرتی ہے جس میں لاہور کی سخت گرمیوں میں بیشمارآدمی نیم برہنہ اور بچے اکثر الف ننگے نہایا کرتے تھے۔ وہ اب بھی یہی کرتے ہیں گو کہ اس پر کبھی کبھی غلغلہ اٹھتا ہے کہ یہ کام بند ہونا چاہیے کیوں کہ یہ بے شرمی پر مبنی ایک غیر اسلامی بات ہے۔‘‘٭۱۳


یہی سوچ جب پاکستانیت کے جذبے کی طرف آتی ہے تو دو طرح سے ابھرتی ہے۔ ایک تو ہندوستان اور اس کی ثقافت سے بھرپور نفرت کی شکل میں اور اس کے ساتھ ساتھ عربی کلچر اور عربی زبان کے ساتھ والہانہ لگائو کی صورت میں ۔ پاکستان کے قیام اور بقا میں یہ دو نوں پہلو مرکزی حیثیت رکھتے ہیں ۔ جہاں ہندوستان کی طرف جھکائو ہوا، پاکستان کے خلاف جانے کا الزام لگ گیا۔ جس نے عربی کلچر کے متصادم کوئی بات کہہ دی، وہ ننگِ دیں قرار پایا۔ بلال نے اس موضوع پر دو جگہ بات کی ہے۔صفحہ نمبر 125سے لے کر آگے ایک طویل خود کلامی ہے جس میں ہندوستان کے حوالے سے تبصرہ کیا گیا ہے۔ ایک میٹھا سا طنز ہے جو چلتا جاتا ہے اور اپنی شیرینی کی وجہ سے تکلیف کا باعث نہیں بنتا۔ دوسری جگہ انہوں نے عربی زبان کو پاکستانی قوم پہ تھوپنے کے حکم پر طنز کیاہے۔ یہ طنز زیادہ مزیدار ہے اور تکلیف دینے کی بجائے سوچنے پر مجبور کردیتاہے:


’’یہ آخری بات ، عربی خبروں والی، بہت ہی ششدر کردینے والی تھی۔ یعنی یہ کہ روز ایک آدمی ٹی وی پر نمودار ہواور بغیرکوئی وجہ بتائے یک لخت کروڑوں لوگوں کی طرف چہرہ کر کے ایک ایسی زبان بولنا شروع کر دے جو وہ لوگ قطعاً نہ سمجھ سکتے ہوں … یہ عربی زبان میں خبریں سنانے کی بات نہایت عجیب تھی ، گو اس میں شک نہیں کہ میں اس سے بھی زیادہ حیرت انگیز ایک بات جانتا ہوں ، بلکہ شاید یہاں تک کہا جا سکتا ہے کہ وہ بات اس لائق ہے کہ اسے دنیا کی عجیب ترین باتوں میں شمار کیا جائے۔ وہ بات یہ ہے کہ پاکستان کے بیشتر لوگ قرآن کریم کو، جو اللہ تعالیٰ کی آخری کتا ب ہے ، عربی میں تو پڑھتے چلے جاتے ہیں مگر ہر گز کسی ایسی زبان میں اسے پڑھنا ضروری نہیں جانتے جو وہ سمجھتے ہوں اور جس سے وہ یہ جان سکیں کہ اپنی آخری کتاب میں اللہ تعالیٰ نے کیسی کیسی عظیم الشان باتیں درج کی ہیں ، کیا کیا حکم لگائے ہیں اور زندگی گزارنے کے کیا کیا اعلیٰ ترین اصول بتائے ہیں ۔‘‘٭۱۴


انگریزی زبان ہمارے مغربی آقائوں کی ہم پر عطا ہے۔ وہ جب یہاں تھے تو یہ زبان آقائوں کی زبان ہونے کی وجہ سے مرعوب کرنے کا ایک اہم ہتھیار تھی۔ اس زبان میں کہی ہوئی بات کو مستند اور حتمی سمجھا جاتا تھا۔ اب وہ خود تو جا چکے ہیں لیکن ان کی زبان کے ساتھ ہمارا مرعوبیت کا رشتہ اسی طرح ہے۔ ہم آج بھی کسی دوسرے کو مرعوب کرنے کے لیے اسی زبان کا سہارا لیتے ہیں اور اگر کوئی بات انگریزی میں کہی جائے تو اس کا اعتبار زیادہ کر لیتے ہیں ۔ بلال نے انگریزی کی طرف ہماری اس مرعوبیت کو یوں طنز کا ہدف بنایا ہے۔ بظاہراتنا ہلکا وار ہے کہ پڑھنے والا نظر انداز کر کے آگے چلا جائے لیکن اتنا کاری ہے کہ بعد میں اپنے ہونے کا احساس دلاتا رہے گا:


