“مختصر” اردو شاعری کا اہم سنگِ میل

, “مختصر” اردو شاعری کا اہم سنگِ میل

عبدالرحمان واصف کا تیسرا شعری مجموعہ “مختصر” کہنے کو تو مختصر بحور پر مشتمل غزلیات کا کلیکشن ہے لیکن تخلیاتی سطح پر دیکھا جائے تو یہاں کوزوں میں سمندر بند کیے ہوئے ملتے ہیں۔ مختصر بحروں میں تمام تر شعری لوازمات اور خصوصیات سے لبریز شعر کہنا ایک مہارت طلب کام ہوتا ہے جبکہ عبدالرحمان واصف کے گزشتہ شعری مجموعہ “تحیر” سے بھی چند مختصر بحور میں عمدہ غزلیں میرے زیرِ مطالعہ رہی ہیں۔ یعنی یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ مختصر بحروں میں غزلیات کہنے کے ہنر سے واصف بھائی کا مزاج پوری طرح مزین ہے۔ ان کے ہاں ندرتِ خیال اور شعری معنویت اپنے عروج پر دکھائی دیتی ہے جس کے سبب اشعار تحیر میں مبتلاء کرتے ہیں۔ اس کتاب میں خیالات کا تنوع ہے، کئی طرح کے تجربات و مشاہدات کو ننھے موتیوں کی چمکدار لڑیوں میں پرویا گیا ہے۔ یہ اشعار اپنے اختصار کے باوجود قاری کے ذہن پر دیرپا نقوش چھوڑتے ہیں اور اپنے شعروں کی تاثیر کے ذریعے واصف صاحب اپنے قاری کو بھی قلبی، داخلی و خارجی تجربات سے گزار دیتے ہیں۔ یعنی شعری تسکین سے انکار ممکن نہیں، یہ تجربہ پڑھتے ہی ہوجاتا ہے۔ متذکرہ خصوصیات کو مدِ نظر رکھا جائے تو یہ کہا جا سکتا ہے کہ اس شعری مجموعہ میں موجود چھوٹی بحروں پر مشتمل اشعار مضمون کی جامعیت اور تخیل کی وسعت بہرحال رکھتے ہیں اور تلازماتی گرفت کے حامل ہیں۔


دوسری جانب دیکھا جائے تو جو بحور نہایت مختصر ہیں جیسا کہ “فعلن مفا” کی طرز پر لکھی گئی غزلیات میں چند اک ایسے اشعار مل جاتے ہیں جن کا انداز بیانیہ ہوتا ہے مگر اس کے باوجود موسیقیت پیدا کر کے اس کے شعری تاثر کو مہارت کےساتھ برقرار رکھا گیا ہے۔

اس کےعلاوہ عام طور پر مختصر بحروں میں استفہامیہ انداز اپنانا یا مکالماتی سٹائل رکھنا زیادہ مشکل کام ہوتا ہے، شعراء ایساکرتے وقت اکثر خیال کو مبہم کر دیتے ہیں، مضمون مکالماتی سٹرکچر کی وجہ سے دب جاتا ہے۔ عبدالرحمان واصف کے ہاں اس اندازِ بیان میں بھی اپنی جامعیت برقرار ملتی ہے۔ مثال کے طورپر


کون مجھ پہ رویا ہے؟
کس نے بات کی میری؟
۔۔
سن کبھی مرا شکوہ
بات کر کبھی میری
۔۔
کرچیاں کیسے چنوں؟
دوستا ! بکھرا وجود


جہاں تک زمینوں کی بات کی جائے مختصر بحروں میں نئی زمینیں تخلیق کرنا بھی ایک مشقت طلب کام ہوتا ہے کیونکہ یہاں گنجائشوں ہی کی کمی ہوجاتی ہے۔ اس کے باوجود “مختصر” شعری مجموعہ متعلقہ بحور میں منفرد زمینوں کا ذخیرہ رکھتی ہے۔ مثال کے طور پر چند غزلیات کے یہ مطلع نئی زمینوں سے روشناس کراتے ہیں:


سانس مشکل ہوئے
لوگ بسمل ہوئے
۔۔
اے دوست آج سیکھ
خوئے سماج سیکھ
۔۔
شکریہ پھول کھلے
تو ہنسا پھول کھلے
۔۔
اک فسوں آدمی
بے سکوں آدمی


سیکھ، پھول کھلے، آدمی جیسے ردائف ان بحور میں بالکل نئے ہیں۔ لہذا یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ عبدالرحمان واصف نے تخلیقی سطح پر کچھ نیا پیش کیا ہے اور ان کی شاعری اردو شاعری کے کینوس میں نیا اضافہ ہے۔ غزلیات کو مجموعی طور پر دیکھا جائے تو روانی اور ردھم سے مالامال ہیں۔ میرے نزدیک شاعری کا سب سے بنیادی عنصر اس کا ردھم ہے جو اسے نثر سے ممتاز کرتا ہے۔ ہاں، ردھم پیدا کرنے کے لیے یہ ضروری ہوتا ہے کہ شاعری کے چند لوازمات جیسا کہ بحر اور اوزان کا استعمال ضروری ہونا چاہئے ، غزل کی شرائط پر عمل درآمد ہو اور شاعر لفظی ترنم پیدا کرنے کی گنجائشوں کو بھی استعمال میں لاتا ہو۔ یہ کوئی آسان کام نہیں ہے، اسی وجہ سے آج کل کئی کچے شاعر بالخصوص افسانہ نگار شخصیات شاعری کے میدان میں نثری نظمیں لے کر کود پڑے ہیں جنہیں پڑھتے ہوئے سب سے پہلی تشنگی ہی یہی ہوتی ہے کہ انہیں گنگنایا کیسے جائے؟ ترنم کہاں معدوم ہے؟ ایک جینوئن شاعر ہی یہ کام کر سکتا ہے جبکہ یہی کام مختصر بحور کے حوالے کرنا ایک تجربہ کار اور باصلاحیت شاعر کے لیول کا کام ہے۔ یہ ترنم واصف کی شاعری میں اپنے پورے جوبن کے ساتھ دکھائی دیتا ہے۔ غزلوں کو گنگنائیے، ان کی موسیقیت کے مزے لیجے، تخیل کی آواز دیر تک آپ کے جذبات و تصورات کے بیابانوں میں گونجتی رہے گی۔


اس کتاب میں لفظوں اور تراکیب کا نیا استعمال بھی روشناس کرایا گیا ہے۔ اس کی کئی مثالیں دی جا سکتی ہیں: “باتوں کا فوارا”، “آگ بدن”، لخت کرنیں”، فشارِ رنگ و بو”، وغیرہ اشعار کی مناسبت سے عمدہ صوتی آہنگ اور ایک نیا پن دکھاتی ہیں۔ جہاں تک زبان و بیان کی بات کی جائے تو مجموعی طور پر متروک اور پرانے الفاظ سے اجتناب برتنے کی کوشش کی گئی ہے ، اور نہایت سادگی و برجستگی اپنانے کے ساتھ ساتھ زیادہ تر معمول کے الفاظ استعمال کیے گئے ہیں جو عام بول چال کا حصہ ہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ شعری اسلوب پڑھنے والوں کے لیے مشکل پیدا نہیں کرتا بلکہ زبان کی اپنائیت کے احساس کے ساتھ ساتھ تفہیم کی بھی سہولت دیتا ہے۔


“مختصر” عبدالرحمان واصف کی ایک اور کامیاب شعری تخلیق ہے ۔ اردو لٹریچر کے قاری کو اس تصنیف کا مطالعہ کرنا چاہئے کہ اس مجموعہ کلام نے اظہار کا وہ منفرد زاویہ پیش کیا ہے جس پر ابھی تک اردو شاعری میں بہت کم کام ہوا ہے۔ عبدالرحمان واصف کو اس کتاب کی اشاعت پر مبارک باد۔

شیئر کریں
ذیشان ساجد راولپنڈی، پاکستان سے تعلق رکھنے والے شاعر ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ سائنس فکشن اور دیگر موضوعات پر کام/مضامین بھی لکھتے ہیں۔

کمنٹ کریں