محبت کی تجارت

نظم نگار : رابعہ الرباء

, محبت کی تجارت

ہم تاجر نہیں تھے ورنہ
تیرے خواب جو خریدے ہوتے تھے
تو
ان کی قمیت بازار مصر میں لگتی
کبھی گھٹتی
کبھی بڑھتی
ہم تاجر نہیں تھے ورنہ
تجھے یوسف کی قیمت پہ تولا ہوتا۔۔۔
تجھے محل کے زنان خانے میں
شہرمصر کی حسیناوں کی روبرو کرتے۔۔۔
اور تب تیری آرزو کرتے
ہم تاجر نہیں تھے ورنہ
میری جان !
تیری قمیت لگاتے،سر بازار لاتے
ہم نے تو تیری خداءی کو
تیری ہی خواہش پہ
چھوڑ دیا تھا
کہ
کوئی آدم یہ نا کہہ دے
کسی حوانے اسے جنت بدر کیا تھا۔
تجھ کو تیری زندگی
تیرے ہاتھوں میں دے کر
خود بنا شکوہ
بنا کسی شکایت
اس راہ کو اتنا دور چھوڑ آئے
کہ
تو ہم کو ہمیشہ کے لئے بھول جائے
ہم تاجر ہی تو نہیں تھے
ورنہ ۔۔
کیا کچھ نہیں ہو سکتا تھا
جو تجارت کرتے
مگر
ہمیں تمہارے چند متکبر سوالوں نے
اندر تک درد ہی درد کر دیا تھا
کچھ کانٹے خون کر گیے تھے
کچھ جذبے رو بھی دیئے تھے
ہم نے گلہ تب بھی نہیں کیا تھا۔
ہم تاجر نہیں تھے
ورنہ
اسی لمحے قمیت لگاتے
اور تکبر سارے وہ،بیچ جاتے
ہم تاجر ہی تو نہیں تھے ورنہ
وہ خواب سارے خرید لاتے
ان کی بولی لگاتے
ان کے گاہک لاتے
آسمان زمین پہ لاتے
تماشا بناتے
کچھ اپنی کہتے
کچھ تم بھی بتاتے
مگر
ہم تاجر نہیں تھے
جاناں
ہم بھکاری نہیں تھے جاناں
ہم عزت کے طلب گار
ہم کافر نہیں تھے جاناں
جو عشق میں کفر کر کے
شرک سے محبت بھی خرید لیتا ہے۔
مگر
تمہارا تجربہ کچھ کم تھا
ہمارا فلسفہ بھی غم تھا
دونوں نے مل کر
محبت نہیں کی
تو نفرت بھی تو نہیں کی
ہم تاجر جو ہوتے
تو
یہی دام لگانے کا وقت تھا
یہی آزمانے کا وقت تھا۔
یہی بچھڑ جانے کا وقت تھا
ہم نے ہجر کی اوڑھنی اوڑھ کر
تم کو آزاد کر دیا
مگر
تم قید ہو گئے
ورنہ
ہم تاجر نہیں ہیں جاناں
ہم تاجر نہیں تھے جاناں
تم آزما رہے تھے
ہم جارہے تھے
اور
تمہاری تمنا کی خیر لئے
چپ چاپ چلے بھی گئے
اب بھول جاو کہ
ہم تھے
اب بھول جاو کے تم تھے
کیونکہ ندی کے کنارے ہمیشہ ساتھ رہ کر بھی
کبھی ایک نہیں ہوتے
جانے والوں پہ یوں تو نہیں روتے
کہ
جن کو خود رخصت کیا ہو
وہ اپنے ہوتے ہی کب ہیں!
محبت ہوتو جدائی کے بیج بوتے ہی کب ہیں ؟

شیئر کریں

کمنٹ کریں