مولوی صاحب

Read Urdu story on the topic of Molvi Saheb. You can read famous Urdu stories, fiction, and articles on Whatsapp Status. Best and popular Urdu literature can be shared with friends. Urdu Tiktok Status Poetry and Facebook Share Urdu Poetry available.

افسانہ : مولوی صاحب

صفدر علی حیدری

حلیہ تو روایتی مولویوں جیسا ہی تھا ہاں مگر ایک بات اسے دوسروں سے ممتاز کرتی تھی اور وہ تھی آنکھ میں شرم اور لحاظ
وہ سر جھکا کر بات کرتا تھا ۔۔۔ مجھے اس کی آنکھوں میں جھانکنے میں خاصی دقت ہوئی بار بار اسے مخاطب کرنا پڑا لیکن مایوسی نہیں ہوئی ۔۔۔
آج امی ضد کر کے مجھے مولوی صاحب کے پاس لے ہی آئی تھی ۔۔۔۔ وہ ہمارے محلے کی جامع مسجد کا پیش امام تھا اور اس کا تعویز شادی کے معاملے میں خوب چلتا تھا ۔۔۔۔ یہ اس کی شخصیت کا فیض تھا یا اس کی نیت کا حاصل کہ لوگ دور دور سے اس کے پاس آتے اور مرادیں پاتے ۔۔۔۔ وہ مٹھائی کے نام پر بھی کچھ نہیں لیتا تھا ۔۔۔۔


امی اس کی بڑی فین تھی سو جیسے تیسے انھوں نے مجھے قائل کر ہی لیا ۔۔۔۔
مولوی صاحب آپ کے گھر والے کہاں ہیں ؟
میں نے سرسری انداز میں پوچھا
وہ تو گاؤں میں ہوتے ہیں ۔۔۔ میں مسجد کے اوپر بنے اپنے حجرے میں رہتا ہوں ۔۔۔”
اچھا تو آپ اپنی بیوی سے دور رہتے ہیں ۔۔۔۔ یہ بھی اچھا یے۔۔۔۔ انسان ہو تو شادی نہ کرے یا بیوی کو ساتھ نہ رکھے ۔۔۔۔۔
دوسرا آپشن بھی اتنا برا نہیں ۔۔۔۔۔
میرے لہجے میں شوخی در آئی تھی ۔۔۔۔
مجھے گفتگو میں مزہ آنے لگا تھا حالانکہ میں خاصی کم گو واقع ہوئی تھی ۔۔۔۔۔
مجھے لگتا تھا وہاں آنے پر مجھے جو بوریت محسوس ہوئی تھی وہ اس طرح کی باتوں سے بہت حد تک کم ہو سکتی تھی ۔۔۔۔


امی اس دوران حیرت انگیز طور پر خاموش سامع بنی ہوئی تھیں۔ ۔۔۔ شاید وہ اس بات پر خوش تھیں کہ میرا موڈ تو بحال ہوا ۔۔
” یہ آپشن تو نہیں مجبوری ہے ۔۔۔۔ ایک کمرے میں میں اپنے اماں ابا اور چھوٹے بھائی کی فیملی کو رکھ نہیں سکتا ۔۔۔۔ اور تنخواہ اتنی ہے نہیں کہ کرائے کا مکان لے سکوں ۔۔۔۔۔”
وہ جی واہ ۔۔۔۔۔ آپ بیوی کا ذکر ہی گول کر گئے جیسے اس کا کوئی وجود ہی نہ ہو ۔۔۔۔ ٹھیک سنا تھا کہ بیوی کو پاؤں کی جوتی سمجھتے ہو آپ لوگ ۔۔۔”
بھئی بیوی ہو گی تو اس کا زکر بھی آئے گا ۔۔۔۔ ہاں البتہ ایک بھابھی ہے ۔۔۔۔ میرے چھوٹے بھائی کی بیوی ۔۔۔۔ “
ارے ۔۔۔۔۔۔۔۔ شادی نہیں کی آپ نے ۔۔۔۔ دوسروں کے لیے تعویز دھاگا کرتے ہیں ان کو پھنساتے ہیں اور خود ۔۔۔۔ میں تو بڑا معصوم سمجھ رہی تھی آپ کو ۔۔۔۔ مگر آپ تو ۔۔۔۔۔”
میں بے چوٹ کی


