اللہ میاں کا کارخانہ کے خالق محسن خان سے ممبئی میں کی گئی بات چیت

, اللہ میاں کا کارخانہ کے خالق محسن خان سے ممبئی میں کی گئی بات چیت

ناول محض سچائی اور حقیقت کے اظہار سے نہیں فکرکی گہرائی اور طرز بیان کی ندرت سے بڑا ہوتاہے ۔
سماج ہماری باتوں کومن وعن قبول کرنے کے بجائے اپنی مرضی کے مطابق کتربیونت کردیتاہے۔
یہ دنیاایک تماشہ گاہ ہے یہاں کوئی تماشہ دکھارہاہے توکوئی تماشہ دیکھ رہاہے ۔
کسی کو امیر اور کسی کوغریب کیوں بنادیا۔
آپ نے میری اماں کو اپنے پاس کیوں بلالیا۔
مرغی بنائی تھی توبلی کیوں بنائی ۔


یہ وہ سوالات ہیں جوناول کامرکزی کردار او ر راوی جبران خالق کائنات سے کررہاہے۔
سال ۲۰۲۰ء میں دنیانے ایک تماشے کی صورت اختیار کرلی تھی اورایک جان لیواوبا کوروناوائرس ڈگڈگی بجاکر مداری کی طرح تماشا دکھارہاتھا۔لکھنے پڑھنے والوں کا ایک طبقہ ایساتھاجولکھنے پڑھنے میں مصروف رہااور محسن خان کاناول اللہ میاں کاکارخانہ منظر عام پر آیا۔اس ناول میں کچھ ایسی کیفیت ہے کہ دیکھتے ہی دیکھتے یہ ایک وسیع حلقے کے دماغ پر چھا گیا۔ بھارت، پاکستان اور دوسرے ملکوں میں جہاں اردو کے پڑھنے والے ہیں، اللہ میاں کا کار خانہ کی زبردست مانگ ہے اور جن لوگوں نے اس کا مطالعہ کیا ہے انہیں اس نے اپنا گرویدہ بنا لیا ہے۔اہم تنقید نگاروں نے اس پر مضامین لکھے ہیں۔ملکی اور غیر ملکی زبانوں میں اس کے تراجم ہو رہے ہیں اور اس پر بحث کے دروازے بھی وا ہو چکے ہیں جو اس کی کامیابی کی دلیل ہے۔


محسن خان سے ملاقات ہوئی تو ’’اللہ میاں کاکارخانہ ‘‘اور اس کارخانہ کے نظام ، کارخانے کی مشینوں اور پرزوں کا ذکر بھی نکلا۔ناول کی بنت اور میکنگ پر بھی بات ہوئی۔انہوں نے بتایا کہ’’ مجھے ناول لکھنے سے ہمیشہ الجھن رہی ہے۔ بلکہ مجھ میں اتنا تحمل ہی نہیں ہے اور میں ریاضت نہیں کر سکتا کہ میں ناول لکھ سکوں۔ مجھے ان لوگوں پر رشک آتا ہے جو پانچ سو اور ہزار صفحات کے ناول لکھ لیتے ہیں۔کئی کئی ڈرافٹ تیار کرنا، پروف پڑھنا یہ سب بڑی ریاضت کے کام ہیں۔مگر میری اہلیہ اور دوستوں کا اصرار تھا کہ مجھے ناول لکھنا چاہیے۔میں نے تو کہانیوں سے بھی کنارہ کشی اختیار کر لی تھی۔ مجھے بچوں کے لئے لکھنا آسان لگتا ہے لہذا بچوں کے لئے کہانیاں اور ڈرامے لکھتا رہا۔ بہرحال لاک ڈاؤن کے زمانہ میں گھر سے باہر نکل نہیں سکتا تھالہذا سوچا چلو یہ کارگراں بھی کرکے دیکھتے ہیں اور بغیر نوٹس بنائے لکھنا شروع کردیا۔دو چار صفحات لکھ کر اہلیہ کو دکھائے تو انہوں نے مشورہ دیا کہ اسے آگے بڑھائیے، دلچسپ ہے۔ اس طرح روزانہ چار چھ صفحات اور کسی کسی دن آٹھ دس صفحات لکھتے رہے ۔تقریباً پچاس صفحات لکھے جانے کے بعد صفحات کی پیشانی پر نظر ڈالی تو پتہ چلا نمبرشمار بھول گئے۔چونکہ ناول میں واقعات تسلسل کے ساتھ نہیں بیان کئے گئے ہیںلہذاان صفحات میں تسلسل قائم کرنا مشکل ہوگیا۔میں نے بیگم سے کہا کہ بس اب اس قصے کو یہیں تمام کرتے ہیں، آگے نہیں لکھا جائے گا۔ مگر میری اہلیہ اور دوست شعیب نظام کا شدید اصرار تھا کہ مزید لکھوں۔پھر لکھنا شروع کیا ۔لکھے ہوئے صفحات پر نمبر درج کئے ، اس کے بعد مزید لکھنا شروع کیا۔اللہ اللہ کرکے ’’اللہ میاں کاکارخانہ‘‘دو مہینے کے اندر تکمیل کو پہنچ گیا۔ طباعت سے پہلے میں اسے اپنے دوستوں کو دکھا لینا چاہتا تھالہذا مسودہ شعیب نظام، شموئل احمد اور شہناز رحمن کو بھیجا۔سب نے ناول کی تعریف کی۔ شہناز رحمن نے نہایت حوصلہ افزا تبصرہ بھی لکھ کر بھیجا۔