’’You must see a doctor at once!‘‘ ڈاکٹر والٹر نے انگریزی میں کہا اور اس سے عین ظاہر تھا کہ یہ بہت اہم اور سنجیدہ بات تھی۔ ‘‘٭۱۵
’’This is criminal.‘‘ ابا نے انگلش میں کہا تھا اور اس عالمگیر حیثیت کی قابلِ قدر زبان کو اس موقع پر ابا کے یوں استعمال میں لانے سے میں بہت مرعوب ہوا اور اس واقعہ کی نزاکت مجھ پر واضح ہوئی۔ ‘‘٭۱۶
بلال کے اس لطیف طنزیہ انداز نے اس پورے بیانیے میں کہیں بھی ایسا کوئی ناگوار تاثر پیدا نہیں ہونے دیا جو کسی حساس قاری پر گراں گزرے۔ ہلکے پھلکے انداز میں پڑھتے ہوئے سب اس کا لطف لیتے ہیں ۔


وہ جملہ تحریر کرتے وقت خاص طور پر ایسے الفاظ لکھنے کی کوشش کرتے ہیں جو اردو کے بہت پرانے محاورے ہیں اور گھسے پٹے ہوئے ہیں ۔ عام طور پر روزمرہ اور محاورے میں سے کئی محاورے اور الفاظ ایسے ہوتے ہیں جن کے معانی سے آگاہی کے بغیر بھی ہر خاص و عام انہیں بولتا جاتا ہے۔ اکثر بولنے والوں کو مطلب کا علم ہی نہیں ہوتا لیکن کسی خاص صورت حال میں وہی مخصوص لفظ بولا جاتا ہے۔ اس مسلسل استعمال سے یہ الفاظ اپنی معنویت کھو کر بے معنی اوربے جان ہو چکے ہوتے ہیں ۔موت کے گھاٹ اتار دینا، خون سے ہاتھ رنگنا، زخم ہرے ہونا، وغیرہ۔منٹو ایسے محاوروں اور روزمرہ کو کچھ ایسی فنکاری سے استعمال کرتے ہیں کہ ان گھسے پٹے الفاظ کی بدولت تحریر میں شگفتگی کی ایک لہر دوڑ جاتی ہے۔ مثال کے طور پر مندرجہ ذیل بیانات ملاحظہ ہوں :


’’پرنسپل صاحب نے چھٹی جماعت کو سینیئر سکول میں خوش آمدید کہا اور بتایا کہ اب وہ بڑے ہو گئے ہیں اور انہیں ذمہ داری اور تمیز کا مظاہرہ کرنا ہو گا ۔ یعنی جیساکہ ہم جونیئر سکول میں غیر ذمہ داری اوربدتمیزی کا بازار گرم کرتے کرتے اچانک یہاں کسی خاص جگہ آن پہنچے ہیں جہاں ایسے بازار گرم کی کوئی خاص ممانعت تھی۔‘‘٭۱۷۶
’’انہوں نے والٹروں کے پورے خاندان کو دعوت دی کہ امریکہ آ کر سکونت پذیر ہو جائیں جہاں اس زمانے میں انسانی حقوق کا چرچا اور دور دورہ تھا اور مذہب کی بنیاد پر کوئی کسی کو میلی آنکھ سے نہیں دیکھ سکتا تھا۔‘‘ ٭۱۸
’’جب وہ پکڑا جائے گا تو اس کے ساتھ بہت ہی برا سلوک کیا جائے گا۔ یعنی عبرتناک اور سبق آموز سزا دی جائے گی۔‘‘٭۱۹
’’ابا کو غصہ آنے لگا۔ انہوں نے آنٹی ارشد سے کہا کہ ’’فضول باتیں نہ کریں کیوں کہ ابھی ایسا کچھ نہیں ہواجس کی بنا پر ایسی آہ و بکا کو بلند کیا جا سکے۔‘‘٭۲۰
’’وہ یہ کہتے تھے کہ لو جی، ہم یہاں ہیں ، اتنے کروڑوں مسلمان اور یہ اپنا ملک علیحدہ بنانے چلے ہیں اور دوسرا یہ کہ ہمارے سینوں پریہ کہہ کر مونگ دلتے ہیں کہ ہم نے پاکستان اس لیے بنایا ہے کہ ہندوستان میں صحیح طور پر مسلمان بن کے رہنا ممکن نہیں ہے…دیکھو کیسے ہم ان ہندو لوگوں کے عین درمیان اپنے مذہب کا جھنڈا بلند کیے ہوئے ہیں ۔‘‘٭۲۱
’’میں جانتا تھا کہ لوگ حادثوں کا شکار ہوسکتے ہیں اور Rabiesکی بیماری کے ہاتھوں اپنے پیارے Happyکی روح کو پرواز کرتے ہوئے بھی دیکھ چکا تھا۔‘‘٭۲۲
’’نوید بھائی کے پاس ایسا کوئی حربہ نہ تھا جس کو بروئے کار لا کر وہ آپا صغراں کو کسی عبرتناک انجام سے ہمکنار کر سکتے۔‘‘٭۲۳