” کوئی رشتہ ملا ہی نہیں ۔۔۔۔ کسی نے میری طرف دیکھا ہی نہیں ۔۔۔۔۔ کسی کو میں پسند آیا ہی نہیں ۔۔۔۔ایک مولوی کو بھلا کون رشتہ دیتا ہے ۔۔۔۔۔ “
آپ بھی دم درود کریں ۔۔۔ کوئی تعویز گنڈا ۔۔۔ کوئی دعا ۔۔۔۔ آخر دوسروں کے لیے بھی تو کرتے ہیں ناں ۔۔۔۔۔”
” تو آپ کا کیا خیال ہے میں نے اپنے لیے دعا نہیں کی ہو گی ۔۔۔۔ میری کوئی دعا بھی اس دعا سے خالی نہیں ہوتی ۔۔۔۔ مگر وہ قبول کرے تب ناں ۔۔۔۔ ہم تو منگتے ہیں وہ بھیک دے تب ناں ۔۔۔۔۔ ناجانے کتنی لڑکیاں اپنے گھر کی ہو گئیں ۔۔۔۔ اس فقیر کی دعا سے مگر میرا گھر خالی ہی رہا ۔۔۔۔۔ “
آخر میں اس کی آواز کچھ دب سی گئی جیسے بھرا گئی ہو۔۔۔۔ مجھے شرمندگی سی محسوس ہوئی مگر صرف ایک لمحے کے لیے ۔۔۔۔ اگلے ہی لمحے میں پھر حملہ کرنے کو تیار تھی ۔۔۔۔۔
” تو پھر آپ بھی کوئی پیر فقیر ڈھونڈیں ۔۔۔۔ کوئی عامل بابا ۔۔۔ کوئی صاحب کرامت ولی ۔۔۔۔
کسی درگاہ پر منت مانیں ۔۔۔۔”
میں نے ایک ساتھ کئی مفت مشورے دے ڈالے ۔۔۔


میں دعا کر لیتا ہے بس اتنا ہی کافی ہے ۔۔۔ اللہ کو منظور ہوا تو ایک دن میری مراد ضرور قبول ہو گی ۔۔۔ ان شاءاللہ ….
” آپ کو دکھ تو بہت ہوتا ہو گا کہ آج کسی نے آپ پر توجہ نہیں کی ۔۔۔ کبھی پیار کے قابل نہیں سمجھا ۔۔۔”
ہوتا ہے دکھ ۔۔۔۔ کیوں نہیں ہوتا ۔۔۔۔ اس وقت تو دکھ اور بڑھ جاتا ہے جب پریشان حال مائیں کہتی ہیں بھلے رنڈوا ہو ۔۔۔۔ بچوں والا ہو ۔۔۔۔ عمر رسیدہ ہو ۔۔۔ امیر بھی نہیں چاہیے بس دو وقت کی روٹی دے سکے ۔۔۔۔۔ اس وقت میرا بڑا دل کرتا ہے کہ میں انھیں کہوں کہ مولوی صاحب کے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے مگر ۔۔۔۔۔ میری زبان سے ایک لفظ ادا نہیں ہوتا ۔۔۔۔ آپ کی امی نے مجھے بیٹا بنایا ہوا ہے کیا وہ مجھے اپنا داماد بنائیں گی ۔۔۔۔۔”
تم ۔۔۔ تم۔۔۔ تمھاری ہمت کیسے ہوئی تم میری بیٹی کا نام بھی لو ۔۔۔۔ اٹھو بیٹا ۔۔۔ اب ہم یہاں ایک پل کو بھی نہیں رکیں گے ۔۔۔۔۔ “
امی ایک دم مشتعل ہوئیں اور مجھے کھینچ کر باہر لے جانے لگیں ۔۔۔ ان کی خاموشی یوں ٹوٹی تھی کہ مولوی صاحب کے ہوش اڑ گئے تھے ۔۔۔۔


رکیں امی ۔۔۔۔ رک جائیں ۔۔۔ مجھے مولوی صاحب کا رشتہ قبول ہے ۔۔۔۔ “
اور امی جان کا غصہ جھاگ کی طرح بیٹھ گیا اور وہ پھٹی پھٹی نظروں سے مجھے دیکھتی رہ گئیں ۔۔۔۔
میں نے مولوی صاحب کی طرف دیکھا ان پر شادی مرگ کی سی کیفیت طاری تھی ۔۔۔
وہ سوچ رہا تھا شاید کہ اس کی اس سے شادی ہو نہ ہو ۔۔۔۔ کم از کم اس کے حق میں تو فیصلہ سنا کر اسے اعتبار بخش دیا تھا ۔۔۔۔ اسکی خوشی کو یہی کافی تھا ۔۔۔
خود مجھے کب پتہ تھا کہ مذاق مذاق میں کی جانے والی گفتگو اتنا سنجیدہ رخ اختیار کر لے گی ۔۔۔

شیئر کریں
مدیر اعلیٰ
مصنف: صفدر علی حیدری
صدف اقبال بہار، انڈیا سے تعلق رکھنے والی معروف شاعرہ اور افسانہ نگار ہیں۔

کمنٹ کریں