منافقت پر شاعری

munafqat منافقت شاعری urdu poetry منافق

منافقت کا بیج جل دلوں میں اگتا ہے تو رشتوں میں پھوت پڑ جاتی ہے اور محبتیں ناکامی کا منہ دیکھتی ہیں۔ منافق لوگ زہرِ قاتل ہوتے ہیں۔ منافق دوست دشمن سے زیادہ خطرناک ہے اور دوست داری جیسے عظیم رشتے کا پائمالی۔ آئیے منافقت کے موجوع پر چند منتخب اشعار پڑھتے ہیں جنہیں اردو زبان کے بہترین شاعروں نے لکھا۔ یہ اشعار پسند آنے کی صورت میں منافق دوستوں کے ساتھ شیئر کیجیے۔

منافقت کا نصاب پڑھ کر محبتوں کی کتاب لکھنا
بہت کتھن ہے خزاں کے ماتھے پہ داستانِ گلاب لکھنا
محسن نقوی
۔
تم اب تک منافق دلوں میں رہی ہو
مرے دل کی آب و ہوا مختلف ہے
ایم اے عبداللہ
۔
سیکھ تھوڑی منافقت ورنہ
لوگ دیوار سے لگا دیں گے
ذیشان ساجد
۔
اچھے کپڑے، اچھا کھانا، مہنگی جوتی، اونچا گھر
کالے دل اور گھٹیا سوچ، سستے شوق، منافق لوگ
احمد شعیب
۔
ممکن نہیں ہے مجھ سے یہ طرزِ منافقت
دنیا ترے مزاج کا بندہ نہیں ہوں میں
علامہ اقبال

منافق منافقت شاعری

تھوڑا مومن ذرا منافق ہوں
میں بھی ماحول کے مطابق ہوں
عامر رانا
۔
یہ دکھ نہیں کہ زمانہ خلاف ہے میرے
یہ رنج ہے کہ میرا یار بھی منافق ہے
عزیز شاکر
۔
یہ شہرِ طلسمات ہے کچھ کہہ نہیں سکتے
پہلو میں کھڑا شخص مسیحا کہ بلا ہے
جہانگیر عمران
۔
تعلق کتنا گہرا، ربط کتنا خوبصورت ہے
لبوں پر مسکراہٹ اور سینوں میں کدورت ہے
نامعلوم

munafiq munafqat poetry urdu shayari

کم ظرف منافق تھے سو افسوس نہیں ہے
جو لوگ مرے حلقہ ء احباب سے نکلے
ارشاد نیازی
۔
بتا کے سانپ کو حیران کر دیا میں نے
ہمارا زہر ہمارے دلوں میں ہوتا ہے
رفیع رضا
۔
جو اہلِ عشق ہیں سب نزدِ جاں رکھیں گے مجھے
منافقین بھلا کیا سمجھ سکیں گے مجھے
نامعلوم
۔
میں پائوں دھو کے پیوں یار بن کے جو آئے
منافقوں کو تو میں منہ لگانے والا نہیں
تہذیب حافی
۔
میں تو سمجھا تھا کہ دور چار ہی ہوتے ہوں گے
پر تِرے شہر کا ہر شخص منافق نکلا
نامعلوم

دل منافق تھا شبِ ہجر میں رویا کیسا
اور جب تجھ سے ملا ٹوٹ کے رویا کیسا
احمد فراز
۔
دنیا میں قتیل اس سا منافق نہیں کوئی
جو ظلم تو سہتا ہے بغاوت نہیں کرتا
قتیل شفائی
۔
وہی صفات و خصائل ہیں اور وہی لہجے
یہ لوگ پہلے کبھی بھیڑیے رہے ہوں گے
فریحہ نقوی

تم مصلحت کہو یا منافق کہو مجھے
دل میں مگر غبار بہت دیر تک رہا
خالد ملک ساحل
۔
زندگی! تجھ سا منافق بھی کوئی کیا ہوگا
تیرا شہکار ہوں اور تیرا ہی مارا ہوا ہوں
احمد فرید

منافقت شاعری اردو

زہر لگتا ہے یہ عادت کے مطابق مجھ کو
کچھ منافق بھی بتاتے ہیں منافق مجھ کو
انجم بارہ بنکوی
۔
مرا ہر اک منافق یار مجھ سے
خلوص دوستانہ مانگتا ہے
بخش لائلپوری
۔
جو منافق ہیں ان سے دور رہو
دھڑکنوں کی سدا سنو اپنی
عظیم کامل
۔
خوش آئے تجھے شہر منافق کی امیری
ہم لوگوں کو سچ کہنے کی عادت بھی بہت تھی
پروین شاکر
۔
سوال ہی نہ تھا دشمن کی فتح یابی کا
ہماری صف میں منافق اگر نہیں آتے
ماہر عبدالحی
۔
زندگی! تجھ سا منافق بھی کوئی کیا ہوگا
تیرا شہکار ہوں اور تیرا ہی مارا ہوا ہوں
احمد فرید
۔
ہوا اچھی ہے اس کی اور نہ پانی اس کا اچھا ہے
میں اس شہر منافق میں تو اک دن رہ نہیں سکتا
حنیف نجمی
۔
ایسا بدلا ہوں ترے شہر کا پانی پی کر
جھوٹ بولوں تو ندامت نہیں ہوتی مجھ کو
محسن نقوی

شیئر کریں
مدیر
مصنف: مدیر
لفظ نامہ ڈاٹ کام کی اداریہ ٹیم کے مدیران کی جانب سے

کمنٹ کریں