موت کے موضوع پر شاعری

Read Urdu Poetry on the topic of Death Urdu Shayari (Mot Pe Yad Pe Shayari). You can read famous Urdu Poems about Wafaat Pe Urdu Poetry and Marnay Pe Urdu Poetry Sher o Shayari Whatsapp Status. Best and popular Urdu Ghazals and Nazms can be shared with friends. Urdu Tiktok Status Poetry and Facebook Share Urdu Poetry available.

موت وفات جنازہ میت شاعری

زندگی فنا ہے اور بالاخر انسان اپنی منزل یعنی مٹی میں مل جاتا ہے۔ موت انسانی زندگی کا ایک ایسا امرِ حقیقی ہے جس سے انکار ناممکن ہے۔ موت سے راہِ فرار نہ کسی عظیم و طاقتور بادشاہ کو نصیب ہو سکی نہ ہی کسی نیکوکار اور پاک عالم و فاضل کو۔ اردو شاعری میں فنا، موت اور انسانی زندگی کے اختتام پر متعدد عمدہ اشعار کہے گئے۔ بہترین شاعروں کے خوبصورت شعر پڑھیے۔

موت پر شاعری، وفات شاعری

فانیؔ ہم تو جیتے جی وہ میت ہیں بے گور و کفن
غربت جس کو راس نہ آئی اور وطن بھی چھوٹ گیا
فانی بدایونی
۔
دفن جب خاک میں ہم سوختہ ساماں ہوں گے
فلس ماہی کے گل شمع شبستاں ہوں گے
مومن خاں مومن
۔
دفن ہم ہو چکے تو کہتے ہیں
اس گنہ گار کا خدا حافظ
سخی لکھنوی
۔
ڈوبنے والے کی میت پر لاکھوں رونے والے ہیں
پھوٹ پھوٹ کر جو روتے ہیں وہی ڈبونے والے ہیں
فنا نظامی کانپوری
۔
کر کے دفن اپنے پرائے چل دیے
بیکسی کا قبر پر ماتم رہا
احسن مارہروی

موت کے موضوع پر شاعری

ڈوبنے والے کی میت پر لاکھوں رونے والے ہیں
پھوٹ پھوٹ کر جو روتے ہیں وہی ڈبونے والے ہیں
فنا نظامی کانپوری
۔
جہاں پہ دفن ہے اس کے بدن کا تاج محل
ادھر دریچے رکھیں گی عمارتیں ساری
منظور عارف
۔
جو شخص بھی ملا ہے وہ اک زندہ لاش ہے
انساں کی داستان بڑی دل خراش ہے
افضل منہاس
۔
مسکرا دو کسی کی میت پر
موت کیوں تیرہ و مہیب رہے
الطاف مشہدی
۔
کر سکے دفن نہ اس کوچہ میں احباب مجھے
خاک میں دل کی کدورت نے دیا داب مجھے
میر تسکینؔ دہلوی

وفات شعر، جنازہ اشعار، موت شاعری

۔زندگی حسرتوں کی میت ہے
پھر بھی ارمان کر رہی ہو نا
کمار وشواس
۔
اٹھی ہے گردش دوراں کی میت
گھٹا کاندھا لگاتی جا رہی ہے
بسمل دہلوی
۔
اے امید اے امید نو میداں
مجھ سے میت تری اٹھی ہی نہیں
جون ایلیا
۔
کوئی عزیز نہ ٹھہرا ہمارے دفن کے بعد
رہی جو پاس تو شمع سر مزار رہی
اختر شیرانی
۔
دفن ہوتے نہ حسیں خواب ادھورے لیکن
اپنے مرنے کی گھڑی کوئی بشر کیا جانے
زہیب فاروقی افرنگ

موت کے موضوع پر شاعری

دفن ہو کر بھی جان سے پیارے
دل کے ویراں نگر میں رہتے ہیں
ظفر مہدی
۔
جنازہ دھوم سے اس عاشق جانباز کا نکلے
تماشے کو عجب کیا وہ بت دمباز آ نکلے
رنجور عظیم آبادی
۔
ہم کسی غیر کے شرمندۂ احسان نہ ہوئے
ہم نے خود بڑھ کے اٹھایا ہے جنازا اپنا
کاظم جرولی
۔
جنازہ اٹھ چکے میرا تو تم بھی
ادا رسم مبارک باد کرنا
نسیم دہلوی
۔
کیا عیادت کو اس وقت آؤ گے تم
جب ہمارا جنازہ نکل جائے گا
قمر جلالوی

ہے جنازہ اس لئے بھاری مرا
حسرتیں دل کی لئے جاتے ہیں ہم
گویا فقیر محمد
۔
اب اور کتنا تماشہ بنائے گی قسمت
پھروں میں اپنا جنازہ کہاں کہاں لے کر
قیصر صدیقی

شیئر کریں
مدیر
مصنف: مدیر
لفظ نامہ ڈاٹ کام کی اداریہ ٹیم کے مدیران کی جانب سے

کمنٹ کریں