محبتیں

محبت, محبتیں

میں این ایم سی ایچ (نالندہ میڈیکل کالج اینڈ ہاسپٹل)پٹنہ میں پارا میڈیکل (اوٹی اسسٹنٹ) کا طالب علم تھا ،سال  2018  میں داخلہ لیا تھا  ،روزانہ کلاس  ضروری تھا کیوں کہ امتحان دینے کے لیے  80 فیصد حاضری شرط ہے  …………کسی بھی وجہ کر میں پٹنہ شہر میں روم کرائے پر نہیں لے سکا،اور  پٹنہ سے لگ بھگ 60 کیلو میٹر دور باڑھ میں  (اپنے بھائی کے پاس ) رہنے لگا چونکہ اس روٹ میں ٹرین کافی تعداد میں چلتی تھی اس لیے کوئی خاص پریشانی نہیں ہوتی تھی ،مہینے بھر کا پاس بنوا کر آرام سے آتے جاتے تھے ،اگر تھوڑی سی پریشانی ہوتی تھی تو وہ صبح میں ہوتی تھی ،جب باڑھ اسٹیشن سے لوکل ٹرین پکڑتے تھے ،یہاں تو زیادہ بھیڑ نہیں ہوتی تھی لیکن آگے بڑھنے کے بعد بھیڑ اتنی زیادہ ہو جاتی تھی کہ ایسا لگتا تھا اب اس ٹرین میں ایک چیونٹی کے لیے بھی جگہ نہیں ہے لیکن پھر بھی روزانہ آنے جانے والے اس  ٹرین میں سوار ہو  ہی جاتے تھے ،چوں کہ میں بھی روزانہ اسی ٹرین سے سفر کرتا تھا اس لیے مجھے بھی اس بھیڑ میں چلنے کی عادت سی ہو گئی تھی ۔

سال 2018 رمضان کا مہینہ شروع ہوا ،رمضان میں بھی میرا یہی معمول رہا ، صبح کی بھیڑ سے تو کوئی پریشانی نہیں ہوتی تھی لیکن واپسی میں پیاس کی شدت سے حالت خراب ہو جاتی تھی ،ایک دن کالج سے واپس آتے وقت پیاس کی شدت کی وجہ کر خود کو تھوڑا کمزور اور لاچار محسوس کر رہا تھا ، راجندرنگر ٹرمنل  پر ٹرین میں سوار ہوا ،اندر گیا تو دیکھا  کوئی بھی سیٹ خالی نہیں تھی البتہ اوپر کی سیٹ جس پر سامان رکھا جاتا ہے اس پر سامان کے علاوہ ایک آدمی کے  بیٹھنے کی جگہ خالی تھی میں اوپر جاکر بیٹھ گیا ،کچھ ہی دیر میں اگلا اسٹیشن “پٹنہ صاحب” آ گیا یہاں بھی کچھ لوگ اس ٹرین میں سوار ہوئے جس میں کچھ عورتیں بھی شامل تھی ،تین چار عورتیں سیٹ کھوجتے –کھوجتے میرے پاس آ گئی ان لوگوں کے پاس کچھ سامان بھی تھے ،اس میں سے ایک نے کہا تھوڑا یہ سامان اوپر رکھ دیجئے ،میں نے ادھر ادھر دیکھ کر کہا یہاں پر تو جگہ خالی نہیں ہے آگے دیکھ لیجئے یا سیٹ کے نیچے ہی رکھ دیجیئے ،اس میں سے ایک نے اس بات پر حامی بھر دی لیکن باقی عورتیں بضد ہو گئی کہ ہم سامان رکھیں گے تو اوپر ہی چاہےمجھے نیچے اتر کر کھڑا ہی کیوں نہ ہونا پڑے ،جب عورتیں  مجھ پر بولنا شروع ہو گئیں تو میں حالات نزاکت کو دیکھتے ہوئے چپ چاپ نیچے اتر کر کھڑا ہو گیا،اور من ہی من سوچنے لگا عورتیں بھی کیسی ہوتی ہے تھوڑا دیر چین سے بیٹھنے بھی نہیں دیا  ،اب میں کسی کو یہ بھی نہیں کہہ سکتا تھا کی میں روزہ سے ہوں مجھے تھوڑا سا بیٹھنےدیجئے کیوں کہ یہ اللہ کے نا پسندیدہ کاموں میں سے ہو جاتا ۔

  مرتا کیا نہ کرتا قریب ڈیڑھ گھنٹہ تک یونہی کھڑا رہنے کے بعد باڑھ اسٹیشن آیا ،جب میں باڑھ اسٹیشن سے نکل کر باہر ای رکشہ کی طرف آیا تو پتہ چلا کی ابھی کچھ دیر پہلے ہی یہاں زوردار بارش ہوئی ہے ،خیر مجھے اس وقت اس سب باتوں سے کوئی لینا دینا نہیں تھا ،میں جلدی سے ای رکشہ کی طرف بڑھا ،جب میں ای رکشہ کے قریب پہنچا تو دیکھا ایک بوڑھی عورت پہلے سے ایک طرف کے سیٹ پر بیٹھی ہوئی تھی اور دوسری طرف والی سیٹ پوری طرح سے بھیگا ہوا تھا ،میں جلدی سے سیٹ پر کے پانی کو ہاتھوں سے ہی ادھر ادھر کیا اور بیٹھنے لگ گیا ،جب میں بیٹھنے لگا تو اس بوڑھی عورت نے کہا رک جاؤ بیٹا ،میں نے سوالیہ لہجہ میں کہا ،کیا ہوا ؟؟ بوڑھی عورت نے کہا کچھ نہیں…. اس پر ایسے ہی بیٹھوگے تو کپڑے بھیگ جائیں گے ،میں نے کہا تو کیا کروں میرے پاس کچھ ہے بھی نہیں ،تب بوڑھی عورت  نے اپنی ہاتھوں میں پکڑی ہوئی پلاسٹک کی تھیلی میں سے سامان نکال کرتھیلی  مجھے دیتے ہوئے بولی یہ لو سیٹ پر اس کو رکھ کر بیٹھ جاؤ کپڑے خراب نہیں ہوں گے ،میں ان کا یہ کام اور ان کی یہ باتیں سن کر راستے بھر ان کی طرف دیکھ کر یہی سوچتے رہ گیا  یہ بھی تو ایک عورت ہی ہے ……..۔

میں جب بھی اس راستے سے گزرتا ہوں تو میری نظریں آج بھی اس بوڑھی عورت ………نہیں ………اس بوڑھی ماں کو ڈھونڈھتی ہے اور  میں آج بھی اس دن کو نہیں بھلا پایا ہوں اور امید ہے تاحیات نہیں بھول پاؤں گا کہ کس طرح کچھ عورتوں نے مجھے جبراََ نیچے اترنے پر مجبور کیا تھا اور ایک بوڑھی عورت نے مجھے ماں جیسی محبتیں دی تھی ۔

از قلم :محمد شمس الضحیٰ

شیئر کریں
مدیر
مصنف: محمد شمس الضحٰی
لفظ نامہ ڈاٹ کام کی اداریہ ٹیم کے مدیران کی جانب سے

کمنٹ کریں