یہ محاورے جب عام طور پر استعمال ہوتے ہیں تو بہت گھسے پٹے لگتے ہیں اور معنی کے بغیر کھوکھلے نظر آتے ہیں لیکن منٹو نے انہی الفاظ کو ایسی شگفتگی سے استعمال کیا ہے کہ انہیں ایک نیا اور چلبلا جیون مل گیا ہے۔ ان الفاظ کے اندر چھپی مزاح کی طاقت کو دریافت کرنے میں شاید منٹو کے لیے یہ بات ضرور معاون ہے کہ وہ خود اردو کی بجائے انگریزی سے زیادہ ربط رکھتے ہیں (ان کے ہر تبصرہ نگار نے ان کی انگریزی دانی کا ذکر ضرور کیا ہے)سو اردو والے جن گھسے پٹے لفظوں کو اپنی ہی رو میں بلاتکان استعمال کیے جاتے ہیں اور ان کی مضحک حد تک معنویت کا ادراک بھی نہیں کر سکتے ، ان الفاظ کی مضحکہ خیزی بلال نے جان لی ہے اور انہیں اسی انداز میں استعمال کیا ہے۔ ایسے مخصوص الفاظ ایک خاص فاصلے سے اپنی لغویت یا نئی معنویت آسانی سے وا کر دیتے ہیں ۔


بلال منٹو کا دوسرا حربہ زیادہ سادہ ہے اور ان کے اسلوب کو کئی جگہوں پر شادابی عطا کر دیتا ہے۔ وہ سیدھے سادے جملے میں ایک اسمِ صفت اور وہ بھی خاص اس صورت حال میں اضافی اور فالتو اسمِ صفت ایسا شامل کر دیتے ہیں کہ قاری بے ساختہ مسکرائے بغیر نہیں رہ سکتا۔ پہلا خیال یہی آتا ہے کہ اس اسمِ صفت کی یہاں کوئی ضرورت تو تھی ہی نہیں لیکن جب اس بے وجہ استعمال پر بے ساختہ ہنسی آتی ہے تو پھر سمجھ آ جاتی ہے کہ اس سرمۂ مفت نظر کی قیمت لبِ قاری کو احسان مند کرنا تھا۔اس کے ساتھ ساتھ یہ انداز ایک لحاظ سے اردو کے ان لکھاریوں پر طنز بھی ہے جو جا بے جا اسمائے صفات لڑھکاتے چلے جاتے ہیں ۔ مثال کے طور پر مندرجہ ذیل جملے ملاحظہ کیجیے:
’’پھر جب ہیپی اسے دبوچ کر واپس لائے تو آپ اسے ذبح کریں ، ا س کی شہ رگ پر تیز دھار خطرناک خنجر پھیر کے۔‘‘٭۲۴


’’یہ بھی ممکن ہے کہ وہ سوچتے ہوں کہ کبھی موقع ملا تو پردادا ابا کی آنکھ بچا کر یا ان کے فوت ہونے کے بعد ضرور اس عورت کو اس بندوق سے اس کے سر اور پیٹ پر پے درپے فائر کر کے ہلاک کر دوں گا۔‘‘٭۲۵
’’کوئی شخص بھی اتنا مضبوط نہیں ہوتا کہ اس کی کھال اتار ی جائے اور اس کے بعد وہ چپ چاپ اسے اپنے ہاتھ میں پکڑ لے ۔ ایسے کسی شخص کا ذکر تو تاریخ کی جھوٹی سچی کتابوں میں بھی نہیں ملتا۔‘‘٭۲۶
’’اردو کے ایک بہت خاص سمجھے جانے والے شاعر مرزا غالب نے تو اپنے اشعار کی موٹی کتاب میں درج ایک شعر میں یہ بھی کہاہے …‘‘ ٭۲۷
’’شراب کی اس پھلدار قسم کا نام پینے پلانے والے قابلِ مذمت طبقے نے “wine”رکھا ہوا ہے۔‘‘٭۲۸


