ماں کے موضوع پر اشعار

ماں شاعری والدہ اشعار ماں شعر mother urdu poetry راردو
اردو شاعری کی بات کی جائے تو ماں کے موضوع پر متعدد شعراء اور شاعرات نے بے حد عمدہ اشعار کہے ہیں جنہیں موقع محل کے مطابق ماں سے محبت کے اظہار کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔ ماں کے عنوان پر زیادہ تر اشعار معروف ہندوستانی شاعر منور رانا نے لکھے ہیں۔ اس اعتبار سے انہیں ایک ممتاز مقام حاصل ہے جو کسی دوسرے شاعر کو اِس حوالے سے نہین ہے۔ عام طور پر مدر ڈے (والدہ کے عالمی دن) کے موقع پر ماں کے نام مندرجہ ذیل اشعار بھیجے جا سکتے ہیں:

چلتی پھرتی ہوئی آنکھوں سے اذاں دیکھی ہے
میں نے جنت تو نہیں دیکھی ہے ماں دیکھی ہے
شاعر: منور رانا
۔
۔
ابھی زندہ ہے ماں میری مجھے کچھ بھی نہیں ہوگا
میں گھر سے جب نکلتا ہوں دعا بھی ساتھ چلتی ہے
شاعر: منور رانا
۔
۔
اس طرح میرے گناہوں کو وہ دھو دیتی ہے
ماں بہت غصے میں ہوتی ہے تو رو دیتی ہے
شاعر: منور رانا
۔
۔
کسی کو گھر ملا حصے میں یا کوئی دکاں آئی
میں گھر میں سب سے چھوٹا تھا مرے حصے میں ماں آئی
شاعر : منور رانا

عباس تابش کا عمدہ اور زبان ِ زد عام شعر ہے:

ایک مدت سے مری ماں نہیں سوئی تابش
میں نے اک بار کہا تھا مجھے ڈر لگتا ہے
شاعر: عباس تابش

وصی شاہ نے ماں کے موضوع پر ایک نظم کہی ہے جن کا عنوان ہے “ماں”

یہ کامیابیاں، عزت، یہ نام، تم سے ہے
خدا نے جو بھی دیا ہے مقام تم سے ہے
تمہارے دم سے ہیں میرے لہو میں کھلتے گلاب
مرے وجود کا سارا نظام تم سے ہے
گلی گلی میں جو آوارہ پھر رہا ہوتا
جہان بھر میں وہی نیک نام تم سے ہے
کہاں بساط جہاں اور میں کمسن و ناداں
یہ میری جیت کا سب اہتمام تم سے ہے
جہاں جہاں ہے مِری دشمنی، سبب مَیں ہوں
جہاں جہاں ہے مِرا احترام، تم سے ہے
اے میری ماں مجھے ہر پل رہے تمہارا خیال
تم ہی سے صبح مری میری شام تم سے ہے

اس کے علاوہ مندرجہ ذیل اشعار مختلف شعراء کے تخلیق کردہ ہیں:

انگلیاں پھیر میرے بالوں میں
یہ مِرا درد ِ سر نہیں جاتا
ندیم بھابھہ
۔
دعا کو ہات اٹھاتے ہوئے لرزتا ہوں
کبھی دعا نہیں مانگی تھی ماں کے ہوتے ہوئے
افتخار عارف

کل اپنے آپ کو دیکھا تھا ماں کی آنکھوں میں
یہ آئینہ ہمیں بوڑھا نہیں بتاتا ہے

برباد کر دیا ہمیں پردیس نے مگر
ماں سب سے کہہ رہی ہے کہ بیٹا مزے میں ہے
۔
دن بھر کی مشقت سے بدن چور ہے لیکن
ماں نے مجھے دیکھا تو تھکن بھول گئی ہے
۔
میں نے کل شب چاہتوں کی سب کتابیں پھاڑ دیں
صرف اک کاغذ پہ لکھا لفظ ماں رہنے دیا
شاعر: منور رانا
۔
۔
ماں کی آغوش میں کل موت کی آغوش میں آج
ہم کو دنیا میں یہ دو وقت سہانے سے ملے
کیف بھوپالی

اس کے علاوہ کسی نامعلوم شاعر کی ایک نظم جسے معروف گلوکار جگجیت سنگھ نے بھی اپنی گائیکی سے چار چاند لگائے ہیں۔ ماں کے موضوع پر یہ نظم پیشِ خدمت ہے:

ماں سنائو مجھے وہ کہانی
جس میں راجہ نہ ہو نہ ہو رانی
جو ہماری تمہاری کتھا ہو
جوسبھی کے ردے کی گتھا ہو
وہ کہانی جو ہنسنا سکھا دے
پیٹ کی بھوک کو جو مٹادے
جس میں سچ کی بھری چاندنی ہو
جس میں امید کی روشنی ہو
جو ہو نہ کہانی پرانی
جس میں راجہ نہ ہو نہ ہو رانی
ماں سناؤ مجھے وہ کہانی
جس میں راجہ نہ ہو نہ ہو رانی

اس کے علاوہ ماں کے موضوع پر لکھی گئی شاعری میں سے منتخب درج ذیل اشعار ملاحضہ فرمائیں:

اس لیے چل نہ سکا کوئی بھی خنجر مجھ پر
میری شہ رگ پہ مری ماں کی دعا رکھی تھی
نظیر باقری
۔
روشنی بھی نہیں ہوا بھی نہیں
ماں کا نعم البدل خدا بھی نہیں
انجم سلیمی
۔
گھر سے نکلے ہوئے بیٹوں کا مقدر معلوم
ماں کے قدموں میں بھی جنت نہیں ملنے والی
افتخار عارف
۔
ہوا دکھوں کی جب آئی کبھی خزاں کی طرح
مجھے چھپا لیا مٹی نے میری ماں کی طرح
نامعلوم شاعر کا شعر

اس کے علاوہ ندیم سلطان پوری کی نظم ، جس کا عنوان “میری ماں” ھے:

جب روٹھتا ہوں مجھ کو مناتی ہے مری ماں
آغوش میں پھر اپنے بٹھاتی ہے مری ماں
گر جاتا ہوں جب میں تو اٹھاتی ہے مری ماں
آنچل میں مرے اشک سُکھاتی ہے مری ماں
تھک ہار کے جب کام سے آتا ہوں میں واپس
کھانا مجھے ہاتھوں سے کھلاتی ہے مری ماں
درد اٹھتا ہے سینے میں زمانے کا کبھی تو
خود سوتی نہیں مجھ کو سلاتی ہے مری ماں
دیکھی نہیں جاتی کبھی اس سے مری غربت
ہر بوجھ مرا خود ہی اٹھاتی ہے مری ماں
تنہائی میں جب یاد کبھی آتی ہے ماں کی
لگتا ہے مجھے ایسا بلاتی ہے مری ماں
دکھ درد کسے اپنا سناے گا ندیم اب
“رہ رہ کے تری یاد ستاتی ہے مری ماں”
“ندیم سلطان پوری”

شیئر کریں
مدیر
مصنف: مدیر
لفظ نامہ ڈاٹ کام کی اداریہ ٹیم کے مدیران کی جانب سے

کمنٹ کریں