ملٹی پل اسکلروسیس (Multiple Sclerosis)

تحریر و تحقیق : مبین احمد

, ملٹی پل اسکلروسیس (Multiple Sclerosis)

بعض اوقات امیون سسٹم کسی خرابی کی وجہ سے اعصابی ریشوں کے گرد موجود ایک حفاظتی پرت جسکو مائیلیں Myelin کہتے ہیں
اس پہ حملہ آور ہوجاتا ہے اور اسکو زخمی یا توڑ پھوڑ کا شکار کردیتا ہے
جسکی وجہ سے دماغ کا زخمی مائیلین کے زریعے باقی جسم پر سگنل بھیجنا مشکل ہوجاتا ہے
اور یوں دماغ اور جسم کے درمیان رابطے درہم برہم ہوجاتے ہیں
اس طویل المدتی اور لاعلاج عارضے کو ملٹی پل اسکلروسیس یا پھر مختصراً ایم ایس کہتے ہیں ۔


ایم ایس کی علامات


ایم ایس کی علامات ہر شخص میں انفرادی طور پر مختلف ہوسکتی ہیں بعض افراد میں چند بے ضرر علامات ہی ظاہر ہوتی ہیں جیسے کہ ۔۔
دھندلی نظر اور ٹانگوں میں ارتعاش کی کیفیت وغیرہ
لیکن کچھ افراد میں یہ بیماری سنگین شکل اختیار کر لیتی ہے اور فالج ، مرگی اور اندھے پن جیسے مسئلوں کو جنم دے سکتی ہے
کیونکہ یہ مرض انسانی جسم کے کسی بھی حصے کو متاثر کر سکتا ہے
اس لیے اس مرض کی بے شمار علامات ہوتی ہیں جو کہ درج ذیل ہیں

پٹھوں میں کمزوری اور کھنچاؤ
جسم کے کسی بھی حصے کا سن ہو جانا
پیشاب روکنے یا پیشاب کے بہاؤ میں رکاوٹ
قبض
مسلسل تھکن کا احساس
چکر آنا
جنسی کمزوری
ہاتھوں میں رعشہ
جسم میں جھٹکے لگنا
زبان میں لڑکھڑاہٹ
حرکت اور توازن میں بگاڑ
قوت بینائی کم ہو جانا
آنکھوں کے مختلف امراض
یادداشت کے مسائل
ڈپریشن اور چڑچڑاپن
جسم کے مختلف حصوں میں درد
ایم ایس کی تشخیص
ایم ایس کی تشخیص کے لئے درج ذیل ہیں ٹیسٹ کروائے جاتے ہیں
دماغ کا ایم آر آئی سکین
نرو کنڈکشن ٹیسٹ
سپائنل فلوئڈ انالسس وغیرہ
اس کے علاوہ دیگر بیماریوں کے ٹیسٹ بھی کروائے جاسکتے ہیں جن کی علامات ایم ایس سے ملتی جلتی ہیں


رسک فیکٹرز


اگرچہ سائنسں اس بات کا اندازہ نہیں لگا سکی کہ یہ مرض کیوں واقع ہوتا ہے
لیکن چند عناصر ایسے ہیں جن کی موجودگی میں ایم ایس سے متاثر ہونے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے
جینیاتی عوامل
کچھ خاندانوں میں ایسے جنیاتی عناصر پائے جاتے ہیں جن کی وجہ سے ایم ایس کا خطرہ کئی گنا بڑھ جاتا ہے ۔
عمر
زیادہ تر افراد میں ایم ایس کی علامات پہلی بار بیس سے چالیس سال کی عمر میں نمودار ہونا شروع ہوتی ہیں…..!


جنس


ایم ایس کے مرض کا خطرہ مردوں کی بہ نسبت عورتوں میں دو گنا زیادہ ہوتا ہے
سگریٹ نوشی
سگریٹ پینے والے افراد میں ایم ایس نمودار ہونے کا خطرہ عام آبادی سے زیادہ ہوتا ہے
وٹامن کی کمی
جدید ریسرچ کے مطابق وٹامن ڈی اور وٹامن بی 12 کی کمی بھی کسی حد تک ایم ایس کے خطرے کو بڑھا سکتی ہے


ایم ایس کا علاج


اگرچہ ایم ایس کا مستقل علاج ممکن نہیں ہے
لیکن کچھ میڈیکیشن تھراپیز کے ذریعے بیماری کی شدت پر قابو پایا جاسکتا ہے اور بیماری کو مزید بگڑنے سے روکا جا سکتا ہے
ہر مریض کے لیے تجویز کردہ ادویات مختلف ہوتی ہیں
یاد رہے ان ادویات کے بہت سے سائیڈ افیکٹس بھی ہوتے ہیں، لہٰذا یہ ادویات ڈاکٹر کے مشورے کے مطابق استعمال کی جانی چاہئیے


ایم ایس کا نیچرل علاج


جیساکہ میں نے نے اوپر ذکر کیا ہے کے اسکا مستقل علاج تو نہیں ہے لیکن اسکی علامات کو ہم وقتی طور پہ کنٹرول یا کم کرسکتے ہیں اور مزید نقصان سے بچ سکتے ہیں
لہٰذا اسکا نیچرل علاج Ginnk Biolba ہے
جنکوبائیلوبا دماغی فنگشن کو Boost کرتا ہے یہ خون کی سرکولیشن کو دماغ کی طرف بڑھاتا ہے اور یاداشت میں بہتری لے آتا ہے
اسکے علاوہ یہ Antioxidant اور انٹی انفلیمٹری خصوصیات کا حامل ہوتا ہے اسی لیے اس کے استعمال سے مائیلین کی سوزش کم ہوتی ہے اور یہ مائیلین کو مزید ڈیمج سے بچاتا ہے ۔
جنکوبائیلوبا کی سپلیمنٹس عام مل جاتی ہیں ۔
یا پھر جنکگو بائیولوبہ پاؤڈر 600mg روزانہ دودھ یا پانی کے ساتھ استعمال کرسکتے ہیں ۔


انتہائی اہم بات


چونکہ جنکوبائیلوبا بلڈ سرکولیشن کو بڑھاتا ہے اسی لئے حاملہ خواتین اس سے گریز رکھیں
بصورت دیگر دوران ڈلیوری زیادہ مقدار میں اخراج خون کا خدشہ ہے
اسکے علاوہ یہ دیگر بلڈ تھنر تھراپیز ،اسپرین وغیرہ کے ساتھ بھی interact کر سکتا ہے ..
لہٰذا جو مریض پہلے سے کوئی میڈیسنز لے رہے ہیں وہ اپنے ڈاکٹر سے مشورہ کرنے کے بعد استعمال کریں
اور مزید کسی بھی پیچیدگی سے بچنے کے لئے کسی نیورالوجسٹ یا نیوروسرجنز سے رجوع کریں ۔ شکریہ ….!!
****
اپنی تحریر اس میل پہ ارسال کریں
lafznamaweb@gmail.com

شیئر کریں
مبین احمد کا تعلق نورپورتھل ضلع خوشاب سے ہے وہ ایک کمپیوٹر پروگرامر اور "فل اسٹیک ویب ڈیولپر" ہیں ۔ اس کے ساتھ ساتھ سائنس فکشنز اور دیگر موضوعات پر مضامین اور کالم لکھتے ہیں ۔ ان کے کالم اور مضامین اہم ویب سائٹ پہ شائع ہوتے ہیں

کمنٹ کریں