ان اضافی اسمائے صفات کی وجہ سے ان کے سادہ اور عام سے جملوں کو پڑھتے ہوئے بھی لطف آتا ہے اور قاری دلچسپی سے آگے بڑھتا چلا جاتا ہے۔
بلال حسن منٹو کی زبان کی ان تمام خوبیوں سے معلوم ہوتا ہے کہ انہوں نے ان افسانوں کی زبان پر خاص محنت کی ہے اور اس محنت کی بدولت وہ اپنے لیے ایک نیا اسلوب تراشنے میں کامیاب ہوگئے ہیں ۔ ایک ایسا اسلوب جو ان سے قبل اردو میں کہیں نہیں تھا اور اب انہی کے ساتھ مخصوص ہو گیا ہے۔ کتاب کے دیباچے میں اسامہ صدیق نے ان کی زبان کی خوبیوں کے حوالے سے بجا طور پر لکھا ہے:


’’مصنف خوش قسمت ہے کہ اس کی زبان اور اسلوب خاص اس کے ہیں ،کسی اور کے نہیں اور بہت جاندار بھی ہیں ۔ ان کے بنانے سنوارنے میں اس کی محنت قابلِ ستائش ہے۔ ‘‘٭۲۹
بلال حسن منٹو کے افسانوں کے اس تجزیے کے بعد ہم اس نتیجے پر پہنچتے ہیں کہ ان کے یہ افسانے اردو افسانے کی روایت میں ایک نیا ذائقہ رکھتے ہیں ۔ ان کا پیش کردہ ماحول اور ان کے کردار اپنی تازگی اور حقیقت سے قریب ترین ہونے کی وجہ سے یادگار ہیں ۔ زبان کے حوالے سے انہوں نے جو محنت کی ہے اور جس قدر خلاقی کا مظاہرہ کیا ہے،اس سے ان افسانوں کی خوبصورتی میں حد درجہ اضافہ ہوا ہے۔ ان کے افسانوں کو انہی وجوہ کی بنا پر اردو دنیا میں بہت گرمجوش پذیرائی ملی ہے اور اپنی تخلیقی قوت کی بنا پر بہت مدت تک ایسے ہی جذبے سے سراہے جاتے رہیں گے۔ادبی دنیا میں ان کے افسانے آگے چل کر کیا مقام پاتے ہیں ، یہ توآئندہ زمانہ ہی بہتر جان سکے گا لیکن فی الوقت ان کے افسانے تازہ ہوا کے جھونکے ہیں جو افسانے کی دنیامیں دوبارہ اُس بہارکی آمد کے نقیب ہیں جو دہائیوں پہلے ہم سے بچھڑ گئی تھی۔

حوالہ جات

۱۔ماڈل ٹائون، بلال حسن منٹو، سانجھ پبلیکیشنز،لاہور، 2014،ص:129
۲۔محمد سلیم الرحمٰن ،ہم شہری، جلد نمبر ۹، شمارہ نمبر ۱۔ ۲۸ اگست ۲۰۱۵ء،ص:43
۳۔ماڈل ٹائون، بلال حسن منٹو، سانجھ پبلیکیشنز،لاہور، 2014،ص:172

شیئر کریں
تعارف نام: محمد عباس تاریخ پیدائش: 11ستمبر 1983 جائے پیدائش: جہلم۔ پاکستان رہائش: لاہور تعلیم: پی ایچ۔ ڈی( اردو) لکھنے کا میدان: افسانہ۔ تنقید۔ ترجمہ۔ڈراما ملازمت: اسسٹنٹ پروفیسر(اردو)گورنمنٹ اسلامیہ ڈگری کالج (بوائز)غازی آباد،لاہور کتابیں: احمد شاہ سے احمد ندیم قاسمی تک(تنقید) نابغہ(انگلش تراجم) پچھلی گرمیوں میں(نرمل ورما کی کہانیوں کے تراجم) چھوٹے چھوٹے تاج محل(راجیندر یادو کی کہانیوں کے تراجم)

کمنٹ کریں