شہناز رحمن کی یہ رائے محسن خان نے ناول کے فلیپ پر شائع کی ہے۔
’’محسن خان کا یہ ناول ایسے کردار کی زندگی پر مبنی ہے جو عمر کے اس حصے میں ہے جب چیزوں کو ایک ایڈوینچر کی طرح انجوائے کیا جاتا ہے اور ہر چیز کے متعلق ایک تجسس سا رہتا ہے۔اس لئے ناول میں پیش کئے گئے واقعات کا دلچسپ اور تجسس خیز ہونا فطری ہے۔‘‘
ابرار مجیب نے فیس بک پر لکھا ہے’’ حالیہ برسوں میں لکھے گئے ناولوں میں ’’اللہ میاں کا کارخانہ‘‘ اپنی انفرادی شناخت قائم کرنے میں کامیاب ہے۔ مشاہدات کی سچائی اور مناسب جزئیات کی پیش کش ، قصہ کا بیانیہ اور مصنف کا غیاب اس ناول کو اہم ناول بنا دیتا ہے۔‘‘
ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے محسن خان نے ناول کے تعلق سے مزید کہا کہ ہم بچپن سے سنتے آئے ہیں دنیا اللہ میاں کا کارخانہ ہے لہذا اس کا عنوان میںنے ’’ اللہ میاں کاکار خانہ‘‘ ہی رکھ دیا۔ناول کا سر ورق دیکھ کر یہ معلوم ہوتا ہے کہ یہ کوئی مذہبی کتاب ہے لیکن کچھ صفحات پڑھنے کے بعد یہ لگتا ہے کہ مدرسے کی کہانی ہے مگر جیوں جیوں کہانی آگے بڑھتی ہے تو چرند پرند ،کھیل ، تماشوں اور بھانت بھانت کے کردار سامنے آتے ہیں تو پتہ چلتا ہے کہ کہانی کا دائرہ وسیع ہے۔اس ناول میں سماج اور نظام قدرت سے متعلق کچھ سوال کھڑے کئے گئے ہیں۔ اس میں محسن خان نے کہانی سے مربوط آسان لفظوں میں اقوال زریں بھی پیش کئے ہیں۔مثلا ً قبر کے کتبے پر اچھی اچھی باتیں لکھ دینے سے مردہ کے اعمال اچھے نہیں ہوجاتے۔

تم پتنگ کو اتنی ہی اونچائی تک لے جا سکتے ہو جتنی تمہارے پاس ڈور ہے۔اگر گدھے کی عقل میں یہ بات آجائے کہ اس کی دم میں بندھا ہوا پیپا اس کے بھاگنے کی وجہ سے آوازیں پیدا کر رہا ہے اور اس کی ٹانگوں کوچوٹیں پہنچا رہا ہے تو وہ بے وقوف کیوں کہلائے۔ محسن خان نے ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا جبران کے وسیلے سے کہی گئی باتیں یا سوالات وہ سوالات ہیں جو ہر شخص کے ذہن میں بیدار ہوتے ہیں۔ہمارے سماج کے لوگ دوہرے معیار کی زندگی گزار رہے ہیں۔ وہ ایک ہاتھ سے دنیا کی آلودگی کو تھامے ہوئے ہیں اور دوسرے ہاتھ سے جنت کے دروازے کی کنڈی کھٹ کھٹا رہے ہیں۔ ان کے قول و فعل میں تضاد ہے۔ایک ہی دامن میں گناہ بھی ہیں اور ثواب بھی۔
میراخیال تھا کہ ناول اسی حلقے اور ماحول کے لوگ پڑھیںگے جو اس ماحول کے پروردہ ہیں جس ماحول کی ناول میں عکاسی کی گئی ہے مگر ہرطبقہ اور ہرعمر کے لوگ اسے پڑھ رہے ہیں اور اس سے محظوظ ہورہے ہیںاور نہ صرف ملک بلکہ بیرون ملک سے لوگ رابطہ کرکے ناول کی تعریف کررہے ہیں اور اس کے مطالعے کی خواہش کااظہار کررہے ہیں۔ اس سے اندازہ ہوتاہے کہ فکشن پڑھنے والوں کاحلقہ وسیع ہوگیاہے ۔میراخیال ہے یہ خوش گوار فضاذکیہ مشہدی ،صدیق عالم ،خالد جاوید،شموئل احمد ،رحمن عباس اور پاکستان کے بعض اہم لکھنے والوں کی وجہ سے قائم ہوئی ہے ۔میراخیال ہے کہ مستقبل میں فکشن کے قارئین کاحلقہ اور وسیع ہوگا۔
٭٭٭

شیئر کریں
محسن خان
مصنف: محسن خان
محسن خان کا تعلق لکھنؤ سے ہے ۔ یہ ایک مایہ ناز افسانہ نگار اور ادب اطفال کے سلسلے میں ایک اہم نام ہیں ۔ انہوں نے کئی کتابیں لکھی ہیں جن میں عمدہ فکشن ،سبق آموز کہانیاں شامل ہیں۔ اردو افسانوی ادب کے پس منظر میں محسن خان اس لئے اہم ہیں کہ انہوں نے ایسے افسانے تخلیق کئے جو قاری کے فہم وادراک کا گہرا حصہ بن گئے ۔ حالیہ دنوں میں ان کا ناول "اللہ میاں کا کارخانہ "بیحد مقبول ہوا ہے

کمنٹ کریں